ماں کا پیار

شبیر احمد میر

ایک پل کو کہکشاں کی طرح جگمگاتی آنکھیں جانے کیا سوچ کر الجھن میں پڑ گئیں اور پھر جیسے ان جگمگاتی آنکھوں میں قبرستان کے اندھیرے در آئے۔ ماں کی تصویر اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگی اور آنکھیں بھر آئیں۔ یہ دل کے رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ جب ہی تو آج برسوں بعد اس پر ٹوٹنے والے اس سانحے نے اسے بے چین و بے قرار کر ڈالا۔ جب اس کی ماں ہمیشہ کے لیے اس سے رخصت ہو گئی تو اسے بے سکون اور مضطرب کر دیا۔ اس وقت یادوں کے بھنور میں ڈوبتے ابھرتے ہوئے اپنی ماں کے بارے میں سوچنے لگا۔ گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اس کی شریکِ حیات اس کے قریب آ کر اس کی پیشانی پر سے بالوں کو بہت نرمی سے پرے ہٹاتے ہوئے، اس کی پیشانی کا درجۂ حرارت معلوم کرتے ہوئے کہا:
تمہاری آنکھوں میں جب بھی دیکھتی ہوں تو پتہ ہے تمہاری آنکھیں کیا کہتی ہیں۔ انہیں میری ضرورت ہے، پل دو پل کے لیے نہیں، تمام عمر کے لیے۔ تمہیں میری ضرورت ہے۔ اگر تم اپنی آنکھیں چھپا بھی لوگے تو مجھے اس کی خبر ہو جائے گی کہ ان آنکھوں میں کیا خواہش ہے اور تمہارے دل میں کیا ہے۔ تم مر کر بھی میرے ساتھ گزارنا چاہتے ہو، ایسا تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں۔ تمہاری بے چینی میں سمجھ سکتی ہوں۔
اس نے آنسوؤں کا گولہ حلق سے اتارتے ہوئے، اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: ایک بات یاد رکھنا، تم اپنے لیے نہ سہی لیکن میرے لیے اتنے ضروری ہو جتنی کہ میرے لیے یہ سانسیں۔ ماضی کی یادیں میرے نزدیک اچھی یادوں کو دہرانے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ معلوم نہیں یہ جانے والے لوٹ کر کیوں نہیں آتے۔ ان کا جسمانی وجود نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، بس ان کے لمس کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔ جب ہم حقیقت کی نگری میں لوٹتے ہیں تو وہ ہاتھوں سے جیسے پھسل جاتے ہیں۔
یہ ماں بھی کیا چیز ہے۔ عمر کے ہر حصے میں اس کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ بھلے خود بوڑھے ہو جاؤ، تب بھی جی چاہتا ہے کہ ان کی گود میں سر رکھ کر اپنے غم ہلکے ہو جائیں۔ مائیں اولاد کے لیے مہربان ہوتی ہیں اور اولاد کی خوشی کی خاطر جھک جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کا رزق پہلے اس کی ماں کے سینے میں اتار دیا، اس کے لیے دودھ کی نہریں جاری کر دیں۔ ہر کوئی ماں کے لمس کو زندگی بھر ڈھونڈتا رہتا ہے۔
ماں رنگ و رونق اور روشنی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتی تو اس دنیا میں ہر طرف خاک اڑتی ہوئی دکھائی دیتی۔ پتہ نہیں آج کا نوجوان طبقہ بدلنے کی دوڑ میں اتنا محو کیوں ہے کہ وہ اپنے خونی رشتوں اور محبتوں کو قتل کر کے اپنے قدموں تلے روند رہا ہے۔ ہر شخص اپنی کلاس بدلنے کی جستجو میں اپنی سب سے قیمتی چیز، اپنے ماں باپ کو چھوڑتا جا رہا ہے۔ یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کے لیے اولاد سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے، جس کے آگے طاقتور شخص بھی ہار جاتا ہے۔
ماں کی محبت اور آغوشِ رحمت و راحت کا احساس اس وقت دل میں بیدار ہوتا ہے جب ماں دنیا سے رخصت ہوتی ہے۔ تو اس کی یادیں دل میں تڑپ و لرزہ طاری کر دیتی ہیں۔ اولاد کا لڑکپن، بچپن، ایک ایک لمحہ ماں کی آنکھوں میں اور اس کی انگلیوں کے پوروں پر ہوتا ہے۔ ماں پیار، محبت، چاہت، ایثار و قربانی کا نام ہے۔ دنیا میں سب سے عظیم ترین اور حسین و جمیل رشتہ بھی ماں کا ہے۔
ماں زمانے کی گرم ہواؤں کا سامنا کرتی ہے لیکن اپنے بچوں کو ٹھنڈی ہواؤں میں رکھتی ہے۔ ماں کے وجود سے ہی کائنات میں انسانیت کے رنگ بھرے ہیں۔ آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ماں دنیا میں جنت کا روپ ہے اور اس کے چلے جانے کے بعد میری دنیا کی تمام چاہتیں اور محبتیں چلی گئی ہیں۔ واقعی ماں کی محبت میں بچوں کے لیے ظاہری و دنیاوی لحاظ سے تفریق و تقسیم نہیں ہوتی اور وہ تمام بچوں سے حقیقی اور یکسانیت کی بنیاد پر پیار کرتی ہے۔
پیدائش سے لے کر لڑکپن، بچپن اور جوانی تک سب سے زیادہ قریب تر وقت جس شخصیت کے ساتھ میں نے گزارا ہے وہ میری ماں تھی۔ آج میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ ماں کے پیار و محبت سے محروم بچے پوری زندگی محرومیت کا شکار رہتے ہیں اور ماں کے پیار کے سائے کو میری طرح تلاش کرتے رہتے ہیں۔
میں نے کہاں کہاں نہیں دیکھا کہ اگر شوہر دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو ماں زمانے کی سختیاں برداشت کر کے، لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے، فیکٹریوں میں ملازمت کر کے، بچوں کے لیے دشوار ترین راستوں پر چل کر ان کی تربیت کرتی ہے کہ میرا بچہ بڑا ہو کر ایک انسان بن جائے، وہ بھی بغیر لالچ کے۔
ماں کی آنکھوں میں اپنے بچے کی شرارتیں، مسکراہٹیں، اس کا بچپن، جوانی، حال اور ماضی، اندھیرے میں روشنی کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جاتا ہے۔ یہ تمام رشتے ناطے، محلہ داری اور احساسات ختم ہو جاتے ہیں اور یہ احساس ہوتا ہے کہ سارے رشتے ناطے ماں کی زندگی کی رونقوں سے وابستہ تھے اور ماں کی یہی یادیں دل تڑپا دیتی ہیں۔
اس وقت مجھے اپنے اسکول کا وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب میں چلتے چلتے لڑکھڑاتا تھا تو وہ دوڑ کر مجھے سنبھال لیتی تھی۔ دور و نزدیک میرے چاروں طرف وہی رہتی تھی۔ صبح جب تک ماں میری پیشانی پر بوسہ نہیں دیتی تھی، میں بستر سے نہیں اٹھتا تھا۔ پھر وہ مجھے ناشتہ کراتی، اسکول کی تیاری کراتی، اسکول تک پہنچاتی اور اسکول سے واپسی پر راستوں کو دیکھا کرتی تھی۔ وہ تڑپ، وہ انتظار کہ میرا لعل کب گھر لوٹ آئے گا۔
جب میں بیمار ہوتا تھا تو ماں راتوں کو جاگ کر سنبھالتی تھی۔ میں نے مندروں، مسجدوں اور بہت سی زیارت گاہوں پر دیکھا ہے کہ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں اپنے بچے کو موت کے بدلے اپنی زندگی دے کر بھی بچے کی موت روک سکے تو دریغ نہیں کرتی۔ واقعی دنیا میں ماں کا کوئی بدل نہیں۔
خود خالی پیٹ سو کر بھی بچوں کو خالی پیٹ سونے نہیں دیتی۔ ایک شخص پوری زندگی اپنے بچوں کے اخراجات اور خواہشات پوری کرنے میں صرف کرتا ہے۔ جب وہ مر جاتا ہے تو بیویاں خوف سے دور بیٹھتی ہیں، مال و زر کی تقسیم کی فکر میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور میت کے قبرستان میں جاتے ہی گھر میں موجود اس کے کپڑے، بستر اور سامان باہر پھینکوا دیتی ہیں، جبکہ ماں بچے کو چومتی ہے، روتی ہے اور اس کی ان اشیاء کو اپنے لعل کی نشانی سمجھ کر اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔
ماں کے لیے بچہ زندہ ہو یا مردہ، پیار اور محبت کا پیمانہ ایک سا ہوتا ہے۔ اگر شوہر کی مجبوری یا نوکری نہ ہو تو بیوی کھانا دینا بھی مناسب نہیں سمجھتی، لیکن ماں وہ ہے کہ بچہ کسی بھی حال میں ہو، وہ اپنے منہ کا نوالہ بھی بچے کو دے دیتی ہے۔
ماں بیٹی کا رشتہ بھی ایک عظیم رشتہ ہوتا ہے۔ بیٹی کے لیے ماں کا گھر سرمایۂ کل ہوتا ہے۔ شادی کے بعد ماں کا گھر جنت نظیر وادی کی طرح نظر آتا ہے۔ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بیٹی کی تو کائنات ہی رخصت ہو جاتی ہے، کیونکہ اب اس گھر کی آرزو، محبت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ گھر بھائیوں اور بھابیوں کی جاگیر بن جاتا ہے۔ اس گھر کی تنہائیاں ماں کی محبت، یاد، تڑپ اور لگن، آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری کر دیتی ہیں۔
ان پتھر دل لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دیارِ غیر میں روشن مستقبل اور حصولِ معاش کی خاطر ماں کو ہزاروں میل مسافت کے ہجر و فراق کی راہوں پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ مائیں ان کے فراق میں اپنے اندر ہی اندر تڑپتی آگ میں جلتی رہتی ہیں۔ یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ انہوں نے سب سے زیادہ وقت ماں کی آغوش میں ہی گزارا ہے اور ایک ماں کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین اس کے بچے ہوتے ہیں۔
وہ مال و زر، دنیا کی عیش و عشرت اگر ماں کے قدموں میں ڈال دیں تو وہ ماں یہ سب چیزیں اپنے بچے کے لیے قربان کر دے گی۔ ماں کی محبت ایک ایسی محبت ہے کہ ترازو میں ایک طرف مال و دولت رکھ دو اور دوسری طرف بچہ، تو مال و دولت چھوڑ کر اپنے بچے کو قبول کرے گی۔
اس موجودہ دور میں اولادیں اپنے والدین کو رد کر دیتی ہیں اور مال و عیش و عشرت کو قبول کر لیتی ہیں۔ تمہارے گھر سے جانے سے لے کر واپسی تک تمہاری ماں تمہارے لیے خیر و عافیت کی دعائیں کرتی رہتی ہے اور تمہاری فکر میں دن رات گزار دیتی ہے۔ بچپن میں تمہاری تندرستی کی فکر، جوانی میں تمہارے اچھے مستقبل کی فکر، تمہاری شادی کی فکر، بڑھاپے میں تمہارے بچوں کی فکر، تمہارے اہل و عیال کی فکر، تمہاری ماں کو لگی رہتی ہے۔
تم کسی تکلیف یا مشکل میں ہو تو تمہاری تکلیف براہِ راست تمہاری ماں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماں ایسا تعلق و ناطہ ہے کہ اس کا بچہ معذور ہو، بدصورت ہو یا کالا ہو، لیکن اس کے لیے وہ چاند، ہیر اور پھول ہوتا ہے۔ بچوں کی محرومیوں کو بھی ماں اپنے دامنِ محبت میں چھپا لیتی ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنی ماؤں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔ ماں کی قبروں پر کھڑے ہو کر انسان کو وہ لمحات یاد آتے ہیں جب وہ ماں کی آغوش میں رہا کرتا تھا اور اس کی پیار بھری آنکھیں، اس کی باتیں، نرمیاں، سختیاں، جھڑکیں، ماریں اور وہ یادوں کی کتاب جو اپنے اوراق بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔
دل کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو کر جب کتابِ ماں اور یادِ ماں کو پڑھتی ہیں تو دل سے محبت و غم کے ملاپ سے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ انسان اتنا بے حس اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ وہ ماں کے پیار، محبت اور چاہت کو بھلا دیتا ہے۔ لیکن ماں کے اس پیار و محبت، شفقت اور یاد کی تڑپ ان لوگوں سے پوچھو جو ماں کی محبت سے محروم ہیں۔
خدارا! جن کی مائیں زندہ ہیں وہ اپنی ماؤں کی خدمت کریں۔ یہ وقت لوٹ کر آنے والا نہیں۔ جن کی مائیں ناراض ہیں انہیں مناؤ، کیونکہ مائیں بچوں سے کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔ اللہ نے دنیا میں سب سے حسین و جمیل انعام ماں کی صورت میں دیا ہے۔ آسمان کا بہترین اور آخری تحفہ ماں ہے۔
مرتے دم تک اس واقعے کو یاد رکھیں: جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰؑ اکثر اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہِ طور پر جایا کرتے تھے۔ وہیں سے انہیں ہدایات اور احکام ملتے تھے۔ اسی دوران حضرت موسیٰؑ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ وہ کئی دن مغموم رہے۔ آخر ایک دن جب موسیٰؑ کوہِ طور پر پہنچے تو ندا آئی: موسیٰؑ! جوتے اتار کر اوپر آنا۔ موسیٰؑ نے حیرانگی سے کہا: اے باری تعالیٰ! میں تو روزانہ جوتوں سمیت یہاں آتا رہتا ہوں۔ پھر آواز آئی: موسیٰؑ! جوتے اتار کر اوپر آنا، اب تمہارے لیے دعا کرنے والی ماں زندہ نہیں ہے۔ یہ ہے ماں کا رتبہ۔
اس کی دل سے قدر کرو۔ یہ ایک خوشبو ہے جس سے جہاں مہک اٹھتا ہے۔ یہ یاد رکھو، زندگی ایک ستارہ ہے جو تھوڑی دیر کے لیے افق پر چمکتا ہے اور آنِ واحد میں آکاش کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے، جیسے کبھی ابھرا بھی نہ ہو، چمکا بھی نہ ہو۔ ماں کے بغیر زندگی ویران ہے۔ کل قیامت کے دن بھی انسان کو ماں کے نام و پہچان سے ہی پکارا جائے گا۔
اگر انسان چاہے اور اپنے آپ کو غم، پریشانی، غریبی یا موت سے نہ بچا سکے تو اسے اپنے خودمختار ہونے کے بیان سے توبہ کرنی چاہیے۔ اپنے خطاکار یا گناہ گار ہونے کا احساس ہونا ہی توبہ کی ابتدا ہے۔ تم اس احساس کی خوبصورتی کو ایک بار محسوس تو کرو۔
یہ سن کر اس کی شریکِ حیات کے دل میں درد کی لہریں اٹھیں۔ اس وقت اسے بھی اپنی ماں یاد آ گئی اور آنکھوں میں ڈھیر سارا نمکین پانی جمع ہو کر چھلکنے کو بے تاب ہو گیا۔ وہ بھی کچھ اپنی ماں کے بارے میں کہنا چاہ رہی تھی مگر رونے سے اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی۔ اس نے جلدی سے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں اور بہ مشکل تمام خود کو گھسیٹتی ہوئی دروازے کے ساتھ لگ گئی۔ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اب وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔
ہر چیز، ہر احساس کو محسوس کرنے کے لیے دل میں امنگ اور ہاتھوں میں چند خوبصورت لمحے قید ہونے چاہئیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ماں کا پیار

شبیر احمد میر

ایک پل کو کہکشاں کی طرح جگمگاتی آنکھیں جانے کیا سوچ کر الجھن میں پڑ گئیں اور پھر جیسے ان جگمگاتی آنکھوں میں قبرستان کے اندھیرے در آئے۔ ماں کی تصویر اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگی اور آنکھیں بھر آئیں۔ یہ دل کے رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔ جب ہی تو آج برسوں بعد اس پر ٹوٹنے والے اس سانحے نے اسے بے چین و بے قرار کر ڈالا۔ جب اس کی ماں ہمیشہ کے لیے اس سے رخصت ہو گئی تو اسے بے سکون اور مضطرب کر دیا۔ اس وقت یادوں کے بھنور میں ڈوبتے ابھرتے ہوئے اپنی ماں کے بارے میں سوچنے لگا۔ گہری سوچ میں ڈوبتے ہوئے اس کی شریکِ حیات اس کے قریب آ کر اس کی پیشانی پر سے بالوں کو بہت نرمی سے پرے ہٹاتے ہوئے، اس کی پیشانی کا درجۂ حرارت معلوم کرتے ہوئے کہا:
تمہاری آنکھوں میں جب بھی دیکھتی ہوں تو پتہ ہے تمہاری آنکھیں کیا کہتی ہیں۔ انہیں میری ضرورت ہے، پل دو پل کے لیے نہیں، تمام عمر کے لیے۔ تمہیں میری ضرورت ہے۔ اگر تم اپنی آنکھیں چھپا بھی لوگے تو مجھے اس کی خبر ہو جائے گی کہ ان آنکھوں میں کیا خواہش ہے اور تمہارے دل میں کیا ہے۔ تم مر کر بھی میرے ساتھ گزارنا چاہتے ہو، ایسا تمہاری آنکھیں کہہ رہی ہیں۔ تمہاری بے چینی میں سمجھ سکتی ہوں۔
اس نے آنسوؤں کا گولہ حلق سے اتارتے ہوئے، اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: ایک بات یاد رکھنا، تم اپنے لیے نہ سہی لیکن میرے لیے اتنے ضروری ہو جتنی کہ میرے لیے یہ سانسیں۔ ماضی کی یادیں میرے نزدیک اچھی یادوں کو دہرانے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ معلوم نہیں یہ جانے والے لوٹ کر کیوں نہیں آتے۔ ان کا جسمانی وجود نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، بس ان کے لمس کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔ جب ہم حقیقت کی نگری میں لوٹتے ہیں تو وہ ہاتھوں سے جیسے پھسل جاتے ہیں۔
یہ ماں بھی کیا چیز ہے۔ عمر کے ہر حصے میں اس کی کتنی ضرورت ہوتی ہے۔ بھلے خود بوڑھے ہو جاؤ، تب بھی جی چاہتا ہے کہ ان کی گود میں سر رکھ کر اپنے غم ہلکے ہو جائیں۔ مائیں اولاد کے لیے مہربان ہوتی ہیں اور اولاد کی خوشی کی خاطر جھک جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کا رزق پہلے اس کی ماں کے سینے میں اتار دیا، اس کے لیے دودھ کی نہریں جاری کر دیں۔ ہر کوئی ماں کے لمس کو زندگی بھر ڈھونڈتا رہتا ہے۔
ماں رنگ و رونق اور روشنی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتی تو اس دنیا میں ہر طرف خاک اڑتی ہوئی دکھائی دیتی۔ پتہ نہیں آج کا نوجوان طبقہ بدلنے کی دوڑ میں اتنا محو کیوں ہے کہ وہ اپنے خونی رشتوں اور محبتوں کو قتل کر کے اپنے قدموں تلے روند رہا ہے۔ ہر شخص اپنی کلاس بدلنے کی جستجو میں اپنی سب سے قیمتی چیز، اپنے ماں باپ کو چھوڑتا جا رہا ہے۔ یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کے لیے اولاد سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے، جس کے آگے طاقتور شخص بھی ہار جاتا ہے۔
ماں کی محبت اور آغوشِ رحمت و راحت کا احساس اس وقت دل میں بیدار ہوتا ہے جب ماں دنیا سے رخصت ہوتی ہے۔ تو اس کی یادیں دل میں تڑپ و لرزہ طاری کر دیتی ہیں۔ اولاد کا لڑکپن، بچپن، ایک ایک لمحہ ماں کی آنکھوں میں اور اس کی انگلیوں کے پوروں پر ہوتا ہے۔ ماں پیار، محبت، چاہت، ایثار و قربانی کا نام ہے۔ دنیا میں سب سے عظیم ترین اور حسین و جمیل رشتہ بھی ماں کا ہے۔
ماں زمانے کی گرم ہواؤں کا سامنا کرتی ہے لیکن اپنے بچوں کو ٹھنڈی ہواؤں میں رکھتی ہے۔ ماں کے وجود سے ہی کائنات میں انسانیت کے رنگ بھرے ہیں۔ آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ماں دنیا میں جنت کا روپ ہے اور اس کے چلے جانے کے بعد میری دنیا کی تمام چاہتیں اور محبتیں چلی گئی ہیں۔ واقعی ماں کی محبت میں بچوں کے لیے ظاہری و دنیاوی لحاظ سے تفریق و تقسیم نہیں ہوتی اور وہ تمام بچوں سے حقیقی اور یکسانیت کی بنیاد پر پیار کرتی ہے۔
پیدائش سے لے کر لڑکپن، بچپن اور جوانی تک سب سے زیادہ قریب تر وقت جس شخصیت کے ساتھ میں نے گزارا ہے وہ میری ماں تھی۔ آج میں یہ محسوس کر رہا ہوں کہ ماں کے پیار و محبت سے محروم بچے پوری زندگی محرومیت کا شکار رہتے ہیں اور ماں کے پیار کے سائے کو میری طرح تلاش کرتے رہتے ہیں۔
میں نے کہاں کہاں نہیں دیکھا کہ اگر شوہر دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو ماں زمانے کی سختیاں برداشت کر کے، لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے، فیکٹریوں میں ملازمت کر کے، بچوں کے لیے دشوار ترین راستوں پر چل کر ان کی تربیت کرتی ہے کہ میرا بچہ بڑا ہو کر ایک انسان بن جائے، وہ بھی بغیر لالچ کے۔
ماں کی آنکھوں میں اپنے بچے کی شرارتیں، مسکراہٹیں، اس کا بچپن، جوانی، حال اور ماضی، اندھیرے میں روشنی کی طرح ہوتا ہے۔ لیکن ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جاتا ہے۔ یہ تمام رشتے ناطے، محلہ داری اور احساسات ختم ہو جاتے ہیں اور یہ احساس ہوتا ہے کہ سارے رشتے ناطے ماں کی زندگی کی رونقوں سے وابستہ تھے اور ماں کی یہی یادیں دل تڑپا دیتی ہیں۔
اس وقت مجھے اپنے اسکول کا وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب میں چلتے چلتے لڑکھڑاتا تھا تو وہ دوڑ کر مجھے سنبھال لیتی تھی۔ دور و نزدیک میرے چاروں طرف وہی رہتی تھی۔ صبح جب تک ماں میری پیشانی پر بوسہ نہیں دیتی تھی، میں بستر سے نہیں اٹھتا تھا۔ پھر وہ مجھے ناشتہ کراتی، اسکول کی تیاری کراتی، اسکول تک پہنچاتی اور اسکول سے واپسی پر راستوں کو دیکھا کرتی تھی۔ وہ تڑپ، وہ انتظار کہ میرا لعل کب گھر لوٹ آئے گا۔
جب میں بیمار ہوتا تھا تو ماں راتوں کو جاگ کر سنبھالتی تھی۔ میں نے مندروں، مسجدوں اور بہت سی زیارت گاہوں پر دیکھا ہے کہ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں اپنے بچے کو موت کے بدلے اپنی زندگی دے کر بھی بچے کی موت روک سکے تو دریغ نہیں کرتی۔ واقعی دنیا میں ماں کا کوئی بدل نہیں۔
خود خالی پیٹ سو کر بھی بچوں کو خالی پیٹ سونے نہیں دیتی۔ ایک شخص پوری زندگی اپنے بچوں کے اخراجات اور خواہشات پوری کرنے میں صرف کرتا ہے۔ جب وہ مر جاتا ہے تو بیویاں خوف سے دور بیٹھتی ہیں، مال و زر کی تقسیم کی فکر میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور میت کے قبرستان میں جاتے ہی گھر میں موجود اس کے کپڑے، بستر اور سامان باہر پھینکوا دیتی ہیں، جبکہ ماں بچے کو چومتی ہے، روتی ہے اور اس کی ان اشیاء کو اپنے لعل کی نشانی سمجھ کر اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔
ماں کے لیے بچہ زندہ ہو یا مردہ، پیار اور محبت کا پیمانہ ایک سا ہوتا ہے۔ اگر شوہر کی مجبوری یا نوکری نہ ہو تو بیوی کھانا دینا بھی مناسب نہیں سمجھتی، لیکن ماں وہ ہے کہ بچہ کسی بھی حال میں ہو، وہ اپنے منہ کا نوالہ بھی بچے کو دے دیتی ہے۔
ماں بیٹی کا رشتہ بھی ایک عظیم رشتہ ہوتا ہے۔ بیٹی کے لیے ماں کا گھر سرمایۂ کل ہوتا ہے۔ شادی کے بعد ماں کا گھر جنت نظیر وادی کی طرح نظر آتا ہے۔ ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بیٹی کی تو کائنات ہی رخصت ہو جاتی ہے، کیونکہ اب اس گھر کی آرزو، محبت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ گھر بھائیوں اور بھابیوں کی جاگیر بن جاتا ہے۔ اس گھر کی تنہائیاں ماں کی محبت، یاد، تڑپ اور لگن، آنسوؤں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری کر دیتی ہیں۔
ان پتھر دل لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ دیارِ غیر میں روشن مستقبل اور حصولِ معاش کی خاطر ماں کو ہزاروں میل مسافت کے ہجر و فراق کی راہوں پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ مائیں ان کے فراق میں اپنے اندر ہی اندر تڑپتی آگ میں جلتی رہتی ہیں۔ یہ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ انہوں نے سب سے زیادہ وقت ماں کی آغوش میں ہی گزارا ہے اور ایک ماں کو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ترین اس کے بچے ہوتے ہیں۔
وہ مال و زر، دنیا کی عیش و عشرت اگر ماں کے قدموں میں ڈال دیں تو وہ ماں یہ سب چیزیں اپنے بچے کے لیے قربان کر دے گی۔ ماں کی محبت ایک ایسی محبت ہے کہ ترازو میں ایک طرف مال و دولت رکھ دو اور دوسری طرف بچہ، تو مال و دولت چھوڑ کر اپنے بچے کو قبول کرے گی۔
اس موجودہ دور میں اولادیں اپنے والدین کو رد کر دیتی ہیں اور مال و عیش و عشرت کو قبول کر لیتی ہیں۔ تمہارے گھر سے جانے سے لے کر واپسی تک تمہاری ماں تمہارے لیے خیر و عافیت کی دعائیں کرتی رہتی ہے اور تمہاری فکر میں دن رات گزار دیتی ہے۔ بچپن میں تمہاری تندرستی کی فکر، جوانی میں تمہارے اچھے مستقبل کی فکر، تمہاری شادی کی فکر، بڑھاپے میں تمہارے بچوں کی فکر، تمہارے اہل و عیال کی فکر، تمہاری ماں کو لگی رہتی ہے۔
تم کسی تکلیف یا مشکل میں ہو تو تمہاری تکلیف براہِ راست تمہاری ماں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماں ایسا تعلق و ناطہ ہے کہ اس کا بچہ معذور ہو، بدصورت ہو یا کالا ہو، لیکن اس کے لیے وہ چاند، ہیر اور پھول ہوتا ہے۔ بچوں کی محرومیوں کو بھی ماں اپنے دامنِ محبت میں چھپا لیتی ہے۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ماں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنی ماؤں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔ ماں کی قبروں پر کھڑے ہو کر انسان کو وہ لمحات یاد آتے ہیں جب وہ ماں کی آغوش میں رہا کرتا تھا اور اس کی پیار بھری آنکھیں، اس کی باتیں، نرمیاں، سختیاں، جھڑکیں، ماریں اور وہ یادوں کی کتاب جو اپنے اوراق بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔
دل کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو کر جب کتابِ ماں اور یادِ ماں کو پڑھتی ہیں تو دل سے محبت و غم کے ملاپ سے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ انسان اتنا بے حس اور دنیا کی رنگینیوں میں اتنا گم ہو چکا ہے کہ وہ ماں کے پیار، محبت اور چاہت کو بھلا دیتا ہے۔ لیکن ماں کے اس پیار و محبت، شفقت اور یاد کی تڑپ ان لوگوں سے پوچھو جو ماں کی محبت سے محروم ہیں۔
خدارا! جن کی مائیں زندہ ہیں وہ اپنی ماؤں کی خدمت کریں۔ یہ وقت لوٹ کر آنے والا نہیں۔ جن کی مائیں ناراض ہیں انہیں مناؤ، کیونکہ مائیں بچوں سے کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔ اللہ نے دنیا میں سب سے حسین و جمیل انعام ماں کی صورت میں دیا ہے۔ آسمان کا بہترین اور آخری تحفہ ماں ہے۔
مرتے دم تک اس واقعے کو یاد رکھیں: جلیل القدر پیغمبر حضرت موسیٰؑ اکثر اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے کوہِ طور پر جایا کرتے تھے۔ وہیں سے انہیں ہدایات اور احکام ملتے تھے۔ اسی دوران حضرت موسیٰؑ کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ وہ کئی دن مغموم رہے۔ آخر ایک دن جب موسیٰؑ کوہِ طور پر پہنچے تو ندا آئی: موسیٰؑ! جوتے اتار کر اوپر آنا۔ موسیٰؑ نے حیرانگی سے کہا: اے باری تعالیٰ! میں تو روزانہ جوتوں سمیت یہاں آتا رہتا ہوں۔ پھر آواز آئی: موسیٰؑ! جوتے اتار کر اوپر آنا، اب تمہارے لیے دعا کرنے والی ماں زندہ نہیں ہے۔ یہ ہے ماں کا رتبہ۔
اس کی دل سے قدر کرو۔ یہ ایک خوشبو ہے جس سے جہاں مہک اٹھتا ہے۔ یہ یاد رکھو، زندگی ایک ستارہ ہے جو تھوڑی دیر کے لیے افق پر چمکتا ہے اور آنِ واحد میں آکاش کی وسعتوں میں گم ہو جاتا ہے، جیسے کبھی ابھرا بھی نہ ہو، چمکا بھی نہ ہو۔ ماں کے بغیر زندگی ویران ہے۔ کل قیامت کے دن بھی انسان کو ماں کے نام و پہچان سے ہی پکارا جائے گا۔
اگر انسان چاہے اور اپنے آپ کو غم، پریشانی، غریبی یا موت سے نہ بچا سکے تو اسے اپنے خودمختار ہونے کے بیان سے توبہ کرنی چاہیے۔ اپنے خطاکار یا گناہ گار ہونے کا احساس ہونا ہی توبہ کی ابتدا ہے۔ تم اس احساس کی خوبصورتی کو ایک بار محسوس تو کرو۔
یہ سن کر اس کی شریکِ حیات کے دل میں درد کی لہریں اٹھیں۔ اس وقت اسے بھی اپنی ماں یاد آ گئی اور آنکھوں میں ڈھیر سارا نمکین پانی جمع ہو کر چھلکنے کو بے تاب ہو گیا۔ وہ بھی کچھ اپنی ماں کے بارے میں کہنا چاہ رہی تھی مگر رونے سے اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی۔ اس نے جلدی سے ہتھیلیوں سے آنکھیں رگڑیں اور بہ مشکل تمام خود کو گھسیٹتی ہوئی دروازے کے ساتھ لگ گئی۔ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اب وہ اپنے کمرے میں آ گئی۔
ہر چیز، ہر احساس کو محسوس کرنے کے لیے دل میں امنگ اور ہاتھوں میں چند خوبصورت لمحے قید ہونے چاہئیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں