سیما شکور
حیدر آباد
منافق لوگوں سے جب دور ہو گئے ہم، چاپلوسی اورنمود و نمائش کرنے والے لوگوں سے دامن چھڑا لیا جب ۔۔۔۔۔سادگی کے زیور سے آراستہ ہو گئے جب ۔۔۔۔۔۔ہاتھ میں قلم اور سچ کا پرچم تھامے چل پڑے جب ایسے راستے کی طرف جہاں تنہائیوں کی گہری کھائیاں تھیں، خود غرضیوں کے بھیانک چہرے تھے۔ اندھیرا ہی اندھیرا تھا جب ہر طرف تو۔۔۔۔ پھر زہریلی زبانوں نے زہر اگلا اور باغی ٹھہرا دیا گیا ہمیں، جب یہ خیال آیا کہ جھوٹے رشتوں کو بہت پہلے چھوڑ دنیا چاہیے تھا، چاپلوسی اور خود نمائی کرنے والے لوگوں کو بہت پہلے ہی نظر انداز کردینا چاہئیے تھا۔فضول سے لوگوں کا دل رکھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ راستے میں جتنے بھی خار ہوں،پتھر ہوں۔ کبھی مت گھبرا نا، چا ہے تمھارا ساتھ دینے کے لیے کوئی ایک بھی نہ ہو۔ حق بات کہنے سے کبھی مت ڈرنا،چاہے تم کتنے بھی صاحب ثروت ہو، سادگی اختیار کرتے وقت یہ کبھی مت سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے، حق بات کہتے وقت یہ کبھی خیال دل میں نہ لانا کہ تمہارے سامنے کھڑا شخص کس رتبے اور منصب پر فائز ہے۔ دنیا وی حقیقتوں کے بارے میں نہ سوچنا، اس دنیا کے عیش و آرام ، دولت، منصب، سہولتیں سب یہیں رہ جانے والا ہے۔ تمہارے اعلیٰ رتبے اور دولت پر جان نچھاور کرنے والے صرف اعلیٰ رتبے اورتمہاری دولت کی عزت کرتے ہیں وہ ہر گز ہرگز تمہاری عزت نہیں کرتے ۔
دنیا سادہ زندگی گزارنے والے لوگوں کو بے وقوف اور پاگل ٹھہراتی ہے، تم اگر راہ حق پر چل پڑے ہوتو دنیا کی نظر میں تم بغاوت کر رہے ہو، یہ دنیا ہے اور کہنے والے لوگ ہیں اور…. لوگ تو بس لوگ ہی ہوتے ہیں۔تمہیں لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی ہے، تمہیں صرف اُس عظیم ذاتِ برحق کے بارے میں سوچنا ہے جس کے ہم سب بند ے ہیں۔ راستے میں کتنی ہی کٹھنائیاں آئیں،تمہا را جینا دو بھر کر دیا جائے تو بھی مت گھبرانا۔ خلوص نیت سے آگے بڑھتے رہنا کہ مسلمان مصیبتوں سے نہیں گھبراتا۔ ظالم و جابر کے سامنے حق بات کرنا دنیا کی نظر میں بغاوت ہی سہی لیکن اللہ کے ہاںجہا دکہلاتا ہے۔
’’بغاوت‘‘
ظلمتوں کو جو مٹا دے۔۔۔۔۔۔
باطل کو جو راکھ کر دے۔۔۔۔۔۔
اپنے قلم کی طاقت سے۔۔۔۔۔۔
بغاوت اس کو کہتے ہیں!
طاقتوروں کو جو لر زاد ے!
اپنے ایماں کی دولت سے۔۔۔۔۔۔
بغاوت اس کو کہتے ہیں !
ڈرجسے چھو کر بھی نہ گزرے کبھی۔۔۔۔۔۔
جو مَر جائے، خاک ہو جائے!
بغاوت اس کو کہتے ہیں!
دولتِ دنیا کو جور کھ دے
اپنے قدموں کی ٹھوکر پر۔۔۔۔ ۔۔
ہاتھ جس کے خالی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اور۔۔۔۔۔۔
پھر بھی مسکرائے وہ۔۔۔۔۔۔
بغاوت اس کو کہتے ہیں !
فقط آزادی کے گیتوں سے۔۔۔۔۔۔
غلامی کی زنجیریں ٹوٹا نہیں کرتیں۔۔۔۔۔
جذبۂ غیرت ایمانی کو جو جگادے۔۔۔۔۔۔
بغاوت اس کو کہتے ہیں!
یزید وقت کو جو خاطر میں نہ لائے۔۔۔۔۔
فرعونِ وقت کے حوصلوں کو جو ڈھیر کردے۔۔۔۔۔۔
بغاوت اس کو کہتے ہیں !
اگر راہِ حق پہ چلنا بغاوت ہے؟
تو ہاں! بغاوت ہوگئی ہم سے
تو ہاں! بغاوت ہو گئی ہم سے
حق گوئی ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے، منافقوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب ہے خود تمھارا منافق ہونا۔ تم نے خود ثابت کر دیا کہ تم منافق ہو۔ اُن کے ساتھ کھڑے ہو کر۔۔۔۔حق پر چلنے والوں کا ساتھ دو،ان کے دست و بازو بنو، اُن کی ہرممکن مدد کرو۔حق پر چلنے والوں کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے۔ لوگ ذرا ذرا سے معمولی مفادات کی خاطر اپنا دین وایمان بیچ دیتے ہیں۔ آج ہر طرف ظلم و بربریت کا رقص جاری ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ لوگ ظالم کے سامنے حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ ہر کوئی بااثر اور اعلیٰ منصب پر فائز شخص کے سامنے حق بات نہیں کر سکتا ۔اس کے لیے جذبۂ ایمانی چاہیے، حوصلہ چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کا خیال اگر ہمارے دل میں جاگزیں ہے تو یہ ممکن ہے۔حق پر قائم رہنے والے مردِ مجاہد کبھی اپنے نقصان کی پرواہ نہیں کیا کرتے وہ مر جاتے ہیں، مٹ جاتے ہیں،فنا ہو جاتے ہیں ، لیکن ظالم کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکاتے۔۔۔۔۔ کبھی اپنا سر نہیں جھکاتے۔
٭٭٭


