
سنچیتا بھٹاچاریہ
ریسرچ فیلو
انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ مینجمنٹ
14 جنوری 2026 کو دہلی کی کرکڑڈوما عدالت نے دخترانِ ملت (DeM) کی سربراہ آسیہ اندرابی، تنظیم کی پریس سیکریٹری صوفی فہیمدہ اور جنرل سیکریٹری ناہدہ نسرین کو دہشت گردانہ سازش، بغاوت آمیز سرگرمیوں اور جموں و کشمیر کی علیحدگی کو فروغ دینے کے الزامات میں قصوروار قرار دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج چندر جیت سنگھ نے آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کی دفعات 18 (دہشت گردانہ کارروائی کی سازش)، 20 (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت)، 38/39 (دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کا دعویٰ اور اس کی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا ارادہ) کے تحت مجرم ٹھہرایا۔
عدالت نے انہیں بھارتی تعزیراتِ قانون (IPC) کی دفعات 120B (مجرمانہ سازش)، 121 (حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنا)، 153A/153B (قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والی عداوت اور الزامات) اور 505 (عوامی فساد) کے تحت بھی قصوروار قرار دیا۔
فیصلے میں عدالت نے مشاہدہ کیا:
"دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزمان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر حقِ خود ارادیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ کشمیر پہلے ہی پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملزمان آئینِ ہند سے وفاداری نہیں رکھتے، نہ اس پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی پاسداری یا بھارت کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ وہ بھارت کے ایک اٹوٹ حصے کی علیحدگی کے خواہاں ہیں۔”
یہ مقدمہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کی اس تفتیش کے نتیجے میں سامنے آیا جو 2018 میں وزارتِ داخلہ ہند کی ہدایت پر شروع کی گئی تھی، جب خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ دخترانِ ملت کے کارکن سوشل میڈیا، تقاریر اور ریلیوں کے ذریعے کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی وکالت کر رہے ہیں۔
18 اپریل 2018 کو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ این آئی اے نے تحقیق کے دوران ان کے زیرِ استعمال جی میل اکاؤنٹس اور فیس بک پروفائلز کی تفصیلات حاصل کیں اور سائبر اسپیس سے کئی قابلِ اعتراض ویڈیوز اور پوسٹس برآمد کیں۔
دخترانِ ملت (یعنی قوم/دین کی بیٹیاں) کی بنیاد 1987 میں آسیہ اندرابی نے رکھی، جو خود کو ایک “اسلامی فیمنسٹ” قرار دیتی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں یہ تنظیم بتدریج نمایاں ہوتی چلی گئی۔
جنوری 1990 تک کشمیر کے تمام 15 فعال سینما ہال زبردستی بند کروا دیے گئے، جن کی بندش میں آسیہ اندرابی کا نمایاں کردار بتایا جاتا ہے۔ مئی 1993 میں تنظیم نے سری نگر کی خواتین کو بغیر برقع (پورے جسم کے پردے) کے گھروں سے باہر نکلنے کے خلاف وارننگ جاری کی۔
ستمبر 1995 میں سری نگر میں ہونے والے بم دھماکے، جس میں ایجنسی فرانس پریس کے فوٹوگرافر مشتاق علی ہلاک ہوئےکی ذمہ داری بھی دخترانِ ملت پر عائد کی گئی۔ مئی 2001 میں تنظیم نے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر میں سرگرم پاکستانی دہشت گرد ہی”کشمیری عوام کے حقیقی نمائندے”ہیں اور بھارت کی مرکزی حکومت سے بات چیت کا حق کسی اور کو حاصل نہیں۔
27 جون 2002 کو دخترانِ ملت کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سبب انسدادِ دہشت گردی قانون (POTA) کے تحت ممنوع قرار دیا گیا۔ بعد ازاں POTA کے خاتمے (ستمبر 2004) کے بعد، 30 دسمبر 2004 کو تنظیم کو UAPA کے تحت باضابطہ دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔
پابندی کے باوجود، ستمبر 2005 میں تنظیم نے اپنی ایک ذیلی شاخ “مریم اسکواڈ” قائم کی، جو مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ایک اخلاقی پولیس کے طور پر کام کرتی تھی۔ اس اسکواڈ کی رکنیت صرف شادی شدہ خواتین تک محدود تھی اور ان کی شناخت عوام سے مخفی رکھی جاتی تھی۔ اسکواڈ نے “غیر اخلاقی سرگرمیوں” کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا۔
دخترانِ ملت پر دہشت گرد تنظیموں کو معاونت فراہم کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ اگست 2005 میں اطلاعات سامنے آئیں کہ آسیہ اندرابی کو برطانیہ میں مقیم کشمیری نژاد ایوب ٹھاکر اور ان کے مقامی رابطہ کار امتیاز بزاز کے ذریعے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رقوم موصول ہوئیں، جو مبینہ طور پر جماعت المجاہدین نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر 2013 میں ان کے دو بھتیجوں کو راولپنڈی (پاکستان) میں گرفتار کیا گیا۔ پاکستانی پولیس نے ان کے دخترانِ ملت کی سربراہ سے روابط کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے اسلحہ و گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔
27 دسمبر 2015 کو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تین نوجوان محمد عبداللہ باسط، سید عمر فاروق حسینی اور معاذ حسن فاروق کو داعش (ISIS) میں شمولیت کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ تینوں طلبہ اسلامی تحریکِ ہند (SIMI) کے سابق صدر سید صلاح الدین کے رشتہ دار تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ آسیہ اندرابی سے ملاقات کر کے ان کی مدد سے سرحد پار پاکستان مقبوضہ کشمیر (PoK) جانا چاہتے تھے۔
اسی طرح 2010 میں کشمیر بھر میں پتھراؤ کی تحریک کے مرکزی منصوبہ ساز سمجھے جانے والے مسرت عالم بھٹ کو بھی دخترانِ ملت کے دیہی نیٹ ورکس کی حمایت حاصل رہی۔ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو عرف ڈاکٹر محمد قاسم کا بھی حزب المجاہدین سے طویل تعلق رہا ہے اور وہ قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
آسیہ اندرابی باقاعدگی سے پاکستان میں جماعت الدعوہ (JuD) کی بھارت مخالف اور کشمیر نواز ریلیوں میں آڈیو/ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر 14 اگست 2015 کو انہوں نے لاہور میں منعقد ایک جلسے سے ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارک باد دی۔ اس موقع پر حافظ محمد سعید (امیر جماعت الدعوہ اور لشکرِ طیبہ) بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ اپنے خطاب میں آسیہ اندرابی نے کہا:
پاکستان کے نظریے پر حرف بہ حرف اور روح کے ساتھ عمل کرنا اس خوابوں کی سرزمین کے وجود کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پاکستان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی شہ رگ آج بھی بھارتی فوجی بوٹوں تلے دبی ہوئی ہے، اور جب تک جموں و کشمیر آزاد ہو کر قدرتی الحاق نہیں کرتا، پاکستان کی تحریک نامکمل رہے گی۔
جون 2017 میں جماعت الدعوہ کے رسالے Invite میں شائع ایک مضمون میں آسیہ اندرابی نے حافظ سعید کو”مظلوم کشمیریوں کے لیے امید کی کرن”قرار دیا۔
آسیہ اندرابی کی قیادت میں دخترانِ ملت نے دوہری حکمتِ عملی اپنائی:
اول، مسلح سرگرمیوں کی حمایت تاکہ جموں و کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملایا جا سکے؛
دوم، کشمیری معاشرے کی تشکیلِ نو، خاص طور پر خواتین کے لیے سخت گیر اخلاقی اور سماجی ضابطوں کے نفاذ کے ذریعے۔
وادی میں سرگرم ایک شدت پسند خواتین تنظیم کے طور پر، دخترانِ ملت نے علیحدگی پسند تحریک، وسائل کی فراہمی، لاجسٹک تعاون اور عسکری نیٹ ورکنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ موجودہ سزا کے باوجود، یہ تنظیم مذہبی علامتوں کے ذریعے کشمیری خواتین کو اسلام پسند عسکری نظام میں متحرک کرنے کی صلاحیت اب بھی رکھتی ہے۔
ززز


