شبیر احمد میر
انسان کی زندگی میںبعض اوقات ایسے عجیب و غریب اور حیر ت ناک واقعات پیش آتے ہیں کہ اسکی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔جب دل اندر سے سیاہ ہو جاتا ہے اور ضمیر پر بے عزتی کی دھول جمع ہو جاتی ہے تو پھر اس کھیل میں مزہ ہ آنے لگتا ہے اور آدمی اس چیز کو مذاق میںٹال دیتا ہے ۔ حتی ٰ کہ خدا کا تصور بھی وہ مذاق میںٹال دیتا ہے اور خود اپنے آپ کو خدا تصور کرتا ہے۔
مطلع صاف ہونے کی وجہ سے تاروں بھرا آسمان صاف نظر آرہا تھا اور پورا چاند بھی چمک رہا تھا۔ اچانک میرے پیروں کے نیچے زمین ہلنے لگی ۔ایسا لگا جیسے زبردست زلزلہ ہو رہا ہے ۔میںنے دیکھا سامنے سے ایک باروب۔ بال بکھرے ہوئے۔ آنکھیں لال سرخ ۔چہرے پر زبردست غصہ۔ جیسے پوری دنیا کو ملیامیٹ کر کے رکھ دے گی ۔میری طرف قدم بڑھا رہی تھی۔ اس کا ایک پائوں جوں ہی زمین پر پڑتا اس وقت زمین ہلنے لگتی۔ اس کی نظرجوں ہی مجھ پر پڑی ۔مجھ میں آسمان کی ساری بجلیاں سما گئیں ۔مجھے گھیر کر ہلاک کردینا وہ ضڑوری سمجھتی تھی۔ اس کا سیدھا ہاتھ گردش میںآیا اور اس نے کسی چیز کو پکڑ نے کی کوشش کی مجھ پر پھینکنے کے لیے۔ تب ہی میںنے دیکھا اس کے ہاتھ میںپورا چاند اتر کر اسکی مٹھی میں سما گیا اور یہ چاند مجھ پر پھینکنے جارہی تھی جیسے کوئی پتھر ہاتھ میںلیئے کوئی کسی کے سر پر مارتا ہے ۔پتہ نہیں اس کا ہاتھ کیوں رک گیا اور اسنے اپنی مٹھی کھولی اور چاند واپس اپنی جگہ پر جا پہنچا ۔ خوف سے روشنی کے بڑے بڑے دائرے میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے ۔مجھے دنیا گھومتی نظر آنے لگی۔ اب اسکی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی جو کہہ رہی تھی !تجھے ابھی اسی زمین میں گاڑھ دونگی۔ اس کا یہ کہنا ہی تھا کہ میرے پیروں کے نیچے زمین میںشگاف ہونے لگا۔ گرتے گرتے اچانک اس نے میرا بازو تھا م لیا اور میں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس کا ہاتھ تمام لیا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے زمین کاشگاف پھر سے برابر ہو گیا ۔ اس طرح سے میں اس کے بالکل قریب ہو گیا ۔ چاندنی میںاس چہرہ صاف نظر آرہا تھا ۔گورا رنگ۔ گول چہرہ ۔ننھی ٹھوڑی۔ سڈول ناک۔ بڑی بڑی روشن آنکھیں ۔گھنے سیاہ بال جو شانوں سے بکھر کر کمر سے نیچے تک پھیلی ہوئی تھی۔ سڈول سانچے میں ڈولا ہوا حسین جسم اور جسم پر باریک ریشمی گلابی ساڑھی جو حسن کی آب وتاب کو چھپانے سے قاصر تھی ۔غورسے دیکھنے کے بعد میںنے ایک دم اس کو پہچان لیا۔ میرے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور میرا سارا ڈر رفو چکر ہو گیا۔ میرے منہ سے اچانک نکلا ۔
اف میرے خدا! یہ تو ماںلل دیدہے ۔جی چاہا وہ اسی طرح مجھ سے قریب کھڑی رہے اور یہ لمحہ صدیوں کا روپ دھار لیں۔ جب اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ تو ہوا نے اسکی ایک باغی لٹ نے اسکی آنکھ پر گرا دیا جسے اس نے ہاتھ سے اٹھا کر آہستہ سے ہٹایا ۔ اسکی آنکھوںکی سرخی وبجلی اور چہرے پر غصہ اب ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بدلے اب اسکی آنکھوں میںممتا کا پیار چھلک رہا تھا اور میری طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہنے لگی! شروع سے ہی میری ممتا نے مجھے بے چین کر رکھا ہے اور اسی ممتا نے آج تمہاری موت کو ملتوی کر دیا ۔ایک بات بتاو !اپنے جرم سے انکار کرنے کی جرت ہے تم میں ۔تم ہی وہ شخص ہو جس نے دنیا کے ہر گوشے میں ہمارے نام کا تعاقب کیا پھر اس نام کے ساتھ تم نے کیا سلوک کیا ۔تم نے اپنے ضمیر کی ہی توہین نہیں کی ۔بلکہ ہمارے نام کی بھی توہین کی۔ تم نے ان ناموں کی توہین کی جس کو تم نے ہسپتالوں۔ یونیورسٹیوں۔ کالجوں ۔کارخانوں۔ ہائی وے کی سڑکوں ۔محلوں اور گلیوں پر تم نے ان ناموں کے بورڈ نصب کئے ہیں ۔تم نے سوچا ۔کیا یہ چیزیں جو تم نے بنائی ان ناموں پر کھری اتر رہی ہیں۔ اس کے برعکس تمہارے ہر کام سے چاروں طرف موت کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں۔ تمہاری غفلت شعاری اور بے ایمانی سے کیا ہوا ؟تمہارا ہر کام دوسروں کے لیے موت کا بہانہ بنتا ہے۔ کام کی آڑ میںتم نے اپنے لے صرف دولت کی سڑک بنائی ہے ۔جب کہ کوئی عمارت گر جاتی ہے یا کوئی پل ڈھہ جاتا ہے اور کسی کی موت ہو جاتی ہے تو تم اپنی غلطی چھپانے کے لیے لاعلمی کا اظہار کرتے ہو ۔ کاش سکون سے رہ کر تم نے اپنا فرض خوش اسلوبی سے نبھایا ہو تا اور کوئی ایسی حرکت نہ کی ہوتی ۔جو اس وقت تمہارے لیے عذاب بن گیا ہے۔ اس سرزمین کو تم نے جہالت اور بے ایمانی کی سرزمین بنا کے چھوڑا ہے ۔جو کچھ بھی یہاں ہوتا ہے اس کودیکھ کر اس کے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ جو تیری حرکات و سکناات صرف دیکھ ہی نہیں رہا ہے بلکہ لکھ بھی رہا ہے ۔مجھے تو ایسا لگ رہا ہے۔ تم نے زندگی کو خٹم کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ بیٹے ماں کا غرور ہوتے ہیں وہ جوان ہو کر ماں باپ کا نام روشن کرتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ چاہتے ہیں تمہارے رتبے اور وقار میں چار چاند لگیں۔ تمہارا نام بلند ہو۔ اس کے بدلے تم نے اپنی زندگی کو خوش و خرم رکھنے کے لئے ماں کا خون کرنے کی مثال قائم کردی۔ ایمانداری سے ایک بات بتاو! بے ایمانی اور خاموش رہ کر اپنے ضمیر کو بیچ کر کیا کمایا تم نے ؟
میںتو یہی کہوں گی تم نے خوابوں کے بدلے عذاب خرید لیے۔ تم نے اس دولت سے توبہ کبھی نہیںکی جس سے انسان گناہوں اور خرابی میں مبتلا ہو کر زلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ تم نے دوسروں کے آرزوں اور ارمانوں کا بھی سودا کیا۔ تم نے ایسے قدم اٹھائے جس سے بیگانگی بے رحمی اور بے رخی کا تنصر جان لیوا احساس مظبوط ہونے کے بجائے فاصلے بڑھا دئے۔ ایک مجبور انسان کا غصہ اور اس کی بد وعا دونوں چیزیں اگر وہ پی نہ جائے تو پوری دنیا کو جلا کر بھسم کر ڈالے ۔ تم علم اور انسانیت کے لحاظ سے اتنے کھوکھلے ہوگئے ہو کہ اب تمہارے اندر کچھ نہیں رہا۔ اپنی غلط حرکتوں کی وجہ سے تم اب گوشت پوست کا ایسا ڈھانچہ ہو جس کے اندر روح نہیں ۔ ضمیر نہیں جو تمہں ملامت کرے۔ انسان کے اندر ضمیر اس آواز کا نام ہے جو اسے خبردار کرتی ہے کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ تم زندگی بھر سزا کے راستے پر چلتے رہو گے۔ اس سے بڑھ کر تمہارے لیے اور کیا سزا ہو سکتی ہے کہ ایک انسان کو سمجھانے کے لیے مجھے دوسری دنیا سے آنا پڑا ۔خدا وند قدوس سے اپنی تمام مخلوق یعنی شجر۔ حجر ۔حیوان۔ جن۔ملا ئک میں انسان کو سب سے افضل کر دیا ہے۔ انسان کی آنکھ میںآنے والا آنسو کبھی بے سبب نہیں ہوتا۔ دکھ کا احساس جب حد سے گزر جاتا ہے۔ تو اشک بن کر آنکھ میںسما جاتا ہے اور ایک آدمی جب دوسروں کے آنسو اپنے دامن میںجذب کرتا ہے تو یہی انسانیت کی محراج ہوتی ہے ۔ تھکاوٹ کے آثار ماں کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہے تھے ۔اسنے پیشانی پر رینگتا ہوا پسینہ ہتھیلی کی پشت سے صاف کیا اور کچھ دیر سرجھکائے خاموش بیٹھی رہی۔ اس دوران میں نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری ۔میںنے بولنے کی کوشش کی۔ مگر زبان تالو سے چمٹ کر رہ گئی۔ میں نے اپنی زندگی کو خود اپنے ہی ہاتھوں تباہ کر ڈالا۔ زندگی جو انسان کو تحفظ اور سکون بخشنے کی ضامن ہوتی ہے وہ میں نے اپنے ہی ہاتھوں پامال کردی ۔
اتنے میں ماں نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور وہ انگلی تیر بن کر میرے دل کو کریدنے لگی۔ وہ جو معبود ہے تم کو اس لیے ڈھیل نہیں دیتا کہ تم اپنے جرم کو چھپاتے جاو۔ چھوٹ اس لیے ملتی ہے کہ تم اپنی اصلاح آپ کر سکو۔ کیونکہ انسان خود اپنی ذات میں معلم ہے ۔وہ جتنی صفائی اور دانشمندی سے خود کو سمجھا سکتا ہے۔ ایسا کوئی دوسرا اسے نہیں سمجھا سکتا ۔ اس زات سے ڈور ۔جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو شدید پکڑ ہوتی ہے اور جب وہ اپنی رسی کھینچ لے گا تو تم گر پڑو گے ۔پھر انصاف اور قانون کے مظبوط ہاتھ تمہیں اپنی گرفت میں لے لیں گے ۔ تم پہ سختی میں برداشت نہیں کر سکوں گی ۔کیو نکہ اولاد پر سختی ماںپر سختی ہوتی ہے ۔ یہ کہہ کر ماں کی آنکھیںچھلک گیئں۔ اور ڈوبتی ہوئی آواز میں بولی! اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو فرض کو فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور ان کی خوشبو ہوا کی مخالف سمت میں بھی پھیل جاتی ہے۔ ایک انسان اپنی آہنی فولادی قوت سے اگر وہ چاہے آسمان کو بھی اپنے قدموں میں جھکا سکتا ہے ۔مظبوط پہاڑوں میں راستہ بنا سکتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر کر میٹھے چشمے بہا سکتا ہے۔ یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ایک انسان اپنی خواہشات پر قابو رکھ سکے سعادت مند اور نیک انسان وہ ہوتے ہیں جو اپنے عیب دیکھے اور جب دوسروں کے عیب دیکھے تو اس کو بھی اپنا عیب سمجھے ۔ اپنے ضمیر کو زندہ اور اپنی شرم و شرافت کو بحال رکھو اور کبھی بھی کسی کا دل مت دکھاو ۔ہو سکتا ہے اس کے آنسو تمہارے لیے سزا بن جائیں۔ دل ایک آئینہ ہے اگر بدی سے پاک ہے تو اس میں خدا بھی نظر آسکتا ہے۔
جسطرح انسان کے باہر ایک دنیا ہوتی ہے بالکل اسی طرح ا س کے اندر بھی ایک دنیا ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا کو اپنے اندر کی دنیا پر حاوی نہیں ہونے دینا۔ وہی شخص خوش رہتے ہیں اور سچائی کو محسوس کرنے کے لیے ایک خاص نظر اور ایک خاص دل کی ضڑورت ہوتی ہے ۔جو تمہارے پاس اب نہیں رہی۔ کوشش کرو۔یہ تمہیں واپس بھی مل سکتی ہے۔ زندگی کے دوراہے پر چلتے چلتے کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں۔جب کوئی اپنے جذبات کچل کر دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا پڑتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت کی تکمیل ہوتی ہے اور روح بلندی سے ہمکنار ہوتی ہے ۔میںتم کو علم کی گہرائی یاد دلانے کے لیے تمہار ے پاس آئی ہوں۔ تم سے صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں۔اگر تم نے علم کی گہرائی سے تعاون نہیںکیا ۔تو تمہاری سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں۔ اپنے ایمان سے محبت کر ۔پھرتمہںدنیا اور ساری کائنات نظر آ ے گی اور تم ایک کھوٹا سکہ نہیں رہو گے۔ بیشک میں دوسری دنیا میںہوں ۔مگر وہا ں بھی مجھے تمہاری فکر رہی ۔جس کی وجہ سے میں تمہارے پاس اس وقت کھڑی ہوں ۔ اب وہ بالکل خاموش ہوگئی اور میری آنکھوں پر گرے غفلت کے پردے سرک گئے۔ اپنا وہ گھاونا عمل پوری جزئیات سمت زہن کے پردے پر روشن ہو کر رہ گئے۔ جس سے صیح معنوں میں انسانیت کی سطح سے مجھے بہت نیچے گرا دیا تھا ۔ مجھے اپنی حماقتوں پر شرمندگی محسوس ہوئی جسکی وجہ سے میرا دل زور زور سے دھڑکا اور ایک دم مجھے اب اپنے قدموںپر کھڑا رہنادشوار محسوس ہونے لگا ۔میںنے ہمت کی اور اپنے بارے میںسوچنے لگا !میری زندگی میںپہلے کوئی کمی تھی جواب پوری ہورہی تھی ۔ میںمکمل انسان ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتا ہوں۔ اپاہج محسوس کرتا ہوں ۔بالکل ادھورا ۔اس وقت ماں لل دید کی خاموشی بہت بھیانک تھی ۔نہ جانے اب کیا ہونے والا تھا؟مجھے اداس اور گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اس نے میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا ۔
میرے بیٹے اداس اور گہری سوچ میںتم کتنے خوبصورت لگ رہے ہو۔ پھر اجالے کی ایک لکیر سی نمودار ہو گئی ۔جو آہستہ آہستہ دراز اور وسیع ہوتی چلی گئی اور میری آنکھوں کے سامنے غائب ہوگئی ۔میری اانکھوں سے ماں کے لیے آنسوں کی لڑیاں بہنے لگیں۔ ماں کو پکارنے کے لیے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر ماں کو پکارنے لگا ۔
ماں مت جاو مجھے چھوڑ کر۔ لل دید۔ ماں کے لیے میری آواز میں التجا تھی ۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جاسکتی ہے۔
ززز


