دبئی: (متحدہ عرب امارات) امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کے روز دوحہ اجلاس میں شرکت کے لیے کشنر اور وٹکوف کی قیادت میں اپنا وفد روانہ کرے گا، حالانکہ تہران نے اصرار کیا کہ اس نے رواں کے آخر میں خلیج فارس میں حملوں کے بعد "کسی بھی سطح پر” امریکہ کے ساتھ ملاقات پر اتفاق نہیں کیا ہے۔
جب کہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی ہم منصبوں سے ملاقات کی درخواست کی ہے اور وہ منگل کو دوحہ، قطر میں ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وہیں ایران کے سینئر مذاکرات کاروں میں سے ایک نے اس بات کی تردید کی کہ بات چیت طے شدہ ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران اپنا وفد قطر بھیج رہا ہے، جو مذاکرات میں ایک اہم ثالث ہے، تاکہ امریکہ کو شامل کیے بغیر عبوری معاہدے کی شرائط پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ چار دنوں تک ایک دوسرے پر حملوں کے بعد دونوں فریق پیر کو اپنے حملوں کو روکتے نظر آئے
امریکہ اور ایران نے اس ماہ کے شروع میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کیا جس میں تہران سے کہا گیا کہ وہ افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو کم کرے۔ اسی کے ساتھ اس معاہدے میں امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو بھی معاف کرنے اور آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک آمد و رفت کے مطالبات شامل ہیں۔ اس پر عمل درآمد کے ساتھ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دن کا وقت گیا گیا ہے۔


