خلش: کہانی

 

ذوالفقار علی بخاری

’’بسنت مناؤ گے یا پھر کتاب میلے میں جاؤ گے؟‘‘
وجدان نے احمد سے استفسار کیا۔
’’کئی سالوں بعد بسنت منانے کا موقع مل رہا ہے تو اِیسے میں کتابوں کو پڑھنے سے کیا حاصل ہوگا؟‘‘
احمد نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’یعنی تمھیں لگتا ہے کہ بسنت منانا کتاب خریدنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
اکبر نے احمد کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’میری فکر چھوڑو۔۔۔تمھیں کہیں سے دعوت نامہ ملا ہے۔تمھیں تو بڑا شوق ہے کہ ’ادیب‘ کے طور پر مدعو کیا جائے۔‘‘
احمد نے اکبر کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے وجدان سے پوچھا۔
’’نہیں۔مجھے کسی ادارے نے شرکت کا دعوت نامہ نہیں دیا ہے۔‘‘
وجدان نے سرجھکاتے ہوئے جواب دیا۔
’’جو ہزاروں لوگ کتاب میلے میں شرکت کر رہے ہیں، کیا اْن کو باقاعدہ دعوت نامے بھیجے گئے ہیں؟کتب میلہ اور ایسی نمائشوں میں دعوت عام ہوتی ہے، کوئی بھی شریک ہو سکتا ہے۔ کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
احمد جذباتی اندازمیں بولا۔
’’تمھاری بات درست ہے۔لیکن جب ادب کے فروغ کی بات ہو تو پھر کسی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ایک ادارے نے ہر خاص وعام کو شرکت کی دعوت دی ۔ لیکن مجھے یوں بھول گئے جیسے میں کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔‘‘
وجدان نے خفگی سے کہا۔
’’کیا یہ صرف تمھارے ساتھ ہوا ہے یا کسی اور کے۔۔۔۔۔‘‘
احمد نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’نہیں۔۔۔کئی اہم تخلیق کاروں کو مدعو کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ جن کے ساتھ میرے نظریاتی اختلافات تھے۔۔۔ اْنھیں بھی مدعو کیا گیا ہے۔‘‘
وجدان نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’اوہو! اِس سے اچھا تھا کہ بسنت کے لیے پتنگیں خریدتے اور مزے سے ہم سب تفریح کرتے۔۔۔۔کم سے کم بسنت منانے سے تو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔‘‘
اکبر نے مسکراتے ہوئے دلیل دی۔
’’خونی ڈور کبھی کبھی جان لیو ا ثابت ہو تی ہے۔میں اِسی وجہ سے بسنت منانے کے حق میں نہیں ہوں ۔لیکن پھر بھی کتاب اورکتاب میلے کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔‘‘
وجدان نے احمد کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کتاب میلے اپنے شہر میں ہوں تو شمولیت آسان رہتی ہے۔لیکن دوسرے شہر وں میں کھانے اور رہائش کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔ اِیسے میں اگر کوئی سہولیات کی فراہمی کے بغیر مدعو کرے تو پھر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ لیکن کتب سے محبت کے لیے جانا پڑتا ہے۔‘‘
احمد مسکرا کر بولا اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعدکہنے لگا:
’’کیا تمھیں لگتا ہے کہ کسی ناشر یا ادارے کے مدعو نہ کرنے سے تمھاری ساکھ یا کام کی اہمیت میں کمی واقع ہوگی؟‘‘
’’ اگر بطور ادیب میرے کام اور ساکھ کو دیکھا جائے تو فکرمندی کی بات نہیں ہے۔میری پہچان اور شناخت میرے کیے گئے کام کی بدولت ہے۔ کتاب میلوں میں شرکت کا بنیادی مقصدکتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ادیبوں اورقارئین سے ملاقات تو ایک بہانہ ہوتا ہے جب دوسروں کو عزت دی جا سکتی ہے تو پھر کسی ایک کے ساتھ ذاتی عناد قابل مذمت ہے۔‘‘
وجدان نے احمد کو تلخ لہجے میں جواب دیا اورخاموش ہو گیا۔
’’دیکھو۔۔۔اگر کوئی دعوت نہیں دیتا ہے تو آپ کو جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہرانسان کی اپنی عزت اورساکھ ہوتی ہے جسے مجروح کرنے کی نہ تو کسی کو اجازت دینی چاہیے اوراورنہ ہی کسی اورپر اُنگلی اُٹھانا چاہیے تاوقتیکہ صورت حال سنگین نہ ہو۔ بہرحال، کہا جاتا ہے کہ اْس محفل میں کبھی شریک نہ ہوں جس میں مدعو نہ کیا جائے۔‘‘
اکبر نے دھیمے لہجے میں دلیل دی۔
’’بہت خوب۔۔۔عام قاری اور ایک تخلیق کار میں فرق رہنا چاہیے۔میرا خیال ہے کہ ادیب اہم محفلوں میں جانا چھوڑتے ہیں تو اْس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنھیں چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔لیکن وہ غیر موجودگی سے عیاں ہو جاتی ہیں اورپھر سب بے نقاب ہو جاتا ہے۔بے شک ہم اْنھیں تسلیم کرنے سے عاری ہوں۔جھوٹ ایک بار بے نقاب ہوتا ہے لیکن سچائی بار بار اپنا آپ منواتی رہتی ہے ۔‘‘
وجدان نے مسکراتے ہوئے بات ختم کی اور اْٹھ کھڑا ہوا۔
اکبر بھی اپنی نشست چھوڑ چکا تھا۔
’’کتاب اورادب سے محبت کا تقاضاہے کہ نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا جائے۔‘‘
احمد نے اپنی بات ختم کرتے ہی نشست چھوڑ دی۔ احمد اپنے دونوں دوستوں کو گھر کے دروازے پر چھوڑنے آیا تواْس کے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا۔
’’کیا ادب کا فروغ تخلیق کاروں کو نظرانداز اوراُن کی ادبی خدمات کو تسلیم نہ کرنے سے ممکن ہوگا؟‘‘
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

خلش: کہانی

 

ذوالفقار علی بخاری

’’بسنت مناؤ گے یا پھر کتاب میلے میں جاؤ گے؟‘‘
وجدان نے احمد سے استفسار کیا۔
’’کئی سالوں بعد بسنت منانے کا موقع مل رہا ہے تو اِیسے میں کتابوں کو پڑھنے سے کیا حاصل ہوگا؟‘‘
احمد نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
’’یعنی تمھیں لگتا ہے کہ بسنت منانا کتاب خریدنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔‘‘
اکبر نے احمد کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’میری فکر چھوڑو۔۔۔تمھیں کہیں سے دعوت نامہ ملا ہے۔تمھیں تو بڑا شوق ہے کہ ’ادیب‘ کے طور پر مدعو کیا جائے۔‘‘
احمد نے اکبر کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے وجدان سے پوچھا۔
’’نہیں۔مجھے کسی ادارے نے شرکت کا دعوت نامہ نہیں دیا ہے۔‘‘
وجدان نے سرجھکاتے ہوئے جواب دیا۔
’’جو ہزاروں لوگ کتاب میلے میں شرکت کر رہے ہیں، کیا اْن کو باقاعدہ دعوت نامے بھیجے گئے ہیں؟کتب میلہ اور ایسی نمائشوں میں دعوت عام ہوتی ہے، کوئی بھی شریک ہو سکتا ہے۔ کسی دعوت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘
احمد جذباتی اندازمیں بولا۔
’’تمھاری بات درست ہے۔لیکن جب ادب کے فروغ کی بات ہو تو پھر کسی کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ایک ادارے نے ہر خاص وعام کو شرکت کی دعوت دی ۔ لیکن مجھے یوں بھول گئے جیسے میں کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔‘‘
وجدان نے خفگی سے کہا۔
’’کیا یہ صرف تمھارے ساتھ ہوا ہے یا کسی اور کے۔۔۔۔۔‘‘
احمد نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’نہیں۔۔۔کئی اہم تخلیق کاروں کو مدعو کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ جن کے ساتھ میرے نظریاتی اختلافات تھے۔۔۔ اْنھیں بھی مدعو کیا گیا ہے۔‘‘
وجدان نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’اوہو! اِس سے اچھا تھا کہ بسنت کے لیے پتنگیں خریدتے اور مزے سے ہم سب تفریح کرتے۔۔۔۔کم سے کم بسنت منانے سے تو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔‘‘
اکبر نے مسکراتے ہوئے دلیل دی۔
’’خونی ڈور کبھی کبھی جان لیو ا ثابت ہو تی ہے۔میں اِسی وجہ سے بسنت منانے کے حق میں نہیں ہوں ۔لیکن پھر بھی کتاب اورکتاب میلے کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔‘‘
وجدان نے احمد کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کتاب میلے اپنے شہر میں ہوں تو شمولیت آسان رہتی ہے۔لیکن دوسرے شہر وں میں کھانے اور رہائش کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔ اِیسے میں اگر کوئی سہولیات کی فراہمی کے بغیر مدعو کرے تو پھر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ لیکن کتب سے محبت کے لیے جانا پڑتا ہے۔‘‘
احمد مسکرا کر بولا اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعدکہنے لگا:
’’کیا تمھیں لگتا ہے کہ کسی ناشر یا ادارے کے مدعو نہ کرنے سے تمھاری ساکھ یا کام کی اہمیت میں کمی واقع ہوگی؟‘‘
’’ اگر بطور ادیب میرے کام اور ساکھ کو دیکھا جائے تو فکرمندی کی بات نہیں ہے۔میری پہچان اور شناخت میرے کیے گئے کام کی بدولت ہے۔ کتاب میلوں میں شرکت کا بنیادی مقصدکتابوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ادیبوں اورقارئین سے ملاقات تو ایک بہانہ ہوتا ہے جب دوسروں کو عزت دی جا سکتی ہے تو پھر کسی ایک کے ساتھ ذاتی عناد قابل مذمت ہے۔‘‘
وجدان نے احمد کو تلخ لہجے میں جواب دیا اورخاموش ہو گیا۔
’’دیکھو۔۔۔اگر کوئی دعوت نہیں دیتا ہے تو آپ کو جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہرانسان کی اپنی عزت اورساکھ ہوتی ہے جسے مجروح کرنے کی نہ تو کسی کو اجازت دینی چاہیے اوراورنہ ہی کسی اورپر اُنگلی اُٹھانا چاہیے تاوقتیکہ صورت حال سنگین نہ ہو۔ بہرحال، کہا جاتا ہے کہ اْس محفل میں کبھی شریک نہ ہوں جس میں مدعو نہ کیا جائے۔‘‘
اکبر نے دھیمے لہجے میں دلیل دی۔
’’بہت خوب۔۔۔عام قاری اور ایک تخلیق کار میں فرق رہنا چاہیے۔میرا خیال ہے کہ ادیب اہم محفلوں میں جانا چھوڑتے ہیں تو اْس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنھیں چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔لیکن وہ غیر موجودگی سے عیاں ہو جاتی ہیں اورپھر سب بے نقاب ہو جاتا ہے۔بے شک ہم اْنھیں تسلیم کرنے سے عاری ہوں۔جھوٹ ایک بار بے نقاب ہوتا ہے لیکن سچائی بار بار اپنا آپ منواتی رہتی ہے ۔‘‘
وجدان نے مسکراتے ہوئے بات ختم کی اور اْٹھ کھڑا ہوا۔
اکبر بھی اپنی نشست چھوڑ چکا تھا۔
’’کتاب اورادب سے محبت کا تقاضاہے کہ نظریاتی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا جائے۔‘‘
احمد نے اپنی بات ختم کرتے ہی نشست چھوڑ دی۔ احمد اپنے دونوں دوستوں کو گھر کے دروازے پر چھوڑنے آیا تواْس کے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا۔
’’کیا ادب کا فروغ تخلیق کاروں کو نظرانداز اوراُن کی ادبی خدمات کو تسلیم نہ کرنے سے ممکن ہوگا؟‘‘
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں