امریکی چودھراہٹ کو ایران کا چیلنج

سراج نقوی

آجکل درباری یا گودی میڈیا کی عنایتیں مودی ،بی جے پی یا آر ایس ایس سے زیادہ ٹرمپ،امریکہ اور نیتن یاہو و اسرائیل کے تئیں زیادہ نظر آتی ہیں۔ان عنایات نے اس حقیقت کو بھی فراموش کر دیا ہے کہ ٹرمپ بار بار اور شائد ہمارے وزیر اعظم کو چڑانے کے لیے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مودی مجھ سے زیادہ ٹیرف لگانے کے سبب ناراض ہیں۔بہرحال ہندوتوادی عناصر کی اس امریکہ اور اسرائیل نوازی کا سبب خواہ کچھ بھی ہو لیکن دور اندیش عناصر مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کو امریکی چودھراہٹ کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک ’اسٹمسن سینٹر‘ اور’اٹلانٹک کونسل‘ وغیرہ نے اس حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ خو امریکہ میں بھی ایک حلقہ ایسا ہے کہ جو مانتا ہے کہ ایران سے امریکہ اور اسرائیل کا راست ٹکرائو خطے میں امریکی چودھراہٹ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔اسٹمسن سنٹر کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں علاقائی توازن کو غیر مستحکم کرینگی اور اس کے نتیجے میں خطے میں ان کا دبدبہ کم ہو سکتا ہے۔امریکہ کی خارجہ پالیسی پر نگاہ رکھنے والی کونسل،اسرائیل کے تھنک ٹینک سمیت ایسے بہت سے مغربی تجزیہ کار ہیں کہ جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایران کو براہ راست چیلنج کرنے کے بعد اب اگر ٹرمپ ایران پر حملے کی حماقت کرتے ہیں تو اس کے شدید نقصانات امریکہ کو بھی بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔اس لیے کہ ایران بہرحال یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی قیمت پر امریکی دبائو کے سامنے نہیں جھکیگا اور اگر اس پر حملہ کیا گیا تو خطّے میں امریکی مفادات کو غیر معمولی جنگی صلاحیت کے ساتھ نشانہ بنایاجائے گا۔ ایران کی اس دھمکی کی بانگی امریکہ اسرائیل کے ساتھ ایران کی ۱۲ روزہ جنگ میں دیکھ بھی چکا ہے کہ جب ایران نے امریکہ کی مداخلت کی کوششوں کو قطر اور اعراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر امریکہ کو حیران کر دیا تھا۔
یہی سبب ہے کہ وہ اسرائیل جو ایران کے وجود کو ختم کرنے کے لیے برسوں سے بے چین ہے اور وہ مسلم ممالک جو کسی نہ کسی سبب سے ایران کے خلاف جذبہ منافقت کے شکار ہیں وہ بھی امریکہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ فی الحال امریکہ ایران پر حملہ نہ کرے بلکہ ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کی سمت میں کام کرے۔چند روز قبل ہی ایک امریکی ٹی وی چینل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ابھی ایران پر حملہ نہ کرے اس لیے کہ ایسا کرنے کا نتیجہ ایرانی قوم کے مزید اتحاد کی شکل میں سامنے آسکتا ہے،اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ جتنا جتنا ایرانی عوام کا اتحاد مضبوط ہوگا اتنا ہی امریکہ اور سرائیل کی سازشوں کی ناکامی یقینی ہوتی جائے گی۔ایران میں اپنے زر خرید عناصر کے تختہ پلٹ کی کوشش کا حشر امریکہ اور اس کے سارے اتحادی دیکھ ہی رہے ہیں ،اور اب انھیں یہ احساس بھی ہونے لگا ہے کہ ان کی سازشوں سے ایرانی حکومت زرا بھی کمزور نہیں ہوئی ہے۔حال ہی میں ایران میں ہوئے مظاہروں پر بات کرتے ہوئے برطانوی میڈیا نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ تمام خراب حالات کے باوجود نہ تو ایران کی حکومت کمزور ہوئی ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کے انتشار کے اشارے ہی ملے ہیں۔یہ صورتحال ظاہر ہے امریکہ اور اسرائیل ہی نہیں بلکہ پوری مغربی دنیا کے لیے اس لیے مایوس کن ہے کہ یہ سب طاقتیں ایران میں اسلامی نظام کی مضبوطی سے خوفزدہ ہیں اور اسے اپنے موجودہ نظام یا ’ورلڈ آرڈر‘ کے لیے بھی خطرہ سمجھتی ہیں۔ان خدشات میں مشرق وسطیٰ کے وہ نام نہاد مسلم ممالک بھی مبتلا ہیں کہ جو اپنی مغرب پرستی کے نشے میں اسلامی اقدار کو پامال کرکے اسے اپنی ترقی پسندی پر محمول کر رہے ہیں ۔
ان تمام حالات کے درمیان ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران جو واقعات پیش آئے انھوں نے بھی امریکہ اور اہلِ یوروپ و اسرائیل کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور انھیں یہ احساس دلا دیا ہے کہ ایران ’منھ کا نوالہ ‘بہرحال نہیں ہے۔ایران کے خلاف امریکہ ،یوروپ اور اسرائیل کی تازہ سازشوں کی ناکامی نے ہی دراصل امریکی چودھراہٹ کے لیے خطرے بڑھا دیے ہیں۔امریکہ،یوروپ اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں چودھراہٹ کا بنیادی سبب ان ممالک کی سائینس و ٹکنالوجی کے میدان میں برتری ہی ہے،جبکہ ایران کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسلم ممالک اپنی دولت کے زعم میں اس ٹکنالوجی کو خریدنے کا بھرم پال کر امریکہ کی جیبیں بھرتے رہے ہیں۔امریکی فوجی اڈے بھی دولت کے بل پر دفاعی نظام خریدنے کی غیر دانشمندانہ سوچ کا ہی ثبوت ہیں۔لیکن اب ایران کے تعلق سے پیش آئے تازہ واقعات نے امریکہ ،اسرائیل اور یوروپ کی اس تکنیکی برتری کے غرور کو بھی خاک میں ملا دیا ہے کہ جس کے بل پر وہ اس خطے کی حکومتوں کو غلام بنائے ہوئے ہیں۔
ایران میں مہنگائی کے بہانے ہوئے تازہ ترین احتجاجی مظاہروں کے دوران امریکہ یا اسرائیل اس غلط فہمی کے شکار تھے کہ اگر ایران ان مظاہروں کو دنیا کے سامنے لانے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو معطل بھی کر دیتا ہے تب بھی ایلون مسک کی ’اسٹار لنک‘ انٹر نیٹ سرو س پر قابوپانا اس کے لیے ناممکن ہوگا اور امریکہ اس کے ذریعہ ایران کے داخلی حالات کو اپنے سازشی منصوبے کے تحت جس طرح چاہیگا پیش کرکے ایران کو کمزور کرتا رہیگا۔’اسٹار لنک‘کے تعلق سے ایلون مسک کا یہ دعویٰ قابلِ ذکر ہے کہ ’’اسٹار لنک دنیا بھر میں کوئی ڈیڈ زون نہیں چھوڑیگا‘‘ ایلون مسک کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کا ’اسٹار لنک‘ نظام سب کچھ فیل ہو جانے کی صورت میں بھی کام کرتارہیگا اور اس کے کنیکشنز بر قرار رہینگے۔ان دعووں کے درمیان ہی جب ایران میں احتجاج اورمظاہروں کا سلسلہ تیز ہوا تو ایلون مسک نے اسٹار لنک کی سروس کو فعال کرکے ایران کے سامنے ایک بڑا چیلنج پیش کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی اس خطے میں تکنیکی مداخلت کو کس طرح روکا جائے۔ایلون مسک نے ایران کی دشمنی میں یہ خدمات مفت میں ہی فعال کر دیں۔اس کے نتیجے میں ایران کے ذریعہ ’انٹر نیٹ بلیک آئوٹ‘کے باوجود ایران کے غّدار باغی عناصراور ایران میں سرگرم موساد و سی آئی اے کے ایجنٹ دوبارہ ’اسٹار لنک‘کے ذریعہ انٹر نیٹ سے جڑ کر دنیا بھر میں ایران کے تعلق سے افواہیں پھیلانے میں سرگرم ہو گئے۔لیکن یہ سلسلہ صرف کچھ گھنٹوں تک ہی چل سکا اور ایران نے اپنی تکنیکی مہارت سے اسے بھی جام کر دیا۔بہت سے لوگ ممکن ہے کہ اس معاملے کی اہمیت کو نہ سمجھیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران نے ’اسٹار لنک‘ کے نیٹ ورک کو جام کرکے ایلون مسک کے دعووں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اسٹار لنک پر بھروسہ کرنے والے اور اس کے شئیر کو منافع کا سودا سمجھنے والوں میں بھی گھبراہت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔امریکی ڈرون وغیرہ کو ایرانی ماہرین پہلے ہی ناکارہ بناکر امریکہ کے اس کاروبار کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔اسی طرح ایران نے اسرائیل کے خلاف بارہ روزہ جنگ میں امریکہ کے سب سے اہم جیٹ فائیٹر ’ایف ۳۵‘کو گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔یہ الگ بات کہ امریکہ نے اس کی تردید کی،لیکن ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ امریکہ،اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرح جھوٹے دعوے نہیں کرتا ۔بہرحال ’اسٹار لنک‘کا معاملہ تو ٹکنالوجی کے معاملے میں امریکی برتری کو چیلنج کرنے اور اسے ناکام بنانے کا تازہ ترین واقعہ ہے،اور یہ بھی سچ ہے کہ اس واقعے نے ایلون مسک کو کاروباری اعتبار سے نقصان پہنچانے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔جبکہ دوسری طرف اس کے نتیجے میں ایران کے تعلق سے بہت سے مغربی تجزیہ کاروں کا یہ اندازہ بھی مزید مضبوط ہوا ہے کہ ایران سے راست جنگ میں امریکہ کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہونے کا ہی امکان ہے۔سب جانتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ خواہ کتنا بھی امریکہ کو دوبارہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور بنانے کے دعوے کریں اور اس کے لیے دنیا کے کمزور ممالک کے معدنی و مالی وسائل کو لوٹنے ،کھسوٹنے کی کوشش کریں لیکن اب امریکی معیشت زوال کی سمت جا رہی ہے۔چین کی حکمت عملی اور روس و ایران کی اس سے دوستی نے امریکہ کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔دوسری طرف خود ٹرمپ یہ بھی قبول کر چکے ہیں کہ امریکہ میں صہیونی لابی کمزور ہو رہی ہے۔یعنی اب طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ان حالات میں اگر امریکہ ایران یا ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کی حماقت کرتا بھی ہے تو اس کے نتیجے ایران سے زیادہ خود امریکہ اور اسرائیل کو بھگتنے پر سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ان کی چودھراہٹ کا سورج غروب ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

تازہ ترین خبریں

انڈونیشیا میں 6.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکے

پالو، 16 جون انڈونیشیا کے سولاویسی جزیرے میں منگل کو...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

سرینگر۔ فیضان پنجابی موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے کئی دنوں...

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

امریکی چودھراہٹ کو ایران کا چیلنج

سراج نقوی

آجکل درباری یا گودی میڈیا کی عنایتیں مودی ،بی جے پی یا آر ایس ایس سے زیادہ ٹرمپ،امریکہ اور نیتن یاہو و اسرائیل کے تئیں زیادہ نظر آتی ہیں۔ان عنایات نے اس حقیقت کو بھی فراموش کر دیا ہے کہ ٹرمپ بار بار اور شائد ہمارے وزیر اعظم کو چڑانے کے لیے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مودی مجھ سے زیادہ ٹیرف لگانے کے سبب ناراض ہیں۔بہرحال ہندوتوادی عناصر کی اس امریکہ اور اسرائیل نوازی کا سبب خواہ کچھ بھی ہو لیکن دور اندیش عناصر مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کو امریکی چودھراہٹ کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔امریکی تھنک ٹینک ’اسٹمسن سینٹر‘ اور’اٹلانٹک کونسل‘ وغیرہ نے اس حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ خو امریکہ میں بھی ایک حلقہ ایسا ہے کہ جو مانتا ہے کہ ایران سے امریکہ اور اسرائیل کا راست ٹکرائو خطے میں امریکی چودھراہٹ کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔اسٹمسن سنٹر کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تعلق سے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں علاقائی توازن کو غیر مستحکم کرینگی اور اس کے نتیجے میں خطے میں ان کا دبدبہ کم ہو سکتا ہے۔امریکہ کی خارجہ پالیسی پر نگاہ رکھنے والی کونسل،اسرائیل کے تھنک ٹینک سمیت ایسے بہت سے مغربی تجزیہ کار ہیں کہ جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایران کو براہ راست چیلنج کرنے کے بعد اب اگر ٹرمپ ایران پر حملے کی حماقت کرتے ہیں تو اس کے شدید نقصانات امریکہ کو بھی بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔اس لیے کہ ایران بہرحال یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی قیمت پر امریکی دبائو کے سامنے نہیں جھکیگا اور اگر اس پر حملہ کیا گیا تو خطّے میں امریکی مفادات کو غیر معمولی جنگی صلاحیت کے ساتھ نشانہ بنایاجائے گا۔ ایران کی اس دھمکی کی بانگی امریکہ اسرائیل کے ساتھ ایران کی ۱۲ روزہ جنگ میں دیکھ بھی چکا ہے کہ جب ایران نے امریکہ کی مداخلت کی کوششوں کو قطر اور اعراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر امریکہ کو حیران کر دیا تھا۔
یہی سبب ہے کہ وہ اسرائیل جو ایران کے وجود کو ختم کرنے کے لیے برسوں سے بے چین ہے اور وہ مسلم ممالک جو کسی نہ کسی سبب سے ایران کے خلاف جذبہ منافقت کے شکار ہیں وہ بھی امریکہ سے یہ کہہ رہے ہیں کہ فی الحال امریکہ ایران پر حملہ نہ کرے بلکہ ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کی سمت میں کام کرے۔چند روز قبل ہی ایک امریکی ٹی وی چینل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ابھی ایران پر حملہ نہ کرے اس لیے کہ ایسا کرنے کا نتیجہ ایرانی قوم کے مزید اتحاد کی شکل میں سامنے آسکتا ہے،اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ جتنا جتنا ایرانی عوام کا اتحاد مضبوط ہوگا اتنا ہی امریکہ اور سرائیل کی سازشوں کی ناکامی یقینی ہوتی جائے گی۔ایران میں اپنے زر خرید عناصر کے تختہ پلٹ کی کوشش کا حشر امریکہ اور اس کے سارے اتحادی دیکھ ہی رہے ہیں ،اور اب انھیں یہ احساس بھی ہونے لگا ہے کہ ان کی سازشوں سے ایرانی حکومت زرا بھی کمزور نہیں ہوئی ہے۔حال ہی میں ایران میں ہوئے مظاہروں پر بات کرتے ہوئے برطانوی میڈیا نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ تمام خراب حالات کے باوجود نہ تو ایران کی حکومت کمزور ہوئی ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کے انتشار کے اشارے ہی ملے ہیں۔یہ صورتحال ظاہر ہے امریکہ اور اسرائیل ہی نہیں بلکہ پوری مغربی دنیا کے لیے اس لیے مایوس کن ہے کہ یہ سب طاقتیں ایران میں اسلامی نظام کی مضبوطی سے خوفزدہ ہیں اور اسے اپنے موجودہ نظام یا ’ورلڈ آرڈر‘ کے لیے بھی خطرہ سمجھتی ہیں۔ان خدشات میں مشرق وسطیٰ کے وہ نام نہاد مسلم ممالک بھی مبتلا ہیں کہ جو اپنی مغرب پرستی کے نشے میں اسلامی اقدار کو پامال کرکے اسے اپنی ترقی پسندی پر محمول کر رہے ہیں ۔
ان تمام حالات کے درمیان ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران جو واقعات پیش آئے انھوں نے بھی امریکہ اور اہلِ یوروپ و اسرائیل کو حیرت زدہ کر دیا ہے اور انھیں یہ احساس دلا دیا ہے کہ ایران ’منھ کا نوالہ ‘بہرحال نہیں ہے۔ایران کے خلاف امریکہ ،یوروپ اور اسرائیل کی تازہ سازشوں کی ناکامی نے ہی دراصل امریکی چودھراہٹ کے لیے خطرے بڑھا دیے ہیں۔امریکہ،یوروپ اور اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں چودھراہٹ کا بنیادی سبب ان ممالک کی سائینس و ٹکنالوجی کے میدان میں برتری ہی ہے،جبکہ ایران کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسلم ممالک اپنی دولت کے زعم میں اس ٹکنالوجی کو خریدنے کا بھرم پال کر امریکہ کی جیبیں بھرتے رہے ہیں۔امریکی فوجی اڈے بھی دولت کے بل پر دفاعی نظام خریدنے کی غیر دانشمندانہ سوچ کا ہی ثبوت ہیں۔لیکن اب ایران کے تعلق سے پیش آئے تازہ واقعات نے امریکہ ،اسرائیل اور یوروپ کی اس تکنیکی برتری کے غرور کو بھی خاک میں ملا دیا ہے کہ جس کے بل پر وہ اس خطے کی حکومتوں کو غلام بنائے ہوئے ہیں۔
ایران میں مہنگائی کے بہانے ہوئے تازہ ترین احتجاجی مظاہروں کے دوران امریکہ یا اسرائیل اس غلط فہمی کے شکار تھے کہ اگر ایران ان مظاہروں کو دنیا کے سامنے لانے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ خدمات کو معطل بھی کر دیتا ہے تب بھی ایلون مسک کی ’اسٹار لنک‘ انٹر نیٹ سرو س پر قابوپانا اس کے لیے ناممکن ہوگا اور امریکہ اس کے ذریعہ ایران کے داخلی حالات کو اپنے سازشی منصوبے کے تحت جس طرح چاہیگا پیش کرکے ایران کو کمزور کرتا رہیگا۔’اسٹار لنک‘کے تعلق سے ایلون مسک کا یہ دعویٰ قابلِ ذکر ہے کہ ’’اسٹار لنک دنیا بھر میں کوئی ڈیڈ زون نہیں چھوڑیگا‘‘ ایلون مسک کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کا ’اسٹار لنک‘ نظام سب کچھ فیل ہو جانے کی صورت میں بھی کام کرتارہیگا اور اس کے کنیکشنز بر قرار رہینگے۔ان دعووں کے درمیان ہی جب ایران میں احتجاج اورمظاہروں کا سلسلہ تیز ہوا تو ایلون مسک نے اسٹار لنک کی سروس کو فعال کرکے ایران کے سامنے ایک بڑا چیلنج پیش کر دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی اس خطے میں تکنیکی مداخلت کو کس طرح روکا جائے۔ایلون مسک نے ایران کی دشمنی میں یہ خدمات مفت میں ہی فعال کر دیں۔اس کے نتیجے میں ایران کے ذریعہ ’انٹر نیٹ بلیک آئوٹ‘کے باوجود ایران کے غّدار باغی عناصراور ایران میں سرگرم موساد و سی آئی اے کے ایجنٹ دوبارہ ’اسٹار لنک‘کے ذریعہ انٹر نیٹ سے جڑ کر دنیا بھر میں ایران کے تعلق سے افواہیں پھیلانے میں سرگرم ہو گئے۔لیکن یہ سلسلہ صرف کچھ گھنٹوں تک ہی چل سکا اور ایران نے اپنی تکنیکی مہارت سے اسے بھی جام کر دیا۔بہت سے لوگ ممکن ہے کہ اس معاملے کی اہمیت کو نہ سمجھیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران نے ’اسٹار لنک‘ کے نیٹ ورک کو جام کرکے ایلون مسک کے دعووں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اسٹار لنک پر بھروسہ کرنے والے اور اس کے شئیر کو منافع کا سودا سمجھنے والوں میں بھی گھبراہت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔امریکی ڈرون وغیرہ کو ایرانی ماہرین پہلے ہی ناکارہ بناکر امریکہ کے اس کاروبار کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔اسی طرح ایران نے اسرائیل کے خلاف بارہ روزہ جنگ میں امریکہ کے سب سے اہم جیٹ فائیٹر ’ایف ۳۵‘کو گرانے کا دعویٰ بھی کیا۔یہ الگ بات کہ امریکہ نے اس کی تردید کی،لیکن ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ امریکہ،اسرائیل اور مغربی ممالک کی طرح جھوٹے دعوے نہیں کرتا ۔بہرحال ’اسٹار لنک‘کا معاملہ تو ٹکنالوجی کے معاملے میں امریکی برتری کو چیلنج کرنے اور اسے ناکام بنانے کا تازہ ترین واقعہ ہے،اور یہ بھی سچ ہے کہ اس واقعے نے ایلون مسک کو کاروباری اعتبار سے نقصان پہنچانے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔جبکہ دوسری طرف اس کے نتیجے میں ایران کے تعلق سے بہت سے مغربی تجزیہ کاروں کا یہ اندازہ بھی مزید مضبوط ہوا ہے کہ ایران سے راست جنگ میں امریکہ کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہونے کا ہی امکان ہے۔سب جانتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ خواہ کتنا بھی امریکہ کو دوبارہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور بنانے کے دعوے کریں اور اس کے لیے دنیا کے کمزور ممالک کے معدنی و مالی وسائل کو لوٹنے ،کھسوٹنے کی کوشش کریں لیکن اب امریکی معیشت زوال کی سمت جا رہی ہے۔چین کی حکمت عملی اور روس و ایران کی اس سے دوستی نے امریکہ کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔دوسری طرف خود ٹرمپ یہ بھی قبول کر چکے ہیں کہ امریکہ میں صہیونی لابی کمزور ہو رہی ہے۔یعنی اب طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔ان حالات میں اگر امریکہ ایران یا ایران کی موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کی حماقت کرتا بھی ہے تو اس کے نتیجے ایران سے زیادہ خود امریکہ اور اسرائیل کو بھگتنے پر سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ان کی چودھراہٹ کا سورج غروب ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں