جاوید اختر نے جس خدا کا انکار کیا کیــا ہم اسی خــدا کو مانتے ہیں؟

ڈاکٹر علیم خان فلکی

جاوید اخترہار گئے اور ہم سارے اللہ والے جیت گئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سب اُسی اللہ کو مانتے ہیں جس کا انکار جاوید اختر کرتے ہیں، یا جس اللہ کے وجود کو شمائل ندوی نے ثابت کرنے کی ایک اچھی کوشش کی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ہماری اکثریت جاوید اختر ہی کی پارٹی سے تعلق رکھتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ جاوید اختر جیسے ملحدین ایماندار اور بہادر ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ خدا کا سِرے سے کوئی وجود نہیں، ہم بزدل، مصلحت پسند بلکہ وہ منافق لوگ ہیں جواِسی بات کو علی الاعلان کہنے کی ہمت نہیں کرتے،کیونکہ ہم خدا کا مکمل انکار نہیں کرتے، ہاں اس کو جزوی طور پر کسی حد تک مانتے ہیں۔
شائد یہ باتیں عجیب سی لگ رہی ہوں گی۔ اِن باتوں کے پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ ایسا نہیں تھا کہ مشرکینِ مکہ اللہ کے وجود سے انکارکرتے تھے۔ وہ Atheist نہیں تھے۔ وہ کہتے کہ ہم نے اللہ کو مان لیا، یہ بھی مان لیا کہ وہ رحمان ہے، غفور ہے، رحیم ہے، خالق و رازق ہے۔ لیکن بات جب اللہ کو الٰہ اور رب ماننے کی آئی، تو انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ ساری صفتیں ایک خدا میں جمع نہیں ہوسکتیں، کیونکہ اِلٰہ اور رب کے معنی یہ ہیں کہ حاکمیت مکمل اللہ کی ہوگی، قانون اسی کا چلے گا، پوری زندگی کا سیاسی، معاشی، معاشرتی نظام اسی کے اصولوں پر قائم گا۔ اگر ہم یہ مان لیں تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں خود ڈال کر اس کی چابیاں کسی اور کے حوالے کردیں۔ ان کے نزدیک خدا تو ایک ایسا بے جان گونگابہرا بُت تھا جس کو چاہو تو تصوّر میں بٹھالو، چاہو تو لات و منات یا گنپتی یا صلیب بنا کر گھر، آفس، سڑک یا بُت خانے میں سجالو، یا چرچ یا مسجدیں آباد کرلو۔اس کی عقیدت میں داڑھیوں، رنگین ٹوپیوں اورعماموں، یا کِرپان یا پیشانی پر بٹّوؤں یا ہاتھوں یا گلے میں رنگین دھاگوں کا اہتمام کرلو۔ مشرکین کا یہی تصور تھا کہ عبادت کے لیے کسی ایک خدا کے وجود کا ہونا ضروری ہے، لیکن ایسا خدا جو سیاست، معیشت، اور سماج کے قوانین کو انسانوں پر چھوڑ دے۔ اسی لئے مشرکین ایسے خداؤں کی بھیڑ میں ایک اور اللہ کو بھی شامل کرلینے تیار ہوگئے اور آفر دیا کہ کچھ دن آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کرلیجئے اور کچھ دن ہم آپ کے اللہ کی عبادت کرلیں گے۔
ان خدا کے ماننے والوں کو Theist کہا گیا۔ اسی لئے ہرہرشخص نے اپنی ضرورت کے مطابق اپنیاپنے خدا کو خود ہی ایجاد کرلیا۔ یہی صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ آج بھی خدا کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔ لیکن ایسے خدا کو مانتے ہیں جو ان کی سہولت ہی کی خاطر پیدا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر: جھوٹوںاور چوروں کا خدا غفورالرحیم خدا ہے جو اُن کی مجبوریوں کو سمجھتا ہے،
شادیوں پر لاکھوں روپیہ حرام خرچ کرنے والوں کا خدا انہیں حسبِ استطاعت ’’خوشی سے‘‘ خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ایسی ناجائز شادیوں میں شرکت کرکے ڈٹ کر کھاکرنکلنے والوں کا خدا انہیں دعوتیں قبول کرنے کا حکم دیتا ہے۔
بیوٹی پارلر سے اپنے بدن کی نمائش کرتے نکلنے والی عورتوں کا خدا وہ ہے جو کہتا ہے کہ شرم دل میں ہونی چاہئے، کپڑوں یا فیشن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔کافر، مشرک، منافق، بدعتی وغیرہ کے فتوے پھیلانے والے مولویوں اور مسلکوں کا خدا وہ ہے جو ہر مخالف مسلک کے آدمی کو سیدھے جہنّم رسید کرنے والا اور اِنہیں 73ویں فرقے سے اٹھانے والاہے۔ حرام یا حلال کی پروا کئے بغیر دولت جمع کرنے والوں کا بھی اللہ پر زبردست ایمان ہے۔ یہ جہاں پولیس، بلدیہ اور سرکاری افسروں کو مسلسل رشوت سے نوازتے رہتے ہیں، وہیں اپنے اللہ کو بھی بار بار عمروں اور، کچھ نمازوں،اور بہت ساری خیرات و زکوٰۃ سے نوازتے رہتے ہیں۔کامیاب لیڈروں کا بھی اپنا خدا ہے جو انہیں اسمبلی، پارلیمنٹ، جلسوں اور ٹی وی مناظروں میں مسلمانوں کی تائید میں شعلہ بیان تقریریں کرنے کے انعام میں وقف لینڈ گرابنگ، دلّالی، مانڈولی، اور اپنے مخالفین پر کھلا ظلم کرنے کی پوری پوری اجازت دیتا ہے۔
بہت بڑی تعداد تو اُس اللہ کے ماننے والوں کی ہے جس نے دوزخ کے داروغہ کو ایک دو بار نہیں بلکہ ستّر بار وارننگ دی ہیکہ وہ اِن کے پیر کے چاہنے والوں کو دوزخ میں ہرگز داخل نہ کرے۔ غرض یہ کہ جاوید اختر کم ازکم اس معاملے سچّا ہے کہ وہ اللہ کی ذات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اللہ کے وجود کا اقرار کرنا اپنے آپ کو مکمل اللہ کی حاکمیت کے سپرد کرنا ہے۔ اس لئے اس نے اللہ کے ہونے سے صاف انکار کردیا۔ ہم نے یہ کیا کہ اللہ سے مروّت برتی، بجائے انکار کرنے کے اسے اپنی ضرورت کی حد تک محدود رکھا۔ جیسے ایک موبائیل کی، گاڑی کی، فریج، ٹی وی، وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی اپنی سہولت سے عبادت کرنے کیلئے ایک خدا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہر ایک شخص نے اپنی حسبِ ضرورت ایک خدا کو دریافت کرلیا۔ ایسا خدا جو مسجد میں تو رہے لیکن کاروبار میں Neutral رہے۔ خوشی اور غم کے موقعوں پر Silent mode پر چلاجائے۔ جاوید اختر کو معلوم نہیں کہ وہ جیسی بھی زندگی گزار رہے ہیں، وہ مسلمان رہ کر بھی شان سے ویسی ہی زندگی گزار سکتے ہیں، بس اتنا ہی کرنا ہے کہ ایک ایسے خدا کے وجود کا اقرار کرلینا ہے جو مالک یوم الدین تو ہے لیکن یہودونصٰرٰی اور مشرکین کے لئے ہے۔ مسلمانوں کے لئے وہ صرف بے پناہ غفورالرحیم ہے۔ کلمہ کے الفاظ دوہرادینے کے بعد اس خدا کے عفوودرگزر کی چادر ہر مسلمان کو اپنی آغوش رحمت میں لے لینے کی ضمانت دیتی ہے۔ وہ تمام اللہ کے ماننے والے جو اللہ فی نفسہ کیا ہے، ادخلوا فی السلم کافّہ کیا ہے جانے بغیر بھی اللہ کو مانتے ہیں انہی کا پتہ اللہ نے دیا ہے کہ ’’اریت من التّخذ الہہ ھواہ‘‘ کیا تم نے دیکھا ہے اسے جس نے اپنی خواہشات کو اپنا اللہ بنالیا ہے؟ آج یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اصلی الہ اور رب کون ہے؟ اللہ یاہماری خواہشات، تصوّرات، امانی (Wishful thinking)، پیرومرشد، اکابرین، باپ دادا جن کو ہم نے اپنا رب بنالیا ہے، قرآن سے رجوع کئے بغیر اندھ بھگتوں کی طرح ہم بھی انہی کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔’’واتّخذوا اھبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ (لوگوں نے اپنے پیروں استادوں اور لیڈروں کو اپنا رب بنالیا ہے)؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

جاوید اختر نے جس خدا کا انکار کیا کیــا ہم اسی خــدا کو مانتے ہیں؟

ڈاکٹر علیم خان فلکی

جاوید اخترہار گئے اور ہم سارے اللہ والے جیت گئے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم سب اُسی اللہ کو مانتے ہیں جس کا انکار جاوید اختر کرتے ہیں، یا جس اللہ کے وجود کو شمائل ندوی نے ثابت کرنے کی ایک اچھی کوشش کی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ ہماری اکثریت جاوید اختر ہی کی پارٹی سے تعلق رکھتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ جاوید اختر جیسے ملحدین ایماندار اور بہادر ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ خدا کا سِرے سے کوئی وجود نہیں، ہم بزدل، مصلحت پسند بلکہ وہ منافق لوگ ہیں جواِسی بات کو علی الاعلان کہنے کی ہمت نہیں کرتے،کیونکہ ہم خدا کا مکمل انکار نہیں کرتے، ہاں اس کو جزوی طور پر کسی حد تک مانتے ہیں۔
شائد یہ باتیں عجیب سی لگ رہی ہوں گی۔ اِن باتوں کے پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ ایسا نہیں تھا کہ مشرکینِ مکہ اللہ کے وجود سے انکارکرتے تھے۔ وہ Atheist نہیں تھے۔ وہ کہتے کہ ہم نے اللہ کو مان لیا، یہ بھی مان لیا کہ وہ رحمان ہے، غفور ہے، رحیم ہے، خالق و رازق ہے۔ لیکن بات جب اللہ کو الٰہ اور رب ماننے کی آئی، تو انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ ساری صفتیں ایک خدا میں جمع نہیں ہوسکتیں، کیونکہ اِلٰہ اور رب کے معنی یہ ہیں کہ حاکمیت مکمل اللہ کی ہوگی، قانون اسی کا چلے گا، پوری زندگی کا سیاسی، معاشی، معاشرتی نظام اسی کے اصولوں پر قائم گا۔ اگر ہم یہ مان لیں تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں خود ڈال کر اس کی چابیاں کسی اور کے حوالے کردیں۔ ان کے نزدیک خدا تو ایک ایسا بے جان گونگابہرا بُت تھا جس کو چاہو تو تصوّر میں بٹھالو، چاہو تو لات و منات یا گنپتی یا صلیب بنا کر گھر، آفس، سڑک یا بُت خانے میں سجالو، یا چرچ یا مسجدیں آباد کرلو۔اس کی عقیدت میں داڑھیوں، رنگین ٹوپیوں اورعماموں، یا کِرپان یا پیشانی پر بٹّوؤں یا ہاتھوں یا گلے میں رنگین دھاگوں کا اہتمام کرلو۔ مشرکین کا یہی تصور تھا کہ عبادت کے لیے کسی ایک خدا کے وجود کا ہونا ضروری ہے، لیکن ایسا خدا جو سیاست، معیشت، اور سماج کے قوانین کو انسانوں پر چھوڑ دے۔ اسی لئے مشرکین ایسے خداؤں کی بھیڑ میں ایک اور اللہ کو بھی شامل کرلینے تیار ہوگئے اور آفر دیا کہ کچھ دن آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کرلیجئے اور کچھ دن ہم آپ کے اللہ کی عبادت کرلیں گے۔
ان خدا کے ماننے والوں کو Theist کہا گیا۔ اسی لئے ہرہرشخص نے اپنی ضرورت کے مطابق اپنیاپنے خدا کو خود ہی ایجاد کرلیا۔ یہی صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ آج بھی خدا کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔ لیکن ایسے خدا کو مانتے ہیں جو ان کی سہولت ہی کی خاطر پیدا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر: جھوٹوںاور چوروں کا خدا غفورالرحیم خدا ہے جو اُن کی مجبوریوں کو سمجھتا ہے،
شادیوں پر لاکھوں روپیہ حرام خرچ کرنے والوں کا خدا انہیں حسبِ استطاعت ’’خوشی سے‘‘ خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
ایسی ناجائز شادیوں میں شرکت کرکے ڈٹ کر کھاکرنکلنے والوں کا خدا انہیں دعوتیں قبول کرنے کا حکم دیتا ہے۔
بیوٹی پارلر سے اپنے بدن کی نمائش کرتے نکلنے والی عورتوں کا خدا وہ ہے جو کہتا ہے کہ شرم دل میں ہونی چاہئے، کپڑوں یا فیشن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔کافر، مشرک، منافق، بدعتی وغیرہ کے فتوے پھیلانے والے مولویوں اور مسلکوں کا خدا وہ ہے جو ہر مخالف مسلک کے آدمی کو سیدھے جہنّم رسید کرنے والا اور اِنہیں 73ویں فرقے سے اٹھانے والاہے۔ حرام یا حلال کی پروا کئے بغیر دولت جمع کرنے والوں کا بھی اللہ پر زبردست ایمان ہے۔ یہ جہاں پولیس، بلدیہ اور سرکاری افسروں کو مسلسل رشوت سے نوازتے رہتے ہیں، وہیں اپنے اللہ کو بھی بار بار عمروں اور، کچھ نمازوں،اور بہت ساری خیرات و زکوٰۃ سے نوازتے رہتے ہیں۔کامیاب لیڈروں کا بھی اپنا خدا ہے جو انہیں اسمبلی، پارلیمنٹ، جلسوں اور ٹی وی مناظروں میں مسلمانوں کی تائید میں شعلہ بیان تقریریں کرنے کے انعام میں وقف لینڈ گرابنگ، دلّالی، مانڈولی، اور اپنے مخالفین پر کھلا ظلم کرنے کی پوری پوری اجازت دیتا ہے۔
بہت بڑی تعداد تو اُس اللہ کے ماننے والوں کی ہے جس نے دوزخ کے داروغہ کو ایک دو بار نہیں بلکہ ستّر بار وارننگ دی ہیکہ وہ اِن کے پیر کے چاہنے والوں کو دوزخ میں ہرگز داخل نہ کرے۔ غرض یہ کہ جاوید اختر کم ازکم اس معاملے سچّا ہے کہ وہ اللہ کی ذات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ اللہ کے وجود کا اقرار کرنا اپنے آپ کو مکمل اللہ کی حاکمیت کے سپرد کرنا ہے۔ اس لئے اس نے اللہ کے ہونے سے صاف انکار کردیا۔ ہم نے یہ کیا کہ اللہ سے مروّت برتی، بجائے انکار کرنے کے اسے اپنی ضرورت کی حد تک محدود رکھا۔ جیسے ایک موبائیل کی، گاڑی کی، فریج، ٹی وی، وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی اپنی سہولت سے عبادت کرنے کیلئے ایک خدا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہر ایک شخص نے اپنی حسبِ ضرورت ایک خدا کو دریافت کرلیا۔ ایسا خدا جو مسجد میں تو رہے لیکن کاروبار میں Neutral رہے۔ خوشی اور غم کے موقعوں پر Silent mode پر چلاجائے۔ جاوید اختر کو معلوم نہیں کہ وہ جیسی بھی زندگی گزار رہے ہیں، وہ مسلمان رہ کر بھی شان سے ویسی ہی زندگی گزار سکتے ہیں، بس اتنا ہی کرنا ہے کہ ایک ایسے خدا کے وجود کا اقرار کرلینا ہے جو مالک یوم الدین تو ہے لیکن یہودونصٰرٰی اور مشرکین کے لئے ہے۔ مسلمانوں کے لئے وہ صرف بے پناہ غفورالرحیم ہے۔ کلمہ کے الفاظ دوہرادینے کے بعد اس خدا کے عفوودرگزر کی چادر ہر مسلمان کو اپنی آغوش رحمت میں لے لینے کی ضمانت دیتی ہے۔ وہ تمام اللہ کے ماننے والے جو اللہ فی نفسہ کیا ہے، ادخلوا فی السلم کافّہ کیا ہے جانے بغیر بھی اللہ کو مانتے ہیں انہی کا پتہ اللہ نے دیا ہے کہ ’’اریت من التّخذ الہہ ھواہ‘‘ کیا تم نے دیکھا ہے اسے جس نے اپنی خواہشات کو اپنا اللہ بنالیا ہے؟ آج یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اصلی الہ اور رب کون ہے؟ اللہ یاہماری خواہشات، تصوّرات، امانی (Wishful thinking)، پیرومرشد، اکابرین، باپ دادا جن کو ہم نے اپنا رب بنالیا ہے، قرآن سے رجوع کئے بغیر اندھ بھگتوں کی طرح ہم بھی انہی کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔’’واتّخذوا اھبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ (لوگوں نے اپنے پیروں استادوں اور لیڈروں کو اپنا رب بنالیا ہے)؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں