مردم شماری اور ہندوستانی سماج کا تضاد

سپریم کورٹ کا ذاتی مردم شماری کو روکنے کی درخواست مسترد کرنا ایک درست فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بجا طور پر کہا کہ حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے لوگ پسماندہ ہیں اور کس طبقے کو فلاحی سہولیات کی ضرورت ہے۔ مؤثر حکمرانی محض نعروں سے نہیں بلکہ درست اعداد و شمار سے ممکن ہوتی ہے۔
مودی حکومت کی جانب سے 2027 کی مردم شماری کے ساتھ ذاتی شمار شامل کرنے کا فیصلہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی ہے۔ کبھی اسی مطالبے کو “اربن نکسل” سوچ قرار دیا گیا تھا، جبکہ آر ایس ایس نے اسے ہندو سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش بتایا تھا۔ کانگریس نے بھی اپنے پرانے موقف سے ہٹ کر ذاتی مردم شماری کی حمایت شروع کردی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں ذات آج بھی ایک بنیادی حقیقت ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان نے ایک طرف ذات پات سے پاک سماج کا خواب دیکھا، تو دوسری طرف پسماندہ طبقات کو ریزرویشن اور نمائندگی دینے کے لیے ذات کو بنیاد بھی بنایا۔ یہی تضاد آج تک برقرار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذات کو نظرانداز کرنے سے ذاتی امتیاز ختم نہیں ہوتا بلکہ اکثر مزید پوشیدہ ہوجاتا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ذاتی مردم شماری سماجی تقسیم کو بڑھا سکتی ہے، مگر درست اعداد و شمار کے بغیر سماجی انصاف کی پالیسیوں کا جائزہ لینا بھی ممکن نہیں۔ ذاتی مردم شماری کوئی مکمل حل نہیں، لیکن یہ ہندوستانی سماج کی اصل تصویر سامنے لانے کی ایک اہم کوشش ضرور ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

مردم شماری اور ہندوستانی سماج کا تضاد

سپریم کورٹ کا ذاتی مردم شماری کو روکنے کی درخواست مسترد کرنا ایک درست فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے بجا طور پر کہا کہ حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے لوگ پسماندہ ہیں اور کس طبقے کو فلاحی سہولیات کی ضرورت ہے۔ مؤثر حکمرانی محض نعروں سے نہیں بلکہ درست اعداد و شمار سے ممکن ہوتی ہے۔
مودی حکومت کی جانب سے 2027 کی مردم شماری کے ساتھ ذاتی شمار شامل کرنے کا فیصلہ ایک بڑی سیاسی تبدیلی ہے۔ کبھی اسی مطالبے کو “اربن نکسل” سوچ قرار دیا گیا تھا، جبکہ آر ایس ایس نے اسے ہندو سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش بتایا تھا۔ کانگریس نے بھی اپنے پرانے موقف سے ہٹ کر ذاتی مردم شماری کی حمایت شروع کردی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں ذات آج بھی ایک بنیادی حقیقت ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان نے ایک طرف ذات پات سے پاک سماج کا خواب دیکھا، تو دوسری طرف پسماندہ طبقات کو ریزرویشن اور نمائندگی دینے کے لیے ذات کو بنیاد بھی بنایا۔ یہی تضاد آج تک برقرار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذات کو نظرانداز کرنے سے ذاتی امتیاز ختم نہیں ہوتا بلکہ اکثر مزید پوشیدہ ہوجاتا ہے۔
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ذاتی مردم شماری سماجی تقسیم کو بڑھا سکتی ہے، مگر درست اعداد و شمار کے بغیر سماجی انصاف کی پالیسیوں کا جائزہ لینا بھی ممکن نہیں۔ ذاتی مردم شماری کوئی مکمل حل نہیں، لیکن یہ ہندوستانی سماج کی اصل تصویر سامنے لانے کی ایک اہم کوشش ضرور ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں