طلسمی آنکھ: افسانچہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر

اللہ میاں نے آدم کو پیدا کرتے ہی اس پر نظر رکھنے کے لیے، اور ساتھ ساتھ اس کے کارنامے ریکارڈ کرنے کے لیے، کراماً کاتبین مقرر کیے۔ جب سے حضرتِ انسان کو ایک دوسرے پر سے بھروسہ اٹھ گیا، اس نے اپنی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے لیے ایک طلسمی آنکھ ایجاد کی، جو نہ صرف گھر کے اندر بلکہ باہر بھی اس کو تاکتی رہتی ہے، اور جس کی وجہ سے وہ صبر و سکون اور اعتماد، جو انسان کا سرمایۂ حیات تھا، ختم ہو کر اس کے اندر ایک انجان ڈر اور خوف پیدا ہو گیا۔ جگہ جگہ "You are under surveillance” دیکھ کر اب سانس بھی آہستہ لینا پڑتا ہے۔ اپنے خیالات میں گم سم آدمی کہیں جا رہا ہو، یہ طلسمی آنکھ اسے ہر آن تکتی رہتی ہے کہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے جا رہا ہے۔ اگر بدقسمتی سے رات کے اندھیرے میں آدمی سے کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو یہ خبر گھر گھر پہنچ جاتی ہے، اور دن کے اجالے میں آدمی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔
اب تو بندہ دل کی بات کو زبان پر لانے کے بجائے اشاروں کنایوں میں مطلب سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طلسمی آنکھ نے انسان کا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہم جیسے سیدھے سادے لوگ تو بہرحال گزر بسر کر لیتے ہیں، لیکن بیچارے عاشق، جو پہلے پہل بلا خوف و خطر سجے سجائے باغوں، کوہساروں، دریا کناروں اور ہوٹلوں کے تنگ و تاریک کمروں میں وصل کا مزا پاتے تھے، اب اگر کہیں مل بھی جائیں تو اجنبیوں کی طرح۔ دل ملانا تو دور، اب ہاتھ ملانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ بقولِ شاعر:
"زبان پر مہرِ خاموشی، دلوں میں یاد کرتے ہیں۔”
یہ طلسمی آنکھ موت کی طرح آدمی کے پیچھے پڑی ہے کہ کہیں پاؤں پھسل جائے تو جان لے۔ موت تو بہرحال ایک بار جان لے کر آدمی کو سب کی آنکھوں میں، چند لمحوں کے لیے ہی سہی، معزز بنا دیتی ہے، لیکن یہ طلسمی آنکھ آدمی کو جیتے جی مرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس نے سب کام بگاڑ دیے ہیں۔ سرکاری دفتر میں بیٹھا کرمچاری چائے پانی کے نام پر سائل سے بلا جھجھک کچھ لے لیتا تھا اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی، لیکن جب سے یہ طلسمی آنکھ وجود میں آئی ہے، اب تو یہ کام اس جگہ ہوتے ہیں جہاں آدمی ناک بند کر کے مجبوری کی حالت میں اپنے آپ کو ہلکا کرنے کے لیے جایا کرتا تھا۔
سرکاری ہسپتال میں طلسمی آنکھ کا ہونا حق بجانب ہے کہ کہیں مریض کے بجائے تیماردار کی ٹانگ نہ کاٹ لی جائے، لیکن اب تو ڈاکٹر صاحبان نے اپنے نجی کلینکس میں بھی یہ آنکھ نصب کر دی ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ اور کتنے مریض باہر بیٹھے ان سے ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سامنے بیٹھے مریض کا چیک اپ کرنے کے بجائے آگے لگی اسکرین پر نظر جمائے اور کان لگائے رہتے ہیں۔
طلسمی آنکھ نے اگرچہ ہر پیشے سے وابستہ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح فائدہ پہنچایا ہے، تاہم اس نے ہمارے وکیل حضرات اور اساتذۂ کرام کے لیے کسی حد تک مشکلات پیدا کی ہیں۔ وکیل صاحب جو اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے گواہ کو گھما پھرا کر اس کے منہ میں اپنے الفاظ ڈال دیا کرتے تھے، لیکن جب سے سرکار نے طلسمی آنکھ کی گواہی کو معتبر قرار دیا ہے، وکیل حضرات مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ رہی بات اساتذۂ کرام کی، ارے اب تو وہ پہلے کی طرح معصوم بچوں کو اپنی رام کہانی نہیں سنا سکتے۔
یہ طلسمی آنکھ کہیں کہیں سودمند بھی ثابت ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے، اس کی عکس بندی کرتی ہے۔ سات سمندر پار بیٹھا بیٹا اگر اپنی ماں کو کسی کے ہاتھوں بے رحمی کے ساتھ قتل ہوتے ہوئے بچا نہیں سکتا، تاہم اس حادثے کو براہِ راست دیکھ کر افسوس تو کر سکتا ہے۔ اور چور ڈاکو، جو بلا کسی خوف کے لوگوں کی جائیداد لوٹ لیتے تھے اور پکڑے جانے پر اسے اپنے اوپر جھوٹا الزام ثابت کرتے تھے، اب تو قانون کی گرفت سے بچ نہیں پاتے۔ طلسمی آنکھ بلا کسی طرف داری کے سچ سامنے لاتی ہے۔
رہی بات امتحانی ہال میں نقل کی وبا کو ختم کرنے کی، ارے بچے تو شرارتی ہوتے ہیں، ہال میں داخل ہوتے ہی اس آنکھ کو پھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود طلسمی آنکھ نے آدمی کا قافیۂ حیات تنگ کر دیا ہے۔ اب تو کوئی بھائی بندوں کے گھر بھی نہیں جا سکتا۔ پہلے دروازے پر اپنی شناخت کرانا، اندر آنے کی اجازت ملی تو ٹھیک، نہیں تو
"بہت بے آبرو ہو کے ترے کوچے سے نکلنا پڑتا ہے۔”
اور اب جو گھر میں داخل ہوئے تو بہت ہی محتاط رہ کر بات کرنی پڑتی ہے۔ آدمی کو لگتا ہے کہ وہ بھائی سے ملنے کے لیے نہیں بلکہ کسی ہائی سکیورٹی زون میں خطرناک قیدی سے ملاقات کے لیے آیا ہو۔ آپ بات کر رہے ہیں تو یہ طلسمی آنکھ سن بھی رہی ہے اور عکس بندی بھی کر رہی ہے۔ آپ کے وہاں سے چلے جانے کے بعد اس ساری ریکارڈنگ کو دیکھ کر ہر بات پر غور و خوض کیا جاتا ہے کہ کہیں آپ کے منہ سے بے تکلفی میں کوئی ایسی بات نہ نکلی ہو جس پر آپ کے ساتھ تاحیات تعلقات منقطع کیے جائیں۔
آپ لاکھ بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اسے سلپ آف ٹنگ کہیں، کوئی ماننے والا نہیں۔ اللہ میاں سے عجز و انکساری کے ساتھ التجا کرنے سے کراماً کاتبین کے ہاتھوں ریکارڈ کیے ہوئے گناہ تو معاف کروائے جا سکتے ہیں، لیکن اف، یہ طلسمی آنکھ ناکردہ گناہ کی سزا دلا کر چشمِ زدن میں آدمی کی عزت سرعام نیلام کر دیتی ہے۔ آدمی کو عرش سے گرا کر فرش پر دے مارتی ہے، کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔
ساس اماں دن بھر بہو رانی کو گالیاں اور طعنے دے کر بار بار رلاتی تھی، اور شام کو اپنے لاڈلے کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مگرمچھ کے چند آنسو بہا کر صاف نکل جاتی تھی، اور بیچاری بہو رانی کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی تھی۔ اب ساس اماں سو بار سوچتی ہے کہ بہو رانی کے ساتھ کس طرح بات کروں اور پیش آؤں کہ کہیں طلسمی آنکھ کی گواہی سے میرا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

طلسمی آنکھ: افسانچہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر

اللہ میاں نے آدم کو پیدا کرتے ہی اس پر نظر رکھنے کے لیے، اور ساتھ ساتھ اس کے کارنامے ریکارڈ کرنے کے لیے، کراماً کاتبین مقرر کیے۔ جب سے حضرتِ انسان کو ایک دوسرے پر سے بھروسہ اٹھ گیا، اس نے اپنی حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے لیے ایک طلسمی آنکھ ایجاد کی، جو نہ صرف گھر کے اندر بلکہ باہر بھی اس کو تاکتی رہتی ہے، اور جس کی وجہ سے وہ صبر و سکون اور اعتماد، جو انسان کا سرمایۂ حیات تھا، ختم ہو کر اس کے اندر ایک انجان ڈر اور خوف پیدا ہو گیا۔ جگہ جگہ "You are under surveillance” دیکھ کر اب سانس بھی آہستہ لینا پڑتا ہے۔ اپنے خیالات میں گم سم آدمی کہیں جا رہا ہو، یہ طلسمی آنکھ اسے ہر آن تکتی رہتی ہے کہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے جا رہا ہے۔ اگر بدقسمتی سے رات کے اندھیرے میں آدمی سے کوئی لغزش سرزد ہو جائے تو یہ خبر گھر گھر پہنچ جاتی ہے، اور دن کے اجالے میں آدمی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔
اب تو بندہ دل کی بات کو زبان پر لانے کے بجائے اشاروں کنایوں میں مطلب سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طلسمی آنکھ نے انسان کا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہم جیسے سیدھے سادے لوگ تو بہرحال گزر بسر کر لیتے ہیں، لیکن بیچارے عاشق، جو پہلے پہل بلا خوف و خطر سجے سجائے باغوں، کوہساروں، دریا کناروں اور ہوٹلوں کے تنگ و تاریک کمروں میں وصل کا مزا پاتے تھے، اب اگر کہیں مل بھی جائیں تو اجنبیوں کی طرح۔ دل ملانا تو دور، اب ہاتھ ملانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ بقولِ شاعر:
"زبان پر مہرِ خاموشی، دلوں میں یاد کرتے ہیں۔”
یہ طلسمی آنکھ موت کی طرح آدمی کے پیچھے پڑی ہے کہ کہیں پاؤں پھسل جائے تو جان لے۔ موت تو بہرحال ایک بار جان لے کر آدمی کو سب کی آنکھوں میں، چند لمحوں کے لیے ہی سہی، معزز بنا دیتی ہے، لیکن یہ طلسمی آنکھ آدمی کو جیتے جی مرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس نے سب کام بگاڑ دیے ہیں۔ سرکاری دفتر میں بیٹھا کرمچاری چائے پانی کے نام پر سائل سے بلا جھجھک کچھ لے لیتا تھا اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی، لیکن جب سے یہ طلسمی آنکھ وجود میں آئی ہے، اب تو یہ کام اس جگہ ہوتے ہیں جہاں آدمی ناک بند کر کے مجبوری کی حالت میں اپنے آپ کو ہلکا کرنے کے لیے جایا کرتا تھا۔
سرکاری ہسپتال میں طلسمی آنکھ کا ہونا حق بجانب ہے کہ کہیں مریض کے بجائے تیماردار کی ٹانگ نہ کاٹ لی جائے، لیکن اب تو ڈاکٹر صاحبان نے اپنے نجی کلینکس میں بھی یہ آنکھ نصب کر دی ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ اور کتنے مریض باہر بیٹھے ان سے ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سامنے بیٹھے مریض کا چیک اپ کرنے کے بجائے آگے لگی اسکرین پر نظر جمائے اور کان لگائے رہتے ہیں۔
طلسمی آنکھ نے اگرچہ ہر پیشے سے وابستہ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح فائدہ پہنچایا ہے، تاہم اس نے ہمارے وکیل حضرات اور اساتذۂ کرام کے لیے کسی حد تک مشکلات پیدا کی ہیں۔ وکیل صاحب جو اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے گواہ کو گھما پھرا کر اس کے منہ میں اپنے الفاظ ڈال دیا کرتے تھے، لیکن جب سے سرکار نے طلسمی آنکھ کی گواہی کو معتبر قرار دیا ہے، وکیل حضرات مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ رہی بات اساتذۂ کرام کی، ارے اب تو وہ پہلے کی طرح معصوم بچوں کو اپنی رام کہانی نہیں سنا سکتے۔
یہ طلسمی آنکھ کہیں کہیں سودمند بھی ثابت ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے، اس کی عکس بندی کرتی ہے۔ سات سمندر پار بیٹھا بیٹا اگر اپنی ماں کو کسی کے ہاتھوں بے رحمی کے ساتھ قتل ہوتے ہوئے بچا نہیں سکتا، تاہم اس حادثے کو براہِ راست دیکھ کر افسوس تو کر سکتا ہے۔ اور چور ڈاکو، جو بلا کسی خوف کے لوگوں کی جائیداد لوٹ لیتے تھے اور پکڑے جانے پر اسے اپنے اوپر جھوٹا الزام ثابت کرتے تھے، اب تو قانون کی گرفت سے بچ نہیں پاتے۔ طلسمی آنکھ بلا کسی طرف داری کے سچ سامنے لاتی ہے۔
رہی بات امتحانی ہال میں نقل کی وبا کو ختم کرنے کی، ارے بچے تو شرارتی ہوتے ہیں، ہال میں داخل ہوتے ہی اس آنکھ کو پھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود طلسمی آنکھ نے آدمی کا قافیۂ حیات تنگ کر دیا ہے۔ اب تو کوئی بھائی بندوں کے گھر بھی نہیں جا سکتا۔ پہلے دروازے پر اپنی شناخت کرانا، اندر آنے کی اجازت ملی تو ٹھیک، نہیں تو
"بہت بے آبرو ہو کے ترے کوچے سے نکلنا پڑتا ہے۔”
اور اب جو گھر میں داخل ہوئے تو بہت ہی محتاط رہ کر بات کرنی پڑتی ہے۔ آدمی کو لگتا ہے کہ وہ بھائی سے ملنے کے لیے نہیں بلکہ کسی ہائی سکیورٹی زون میں خطرناک قیدی سے ملاقات کے لیے آیا ہو۔ آپ بات کر رہے ہیں تو یہ طلسمی آنکھ سن بھی رہی ہے اور عکس بندی بھی کر رہی ہے۔ آپ کے وہاں سے چلے جانے کے بعد اس ساری ریکارڈنگ کو دیکھ کر ہر بات پر غور و خوض کیا جاتا ہے کہ کہیں آپ کے منہ سے بے تکلفی میں کوئی ایسی بات نہ نکلی ہو جس پر آپ کے ساتھ تاحیات تعلقات منقطع کیے جائیں۔
آپ لاکھ بار اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اسے سلپ آف ٹنگ کہیں، کوئی ماننے والا نہیں۔ اللہ میاں سے عجز و انکساری کے ساتھ التجا کرنے سے کراماً کاتبین کے ہاتھوں ریکارڈ کیے ہوئے گناہ تو معاف کروائے جا سکتے ہیں، لیکن اف، یہ طلسمی آنکھ ناکردہ گناہ کی سزا دلا کر چشمِ زدن میں آدمی کی عزت سرعام نیلام کر دیتی ہے۔ آدمی کو عرش سے گرا کر فرش پر دے مارتی ہے، کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔
ساس اماں دن بھر بہو رانی کو گالیاں اور طعنے دے کر بار بار رلاتی تھی، اور شام کو اپنے لاڈلے کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مگرمچھ کے چند آنسو بہا کر صاف نکل جاتی تھی، اور بیچاری بہو رانی کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی تھی۔ اب ساس اماں سو بار سوچتی ہے کہ بہو رانی کے ساتھ کس طرح بات کروں اور پیش آؤں کہ کہیں طلسمی آنکھ کی گواہی سے میرا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
زز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں