
عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر
کوئی بھی ڈگری حاصل کرنے کے لئے بندے کو جوانی کے کہی بہترین سال مختلف تعلیمی اداروں میں صرف کرنے کے علاوہ ٹیوشن فیس اور donation کے طور پر زر کثیر خرچ کرنا پڑتا ہے تب جا کے وہ اپنے نام کے ساتھ کوئی ،دم،لگا سکتا ہے ،لیکن ہماری ساسو ماں نے گھر بیٹھے بنا کسی فیس اور donation کے ایک ایسی ڈگری حاصل کی ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں ،یہ کوئی عام ڈگری نہیں ،اسے o c d کہتے ہیں اور اسی لیے ہماری ساسو ماں او سی ڈی والی کہلاتی ہے ،اگر چہ ہر ساسو ماں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لئے بہو رانی کو on spot direction دیکر کام کراتی ہے ،تاہم ہماری ساسو ماں کے کام لینے اور کام کرنے کا انداز بلکل مختلف ہے ،۔ ایک ہی برتن کو دس بار صابن سے دھلوانے اور چار بار خالص پانی سے غسل دینے کے بعد بھی ساسو ماں کو تسلی نہیں ہوتی کہ برتن صاف ہوا ہے کہ نہیں ،گاجر مولی ہو یا کھیرا کدو پانچ بار صابن اور تار برش سے رگڑ رگڑ کر اوپری تہہ اکھاڑے کے بعد ہی وہ ساسو ماں کے کچن میں پکانے کے لایق بن جاتے ہیں ،یاد رہے یہ کچن کسی modern operation theatre سے کم نہیں ،اکر چہ کھانا پکانے کے لئے پچیس سال پرانے المونیم کے کالے برتن ہیں ،تاہم کھانا کھانے کے لئے ہر فرد کے لئے مخصوص برتن ہے ،کوی کسی دوسرے کے گلاس یا کپ کو استعمال نہیں کرسکتا ،اور اگر غلطی سے بھی کسی نے ساسو ماں کے نجی برتن کو ہاتھ لگایا ،اسیے چھے بار گرم پانی سے دھونے کے بعد sterilize ہونے کے لئے کھلی دھوپ میں رکھا جاتا ہے ،۔ ساسو ماں کو صاف صفائی کا خاص خیال ہے ،کھڑکیوں دروازوں اور fridge کے ہینڈل کو پندراہ سال پرانے پھٹے کپڑوں سے ڈھانپ لیا ہے تاکہ ہاتھ لگ جانے سے گندے نہ ہوں ،چٹکیوں کے سرے head, ہمیشہ بایں کی طرف مڑ کر رہیں ،اگر ساسو ماں کو رات کے بارہ بجے بھی خیال آیا کہ کسی چٹکی کا سرا دایں کو مڑ کر رہ گیا ہے check کرنے کے لئے اسی وقت تمام افراد خانہ کی نیند حرام کردیتی ہے ،گھر کے بڑے دروازے پر دو بڑی چٹکیاں ،دو انگریزی تالے اور دو دیسی کنڑیاں لگانے کے باوجود ساسو ماں کو رات بھر فکر ستایے رہتی ہے کہ کوئی چور چکا گھر کے اندر داخل نہ ہو ،۔ دودھ والے سے دودھ لینا ہو یا باہر والے نلکے سے پانی ،برتن ہرگز نیچے نہیں رہنا چاہیے ،دعوت ہو یا تعزیت ،ساسو ماں کسی کے گھر نہیں جاسکتی ،دوسروں کے ساتھ کھانا یا بیٹھنا ساسو ماں کے شایان شان نہیں ،ساسو ماں کا گھر عام گھروں سے الگ ہے ،چیڑ کارآمد ہو یا بیکار ،یہاں سلیقے سے سجایا گیا ہے ،ساٹھ سال پہلے ساسو ماں کے سسر جی کا حج سے لایا گیا زیتون تیل کے خالی ڈبے سے لے کر تیس سال پرانے بچوں کے کپڑوں تک ہر چیز کو سنبھال کر رکھا گیا ہے ،اپنے جہیز میں لایے ہوئے چکا بیلن سے ساسو ماں ابھی تک روٹیاں بھیل رہی ہے ،وہ اور بات ہے کہ بیلن میں پڑی دراڑ کیڑے مکوڑوں کے لئے پناہ گاہ کا کام دیتی ہے ،۔
ساسو ماں کا گھر کسی فوجی چھاؤنی سے کم نہیں ،اپنا ہو یا پرایا کسی کو جوتا پہن کر مین گیٹ سے آگے آنے کی اجازت نہیں ،ہر کمرے کے لئے الگ الگ رنگ کے چپل اور صاف صفائی کے لئے الگ الگ پونچھے اور بالٹی ،جو چیز باہر سے گھر کے اندر لانی ہوگی ،ساسوماں اسے اپنے بالوں کی طرح دس بار دھوتی ہے اور تب جا کے وہ قابل استعمال ہوتا ہے ,حد تو یہ کہ اس انوکھے طریقے سے تنگ آکر گھر کے اکثر افراد دن بھر باہر ہی رہنا پسند کرتے ہیں اور شام کو پرندوں کی طرح رات گزارنے کے لئے اندر گھس جاتے ہیں ،۔ اسے خوش قسمتی کہئے یا بدقسمتی ،ساسو ماں کا گھر سڑک کے کنارے پر واقع ہے ،آدمی زندہ ہو یا مردہ ،ہر کسی کو اسی گھر کے سامنے سے گذرنا پڑتا ہے جب کوئی بستی والا مر جاتا ہے وہ لمحہ لواحقین سے زیادہ تکلیف دہ ساسو ماں کے لئے ہوتا ہے ،بارش ہو یا برف ساسو ماں پورے مکان کو ٹھنڈے پانی سے دھو ڈالتی ہے ،کوی اسے لاکھ سمجھایے کہ مرنے والا حال ہی میں بیت اللہ سے پاپ دھل کر آیا تھا اور مرنے کے بعد اسکو تین بار خاص قسم کے صابن اور گرم پانی سے نہا دھو کر نیے سفید کپڑے میں لپیٹ کر ،عرق گلاب سے معطر کیا گیا ،بھلا اسکے بعد بھی مرنے والے پر کوئی گناہ یا گندگی باقی رہ سکتی ہے ؟جوآپ مکان کو غسل دے رہے ہو ،ساسو ماں کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی مرحومہ ساسو ماں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا ،۔ عید الضحی کا دن جہاں عالم انسانیت کے لیے خوشی اور مسرت کا دن ہوتا ہے ،وہیں ساسو ماں کے لئے کسی قہر الٰہی سے کم نہیں ،علی الصبح مین گیٹ پر پلاسٹک کا پرانا ٹوکرا لٹکا کر خود دن بھر کھڑکی کے آڑ میں چھپ کر جھانکنا کہ قربانی کا گوشت ٹوکرا میں ڈالنے کے بجائے کوئی اللہ کا بندہ گھر کے اندر نہ آئے تو پورے گھر کو اندر سے دھونا پڑے گا ،پھر دو دن کی اس مشقت کے بعد سارے گوشت کو یہ کہہ کر گھر کے صحن میں دفن کیا جاتا ہے کہ باٹنے والوں کے ہاتھ لگنے سے کھانے کے قابل نہ رہا ،ہر سال ایسا کرتے کرتے ساسو ماں نے گھر کے صحن کو قبرستان میں بدل دیا ہے ،ساسو ماں نے پیسوں کو آج تک ہاتھ نہ لگایا ،۔ ستم ظریفی یہ کہ اس سارے خرافات کو ہماری ساسو ماں کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر افراد خانہ بھی صاف صفائی کہتے ہیں ،جبکہ حقیقت میں یہ کوی صفائی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کو obsessive compulsive disorder (ocd) کہتے ہیں ،ایسے مریض ہماری ساسو ماں کی طرح آسانیوں کے بجائے مشکلات پیدا کر کے دوسروں کے لیے بھی جیتا حرام کردیتے ہیں ،ایسے مریضوں کو صفای پسند کہلانے کے بجائے علاج کی ضرورت ہے ۔


