شبیر احمد میر
دن کی روشنی کب کی دم توڑ چکی تھی ۔رات کا اندھیرا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا اور سارا عالم اس اندھریرے کی چادر میں چھپ کر سو رہا تھا۔ رات کے ڈھائی بجے میں کافی کوششوں کے باوجود سو نہ سکا ۔بستر پر کروٹیں بدلتے بدلتے میرا بدن دکھنے لگا ۔گونگا سوالی کے بارے میں سوچ سوچ کر میری بے چینی بڑھتی جارہی تھی۔ اپنے آپ کو راحت پانے کے لیے میں بار بار کھڑ کی کی طر ف دیکھ رہا تھا۔میں نے اپنے آپ کو اندر سے ٹٹولنے کی کوشش کی تو مجھے اپنی امیدوں اور آرزوں کے چراغ بجھتے نظر آرہے تھے ۔میں سخت زہنی کشمکش میں مبتلا ہو گیا اسی زہنی کشمکش نے میرے جسم کو پسینے سے تر کردیا۔اس گونگے بھیکاری نے ایک ہی سوال میرے زہن میں پورے بھیانک پن سے چیخ رہا تھا ۔کیا میرا ضمیر اس گونگے بھکاری کے سامنے ٹک سکے گا ؟ میرے اندر سے آواز آئی نہیں۔کبھی نہیں ۔کیونکہ اس گونگے سوالی کی ایماندراری و حسن اخلاقی اس لیے تھا کہ خلق عالم اسے دیکھ دیکھ کر جھومتی رہے اور ہمیں قدرت کا نمونہ اللہ کے وجود کا احساس دلا تا رہا ہے۔ اللہ کو ایسے لوگ کتنے اچھے لگتے ہیں جن کے سامنے دنیا کی تما اشیاء بے معنی ہوتی ہیں۔ بعض اتفاقات اتنے حسین ہوتے ہیں کہ انسان کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتے ہیں۔ یہ گونگا بھیک مانگنے والا بے چارہ غریب سیدھا سادا انسان ہی تو تھا ۔جس کے پاس سوائے عزت کے اور کچھ نہ تھا ۔نہ دولت ،نہ ہی ڈھنگ کا گھر ،نہ کوئی شان اور نہ ہی کوئی سہارا ،ہر وقت سولی پہ جان، راتیںبے خواب اور دل بے چین۔ خدا جانے کس طرح بچ بچ کر اپنے گھر والوں کو سنبھال سنبھال کر رکھ رہا تھا ۔ اسکی یہ ادا دل ہلا دینے والا دھماکہ ہی تو تھا ۔ بعض لوگوں کی یقسمت ایسی ہوتی ہے کہ وہ اندھیرے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اندھیرے میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ اور اندھیرے میں ہی دم توڑ دیا کرتے ہیں۔ اجالے کی کرن ان کی زندگی میں داخل نہیں ہوتی اگر آتی بھی ہے تو وہ کرن اور کی عطا کردہ ہوتی ہے۔ مانگی ہوئی ہوتی ہے یا چرائی ہوئی ہوتی ہے ۔ مگر اس گونگے بھکاری کی خود داری ایمانداری اور اصول پرستی کا گراف ساتوں اسمان سے اونچا مجھے دکھائی دیا۔ شاہد قدرت کواس کی زبان کی سختی بھی پسند نہیں تھی اس لیے اس کی زبان میں کڑواہٹ اور انہ ہی بول چال تھی۔ مگر اس میں عظمت کے مینار موجود تھے۔ ایک انسان کی شناخت محض وجود سے نہیں کی جاسکتی بلکہ اس کے جذبات ہی روح کا عکس ہوتے ہیں ۔ بعض لوگوں کی زات ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوتی ہے، آجکل ہر کوئی مرغے کی تاک میں رہتا ہے جو اس کے میار پر پوری طرح فٹ ہو۔ جوں ہی مرغا مل گیا سمجھو اس نے چھری خر ید لی۔ آجکل کے دور میں پیسے نہ ہوں تو زندگی موت میں بدل جاتی ہے۔ مگر کتنے بلند اور عظیم ہوتے ہیں ایسے لوگ جو اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر کے لیے راستے کی ہر مشکل کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر یقین ہے یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے بعض معمالات آخرت تک پہنچ بھی نہیں پاتے اور اتنی جلدی فصل تیا ر ہوجاتی ہے کہ اسے دنیا میں ہی کٹنا پڑتا ہے ۔ زندگی کی اصل خوبصورتی یہ نہیں کہ آپ کتنے خوش ہیں بلکہ زندگی کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ دوسرے آپ سے کتنے خوش ہیں ایسے آدمی کے سامنے انسان گونگا نہیں ہو جاتا ، بلکہ لفظ گونگے ہو جاتے ہیں ۔ ایک اچھے اور صالح ماحول میں زندگی کتنی راحتوں سے بھر جاتی ہے ۔کتنا سکون نصیب ہوتا ہے۔ خوبیاں قربانیوں سے ہی پیدا ہوتی ہیں ۔ایسے فائدے کو ہمیشہ درگز کرو جو دوسروں کے لیے دکھ کا باعث بنے ۔اپنی ساری مصیبتوں کے باوجود گونگے بھکاری نے کسی بات پر افسوس کرنا سیکھا ہی نہیں تھا ناامیدی گویا اسے چھو کر بھی نہیں گزری ۔ اس کے لیے جی لینا اور زندہ رہنا دو الگ الگ باتیں تھیں ۔ ایک میں مجبوری چھلکتی تھی اور ایک میں خوشی ۔میرے دماغ کے کسی بہت حساس حصے میں باریک سی نوکیلی کیل گونگا سوالی مسلسل ٹھونک رہا تھا ۔میں پتھر تو نہیں تھا انسان ہی ہوں سوچنے والا سمجھنے وال جذبات اور احساسات رکھنے والا ۔میں نے لاکھ چاہا کہ اس بھکاری کا خیال دل سے نکال دوں پر وہ نہ نکلا ۔ وہ میرے گوشت میںپیوست ایک کانٹے کی طرح رگ جان میںگھسا کھٹکتا رہا کیونکہ میںجانتا ہوں اگر آپ اپنی مشکلات پر قابو پانا چاہتے ہوں تو ایک ایسے انسان کو تلاش کیجئے جو آپ سے زیادہ مسائل اور مشکلات میں الجھ گیا ہو۔ میں نے ایک سنہرے دور کے خواب دیکھے تھے اب تو ان حسین محلات کے سلگتے کھنڈر میرے سامنے پڑے ہیں۔ حقیقت میں میں اب جینا چاہتا ہوں ۔ آپ کے حا لات کتنے ی خراب کیوں نہ ہوں آپ اپنے اندر جس وقت یقین کی شمع روشن کریں گے اسی وقت اپنے اندر معجزہ نما قوتوں کو موجزن پائیں گے ۔ اچھی طرح جان لیجیئے ۔کہ بغیر یقین کے آپ میں جسمانی زہنی اور روحانی کوئی بھی قوت پوری طرح بیدار نہیں ہو سکتی ۔آپ کے اندر نا امیدوں کی جو خوفناک تیرگی پھیلی ہوئی ہے اس میں یقین کی کرن کا سراغ لگائیے اور اپنے دل میں یقین کی شمع روش کیجئے ۔
مانا کہ یہ کہانی بیان کرنا قدرے دشوار ہے مگر مجھے اسے کہنے دیجیئے ۔ میں آپ کے سامنے اس وقت جو بیان کررہا ہوں وہ ایک انتہائی ناقابل بیان قسم کی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا جذباتی منظر نہیں دیکھا جس نے میری روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔اس میں زرا سا بھی جھوٹ شامل نہیں ہے ۔ یہ واقعہ پچھلے سال اگست کے مہینے کا ہے ۔ یہ اگست کا ایک خاموش اور پرسکون دن تھا میرے آفس جانے کا وقت قریب آرہا تھا اور میں تیار ہو کر آفس جانے لگا ۔ہوا بالکل ساکت تھی ہوا کے نرم نرم دلگداز جھونکے اٹکھیاں کرتے ہوئے چل رہی تھی مونسپل کونسل کے دفتر کے سامنے فٹ پاتھ کے کنارے ایک چھوٹی سے منڈیر بنی ہوتئی تھی ۔وہ گونگا بھکاری اس پر بیٹھا تھا اور اشارے سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ رکررہا تھا ۔اس کے سامنے چلتے چلتے میں نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا مگر مجھے ریز گاری نہ ملی اور میں نے جلدی جلدی اپنے قدم آگے بڑھائے۔ اس بھکاری کی اداسی ی ایک لکیر اس کے چہرے پر نمورار ہوگئی۔ میںنے اور تیز چلنے کی کوشش کی ۔تھوڑی دور جاکر میں نے محسوس کیا کوئی میری قمیض پکڑنے کی کوشش کررہا ہے ۔میں نے ایکدم اپنے قدم روک لیے اور جب میں پیچھے کیطرف مڑا تو اسی گونگے بھکاری کو سامنے پایا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ہزار روپے کا نوٹ تھا جو مجے اشاروں سے سمجھا رہا تھا کہ یہ نوٹ تمہاری جیب سے گر گیا ہے اور یہ نوٹ میں تمہیں واپس لوٹانے آیا ہوں۔ صورت حال میری سمجھ میں آگئی تھی۔ نوٹ لوٹاتے وقت اس کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔میں نے اپنے بدن کے کسی حصے کو جنبش بھی نہیں دی ۔مجھے یوں محسوس ہو ا جیسے میر ا بدن ہمیشہ کے لیے سن ہو جائے گا۔ وہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میں بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔ اس جذباتی منظر سے میری آنکھیں بھیگ گیئں۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ مجھ سے کہہ رہا ہے میں نے تمہیں یہ ہزار روپے کانوٹ واپس لٹا کر ایک نئی منزل کا نشان دیا ہے۔ تم اپنے ضمیر کو سمجھاو کیا میں تمہیں گونگا سوالی لگتا ہوں۔ زندگی گزارنے کے لیے اپنے اپنے اصول ہوتے ہیں ۔کوئی باپ دادا کی چھوڑی ہوئی دولت سے بڑا آدمی بنتا ہے ۔کوئی اپنی محنت سے۔ تمہیں کیا معلوم روپیہ پیسہ ہونے سے دولتمند آدمی ہوتا ہے؟ دولت مند وہی ہے جس کا ضمیر جاگا ہو ۔جو بے ضمیر آدمی ہو گا اس کو کنگال کہا جاتاہے وہ کنگال ہی رہتا ہے اور کنگا ل ہی مرتا ہے۔ میں نے غور سے اسے دیکھا جس کے چہرے پر فرشتوں جیسی پاکیزگی چھائی ہوئی تھی۔ میں اپنے آس پاس یو ںد یکھنے لگا کہ مجھے کہا ںآنکھ لگی تھی اور کہاں بیدار ہو رہا ہوں ۔میں خاموشی سے اس کے چہرے کا جائزہ لیتا رہا اور اس کے چہرے سے میں بالکل صاف پڑھ رہا تھا جو مجھ سے کہہ رہا تھا ۔ تم بہت ہی بد دماغ اور جائل نظر آتے ہو۔ بے شک میں گونگا ہوں تم مجھے جھوٹا سمجھ رہے ہو۔ مجھے بھکاری یا لفنگا سمجھ رہے ہو۔ بے وقوف انسان !کیا تو موت کے بعد دوسری زندگی پر یقین نہیں رکھتا ۔ مرنے کے بعد روح جسم سے نکل کر کسی نامعلوم مقام پر چلی جاتی ہے۔ فٹ پاھوں پر رہ کر تم جیسے کم ظرف آدمیوں کے پیچھے آوارہ گردی نہیں کرتی ۔پھر مجھے خیال آیا اگر اس کی جگہ میں نے ہزار روپے کا نوٹ اٹھایا ہوتا تو بے شک یہ ہزار روپے کا نوٹ مجھے ساری عمر سانپ کیطرح ڈستا مگر میں اسے واپس نہیں لوٹا تا ۔ میں دیکھ رہا تھا اس وقت خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹرہی تھی۔ حیر ت ، تعجب خوشی میرے چہرے پر کیا کچھ نہ تھ امگر وہ کمال ضبط کا مالک تھا ۔بے شک روپے پیسے کے بھنور میں کسی کی شخصیت کو نا پنا سراسر حماقت ار بیو قوفی ہے۔ اس وقت وہ مجھے اتنا عظیم معلوم ہو ا کہ میںنے خود کو اس کے مقابلے میں حقیر محسوس کیا ۔واقعی مصیبتیں ہمیں پریشان کرنے کے لیے نہیںآتی ہیں بلکہ ہمیں بیدار کرنے کے لیے آتی ہیں۔ اس نے سرخم کرتے ہوئے ایک شریر سی مسکراہٹ میری طرف اچھال دی اور واپسی کے لیے مڑ گیا۔ ایک احساس نے اسے عجیب سی خوشی سے دوچار کردیا تھا جس کے رنگ ا س کے چہرے پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے اور میں خود ایک گونگا سوالی بن گیا ۔ کچھ قدم چل کر میری آنکھوں سے واہ آنسو بہہ نکلے جہنیں میں نے بڑی مشکلوں سے اب تک قابو میں رکھا تھا ۔میرے قدم من من بھر کے ہورہے تھے ۔ میں ہر قدم پر ٹھٹک کر رہ جاتا اور سوچنے لگتا! اب میں نے آسمان کی طرف تشکر بھر جذبات لیئے دیکھنے لگا اور من ہی من میں دعا کی اے پروردگار مجھ کو یہ تو فیق دے کہ میں تیرا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کیا ہے اور یہ کہ میں وہ نیک عمل کروں جو تجھ کو پسند آئے اور ہم سبوں کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما کیونکہ ہر چیز تیری امانت ہے ہماری سانس سے لے کر ہمارے وجود کی ہر چیز ۔ راہ چلتے چلتے میری زندگی میںکئی پکڈنڈیاں کئی جگہوں کو جاتی ہیں۔ لیکن اس گونگے بھکاری کو دیکھ کر مجھے محسوس ہوا سبھی پکڈنڈیاں بالکل بے کار۔ صرف اس کی یہ پکڈنڈی سیدھی راستے کو جاتی ہے۔ اگرمعاشرے میں ایسے آدمی ہوں تو ہر وقت ،ہر لمحہ سکون کی برسات ہوتی رہے گی ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


