موسم کی پہلی شدید برف باری نے کشمیر کو مفلوج کر دیا

جنگ نیوز

جموں و کشمیر میں موسم سرما کی پہلی ہمہ گیر اور شدید برف باری نے جمعہ کے روز طویل خشک موسم کا خاتمہ تو کر دیا، مگر اس کے ساتھ ہی وادی کشمیر اور پہاڑی اضلاع میں معمولاتِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ وادی کی اہم شاہراہیں، فضائی آمد و رفت اور ریلوے نظام شدید متاثر ہوا، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی معطل رہا۔
آزاد موسمی مبصر فائزن عارف کے مطابق، کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع، جموں کے پہاڑی خطے اور لداخ کے بعض حصوں میں برف باری ریکارڈ کی گئی، تاہم برف کی مقدار مختلف علاقوں میں نمایاں طور پر مختلف رہی۔
جنوبی کشمیر اس شدید موسمی نظام کا سب سے بڑا شکار رہا۔ شوپیاں ضلع کے میدانی علاقوں میں ڈیڑھ سے اڑھائی فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں اڑھائی سے چار فٹ تک برف جمع ہوئی۔ پلوامہ کے درابگام اور راجپورہ سمیت کئی علاقوں میں ڈیڑھ فٹ برف پڑی۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں پاکھرپورہ میں دو فٹ کے قریب جبکہ چرارِ شریف میں ڈیڑھ فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر شہر میں ہوائی اڈے کے اطراف تین سے چار انچ برف پڑی، اگرچہ شہر کے بیشتر حصوں میں ہلکی برف باری ہوئی۔
شمالی کشمیر میں گلمرگ میں دو فٹ، کپواڑہ کے ہچمرگ میں اڑھائی فٹ جبکہ ڈیڈی کوٹ اور ٹنگڈار میں تقریباً دو فٹ برف پڑی۔ کرناہ وادی کے بالائی علاقوں میں چار فٹ تک برف جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جموں خطے میں پونچھ کے لوران منڈی میں آٹھ انچ، بنی حال میں پانچ انچ سے زائد برف پڑی۔ لداخ کے کرگل ضلع کی وادیٔ سرو میں تین سے چار انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو فضائی دباؤ میں اچانک کمی کے باعث شدید مغربی ہواؤں اور طوفانی جھکڑوں نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ شوپیاں میں ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے اور کئی علاقوں میں احتیاطی بنیادوں پر بجلی منقطع کر دی گئی۔
تازہ برف باری کے بعد وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی اہم شاہراہیں، جن میں جموں-سرینگر قومی شاہراہ، مغل روڈ، سنتھن-کشتواڑ اور سونمرگ روٹ شامل ہیں، بند کر دی گئیں۔ سرینگر ہوائی اڈے پر 26 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں، بعد ازاں تمام فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل کر دیا گیا۔
ریلوے نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ بانی حال-بڈگام سیکشن پر مقامی ٹرین سروس معطل رہی، تاہم وندے بھارت ایکسپریس نے برف کے باوجود محدود سروس جاری رکھی۔
شدید برف باری کے دوران کشمیر پولیس نے مثالی کردار ادا کرتے ہوئے ہنگامی ہیلپ لائنز فعال کیں اور کئی اضلاع میں پھنسے سیاحوں، مریضوں اور مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ شوپیاں میں ایک COPD مریض کو آکسیجن سلنڈر فراہم کیا گیا، جبکہ کلگام میں ایک حاملہ خاتون کو بروقت اسپتال منتقل کیا گیا۔
انتظامیہ نے گاندربل، کپواڑہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ اور رام بن اضلاع میں 2300 سے 2500 میٹر سے زائد بلندی والے علاقوں کے لیے بلند درجے کا برفانی تودوں (Avalanche) کا انتباہ جاری کیا ہے۔ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز اور خطرناک علاقوں میں جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

سری نگر میں مایوسی کی لہر
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں شدید برف باری کے باوجود سرینگر شہر میں برفباری نہ ہونے کے سبب مایوسی چھائی ہے ۔ شہر کے زیادہ تر حصوں میں برف باری نہ ہونے کے برابر رہی اور صرف ہلکی پھوار یا برف کے باریک گالے ہی دیکھنے کو ملے، جس کے باعث سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں نمایاں برف جمع نہیں ہو سکی۔ شہریوں نے سردی کی شدت میں اضافہ تو محسوس کیا، تاہم شہر میں نظامِ زندگی مکمل طور پر معطل ہونے سے بچا رہا۔سوشل میڈیا پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں برف باری نے ہونے کی وجہ سے مایوسی کا اظہار کیا اور امید کی کہ جلد برف باری کا مشاہد کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی پہلی شدید برف باری نے کشمیر کو مفلوج کر دیا

جنگ نیوز

جموں و کشمیر میں موسم سرما کی پہلی ہمہ گیر اور شدید برف باری نے جمعہ کے روز طویل خشک موسم کا خاتمہ تو کر دیا، مگر اس کے ساتھ ہی وادی کشمیر اور پہاڑی اضلاع میں معمولاتِ زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔ وادی کی اہم شاہراہیں، فضائی آمد و رفت اور ریلوے نظام شدید متاثر ہوا، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی معطل رہا۔
آزاد موسمی مبصر فائزن عارف کے مطابق، کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع، جموں کے پہاڑی خطے اور لداخ کے بعض حصوں میں برف باری ریکارڈ کی گئی، تاہم برف کی مقدار مختلف علاقوں میں نمایاں طور پر مختلف رہی۔
جنوبی کشمیر اس شدید موسمی نظام کا سب سے بڑا شکار رہا۔ شوپیاں ضلع کے میدانی علاقوں میں ڈیڑھ سے اڑھائی فٹ جبکہ بالائی علاقوں میں اڑھائی سے چار فٹ تک برف جمع ہوئی۔ پلوامہ کے درابگام اور راجپورہ سمیت کئی علاقوں میں ڈیڑھ فٹ برف پڑی۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں پاکھرپورہ میں دو فٹ کے قریب جبکہ چرارِ شریف میں ڈیڑھ فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ سرینگر شہر میں ہوائی اڈے کے اطراف تین سے چار انچ برف پڑی، اگرچہ شہر کے بیشتر حصوں میں ہلکی برف باری ہوئی۔
شمالی کشمیر میں گلمرگ میں دو فٹ، کپواڑہ کے ہچمرگ میں اڑھائی فٹ جبکہ ڈیڈی کوٹ اور ٹنگڈار میں تقریباً دو فٹ برف پڑی۔ کرناہ وادی کے بالائی علاقوں میں چار فٹ تک برف جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جموں خطے میں پونچھ کے لوران منڈی میں آٹھ انچ، بنی حال میں پانچ انچ سے زائد برف پڑی۔ لداخ کے کرگل ضلع کی وادیٔ سرو میں تین سے چار انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو فضائی دباؤ میں اچانک کمی کے باعث شدید مغربی ہواؤں اور طوفانی جھکڑوں نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔ شوپیاں میں ہواؤں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے اور کئی علاقوں میں احتیاطی بنیادوں پر بجلی منقطع کر دی گئی۔
تازہ برف باری کے بعد وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والی اہم شاہراہیں، جن میں جموں-سرینگر قومی شاہراہ، مغل روڈ، سنتھن-کشتواڑ اور سونمرگ روٹ شامل ہیں، بند کر دی گئیں۔ سرینگر ہوائی اڈے پر 26 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں، بعد ازاں تمام فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل کر دیا گیا۔
ریلوے نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ بانی حال-بڈگام سیکشن پر مقامی ٹرین سروس معطل رہی، تاہم وندے بھارت ایکسپریس نے برف کے باوجود محدود سروس جاری رکھی۔
شدید برف باری کے دوران کشمیر پولیس نے مثالی کردار ادا کرتے ہوئے ہنگامی ہیلپ لائنز فعال کیں اور کئی اضلاع میں پھنسے سیاحوں، مریضوں اور مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ شوپیاں میں ایک COPD مریض کو آکسیجن سلنڈر فراہم کیا گیا، جبکہ کلگام میں ایک حاملہ خاتون کو بروقت اسپتال منتقل کیا گیا۔
انتظامیہ نے گاندربل، کپواڑہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ اور رام بن اضلاع میں 2300 سے 2500 میٹر سے زائد بلندی والے علاقوں کے لیے بلند درجے کا برفانی تودوں (Avalanche) کا انتباہ جاری کیا ہے۔ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز اور خطرناک علاقوں میں جانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

سری نگر میں مایوسی کی لہر
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ وادی کے بیشتر علاقوں میں شدید برف باری کے باوجود سرینگر شہر میں برفباری نہ ہونے کے سبب مایوسی چھائی ہے ۔ شہر کے زیادہ تر حصوں میں برف باری نہ ہونے کے برابر رہی اور صرف ہلکی پھوار یا برف کے باریک گالے ہی دیکھنے کو ملے، جس کے باعث سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں نمایاں برف جمع نہیں ہو سکی۔ شہریوں نے سردی کی شدت میں اضافہ تو محسوس کیا، تاہم شہر میں نظامِ زندگی مکمل طور پر معطل ہونے سے بچا رہا۔سوشل میڈیا پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں برف باری نے ہونے کی وجہ سے مایوسی کا اظہار کیا اور امید کی کہ جلد برف باری کا مشاہد کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں