
عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
دل بہلائی وادی کے نامور قلمکار ماجد مجید کا لکھا ہوا ایک طنزیہ مضمون ہے جس میں دورِ حاضر کے غافل مسلمان کو نشانہ بنا کر درپردہ یہ بات یاد دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس نے کس طرح اپنے لیے عیش و عشرت کے سامان، حلال و حرام جن میں موسیقی سرِ فہرست ہے، پیدا کیے، اپنی تخلیق کے اصل مقصد یعنی خالق کی بندگی کو بھول کر دن رات دل بہلا کر اگرچہ وقتی طور پر سکون تو پاتا ہے لیکن دوسری طرف اپنے خالق سے کوسوں دور ہوتے ہوئے آخرت سے غافل ہو کر کچھ ایسے کام انجام دیتا ہے جن سے ابلیس بھی شرماتا ہے۔
حج اور عمرہ جو ایک دینی فریضہ اور اعلیٰ روحانی عمل ہے، انسان جو خرافات کی زندگی گزارنے میں مست ہے، اس نے اس عظیم عمل کو دل بہلائی سمجھ کر اس کا بھی مذاق اڑایا ہے۔ اللہ کو راضی کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھائی بندوں کو جلانے کے لیے جب یہ سفر اختیار کرتا ہے تو عمل کے بجائے نمود و نمائش کی فکر لاحق رہتی ہے۔ فاضل قلمکار نے عمرہ پر جانے والے ایسے بے ذوق لوگوں کے ساتھ ساتھ ان اداروں اور ان کے منتظمین پر بھی طنز کے تیر برسائے ہیں جو لوگوں کے لیے اس سفر کا انتظام کرتے ہیں۔ اعلیٰ اور بہترین خدمات و سہولیات کا وعدہ کرکے لوگوں کو اپنے شیشے میں اتارتے ہیں۔ انجان آدمی ان کی زبان پر بھروسہ کرکے منہ مانگی رقم تو ادا کرتے ہیں لیکن وعدے کے مطابق سہولیات نہ پا کر بددل ہو جاتا ہے۔ ایسے اداروں پر خاص طور سے ان رہبر گائیڈ حضرات پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "ادارے نے وعدے کیے ہیں، اس پر ٹال مٹول کرکے اور بہانے بنا کر سبز باغات کی سیر کرائے گا اور اس طرح رہبر گائیڈ اپنی پانچوں انگلیوں سے گھی نکالتا رہے گا لیکن آپ کے سامنے خود کو ادارے کے کام میں مصروف رکھے گا”۔
اسی طرح عمرہ پر جانے والے بے ذوق لوگوں پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ لوگ گھر سے دنیا کی تمام جاہ و حشمت، غرور، تکبر اور ہوس وغیرہ کو خیر باد کہہ کر دو سفید کپڑوں کے ٹکڑے پہن کر خالقِ کائنات کے گھر مہمان بن کر عجز و انکساری کے ساتھ ملنے کے لیے نکل جاتا ہے لیکن وہاں پہنچتے ہی سب کچھ بھول کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کے بہکاوے میں آ کر کعبہ اللہ کے سامنے بڑی بے شرمی کے ساتھ تصویریں اتارنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ان تصویروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرکے خالق کے بجائے مخلوق کے پاس اپنی حاضری درج کراتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "میزبان کے گھر شرمندگی کا لباس پہنے ہر چکر پر چہار دانگ عالم میں سوشل میڈیا فیس بک کے ذریعے اپنی حاضری یقینی بنانا نہ بھولے گا، اپنے اور میزبان کے دشمن کو اس قدر خوشی دے کر وہ بھی تیرے کارکرتوت سے پانی پانی ہو جائے”۔
مضمون کے آخری حصے میں قلمکار نے موبائل کو اللہ اور انسان کے بیچ دوری کا سبب قرار دے کر ان نمازیوں پر طنز کے تیر چلائے ہیں جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ جب بندہ نماز کے لیے وضو بناتا ہے تو یہ اس کے لیے احرام پہننے کے برابر ہوتا ہے، یعنی جس طرح احرام پہننے پر کئی حلال چیزیں بھی حرام ہو جاتی ہیں تو بھلا نمازی کے لیے مسجد میں شیطان کی خالہ موبائل لے کر جانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ لوگ اپنے خالق کے سامنے سرِ تسلیم خم کیے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ زمین پر ماتھا رگڑتے، اندر ہی اندر اپنی دکھ بھری داستان سنانے میں مشغول ہوتے ہیں کہ اچانک کسی کی جیب سے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، سب کی نماز میں خلل پڑ جاتا ہے اور توجہ ختم ہو جاتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ نماز ہی ادا نہ ہوئی۔ ایسے نمازیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "اگر موبائل ساتھ نہ ہو اور نماز کے دوران نہ بجے اور سب نمازیوں کو خلل نہ کریں تو نماز ہی مکمل نہیں”۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ مضمون ان لوگوں کے لیے تازیانہ ہے جو عبادت کو عبادت جان کر نہیں بلکہ خود نمائی اور دکھاوے کے لیے انجام دیتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ خالق کا حق ادا کرکے عبدیت کا ثبوت دیا ہے۔ ماجد مجید کی زبان اور اسلوب منفرد ہے اور لکھنے کا انداز الگ۔ واقعے کی تفصیل میں جانے کے بجائے صرف اس کی طرف اشارہ کرکے قاری تک اپنی بات پہنچاتے ہیں اور ساتھ میں قاری کو اس پر خود سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کم سے کم الفاظ میں بڑی بات بیان کرنا ان کا فن ہے۔


