منظور الٰہی
ترال کشمیر
جموں و کشمیر میں گجر اور بکروال قبائل کی موسمی ہجرت صدیوں پر محیط ایک زندہ روایت ہے، جو ہر سال بہار کی آمد کے ساتھ نئے عزم اور امید کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ یہ قبائل اپنے مال مویشیوں سمیت جموں کے علاقوں راجوری، پونچھ اور ریاسی سے نکل کر وادیٔ کشمیر کی سرسبز بالائی چراگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک سادہ اور فطری نقل مکانی دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسا سفر ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید دشوار، پیچیدہ اور تھکا دینے والا بنتا جا رہا ہے۔ گجر اور بکروال برادری نہ صرف جموں و کشمیر کی ایک بڑی آبادی ہے بلکہ اس خطے کی ثقافتی پہچان کا ایک اہم ستون بھی ہے۔ ان کی زبان، رہن سہن اور صدیوں پرانی روایتیں اس دھرتی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کی موسمی ہجرت صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی شناخت، بقا اور تہذیبی تسلسل کی علامت ہے۔ یہ ہجرت دراصل ایک خاموش داستان ہے حوصلے کی، صبر کی اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کی۔ پہاڑوں کی دشوار گزار پگڈنڈیاں، تیز ہوائیں، اچانک بدلتا موسم اور طویل فاصلے، یہ سب اس سفر کا حصہ ہیں۔ مگر ان قدرتی چیلنجز کے باوجود قبائل ہمیشہ اپنے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں۔
تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اس فطری اور منظم روایت کو سب سے زیادہ خطرہ قدرت سے نہیں بلکہ انسانی نظام سے درپیش ہے۔ انتظامی پیچیدگیاں، غیر ضروری کاغذی کارروائیاں اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان اس سفر کو ایک مشکل امتحان میں بدل دیتا ہے۔ یہ لوگ صدیوں پرانی روایات کے امین ہیں، جو پہاڑوں کے خطرناک راستوں سے گزرتے ہوئے اپنی زندگی اور مال مویشی دونوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ شدید گرمی ہو یا برف کے تودے، یہ اپنے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ راستوں میں گجر اور بکروال خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں، جہاں نہ کوئی طبی سہولت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مددگار نظام۔ یہ برادری آج بھی سرکاری نظام سے کافی حد تک دور ہے۔ راستوں میں مویشیوں کی ہلاکت، بیماریوں کا خطرہ اور انسانی جانوں کا ضیاع عام بات بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مسائل نہ صرف فوری توجہ کے متقاضی ہیں بلکہ ایک منظم اور ہمدرد پالیسی کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس قدیم روایت کو زندہ رکھا جا سکے۔
اس تمام پس منظر کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ گجر اور بکروال برادری ایک امن پسند، محنتی اور وفادار طبقہ ہے۔ یہ لوگ خود کو ہندوستان کا ذمہ دار شہری سمجھتے ہیں اور اپنی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سرحدی اور دشوار گزار علاقوں میں رہنے کے باوجود ان کی حب الوطنی اور ریاستی اداروں کے ساتھ وابستگی ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود اس طبقے کو اکثر شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جو نہ صرف ان کے وقار کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ انہیں مزید حاشیے پر دھکیل دیتا ہے۔
آج کے موجودہ موسم میں جب یہ قبائل جموں کے مختلف علاقوں سے وادیٔ کشمیر کی طرف ہجرت کا آغاز کرتے ہیں تو اجازت ناموں کا پیچیدہ نظام ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آتا ہے۔ ایک سادہ سی نقل مکانی کے لئے کئی دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں، جہاں نہ واضح رہنمائی میسر ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مربوط یا ڈیجیٹل نظام موجود ہے۔ اکثر ایک ہی دستاویز کے لئے بار بار تصدیق کی شرط عائد کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ پہلے سے مشکلات کا شکار اس برادری کے وسائل پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ شفافیت کی کمی اور بدعنوانی کی شکایات اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیتی ہیں۔ کئی قبائلی افراد یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے جائز معاملات بھی بلاوجہ تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں غیر رسمی ادائیگی کے بغیر فائلیں آگے نہیں بڑھتیں۔ مختلف سرکاری محکموں، جیسے جنگلات، مال مویشی، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مؤثر تال میل کا فقدان ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ادارہ اجازت دیتا ہے تو دوسرا اعتراض اٹھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہجرت کا پورا عمل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے۔
موجودہ حالات میں یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ آج جب جموں سے وادیٔ کشمیر کی طرف آنے والے گجر و بکروال قبائل، خصوصاً راجوری اور پونچھ کے علاقوں سے نکلنے والے خاندان، اپنی روایتی ہجرت پر نکلتے ہیں تو انہیں راستوں میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جو کئی دنوں سے سڑکوں کے کنارے، گاڑیوں میں یا کھلے آسمان تلے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نہ مناسب رہائش میسر ہے، نہ پینے کے صاف پانی کا انتظام اور نہ ہی بنیادی طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شدید تھکن، موسمی سختیوں اور غیر یقینی صورتحال کے بیچ سفر جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔
یہ منظر کسی عارضی دشواری کا نہیں بلکہ ایک مسلسل نظرانداز کیے گئے بحران کی عکاسی کرتا ہے، جہاں صدیوں پرانی ہجرت کی روایت رکھنے والے یہ قبائل آج بنیادی انسانی سہولیات سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔ گاڑیوں میں ٹھہرنا، سڑکوں کے کنارے راتیں گزارنا اور ہر لمحہ اگلے مرحلے کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا، یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ہجرت کے دوران چیک پوسٹوں پر رویہ بھی اکثر شکایات کا باعث بنتا ہے۔ بار بار روکنا، طویل انتظار کروانا اور بعض اوقات نامناسب برتاؤ، یہ سب ایک ایسے طبقے کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے جو پہلے ہی ایک مشکل سفر سے گزر رہا ہوتا ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی وقار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ روایتی راستوں کی بندش یا ان پر قبضے بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ کئی قدیم گزرگاہیں یا تو ختم ہو چکی ہیں یا ناقابلِ استعمال ہو گئی ہیں، جس کے باعث قبائل کو خطرناک متبادل راستے اپنانے پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کی کمی ایک بڑی انتظامی کوتاہی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود گجر اور بکروال برادری آج بھی اپنی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ان کا یہ عزم قابلِ تحسین ضرور ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی مشکلات کو نظر انداز کیا جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے کو صرف ایک روایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انسانی اور انتظامی معاملے کے طور پر دیکھا جائے۔ انتظامی نظام کو سادہ، شفاف اور قبائل دوست بنانا ناگزیر ہے۔ اجازت ناموں کے عمل کو ڈیجیٹل اور یکجا کیا جائے، مختلف محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کی جائے اور ہجرت کے راستوں پر بنیادی سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
ساتھ ہی یہ امر بھی نہایت تشویشناک ہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی واضح سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ حالانکہ اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو گجر و بکروال برادری سے تعلق رکھنے والے افراد اہم سرکاری عہدوں، حتیٰ کہ کابینہ اور پارلیمنٹ تک میں اپنی نمائندگی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود زمینی سطح پر ان کے مسائل کے حل کے لئے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی، جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پورے ملک میں قبائلی امور کے لئے ایک باقاعدہ اور وسیع محکمہ موجود ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری ہی ان طبقات کی فلاح و بہبود ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس محکمہ کی جانب سے بھی اس برادری کی مشکلات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات کیے جاتے تو کم از کم اجازت ناموں کا نظام اس قدر پیچیدہ نہ ہوتا بلکہ سالانہ بنیادوں پر ایک سادہ اور مؤثر طریقہ کار وضع کیا جاتا، جس کے تحت قبائلی افراد بآسانی اپنی ہجرت جاری رکھ سکتے۔ اب تک کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ برادری مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ متعلقہ حکومت اور نمائندگان محض عہدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کا حل نکالیں۔
یہ صرف ایک تحریر نہیں، ایک درد کی صدا ہے، ان پہاڑوں کی گونج، ان راستوں کی تھکن اور ان چہروں کی خاموش فریاد جو ہر سال امید کے ساتھ نکلتے ہیں مگر مسائل کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ قبائلی ثقافت کو پھلنے پھولنے دینا کوئی احسان نہیں بلکہ ایک فرض ہے، ایسا فرض جو ہماری پہچان، ہماری تاریخ اور ہماری انسانیت سے جڑا ہوا ہے۔ گجر و بکروال برادری کی یہ صدیوں پرانی روایت محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی تہذیب ہے، جس میں ہر قدم پر قربانی، ہر موڑ پر صبر اور ہر سانس میں جدوجہد شامل ہے۔ مگر افسوس، یہ سادہ مگر مؤثر حل کہ ان کے راستوں کو محفوظ بنایا جائے، سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی روایات کا احترام کیا جائے، آج بھی نظر انداز ہو رہا ہے۔ ہر سال وہی کہانی دہرائی جاتی ہے، وہی مشکلات، وہی بے بسی، وہی خاموشی۔
ہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبدااللہ اور وزیر قبائلی امور جاوید احمد رینہسے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروںکو واضح ہدایات جاری کریں تاکہ گجر و بکروال برادری کو درپیش مشکلات کو فوری طور پر کم کیا جا سکے۔ ان کے مسائل کو وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ یہ صرف ایک برادری کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ایک ایسا ورثہ جس کی حفاظت نہ کی گئی تو ہم اپنی ہی جڑوں سے کٹ جائیں گے۔ آئیں، اس روایت کو زندہ رکھیں، کیونکہ یہ صرف ان کی نہیں، ہم سب کی کہانی ہے۔
ززز


