سیکٹر اے: انشائیہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ جب دنیا میں صنعتی انقلاب آیا تو لوگ کام کاج کی تلاش میں اپنی بستیاں چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کر گئے، لیکن ہمارے یہاں تو معاملہ بالکل مختلف ہے۔ شہر والے ہوں یا گاؤں والے، وہ روزگار کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے خاطر آبائی بستیاں چھوڑ کر نئی بستیوں میں رہنے کے لیے چلے گئے۔ شہر والے تو بہرحال ایسا کرنے میں حق بجانب تھے، اس لیے کہ انہوں نے سالہا سال سے سورج کی روشنی کو اپنے گھروں کے اندر گھستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اور ہاں رشوت خور افراد اور دونمبری کام کرنے والوں کے لیے یہ مشغلہ ہے، لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گاؤں دیہات میں رہنے والے لوگوں نے اپنے آباؤ اجداد کے گھر اور زرعی زمین کھوٹے سکوں میں بیچ دی اور گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ سماج میں موجود ایک شاطر دماغ طبقے نے (جو اپنے آپ کو property dealer اور لوگ انہیں، دلال، کہتے ہیں) شہر کے مضافاتی علاقوں میں کچھ صحیح اور اکثر غلط طریقے سے بڑی بڑی زمینیں سستے داموں خرید کر انہیں منہ مانگی قیمت پر فروخت کر کے ایک نوآبادیاتی نظام کو تشکیل دیا۔
جب دو چار مکان تعمیر ہوئے تو بستی "کالونی” کہلائی، چند اور گھر آباد ہوئے تو کالونی کو ایک خوبصورت اور دلکش نام دیا گیا۔ کہیں کالونیوں کو پیغمبروں اور اولیاء اللہ کے نام دیے گئے، مثلاً ابراہیم کالونی، غوثیہ کالونی وغیرہ۔ نام کم پڑ گئے تو علماء اور شعراء کی باری آئی، اقبال کالونی، شاہ انور کالونی، اور ہاں کہیں شاطر دماغ دلالوں نے کالونی کو اپنا نام دے کر اپنے نام کر دیا، مثلاً خالق آباد، نور کالونی، خان کالونی وغیرہ۔ ستم ظریفی دیکھیے، ان زمینوں کے حقیقی مالک اور ان کے آباؤ اجداد جنہوں نے صدیوں ان پر کھیتی باڑی کی، ان کا کہیں نام و نشان نہیں۔ چونکہ ہمارے مرزا جی بھی کئی سال پہلے اپنا آبائی مسکن بیچ کر ایک ایسی ہی کالونی میں رہنے کے لیے چلے گئے تھے اور اپنا نیا ایڈریس "سیکٹر اے” بتاتے تھے، ایک دن من کیا کہ مرزا جی سے ملنے جاؤں۔ گاؤں سے کچھ پھل اور سبزیاں لے کر ایک ایسی کالونی میں پہنچا تو حیران ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سڑکیں بڑی کشادہ، ان کے دونوں طرف بلند و بالا حویلیاں، جن کے گرد دیواریں اتنی اونچی کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ رنگ برنگی چھتیں، سب دروازے بند، باہر نہ آدم نہ آدم زاد۔ کس سے مرزا جی کے گھر کا پتہ معلوم کروں۔ کئی دروازوں پر دستک دی، گھنٹیاں بجائیں، زور زور سے چلایا، لیکن بے سود۔
اکثر گھروں کے اندر سے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دی، ایسا لگتا تھا شاید یہ لوگ گھروں کو کتوں کے حوالے کر کے خود بستی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔دوپہر کا وقت تھا، مرتا کیا نہ کرتا۔ گلی گلی کوچے کوچے گھومتے ہوئے ہر مکان کے name plate کو دیکھتا رہا کہ کہیں مرزا جی کا نام ملے۔ ایک جگہ بڑے حروف میں لکھا تھا "خواجہ حاجی نور محمد صوفی”۔ دماغ پر زور لگایا تو یاد آیا کہ یہ ہمارے قریبی گاؤں کا "نورہ کاندر” ہے جو عمر بھر ترستا رہا کہ کوئی مجھے نور محمد کہہ کر بلائے۔ آگے بڑھا تو ایک اور بلند و بالا گیٹ پر انگریزی میں لکھا تھا khaja Gulam Mo hi Ud din ka charoo، یہ شاید شہر کے اسی "مہدہ کا زور” کا گھر تھا جو ریڑی لے کر گلی گلی scrap جمع کر کے گزارہ کرتا تھا۔
یہ دیکھ کر سوچنے لگا کہ ان کالونیوں میں رہنے والے لوگ پشتنی وراثت کے ساتھ ساتھ اپنی ذات، زبان اور پہچان بھی پرانی بستیوں میں چھوڑ کر آئے ہیں، تو بھلا ایسے حالات میں پرانی پہچان لے کر کسی کو ڈھونڈ نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ ان نام نہاد کالونیوں میں رہنے والے لوگ دراصل احساس کمتری کے شکار ہیں۔ ہمسایگی تو دور، یہ ایک دوسرے کو کمتر دکھانے کے لیے دن رات فکر مند رہتے ہیں۔
اگر ایک گھر والے نے دس لاکھ کی گاڑی خرید لی، دوسرے کو مجبوراً بیس لاکھ کی لانی پڑے گی، چاہے اس کے لیے باقی بچی زمین و جائیداد بیچ دینی پڑے یا بینک سے قرضہ لینا پڑے۔ ایک نے مکان کی چھت پر نیا رنگ چڑھایا تو دوسرا چھت ہی بدل دیتا ہے۔ کسی میڈم نے سونے کی بالی پہنی ہو تو دوسری میم صاحب کو ضرور ہار خریدنا پڑے گا۔ کالونی کا نام "حبیب” لیکن رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دشمن۔ یہاں رہتے ہوئے ان کے مزاج ہی بدل گئے ہیں، انسانوں سے زیادہ جانوروں سے پیار کرتے ہیں۔ کسی کی گود میں بلی پل رہی ہے تو کسی کے گھر میں کتا۔ بزرگ والدین کو پرانی بستیوں میں اللہ بھروسے چھوڑ کر جانوروں کے خدمت گار بن گئے۔ مسجدیں تو بڑی عالیشان بنائی ہیں لیکن مؤذن اور امام صاحب کے لیے نہیں، ہاں عید کے روز رنگ برنگے کپڑے لگا کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے عیدگاہ میں ضرور جمع ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملنا تو دور، یہ بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں کہ کہیں باتوں باتوں میں دوسرا میری اصلیت جان نہ لے۔ اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر "اردو” سے کام چلاتے ہیں۔ جس قدر ان کالونیوں کی سڑکیں کشادہ اور صاف و شفاف ہیں، اس سے زیادہ ان لوگوں کے دل تنگ اور سیاہ ہیں۔ ایک گھر کا اکلوتا بیٹا مر رہا ہے تو دوسرے گھر میں ناچ گانا۔
یہاں ہمدردی اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ بیچارہ مانگنے والا لاکھ بار پکارے کہ ضرورت مند ہوں اللہ کے واسطے میری مدد کرو، کوئی اس کی سنتا نہیں۔ ہر دروازے پر کیمرہ لگا ہے تاکہ ضرورت مند اندر نہ آنے پائے۔ کالونی کا نام "حاتم طائی” اور حاجت مندوں کے لیے دروازے بند۔ بہرحال جب شام کے سات بجے میں تھک ہار کر سڑک کے کنارے بیٹھا اپنی نادانی کو کوس رہا تھا کہ اچانک ایک بندہ خدا نمودار ہوا۔ جان میں جان آئی کہ اب مرزا جی کا پتہ ضرور چلے گا۔ مودبانہ انداز میں عرض کیا، "حضور یہ سیکٹر اے کہاں ہے جہاں مرزا جی رہتے ہیں؟” اس نے میری سادگی پر تحقیر آمیز نظر ڈال کر جواب دیا، "ارے صاحب یہاں ہر کوئی مرزا جی بن بیٹھا ہے اور سیکٹر اے بھی بہت ہیں، کالونی کا نام بتائیے۔” میں نے کہا، مرزا جی تو صرف سیکٹر اے ہی کہہ دیتے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ان کالونیوں میں رہنے والے لوگ ایسا ہی بتاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں ڈھونڈ نہ لے۔” یہ سن کر میں اندر ہی اندر سوچنے لگا کہ کس شہر گمنام میں آیا ہوں۔ پھل اور سبزیاں وہیں چھوڑ کر main road کھوجتے کھوجتے خود کھو گیا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

سیکٹر اے: انشائیہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ جب دنیا میں صنعتی انقلاب آیا تو لوگ کام کاج کی تلاش میں اپنی بستیاں چھوڑ کر شہروں کی طرف ہجرت کر گئے، لیکن ہمارے یہاں تو معاملہ بالکل مختلف ہے۔ شہر والے ہوں یا گاؤں والے، وہ روزگار کی تلاش میں نہیں بلکہ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے خاطر آبائی بستیاں چھوڑ کر نئی بستیوں میں رہنے کے لیے چلے گئے۔ شہر والے تو بہرحال ایسا کرنے میں حق بجانب تھے، اس لیے کہ انہوں نے سالہا سال سے سورج کی روشنی کو اپنے گھروں کے اندر گھستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، اور ہاں رشوت خور افراد اور دونمبری کام کرنے والوں کے لیے یہ مشغلہ ہے، لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گاؤں دیہات میں رہنے والے لوگوں نے اپنے آباؤ اجداد کے گھر اور زرعی زمین کھوٹے سکوں میں بیچ دی اور گاؤں چھوڑ کر چلے گئے۔ سماج میں موجود ایک شاطر دماغ طبقے نے (جو اپنے آپ کو property dealer اور لوگ انہیں، دلال، کہتے ہیں) شہر کے مضافاتی علاقوں میں کچھ صحیح اور اکثر غلط طریقے سے بڑی بڑی زمینیں سستے داموں خرید کر انہیں منہ مانگی قیمت پر فروخت کر کے ایک نوآبادیاتی نظام کو تشکیل دیا۔
جب دو چار مکان تعمیر ہوئے تو بستی "کالونی” کہلائی، چند اور گھر آباد ہوئے تو کالونی کو ایک خوبصورت اور دلکش نام دیا گیا۔ کہیں کالونیوں کو پیغمبروں اور اولیاء اللہ کے نام دیے گئے، مثلاً ابراہیم کالونی، غوثیہ کالونی وغیرہ۔ نام کم پڑ گئے تو علماء اور شعراء کی باری آئی، اقبال کالونی، شاہ انور کالونی، اور ہاں کہیں شاطر دماغ دلالوں نے کالونی کو اپنا نام دے کر اپنے نام کر دیا، مثلاً خالق آباد، نور کالونی، خان کالونی وغیرہ۔ ستم ظریفی دیکھیے، ان زمینوں کے حقیقی مالک اور ان کے آباؤ اجداد جنہوں نے صدیوں ان پر کھیتی باڑی کی، ان کا کہیں نام و نشان نہیں۔ چونکہ ہمارے مرزا جی بھی کئی سال پہلے اپنا آبائی مسکن بیچ کر ایک ایسی ہی کالونی میں رہنے کے لیے چلے گئے تھے اور اپنا نیا ایڈریس "سیکٹر اے” بتاتے تھے، ایک دن من کیا کہ مرزا جی سے ملنے جاؤں۔ گاؤں سے کچھ پھل اور سبزیاں لے کر ایک ایسی کالونی میں پہنچا تو حیران ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سڑکیں بڑی کشادہ، ان کے دونوں طرف بلند و بالا حویلیاں، جن کے گرد دیواریں اتنی اونچی کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ رنگ برنگی چھتیں، سب دروازے بند، باہر نہ آدم نہ آدم زاد۔ کس سے مرزا جی کے گھر کا پتہ معلوم کروں۔ کئی دروازوں پر دستک دی، گھنٹیاں بجائیں، زور زور سے چلایا، لیکن بے سود۔
اکثر گھروں کے اندر سے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دی، ایسا لگتا تھا شاید یہ لوگ گھروں کو کتوں کے حوالے کر کے خود بستی چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔دوپہر کا وقت تھا، مرتا کیا نہ کرتا۔ گلی گلی کوچے کوچے گھومتے ہوئے ہر مکان کے name plate کو دیکھتا رہا کہ کہیں مرزا جی کا نام ملے۔ ایک جگہ بڑے حروف میں لکھا تھا "خواجہ حاجی نور محمد صوفی”۔ دماغ پر زور لگایا تو یاد آیا کہ یہ ہمارے قریبی گاؤں کا "نورہ کاندر” ہے جو عمر بھر ترستا رہا کہ کوئی مجھے نور محمد کہہ کر بلائے۔ آگے بڑھا تو ایک اور بلند و بالا گیٹ پر انگریزی میں لکھا تھا khaja Gulam Mo hi Ud din ka charoo، یہ شاید شہر کے اسی "مہدہ کا زور” کا گھر تھا جو ریڑی لے کر گلی گلی scrap جمع کر کے گزارہ کرتا تھا۔
یہ دیکھ کر سوچنے لگا کہ ان کالونیوں میں رہنے والے لوگ پشتنی وراثت کے ساتھ ساتھ اپنی ذات، زبان اور پہچان بھی پرانی بستیوں میں چھوڑ کر آئے ہیں، تو بھلا ایسے حالات میں پرانی پہچان لے کر کسی کو ڈھونڈ نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ ان نام نہاد کالونیوں میں رہنے والے لوگ دراصل احساس کمتری کے شکار ہیں۔ ہمسایگی تو دور، یہ ایک دوسرے کو کمتر دکھانے کے لیے دن رات فکر مند رہتے ہیں۔
اگر ایک گھر والے نے دس لاکھ کی گاڑی خرید لی، دوسرے کو مجبوراً بیس لاکھ کی لانی پڑے گی، چاہے اس کے لیے باقی بچی زمین و جائیداد بیچ دینی پڑے یا بینک سے قرضہ لینا پڑے۔ ایک نے مکان کی چھت پر نیا رنگ چڑھایا تو دوسرا چھت ہی بدل دیتا ہے۔ کسی میڈم نے سونے کی بالی پہنی ہو تو دوسری میم صاحب کو ضرور ہار خریدنا پڑے گا۔ کالونی کا نام "حبیب” لیکن رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے دشمن۔ یہاں رہتے ہوئے ان کے مزاج ہی بدل گئے ہیں، انسانوں سے زیادہ جانوروں سے پیار کرتے ہیں۔ کسی کی گود میں بلی پل رہی ہے تو کسی کے گھر میں کتا۔ بزرگ والدین کو پرانی بستیوں میں اللہ بھروسے چھوڑ کر جانوروں کے خدمت گار بن گئے۔ مسجدیں تو بڑی عالیشان بنائی ہیں لیکن مؤذن اور امام صاحب کے لیے نہیں، ہاں عید کے روز رنگ برنگے کپڑے لگا کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے عیدگاہ میں ضرور جمع ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملنا تو دور، یہ بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں کہ کہیں باتوں باتوں میں دوسرا میری اصلیت جان نہ لے۔ اپنی مادری زبان کو چھوڑ کر "اردو” سے کام چلاتے ہیں۔ جس قدر ان کالونیوں کی سڑکیں کشادہ اور صاف و شفاف ہیں، اس سے زیادہ ان لوگوں کے دل تنگ اور سیاہ ہیں۔ ایک گھر کا اکلوتا بیٹا مر رہا ہے تو دوسرے گھر میں ناچ گانا۔
یہاں ہمدردی اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں۔ بیچارہ مانگنے والا لاکھ بار پکارے کہ ضرورت مند ہوں اللہ کے واسطے میری مدد کرو، کوئی اس کی سنتا نہیں۔ ہر دروازے پر کیمرہ لگا ہے تاکہ ضرورت مند اندر نہ آنے پائے۔ کالونی کا نام "حاتم طائی” اور حاجت مندوں کے لیے دروازے بند۔ بہرحال جب شام کے سات بجے میں تھک ہار کر سڑک کے کنارے بیٹھا اپنی نادانی کو کوس رہا تھا کہ اچانک ایک بندہ خدا نمودار ہوا۔ جان میں جان آئی کہ اب مرزا جی کا پتہ ضرور چلے گا۔ مودبانہ انداز میں عرض کیا، "حضور یہ سیکٹر اے کہاں ہے جہاں مرزا جی رہتے ہیں؟” اس نے میری سادگی پر تحقیر آمیز نظر ڈال کر جواب دیا، "ارے صاحب یہاں ہر کوئی مرزا جی بن بیٹھا ہے اور سیکٹر اے بھی بہت ہیں، کالونی کا نام بتائیے۔” میں نے کہا، مرزا جی تو صرف سیکٹر اے ہی کہہ دیتے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ان کالونیوں میں رہنے والے لوگ ایسا ہی بتاتے ہیں تاکہ کوئی انہیں ڈھونڈ نہ لے۔” یہ سن کر میں اندر ہی اندر سوچنے لگا کہ کس شہر گمنام میں آیا ہوں۔ پھل اور سبزیاں وہیں چھوڑ کر main road کھوجتے کھوجتے خود کھو گیا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں