شیخ افلاق حسین
لوٹ ہی جاؤں گا اب اپنی دنیا میں
بہت کچھ کھویا ہے اُس کی یاد میں
وہ میرے ہمنام سے بھی عداوت رکھتا ہے
کوئی کہہ کر بتائے اُس کو، وہ نہیں ہوں میں
وقت کے ساتھ وہ بھی بدل سا گیا ہے اب
الزام مجھ پر ہی لگے، اس کی محفل میں
وہ واپس آ جاتا، لیکن انا پرست بھی تھا وہ
ہوسکے تو ارادہ بھی نہ کرنا واپس آنے کا مجھ میں
وعدہ کیا تھا اس نے ، ہم یاد کریں گے تجھ کو
پھر یوں ہوا کہ وہ مصروف ہوگیا زمانے میں۔۔
وہ شام ہوتے ہی رابطہ کرتا تھا خیریت کی
اب رابطہ بھی نہیں، خیریت بھی نہیں مجھ میں
وہ سکون ڈھونڈنے چلا ہے بے چینی کی حالت لے کر
اب کہاں کوئی مرہم دے گا یعنی وہ تھوڑی ہوں میں
رسمً کہنا ہی پڑھتا ہے کہ وہ میرا ہے سیمانی
کہاں وہ، کہاں اس کا حُسن، یہ سب نہیں ہے مجھ میں
ززز


