
شبیر احمد میر
اپنی سہیلی کو دیکھتے ہی وہ کرسی سے اٹھی۔ دونوں ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھامے، وہ اس کی طرف بڑھنے لگی۔ خوبصورت سینڈل کی اونچی ایڑی ماربل کے فرش پر ٹھک ٹھک کی آواز میں دیوار گیر کلاک کی ٹک ٹک کی آواز دب گئی۔ اس کے حد درجہ چست لباس کی وجہ سے ایسا لگتا تھا جیسے اس کے متناسب اعضاء جین پینٹ اور ٹی شرٹ پھاڑ کر باہر نکل آنا چاہتے ہوں۔ شانوں تک بال کٹے، سانولی رنگت، خوبصورت میک اپ، ہونٹوں پر ہر دم کھلتی مسکراہٹ۔ اس کی نازک انگلیوں میں گھنگرو والی انگوٹھیاں تھیں، نازک سا بریسلٹ، بڑھے ہوئے پالش شدہ ناخن اور چال میں نزاکت۔ اس وقت بینک کے ہال میں ہر کوئی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی سہیلی یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔ اتنے سالوں کے بعد اسے دیکھ کر اس کی آنکھوں سے پانی کے موتی گرنے لگے۔ دونوں کے چہروں سے محبت کی پھوار برس رہی تھی۔ اسکول، کالج اور پھر یونیورسٹی-رازدان بھی تھیں۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جذباتی موضوعات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جاتا۔ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات سے کہانیاں جنم لیتیں، ان کہانیوں سے سبق حاصل کیا جاتا، کچھ سنا جاتا کچھ سنایا جاتا، واقفیت حاصل ہوتی، تجربات میں اضافہ ہوتا۔ اس کی یہ سہیلی ہر معاملے میں اس سے الگ تھی۔ ایک بے باک تھی، دوسری باحیا۔ ایک طرف قہقہے تھے تو دوسری طرف آنسو۔ ایک طرف مغربی تراش خراش تھی تو دوسری طرف مشرق کی سادگی۔ اس کی نظر پڑتے ہی اس نے محسوس کیا کہ آج بھی اس کے چہرے پر نور ہی نور ہے، خوبصورتی ہی خوبصورتی ہے۔ رنگ پہلے سے زیادہ نکھر کر آیا ہے۔ سنہرے مائل بھورے بال ریشم کی طرح اس کی پشت پر بکھرے ہوئے تھے، جن کے اوپر شفون کا دوپٹہ پڑا ہوا تھا۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا: آؤ، چلو اسٹاف روم میں چلتے ہیں، وہاں کوئی نہیں ہوگا، آرام سے باتیں کریں گے۔
چھوٹے کے لیے کتابیں لینی تھیں، پیسے کم پڑ گئے، اس لیے بینک چلی آئی۔ یہ بتاؤ، ٹرانسفر ہو کر اس بینک میں کب آئی ہو اور مجھے بتایا بھی نہیں؟ اور ہاں… کیا تیرے ان کی بھی اسی شہر میں ڈیوٹی ہے؟ یہ سوال چیونٹی کی طرح اس کے جسم میں رینگتا چلا گیا۔ جگمگاتی روشنیاں جیسے یکدم کسی نے پھونک مار کر بجھا دی ہوں۔ یکلخت اس کا جگمگاتا چہرہ تاریکیوں میں ڈوب گیا اور اس نے کہا:
میرے مقدر کو خوشی راس نہیں آئی۔ مزید کی ہوس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی، خواہشوں کی قبا پھاڑ ڈالتی ہے۔ میں نے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا نہ ہوا۔ میرے سارے خواب چکنا چور ہو گئے اور میری تمام امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ اب دل کا دکھ دل میں دفن کرنے کے سوا چارہ بھی نہیں۔ میں نے زندگی بھر اسی قسم کا خواب دیکھا تھا، یہی وہ زندگی تھی جس کی چکاچوند مجھے بے چین رکھا کرتی تھی۔ اب سمجھ میں آ رہا ہے-دوستی، بھروسہ، دل، رشتہ، وعدہ، پیار-جب یہ ٹوٹ جاتے ہیں تو آواز نہیں آتی، مگر درد بہت ہوتا ہے۔ یہ مادی چیزیں محبت اور رشتوں سے زیادہ ضروری نہیں۔ صرف وقت ہی ساری زندگی کے لیے یادگار ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی خواہشات پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ بساط سے باہر بظاہر بے ضرر خواہشات کو پورا کرنے کی دھن میں…
… تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا:
ضروری نہیں جو چیز ہمیں پسند آئے ہم وہ رکھ لیں، خاص کر قیمتی چیزیں۔ ضرورت سے زیادہ خواہش محض خسارہ ہی دیتی ہے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خواب دیکھنا اور ان خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہنا انسان کو لہو لہان کر دیتا ہے اور وہ سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے۔ زندگی میں بہت سے مقامات پر ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم وقتی اور عارضی خوشی کے لیے اپنے آپ کو گڑھے میں گرا لیتے ہیں، اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک غلط اٹھایا گیا قدم ہمیں کسی اور مقام پر لے جاتا ہے۔ مجھے ایک مکمل عورت بننے کا حق قدرتی طور پر انعام کی صورت میں سونپا گیا تھا، مگر اپنے اندر کی عورت کو اعلیٰ ترین مقام پر لے جانے کے بجائے میں نے اپنے ہی ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی خواہش کی۔ بے شک غربت میں انسان بے چین اور پریشان نظر آتا ہے، مگر ایک عورت ہونے کے ناطے اپنے ہمسفر کی توجہ و پیار کے سائے میں جھونپڑی بھی محل نظر آنے لگتی ہے، اور بھوک و پیاس میں من و سلویٰ سا احساس تسکین بخشتا ہے۔ کاش مجھے یقین ہوتا کہ جھونپڑی میں رہ کر میرا شوہر میرے خوابوں میں ضرور رنگ بھر دے گا، اور میں یہ بھول گئی کہ مرد کی زندگی مسلسل جدوجہد اور محنت کا نام ہے-تب کہیں جا کر کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
ایک بات کہوں؟ انسان بڑی انوکھی چیز ہے۔ بعض چیزیں اس کی نگاہوں کے سامنے ہوتی ہیں اور وہ ان سے نفرت کرنے لگتا ہے، انہیں جانے بغیر، ان کی اصلیت سمجھے بغیر۔ میں مانتی ہوں خودداری قدرت کا انعام ہوتی ہے، لیکن ضدی طبیعت اچھی نہیں ہوتی۔ سمجھداری کا تقاضا یہی ہے کہ جذباتی ہونے کے بجائے حقیقتوں پر نگاہ ڈالی جائے اور صحیح راستے کا انتخاب کر لیا جائے۔ زندگی کے نشیب و فراز کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی صلاحیت رکھنا اور پھر رنگ و برش کے کمال سے کسی بھی خیال کو زندہ کر لینا میرے لیے مشکل نہیں تھا، لیکن میرا حوصلہ چڑیا سا تھا۔
اگر آپ صبر و تحمل سے کام لیں تو کوئی ایسا کام نہیں جو آپ نہ کر سکیں۔ آپ چھلنی میں بھی پانی لے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ پانی کے جم جانے تک انتظار کریں۔ کبھی کبھی زندگی میں وہ کچھ بھی ہو جاتا ہے جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ اس وقت یادوں کی بوجھل چٹانیں اس کے ذہن پر گر رہی تھیں، اور جیسے اس کے جسم میں سے سب کچھ نچوڑ لیا گیا ہو۔ آنکھیں جیسے خود بخود بند ہو گئیں اور یادوں کا پگھلا ہوا سیسہ اس کی رگوں میں سے گزرنے لگا۔ اس نے اپنی انگلی سے اس قطرۂ اشک کو صاف کیا جو ضبط کی کوششوں کو شکست دے کر خاموشی سے آنکھ سے نکل آیا تھا۔ جذبات سے گندھی عورت شمع کی مانند پگھل کر ختم ہو ہی جاتی ہے۔ اس کا وجود ایک بے شکل ڈھیر میں تبدیل ہو کر بس اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔
اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے گھر جانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ نیا ماحول، نئے لوگ، ہر ایک کا مزاج مختلف، ہر ایک کی پسند الگ۔ ماں جب اپنے بیٹے کے لیے دلہن اور بہنیں اپنے بھائی کے لیے لڑکی کی تلاش میں نکلتی ہیں تو ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ چاند سی لڑکی تلاش کر کے لائیں۔ اس وقت وہ سوائے شکل کے کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتیں۔ میں اب اپنے جرم کی سزا چاہتی ہوں-ایسی سزا کہ جس میں میرے قلب کو سکون، میرے ذہن کو ٹھنڈک اور میری روح کو چین ملے۔ لیکن مجھے کوئی سزا دینے والا نہیں، مجھے کوئی سکون بخشنے والا نہیں، اور مجھ میں اتنی جرأت نہیں کہ میں اپنے کرب، اپنے دکھ اور اپنی بے چینی اور تڑپ میں اس آگ کا کسی سے ذکر کروں جو مجھے اندر ہی اندر جلا رہی ہے۔ میں ایسے مقام پر پہنچ گئی ہوں جہاں سے واپسی کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں اور ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے جو موت کی کھائی کی طرف جاتا ہے۔ میں کسی کو اپنی مدد کے لیے نہیں بلا سکتی، اور سوائے خدا کے کوئی میری مدد کر بھی نہیں سکتا، اور خدا شاید میری مدد کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کسی کے لیے یہ بڑی سزا ہے کہ وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہو اور اوپر سے مسکرانے پر مجبور ہو، مگر کوئی کتنی دیر تک جبراً مسکرا سکتا ہے؟ اندر سے لبالب بھرا ہو تو خود کو چھلکنے سے کب تک روک سکتا ہے؟ اس نے جلدی سے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں مگر ہونٹ رونے سے پھڑپھڑا رہے تھے۔ اس وقت اس کی روح کی گہرائی سے نکلی ہوئی بات اس کی سہیلی کے دل کی گہرائی تک جا پہنچی۔ سب ختم ہو گیا-میری خوشیاں، میرے خواب، شاید میری ہنسی بھی…
یہ سب سننے کے بعد اس کی سہیلی نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کیے اور اچانک اس کے منہ سے نکلا: میرے اللہ! اتنی غلطیاں! مجھے تو اندر ہی اندر خجالت سی محسوس ہو رہی ہے، اور تمہاری قربت میں مجھے اب دم گھٹنے لگا ہے۔ تم کوئی دودھ پیتی بچی تو نہیں جو میں تمہیں نصیحت کروں۔ تمہاری عمر میں انسان کو نصیحت کرنے پر میں یقین نہیں رکھتی۔ اس عمر میں انسان کو اتنی عقل ضرور آ چکی ہوتی ہے کہ وہ صحیح اور غلط سمجھے، اور اگر وہ اس عمر میں بھی صحیح اور غلط نہ سمجھے تو میں نہیں سمجھتی کہ کسی کی نصیحت اس کے بھیجے میں عقل ڈال سکتی ہے۔ تم سمجھتی ہو کہ تم انتہائی خوبصورت عورت ہو، مگر میری نظروں میں تم ایک عام سی عورت ہو۔ ہاں، ہاں، میں سچ کہہ رہی ہوں۔ تم میں واقعی کوئی ایسی بات نہیں کہ تمہیں چاند کا ٹکڑا یا حسنِ عالم کہا جائے، جبکہ حسن کا معیار سب کی نگاہ میں الگ الگ ہوتا ہے۔ دل کرتا ہے تمہیں ہزار جوتے ماروں اور ایک بھی نہ گنوں۔ دولت کی ہوس انسان کو ان راستوں پر لے جاتی ہے جو بہرحال نیکی اور شرافت کے راستے نہیں ہوتے۔ مرد کا پیار اور توجہ ایک بگڑی ہوئی عورت کو بھی سنوار دیتا ہے، اور تم اتنی بگڑی ہو کہ تم سدھر ہی نہیں پاتی۔ بے غیرت ہو تم، کیڑے پڑیں تمہاری زبان میں، بدبخت!
دکھ انسان کے مر جانے کا نہیں ہوتا بلکہ اپنائیت، محبت اور خلوص اس کے انتظار میں کھڑی رہتی ہے۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ تم اتنی پست ذہن نکلو گی۔ میاں بیوی کے درمیان ہزار قسم کی باتیں ہوا کرتی ہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس سے اپنا ہاتھ چھڑا لو۔ خوبصورتی اپنے اندر تلاش کرو، یہ تمہیں اور کہیں نہیں ملے گی۔ یہ محبت کا لازوال جذبہ ہی تو ہے جو عورت کے اندر مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ عورت بچپن میں سہیلیوں اور بہن بھائیوں کے لیے، اور شادی کے بعد شوہر اور بچوں کے لیے سب کچھ برداشت کرتی ہے، اس لیے عورت کا دل ایک اتھاہ سمندر ہوتا ہے۔ اس کی صرف دو ہی خواہشیں ہوتی ہیں: اسے ایک اچھا سا جیون ساتھی ملے اور اس کی ممتا کی تکمیل ہو سکے۔ اور تم معمولی دولت کے پیچھے اپنی ساکھ بھول گئیں۔ دوسروں کے لیے قربانیاں دینا سیکھو، اس سے خلوص بڑھتا ہے، اور دنیا کا سب سے بڑا رشتہ خلوص ہی کا رشتہ ہوتا ہے۔ انمول چیزیں اور انمول جذبے بازاروں میں نہیں بکتے، انہیں خریدنے کے لیے خلوص کی چاندی لٹانی پڑتی ہے، کاغذ کے یہ بے معنی پرزے نہیں۔
اس دنیا میں سکون صرف اسی شخص کے لیے ہے جو بے سکونی کی حالت میں اپنے آپ کو راضی کر لے۔ شادی شدہ زندگی نہایت حسین و پُرکیف ہے، بشرطیکہ کوئی اسے ڈھنگ سے جیئے۔ محبت ایک بوند ہے جو پتھر میں بھی چھید کر دیتی ہے۔ تم جیسی اندھی، اندھوں کی دوڑ میں ایک دوسرے کو دھکا دے کر سمجھتی ہو کہ میں آگے ہوں۔ انسان کو اپنی سوچوں میں خوبصورتی پیدا کرنی چاہیے۔ زندگی کسی دیوانے کا خواب نہیں، یہ بہت آزماتی ہے۔ کسی کو اپنا لینا محبت نہیں بلکہ اس کے دل میں جگہ بنا لینا محبت ہے۔ محبتیں اور خوشیاں سب کے دروازے پر دستک دیتی ہیں، جو عقل مند ہوتے ہیں فوراً آگے بڑھ کر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، اور کچھ بیوقوف ساری عمر تقدیر کو روتے رہتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی خوشی نے ان کا در بھی کھٹکھٹایا تھا۔ جب قدرت کی طرف سے انسان کو خوبیاں نواز دی جائیں تو ان کا فائدہ نہ اٹھانا اپنے ساتھ زیادتی ہے، جو ہم لوگ انجانے میں اپنے ساتھ کر جاتے ہیں۔ خواب ضرور دیکھو، لیکن اتنا یاد رکھو کہ حقیقت کو تمہارے خوابوں سے کوئی سروکار نہیں۔
یہ ہندوستان ہے، یہاں لڑکی کو پر نکلنے سے پہلے بدنامی کو پر لگ جاتے ہیں، اور جان کو روگ لگانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ زندگی میں ضبط کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں ضبط قائم نہیں رکھ سکتا، وہ زندگی کسی وقت ہار سکتا ہے۔ پھر ضبط اور محبت میں دشمنی ہو جاتی ہے، اور انسان بری باتیں سوچنے لگتا ہے، اس کا دماغ الجھتا ہے اور وہ شک کی بیماری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا:
محبت ہی سب کچھ ہے جو آسمانوں میں رہتی ہے اور زمین والوں پر اپنی شفقت کا دامن پھیلائے رکھتی ہے۔ محبت جب نہیں ہوتی تو ملک آزاد ہونے کے باوجود لوگ مرنے لگتے ہیں، گھر جلنے لگتے ہیں، عورتیں لوٹی جانے لگتی ہیں-مطلب مستقبل میں تاریکی ہی تاریکی ہے۔ میری یہ بات گانٹھ میں باندھ لو۔
یہ حسین صورت، یہ جوانی ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ وہ مرد جو تم سے چاہت کے دعویدار ہیں، جا کر انہیں بتاؤ کہ تم طلاق لے کر ان سے شادی کرنا چاہتی ہو، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو تمہارا ہاتھ ہمیشہ تھامنے کے لیے تیار ہوگا۔ میں تمہیں حقیقت سے آشنا کرانا چاہتی ہوں۔ قصور تمہارا ہے۔ تم میں لچک نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ اگر تم غیر جانبداری سے سوچو گی تو تمہیں احساس ہوگا کہ خیالات کی پختگی، زندگی کا حقیقی انداز، دکھ کو محسوس کرنا اور مردانہ وار حالات کا مقابلہ کرنا-یہ ایک غیر معمولی عورت ہی کر سکتی ہے، تم جیسی نہیں۔ بیویاں روتی ہیں، چلاتی ہیں، دھمکیاں دیتی ہیں، بالآخر سمجھوتا کر لیتی ہیں، کیونکہ شوہر کا اسٹیٹس اور بچوں کا مستقبل انہیں عزیز ہوتا ہے۔ اگر سمجھوتا نہ کرے تو سوکھے پتے کی طرح ساری زندگی ہواؤں کی زد پر اڑتی رہتی ہے، ڈرتی رہتی ہے۔ اس کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ امتحان بن جاتا ہے اور وہ خود ایک امتحان بن جاتی ہے۔
اللہ نے تمہیں عورت کا روپ ضرور دیا ہے، لیکن تم ایک پتھر کا مجسمہ ہو جس میں احساس نہیں، درد نہیں، انسانیت نہیں۔ یہ یاد رکھو، لوگ کبھی خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوتے، ہمیشہ تمہاری گفتگو اور اخلاق انہیں بھاتے ہیں۔ لوگوں کو اخلاق سے متاثر کرو، یوں کہ ہمیشہ کے لیے ان کی یادداشت کا حصہ بن جاؤ۔
اپنی سہیلی کی باتیں اس کے کانوں میں لگاتار ٹکرا رہی تھیں اور ان کی گونج اس کے دل و دماغ کو لپیٹ میں لیے ہوئے تھی۔ اور ہاں… یہ کیا پہن رکھا ہے؟ ہاتھ نہ سہی، گندی نظر بھی انسان کے جسم کو میلا کر دیتی ہے۔ چادر عورت کی بہت سی خوبصورتیاں چھپا لیتی ہے اور وہ خراب لوگوں کی بری نگاہوں اور برے ارادوں سے بچ جاتی ہے۔ صورت معمولی ہو مگر آنچل کے سائے میں ہو تو مشرق کا حسن اسے دلکش بنا دیتا ہے۔ ماؤں اور بیٹیوں کے سر ننگے ہوں تو پوری قوم ننگی سی نظر آتی ہے۔ تم بھی آئندہ احتیاط کیا کرو۔
وہ اپنی نشست پر سر جھکائے بیٹھی رہی، جیسے گزرے ہوئے واقعات کے تانے بانے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ سکی۔ ہاتھ پیر شل تھے اور حلق میں کانٹے پڑنے کے باوجود اپنے آپ سے کہنے لگی: یہ تو انسان کو منجمد کر دینے والی بات کرتی ہے، ذہن کو کرنٹ لگا دینے والی بات کرتی ہے اور دوسرے کی سوچ کو دبنگ کر دینے والی بات کرتی ہے۔ ایک سمندر جیسی ذہانت لیے، حسن کی تابکاری کے ساتھ، عقل اور دانائی کی عافیت لیے-ایسی ہی عورتوں کے لیے جنگیں لڑی گئی ہیں، بہت خون بہا ہے۔
اس کو دیکھ کر سہیلی نے اپنا پیر زور سے پٹختے ہوئے کہا: کیا سوچ رہی ہو؟ جلدی سے مجھے بتاؤ-تیرے ان کی ڈیوٹی کہاں ہے؟ مجھے ابھی اسی وقت اس سے ملنا ہے۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


