کشمیر کے کوہساروں، وادیوں، ندیوں، نالوں اور جھیلوں کی گہار

 

 

پیر اقبال رشید

شاعر نے کیا خوب کہا ہے
اگر فردوس بر روے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کشمیر جو کبھی موسم سرما میں قدرت کے حسن کو مکمل طور جھلکاتا تھا، آج ایک تشنہ، بے رنگ اور فکرمند منظر پیش کر رہا ہے۔ برف، جو کبھی کشمیر کی پہچان ہوا کرتی تھی، اب ایک نایاب یاد بن کے رہی گیی ہے۔
جسطرح قدرت نے سال کے ہر موسم کو ایک مقررہ وقت اور ایک خاص مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ ہر موسم اپنی آمد کے ساتھ زندگی کے نظام میں توازن پیدا کرتا رہا ہے۔ جیسےموسمِ بہار تازگی اور نمو کی علامت ہے، موسمِ گرما محنت اور سرگرمی کا پیغام دیتا ہے، موسمِ خزاں سنجیدگی اور احتساب کا موقع فراہم کرتا ہے، اسی طرح موسمِ سرما صبر، ضبط اور قدرتی ذخائر کو محفوظ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی موسمی توازن صدیوں سے انسانی زندگی کو سہارا دیتا آیا ہے۔
مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے کشمیر کے موسمِ سرما پر کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ چلۂ کلاں، جس کی آمد سے پورا خطہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا تھا، اب محض کیلنڈر کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ کبھی کئی کئی فٹ برف سے ڈھکے پہاڑ، آج برہنہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سرد ہوائیں، وہ جماتی ہوئی راتیں اور وہ سفید صبحیں اب ہماری آنکھوں سے اوجھل سی ہیں۔
یہ وہی موسم سرما تھا جو کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند تھا۔ دنیا بھر سے سیاح، کھلاڑی اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد کشمیر کا رخ کرتے تھے۔ سرمائی کھیل، سیاحت اور فلم سازی کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے تھے بلکہ کشمیر کا مثبت تشخص بھی عالمی سطح پر اجاگر ہوتا تھا۔ آج اس شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندان عدمِ یقینی کا شکار ہیں۔
برف محض ایک قدرتی منظر ہی نہیں پیش کرتی بلکہ زندگی کا ذخیرہ تھی۔ یہی برف موسمِ گرما میں پانی بن کر ندی نالوں، جھیلوں اور دریاؤں کو زندہ رکھتی تھی۔ زراعت، آبپاشی، گھریلو استعمال اور پن بجلی کے منصوبے اسی برف کے مرہونِ منت تھے۔ آج جب برف کم ہو رہی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی بحران کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
آج کشمیر کے کوہسار، ندیاں اور جھیلیں گویا انسان سے سوال کر رہی ہیں:
اے ابن آدم! یہ تم نے کیا کیا؟ تم نے ترقی کے نام پر فطرت سے کیوں جنگ چھیڑ دی؟بقول شاعر….
؀دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
یہ سوال محض شاعرانہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور زمینی حقیقت کی عکاسی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، قدرتی وسائل کا بے جا استعمال اور بڑھتا ہوا درجۂ حرارت وہ عوامل ہیں جنہوں نے موسمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انسان نے اپنی وقتی آسائش اور جھوٹی ترقی کی خاطر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آج یہی سوال اٹھتے ہیں کہ برف کیوں نہیں گرتی؟ چلۂ کلاں خشک کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ مگر ان سوالوں کے جواب ہم خود دینے سے گریزاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ماحول کو آلودہ کیا، نباتات و حیوانات کو نقصان پہنچایا اور قدرتی توازن کو بگاڑ دیا۔ فطرت آج ہم سے رحم اور ہوش مندی کی اپیل کر رہی ہے۔
اے انسان یہ وقت محض افسوس کرنے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ درختوں کا تحفظ، نئے جنگلات کی افزائش، آلودگی پر قابو، پانی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور ماحولیاتی شعور کی بیداری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والے برسوں میں چلۂ کلاں صرف کتابوں کے پنوں اور یادوں میں باقی رہ جائے گا۔
کشمیر کی بقا فطرت کے احترام سے جڑی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں ایک بے حس نسل کے طور پر یاد رکھے گی۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

کشمیر کے کوہساروں، وادیوں، ندیوں، نالوں اور جھیلوں کی گہار

 

 

پیر اقبال رشید

شاعر نے کیا خوب کہا ہے
اگر فردوس بر روے زمیں است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کشمیر جو کبھی موسم سرما میں قدرت کے حسن کو مکمل طور جھلکاتا تھا، آج ایک تشنہ، بے رنگ اور فکرمند منظر پیش کر رہا ہے۔ برف، جو کبھی کشمیر کی پہچان ہوا کرتی تھی، اب ایک نایاب یاد بن کے رہی گیی ہے۔
جسطرح قدرت نے سال کے ہر موسم کو ایک مقررہ وقت اور ایک خاص مقصد کے ساتھ تخلیق کیا ہے۔ ہر موسم اپنی آمد کے ساتھ زندگی کے نظام میں توازن پیدا کرتا رہا ہے۔ جیسےموسمِ بہار تازگی اور نمو کی علامت ہے، موسمِ گرما محنت اور سرگرمی کا پیغام دیتا ہے، موسمِ خزاں سنجیدگی اور احتساب کا موقع فراہم کرتا ہے، اسی طرح موسمِ سرما صبر، ضبط اور قدرتی ذخائر کو محفوظ کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی موسمی توازن صدیوں سے انسانی زندگی کو سہارا دیتا آیا ہے۔
مگر بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے کشمیر کے موسمِ سرما پر کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ چلۂ کلاں، جس کی آمد سے پورا خطہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا تھا، اب محض کیلنڈر کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ کبھی کئی کئی فٹ برف سے ڈھکے پہاڑ، آج برہنہ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ سرد ہوائیں، وہ جماتی ہوئی راتیں اور وہ سفید صبحیں اب ہماری آنکھوں سے اوجھل سی ہیں۔
یہ وہی موسم سرما تھا جو کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند تھا۔ دنیا بھر سے سیاح، کھلاڑی اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد کشمیر کا رخ کرتے تھے۔ سرمائی کھیل، سیاحت اور فلم سازی کے ذریعے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے تھے بلکہ کشمیر کا مثبت تشخص بھی عالمی سطح پر اجاگر ہوتا تھا۔ آج اس شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندان عدمِ یقینی کا شکار ہیں۔
برف محض ایک قدرتی منظر ہی نہیں پیش کرتی بلکہ زندگی کا ذخیرہ تھی۔ یہی برف موسمِ گرما میں پانی بن کر ندی نالوں، جھیلوں اور دریاؤں کو زندہ رکھتی تھی۔ زراعت، آبپاشی، گھریلو استعمال اور پن بجلی کے منصوبے اسی برف کے مرہونِ منت تھے۔ آج جب برف کم ہو رہی ہے تو اس کے اثرات براہِ راست خشک سالی، پانی کی قلت اور زرعی بحران کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
آج کشمیر کے کوہسار، ندیاں اور جھیلیں گویا انسان سے سوال کر رہی ہیں:
اے ابن آدم! یہ تم نے کیا کیا؟ تم نے ترقی کے نام پر فطرت سے کیوں جنگ چھیڑ دی؟بقول شاعر….
؀دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
یہ سوال محض شاعرانہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور زمینی حقیقت کی عکاسی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، قدرتی وسائل کا بے جا استعمال اور بڑھتا ہوا درجۂ حرارت وہ عوامل ہیں جنہوں نے موسمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انسان نے اپنی وقتی آسائش اور جھوٹی ترقی کی خاطر آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
آج یہی سوال اٹھتے ہیں کہ برف کیوں نہیں گرتی؟ چلۂ کلاں خشک کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ مگر ان سوالوں کے جواب ہم خود دینے سے گریزاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ماحول کو آلودہ کیا، نباتات و حیوانات کو نقصان پہنچایا اور قدرتی توازن کو بگاڑ دیا۔ فطرت آج ہم سے رحم اور ہوش مندی کی اپیل کر رہی ہے۔
اے انسان یہ وقت محض افسوس کرنے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ درختوں کا تحفظ، نئے جنگلات کی افزائش، آلودگی پر قابو، پانی کے وسائل کا دانشمندانہ استعمال اور ماحولیاتی شعور کی بیداری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر آج بھی ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والے برسوں میں چلۂ کلاں صرف کتابوں کے پنوں اور یادوں میں باقی رہ جائے گا۔
کشمیر کی بقا فطرت کے احترام سے جڑی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں ایک بے حس نسل کے طور پر یاد رکھے گی۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں