جموں یونیورسٹی میں یوتھ فیسٹول ’ گونج 2026‘کا اِفتتاح

نیوز ڈیسک

جموں/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعہ کو کہا کہ نوجوانوں کے پاس معاشرے اور قوم کو مستقبل کی طرف لے جانے کے لئے بے پناہ صلاحیت ہیں۔
اُنہوں نے دیرپا ترقی کے لئے متوازن ذہنوں اور جرأت مند اِختراع کاروں کی تیاری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’بااختیار نوجوان ہی مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ فکری گہرائی، تخلیقی طاقت اورنوجوانوں کی اختراعی قیادت قومی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔’’
اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج جموں یونیورسٹی میں منعقدہ منفرد یوتھ فیسٹیول ’گونج 2026‘ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

دو روزہ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لئے منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیسٹول ذہن کو جِلا بخشے گا، جسم کو توانائی دے گا اور اِختراع کو پروان چڑھائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب نوجوان اپنے اندر حوصلے کی شمع روشن کرتے ہیں اور پختہ یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو معاشرے اور قوم کے لئے نئی راہیں کھلتی ہیں۔
اُنہوںنے طلبأکی ترغیب دی کہ وہ اِختراع کو اَپنائیں، نئی تحقیق کریں، جرأت مندانہ تجربات کریں اور قوم کی تعمیر کے دروازے کھولیں۔
پولیس اسٹیشن سی آئی کے میں درج ہے۔ مقدمہ میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعات 121، 121-اے، 153-اے، 153-بی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور ای اینڈ آئی ایم سی او ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج (خصوصی عدالت) سری نگر نے استغاثہ اور تفتیشی افسر کا موقف سننے اور کیس ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد چاروں ملزمان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ریاست کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ملزمان کی تحویل میں تفتیش ضروری ہے۔
بیان کے مطابق یہ مقدمہ 5 اپریل 1996 کو درج کیا گیا تھا جب مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بیرونِ ملک موجود عناصر کشمیری نوجوانوں کو عسکری تربیت کے لیے آمادہ کر رہے ہیں۔ تفتیش کے دوران مبینہ طور پر شدت پسندی، بھرتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق شواہد جمع کیے گئے۔
سی آئی کے کا کہنا ہے کہ مسلسل کوششوں کے باوجود ملزمان مفرور رہے اور گرفتاری سے بچتے رہے۔ ادارے نے اس اقدام کو دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

تازہ ترین خبریں

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

جموں یونیورسٹی میں یوتھ فیسٹول ’ گونج 2026‘کا اِفتتاح

نیوز ڈیسک

جموں/ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعہ کو کہا کہ نوجوانوں کے پاس معاشرے اور قوم کو مستقبل کی طرف لے جانے کے لئے بے پناہ صلاحیت ہیں۔
اُنہوں نے دیرپا ترقی کے لئے متوازن ذہنوں اور جرأت مند اِختراع کاروں کی تیاری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،’’بااختیار نوجوان ہی مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ فکری گہرائی، تخلیقی طاقت اورنوجوانوں کی اختراعی قیادت قومی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔’’
اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج جموں یونیورسٹی میں منعقدہ منفرد یوتھ فیسٹیول ’گونج 2026‘ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

دو روزہ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لئے منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیسٹول ذہن کو جِلا بخشے گا، جسم کو توانائی دے گا اور اِختراع کو پروان چڑھائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب نوجوان اپنے اندر حوصلے کی شمع روشن کرتے ہیں اور پختہ یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو معاشرے اور قوم کے لئے نئی راہیں کھلتی ہیں۔
اُنہوںنے طلبأکی ترغیب دی کہ وہ اِختراع کو اَپنائیں، نئی تحقیق کریں، جرأت مندانہ تجربات کریں اور قوم کی تعمیر کے دروازے کھولیں۔
پولیس اسٹیشن سی آئی کے میں درج ہے۔ مقدمہ میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعات 121، 121-اے، 153-اے، 153-بی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور ای اینڈ آئی ایم سی او ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج (خصوصی عدالت) سری نگر نے استغاثہ اور تفتیشی افسر کا موقف سننے اور کیس ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد چاروں ملزمان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ریاست کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ملزمان کی تحویل میں تفتیش ضروری ہے۔
بیان کے مطابق یہ مقدمہ 5 اپریل 1996 کو درج کیا گیا تھا جب مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بیرونِ ملک موجود عناصر کشمیری نوجوانوں کو عسکری تربیت کے لیے آمادہ کر رہے ہیں۔ تفتیش کے دوران مبینہ طور پر شدت پسندی، بھرتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق شواہد جمع کیے گئے۔
سی آئی کے کا کہنا ہے کہ مسلسل کوششوں کے باوجود ملزمان مفرور رہے اور گرفتاری سے بچتے رہے۔ ادارے نے اس اقدام کو دہشت گردی سے متعلق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں