
کبرا الطاف
سرینگرکشمیر
یوں اظہارِ وقت کی فضا کچھ خبر لائی ہے
میں نے اپنے مرشد کے صدقے حیاتِ قلم اٹھائی ہے۔
(کبرا الطاف)
آداب!
عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی پڑھنے والے شاید عشق کو سمجھتے ہوں، یا یوں کہوں کہ عشق کو نبھاتے ہوں۔ کیونکہ عشق صرف محسوس کرنے کا نام نہیں، عشق اپنی ذات پیش کر دینے کا عمل ہے۔
جب میں عشق کا سوچتی ہوں تو شمسِ تبریزی اور مولانا رومی کو یاد کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ انہوں نے عشقِ حقیقی کا راستہ ان بے بازار آنکھوں کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ یقین کریں، جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو مجھے لگا جیسے روح نے پہلی بار اپنی طرف دیکھا ہو۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ مولانا رومی ایک بار جمعہ کے روز اپنی مجلس میں درس دے رہے تھے۔ لوگ دور دور سے آتے، کوئی پھل، کوئی سبزی، کوئی مٹھائی، ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ پیش کرتا۔ اس دن شمسِ تبریزی دروازے پر کھڑے تھے۔ وہ لوگوں کی لائی ہوئی چیزوں کو دیکھتے اور کہتے
یہ کیا لائے ہو؟ رومی کو یہ سب نہیں چاہیے۔
آخر کسی نے پوچھ ہی لیا
تم خود رومی کے لیے کیا لائے ہو؟
شمسِ تبریزی نے گہری نظر سے دیکھا اور کہا
میں رومی کے لیے خود کو لایا ہوں۔ میں اپنا آپ لایا ہوں۔
اس جملے نے مجھے ہلا دیا۔
ایک لمحے کو میں بس وہیں ٹھہر گئی۔
دل نے شور مچایا، دماغ خاموش ہو گیا۔
اور اندر سے بس ایک آواز اٹھی
کاش… کاش عشق ایسا ہی ہوتا۔
نہ کوئی چیز،
نہ کوئی دعویٰ،
نہ کوئی شرط،
صرف اپنا آپ۔
اس لمحے مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ عشق پانے کا نام نہیں، عشق اپنے آپ کو چھوڑ دینے کا حوصلہ ہے۔
اور جو اپنی ذات پیش کر دے،
وہ صرف کسی سے ملتا نہیں،
وہ کسی اور دنیا کا در کھول دیتا ہے۔
تب مجھے سمجھ آیا کہ شاید یہی حقیقی عشق ہوتا ہے،
جب دل بس اتنا کہے
کاش کوئی ایسا شمس ہو
جو مجھے اس دنیا کی گرد سے کھینچ کر
اپنی نسبت میں لے لے۔
جو میرے گناہوں کا حساب کیے بغیر کہہ دے
تم میری ہو۔
جو میری مٹی سے بھری جسم کو دیکھ کر نظر نہ پھیرے،
جو میری حیثیت، میری کمی،
میری خاموشی اور میرے سوالوں سے گھبرائے نہیں۔
صرف اتنا کہہ دے
تم جیسی ہو، میری ذمہ داری ہو، حق کی ذمہ داری۔
ہاں، واقعی یہی عشق ہے۔
اس کہانی کے بعد دنیا کا عشق مجھے اچانک مختلف سا لگنے لگا۔
اس میں جلدی تھی، طلب تھی، شور تھا،
مگر وہ روشنی نہیں تھی جو روح کو تھام لیتی ہے۔
اور جب عشقِ مجازی کا ذکر آتا ہے تو لیلیٰ اور مجنوں کا قصہ یاد آ ہی جاتا ہے۔ لیلیٰ خیرات بانٹ رہی تھی۔ سب اپنا کٹورا لے کر آئے، مجنوں بھی انہی میں تھا۔ لیلیٰ نے سب کو دیا، مگر مجنوں کا کٹورا اٹھا کر پھینک دیا، اور مجنوں جھومنے لگا۔ ایک شخص نے حیرانی سے پوچھا
اس نے تجھے تو کچھ دیا ہی نہیں، پھر تو کیوں جھوم رہا ہے؟
مجنوں مسکرایا اور بولا
تم سمجھے نہیں، مجھ سے وہ عام سلوک نہیں کرتی۔
کچھ لوگ کہتے ہیں یہ عشقِ مجازی ہے،
اور کچھ کہتے ہیں کہ عشقِ حقیقی کا راستہ اسی مجازی سے ہو کر گزرتا ہے۔
شاید دونوں اپنی جگہ درست ہوں۔
کیونکہ عشق، جو بھی ہو، انسان کو زمانے کی زنجیروں سے آزاد کر دیتا ہے۔
میں نے عشق کو کبھی انسان کو خدا کے قریب لے جاتے دیکھا ہے،اور کبھی اسی درد اور انتظار میں انسان کو مٹتے دیکھا ہے۔
مگر عشق کی منزل نہ آسان ہے، اور نہ ہی اس پر چلنا۔
عشق انسان سے وہ مانگتا ہے جو دل کے صندوق میں چھپا ہوتا ہے۔
وہ دکھاتا ہے جو نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ اور وہ بلاتا ہے جو روح سے زبان پر لکھا ہوتا ہے۔
اور جب وادی کشمیر کا ذکر آئے تو یہاں کے صوفی بزرگوں کی محبت نے فضا میں عشقِ حقیقی کی ایسی مہک چھوڑی ہے جو قیامت میں شام تک محسوس ہوگی۔ عشق کی ایسی مثالیں جو بغیر بولے راستہ دکھا جاتی ہیں۔
شاید اسی لیے اب دل میں بس آوازیں نہیں بلکہ بے بسی اور خواہشیں چلتی ہیں۔
اور اس عشقِ حقیقی میں بس خاموشی سے ایک خیال ٹھہر جاتا ہے
کہ اگر کبھی عشق ہو،
اگر کبھی کسی کے ساتھ چلنا ہو،
تو صرف حق کے لیے،
اور صرف حق کے ساتھ۔
شاید جواب بھی عشق ہی دیتا ہے،
اور شاید عشق کا جواب صرف عشق ہوتا ہے۔
وادی کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں،
یہ عشق کے قدم قدم پر چھوڑے ہوئے نشان سنبھال کر رکھتی ہے۔
مرید عشق میں اس قدر فنا ہو جاتا ہے
کہ اسے اپنی جگہ بس محبوب ہی نظر آتا ہے،
اور اپنی ہر حرکت میں صرف محبوب کا اشارہ۔
وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے مردہ،
جسے اپنی کروٹ تک بدلنا خود نہ آتا ہو،
جسے زندگی میں بھی سہارا محبوب کا چاہیے،
اور آخری غسل میں بھی
محبوب کی رحمت کا محتاج رہنا پڑتا ہو۔
ہاںیہی عشق میں مرید ہونا ہے،
جب اپنی قوت، اپنی مرضی، اپنی پہچان
سب حق کے حوالے کر دی جائیں۔
یہاں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی ایک دوسرے کے مقابل نہیں،
بلکہ ایک ہی سچ کے دو پہلو بن جاتے ہیں۔
جب کسی انسان سے محبت اپنی حدوں کو توڑ کر
بلا شرط، بلا طلب، بلا انا ہو جائے،
تو وہ صرف مجازی نہیں رہتی،
وہ حقیقت کی طرف قدم بڑھاتی ہے۔
اگر عشق کا رخ حق کی جانب ہو
تو محبوب صرف شخص نہیں رہتا،
وہ ایک آئینہ بن جاتا ہے
جس میں عشق اپنی اصل پہچان کرتا ہے۔
اور اگر عشق صرف حاصل کرنے تک محدود ہو
تو وہ چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو،
اپنی منزل کھو دیتا ہے۔
اس لیے میرے لیے عشق ایک ہی ہے
یا تو حق تک لے جائے،
یا پھر ادھورا رہ جائے۔
اور جب میں یہ سب لکھ رہی ہوں
تو مجھے ساقب شامی کا وہ خاموش خیال یاد آتا ہے
میری داستانِ حسرت وہ سنا سنا کے روئے
میرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانۂ محبت
اسے سنا کے روؤں، وہ مجھے سنا کے روئے۔
عشق کا رونا اس کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے،
اس کی طلب کو،
اس کی شدت کو۔
یہ بتاتا ہے کہ دل نے کچھ ایسا چاہا
جو صرف لفظوں میں سما نہیں سکتا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں میرا دل ان سب کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے
جو محبت کرتے ہیں
بلا خوف، بلا شرم،
چاہے وہ مرد ہوں یا عورت،
کسی بھی درجے، کسی بھی مقام، کسی بھی پہچان سے تعلق رکھتے ہوں۔
کیونکہ عشق کا درد
نہ جنس پوچھتا ہے،
نہ رتبہ،
وہ صرف دل تلاش کرتا ہے۔
محبت نہ کسی مذہب کی شرح مانگتی ہے،
نہ کسی ناول کا حوالہ،
یہ بس انسان سے انسان تک
اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے۔
محبت ہم سے بہت کچھ لے لیتی ہے
نیند، سکون، یقین،
اور کبھی کبھی
ہم خود بھی۔
پھر بھی انسان اسے چھوڑ نہیں پاتا،
کیونکہ آخر میں
دل کا چلے جانا
درد سے زیادہ
سچ ہوتا ہے۔
عشق خود کو سونپ دینا ہے،
بلا لالچ کے بھی۔
ایسا عشق جو نہ صرف ہنساتا ہے،
نہ صرف رلاتا ہے،
بلکہ ہر آنسو کے ساتھ روح کو قریب لے آتا ہے۔
ایک ایسا عشق جہاں سفر پلِ صراط کے آگے تک
محبوب کے ساتھ ہو،
جہاں محبوب ہی مرشد ہو،
اور صرف اسی کی رحمت اور اشارہ راہ دکھائے،
اور محبوب ہی سب کچھ ہو۔
اپنی نظر سے اپنے آپ کو محبوب کے سائے سے دور نہ ہونے دینا یہی حقیقی عشق ہے۔
اور آخر میں یہ میرے مرشد کے نام
کیا کہنے کو چھوڑا ہے کسی شاعر نے، جو میں کچھ آپ کو پیش کرتی ہوں:
چھوڑ دیں یہ الفاظِ گفتگو
میں خود کو پیش کرتی ہوں
٭–ختم شدہ–٭
نوٹ؛ مصنفہ کبرا الطاف سری نگر، کشمیر سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ قومی سطح کی جوڈو کھلاڑی، متعدد بار نیشنل میڈلسٹ، انڈیا کیمپ کی رکن اور اسٹیٹ ایوارڈ یافتہ ہیں۔یہ تحریر محض شوق اور جذبے کے تحت لکھی گئی ہے۔


