بھارت اورامریکہ تجارتی مذاکرات مؤخر

جنگ نیوز

واشنگٹن میں بھارت اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر ہونے والی تین روزہ بات چیت امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مؤخر کر دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی چیف تجارتی مذاکرات کار درپن جین اس سلسلے میں امریکہ جانے والے تھے۔
فی الوقت امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد جوابی ٹیرف عائد ہے، جسے عبوری معاہدے کے تحت 18 فیصد تک کم کیے جانے کی توقع تھی۔ دونوں ممالک مارچ میں معاہدے کو حتمی شکل دے کر اپریل سے اس پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم تازہ عدالتی فیصلے نے صورتحال بدل دی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت وسیع ٹیرف عائد کرنے میں اختیارات سے تجاوز کیا۔ فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ٹریڈ ایکٹ 1974 کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان کیا، جو 150 دن کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ انتظامیہ ٹیرف پالیسی جاری رکھنے کے لیے دیگر قانونی راستوں پر غور کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے بھارت نے جمعہ کے روز امریکہ کی قیادت میں قائم پیکس سیلیکا اسٹریٹجک اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی، جب دونوں ممالک نے پیکس سیلیکا اعلامیے پر دستخط کیے۔ یہ دستخط مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی امور جوزے ڈبلیو ہولبرگ کی موجودگی میں انجام پائے۔
بھارت میں امریکی ایلچی سرجیو گور نے کہا، ’’بھارت اس اتحاد میں شامل ہو گیا ہے جو اکیسویں صدی کے اقتصادی اور تکنیکی نظم کی تشکیل کرے گا۔‘‘

ٹرمپ کی مزید ٹیرف کی دھمکی
جنگ نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اس پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ عدالت نے ان کے سابقہ وسیع ٹیرف کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اختیارات سے تجاوز کیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ جو ممالک برسوں سے امریکہ کا استحصال کرتے رہے ہیں اور اب عدالتی فیصلے سے کھیلنے کی کوشش کریں گے، انہیں مزید سخت محصولات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خریدار ہوشیار رہیں۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بطور صدر انہیں ٹیرف کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں کیونکہ یہ اختیار پہلے ہی مختلف شکلوں میں دیا جا چکا ہے، اور حالیہ عدالتی فیصلہ بھی اس کی توثیق کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

بھارت اورامریکہ تجارتی مذاکرات مؤخر

جنگ نیوز

واشنگٹن میں بھارت اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر ہونے والی تین روزہ بات چیت امریکی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد مؤخر کر دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی چیف تجارتی مذاکرات کار درپن جین اس سلسلے میں امریکہ جانے والے تھے۔
فی الوقت امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد جوابی ٹیرف عائد ہے، جسے عبوری معاہدے کے تحت 18 فیصد تک کم کیے جانے کی توقع تھی۔ دونوں ممالک مارچ میں معاہدے کو حتمی شکل دے کر اپریل سے اس پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم تازہ عدالتی فیصلے نے صورتحال بدل دی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت وسیع ٹیرف عائد کرنے میں اختیارات سے تجاوز کیا۔ فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ٹریڈ ایکٹ 1974 کی دفعہ 122 کے تحت 15 فیصد عالمی ٹیرف کا اعلان کیا، جو 150 دن کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ انتظامیہ ٹیرف پالیسی جاری رکھنے کے لیے دیگر قانونی راستوں پر غور کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے بھارت نے جمعہ کے روز امریکہ کی قیادت میں قائم پیکس سیلیکا اسٹریٹجک اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی، جب دونوں ممالک نے پیکس سیلیکا اعلامیے پر دستخط کیے۔ یہ دستخط مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے اقتصادی امور جوزے ڈبلیو ہولبرگ کی موجودگی میں انجام پائے۔
بھارت میں امریکی ایلچی سرجیو گور نے کہا، ’’بھارت اس اتحاد میں شامل ہو گیا ہے جو اکیسویں صدی کے اقتصادی اور تکنیکی نظم کی تشکیل کرے گا۔‘‘

ٹرمپ کی مزید ٹیرف کی دھمکی
جنگ نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو اس پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ عدالت نے ان کے سابقہ وسیع ٹیرف کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اختیارات سے تجاوز کیا۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ جو ممالک برسوں سے امریکہ کا استحصال کرتے رہے ہیں اور اب عدالتی فیصلے سے کھیلنے کی کوشش کریں گے، انہیں مزید سخت محصولات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خریدار ہوشیار رہیں۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بطور صدر انہیں ٹیرف کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں کیونکہ یہ اختیار پہلے ہی مختلف شکلوں میں دیا جا چکا ہے، اور حالیہ عدالتی فیصلہ بھی اس کی توثیق کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں