کشمیر کی زمینوں کا بدلتا نقشہ!

کشمیر آج ایک خاموش مگر گہری تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ زرعی زمینوں کا تیزی سے باغبانی اور دیگر غیر زرعی مقاصد میں تبدیل ہونا بظاہر اقتصادی ترقی اور منافع بخش زراعت کی طرف ایک قدم معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے دور رس اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار اس رجحان کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔13-2012 میں جہاں دھان کی کاشت کا رقبہ 162309 ہیکٹر تھا وہ 22-2021تک گھٹ کر 134067 ہیکٹر رہ گیا یعنی تقریباً 17 فیصد کمی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں زمینوں کی تبدیلی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے حقیقی کمی اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 35000 ہیکٹر دھان کی زمین باغبانی اور تعمیرات کے لئے استعمال میں لائی جا چکی ہے۔
یہ رجحان محض زمین کے استعمال کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی اور ترجیح کا عکاس ہے جو فوری معاشی فائدے کو طویل مدتی غذائی تحفظ پر فوقیت دیتی ہے۔ باغبانی یقیناً کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے خاص طور پر سیب اور دیگر پھلوں کی پیداوار مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی بنیادی غذائی ضروریات کو نظر انداز کر کے ایک متوازن معیشت قائم رکھ سکتے ہیں؟
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر اپنی بنیادی خوراک خصوصاً چاول کے لئے مکمل طور پر دیگر ریاستوں پر منحصر ہو جائے گا۔ ایک ایسی معیشت جو اپنی بنیادی ضروریات کے لئے دوسروں کی محتاج ہو اسے خود کفیل نہیں کہا جا سکتا۔ انحصار ہمیشہ کمزوری کو جنم دیتا ہے اور غذائی انحصار کسی بھی خطے کی خود مختاری کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز فوری طور پر ایک متوازن حکمت عملی اختیار کریں جس میں زرعی زمینوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ کسانوں کو ایسی مراعات دی جائیں کہ وہ دھان کی کاشت کو ترک کرنے کے بجائے اسے جدید طریقوں کے ساتھ جاری رکھیں۔ ساتھ ہی زمینوں کی بے قابو تبدیلی پر مؤثر قوانین اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
کشمیر کے لئے اصل چیلنج ترقی اور خود کفالت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ کیونکہ ایک ایسی قوم یا خطہ جو اپنی روٹی کے لئے دوسروں پر انحصار کرے وہ کبھی حقیقی معنوں میں خود مختار اور خود کفیل نہیں بن سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

کشمیر کی زمینوں کا بدلتا نقشہ!

کشمیر آج ایک خاموش مگر گہری تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ زرعی زمینوں کا تیزی سے باغبانی اور دیگر غیر زرعی مقاصد میں تبدیل ہونا بظاہر اقتصادی ترقی اور منافع بخش زراعت کی طرف ایک قدم معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے دور رس اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار اس رجحان کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔13-2012 میں جہاں دھان کی کاشت کا رقبہ 162309 ہیکٹر تھا وہ 22-2021تک گھٹ کر 134067 ہیکٹر رہ گیا یعنی تقریباً 17 فیصد کمی۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں زمینوں کی تبدیلی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے حقیقی کمی اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً 35000 ہیکٹر دھان کی زمین باغبانی اور تعمیرات کے لئے استعمال میں لائی جا چکی ہے۔
یہ رجحان محض زمین کے استعمال کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی اور ترجیح کا عکاس ہے جو فوری معاشی فائدے کو طویل مدتی غذائی تحفظ پر فوقیت دیتی ہے۔ باغبانی یقیناً کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے خاص طور پر سیب اور دیگر پھلوں کی پیداوار مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی بنیادی غذائی ضروریات کو نظر انداز کر کے ایک متوازن معیشت قائم رکھ سکتے ہیں؟
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر اپنی بنیادی خوراک خصوصاً چاول کے لئے مکمل طور پر دیگر ریاستوں پر منحصر ہو جائے گا۔ ایک ایسی معیشت جو اپنی بنیادی ضروریات کے لئے دوسروں کی محتاج ہو اسے خود کفیل نہیں کہا جا سکتا۔ انحصار ہمیشہ کمزوری کو جنم دیتا ہے اور غذائی انحصار کسی بھی خطے کی خود مختاری کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز فوری طور پر ایک متوازن حکمت عملی اختیار کریں جس میں زرعی زمینوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ کسانوں کو ایسی مراعات دی جائیں کہ وہ دھان کی کاشت کو ترک کرنے کے بجائے اسے جدید طریقوں کے ساتھ جاری رکھیں۔ ساتھ ہی زمینوں کی بے قابو تبدیلی پر مؤثر قوانین اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
کشمیر کے لئے اصل چیلنج ترقی اور خود کفالت کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ کیونکہ ایک ایسی قوم یا خطہ جو اپنی روٹی کے لئے دوسروں پر انحصار کرے وہ کبھی حقیقی معنوں میں خود مختار اور خود کفیل نہیں بن سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں