نازک جنگ بندی یا وقتی سکون؟

ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات نے اگرچہ کسی بڑے معاہدے کو جنم نہیں دیا، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں ضرور کامیابی حاصل کی۔ تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور عسکری رقابت جیسے بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں، اس لیے اس “جنگ بندی” کو مستقل امن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صدر شی جن پنگ نے “اسٹریٹجک استحکام” کی بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ تائیوان چین کے لیے سب سے حساس مسئلہ ہے، جبکہ امریکہ اپنی پالیسی اور اسلحہ فروخت جاری رکھنے پر قائم ہے۔ یہی تضاد مستقبل میں کسی بھی وقت نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تعلقات کو معاشی فائدے کے زاویے سے دیکھا۔ بوئنگ طیاروں، سویابین اور امریکی بیف کی خریداری کو انہوں نے اہم کامیابی قرار دیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی تنازعات کم کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے فریم ورک پر بھی گفتگو کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مکمل معاشی تصادم دونوں کے مفاد میں نہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے۔ یہ ملاقات کسی تاریخی مفاہمت سے زیادہ ایک محتاط وقفہ دکھائی دیتی ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ نازک سکون دیرپا استحکام میں بدلتا ہے یا دوبارہ تصادم کی راہ ہموار کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نازک جنگ بندی یا وقتی سکون؟

ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات نے اگرچہ کسی بڑے معاہدے کو جنم نہیں دیا، لیکن دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو وقتی طور پر روکنے میں ضرور کامیابی حاصل کی۔ تجارت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور عسکری رقابت جیسے بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں، اس لیے اس “جنگ بندی” کو مستقل امن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صدر شی جن پنگ نے “اسٹریٹجک استحکام” کی بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ تائیوان چین کے لیے سب سے حساس مسئلہ ہے، جبکہ امریکہ اپنی پالیسی اور اسلحہ فروخت جاری رکھنے پر قائم ہے۔ یہی تضاد مستقبل میں کسی بھی وقت نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تعلقات کو معاشی فائدے کے زاویے سے دیکھا۔ بوئنگ طیاروں، سویابین اور امریکی بیف کی خریداری کو انہوں نے اہم کامیابی قرار دیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی تنازعات کم کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے فریم ورک پر بھی گفتگو کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مکمل معاشی تصادم دونوں کے مفاد میں نہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان اعتماد کی شدید کمی برقرار ہے۔ یہ ملاقات کسی تاریخی مفاہمت سے زیادہ ایک محتاط وقفہ دکھائی دیتی ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ نازک سکون دیرپا استحکام میں بدلتا ہے یا دوبارہ تصادم کی راہ ہموار کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں