سید طارق گیلانی
سری نگر ، کشمیر
آج کے نوجوان اپنی شخصیت، حالات، معاشرت اور زندگی سے گہری مایوسی کے شکار نظر آتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں اس مایوسی کی اصل محرّکات کے پس منظر میں یکسر بریُ الذمّہ قرار دے سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں۔ اس سنگین مسئلے کی طرف فوری اور مستحکم توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے نوجوان نسل کو وہ سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جو انہیں ذمہ دار شہری اور بہتر انسان بننے میں معاون ہو۔ اس لیے یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم نوجوانوں کو بہتر طور پر سمجھیں اور جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ضروریات و مسائل کا ادراک حاصل کریں۔
نوجوانوں میں تفویض ہوتی ہوئی مایوسی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل کی وجوہات پر غور و فکر اور ان کے حل کی تلاش آج کے معاشرتی چیلنجز میں سب سے اہم ہے۔ معاشرے میں ذہنی مسائل کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح اس بات کا اشارہ ہے کہ اجتماعی طور پر ہمارے معاشرے میں عدم برداشت و ناانصافی ایک عام شے بن چکی ہے۔ یہ سماجی تلخیاں ذہنی امراض کو جنم دیتی ہیں، اور ان کے علاوہ گھریلو تشدد، بے روزگاری، بچوں پر تشدد و زیادتی، پدر شاہی نظام، اور خواتین کے ساتھ ہراسگی جیسے مسائل بھی ذہنی دباؤ کی وجوہات ہیں۔ یہ عوامل نہ صرف موجودہ ذہنی مسائل کو سنگین بناتے ہیں بلکہ نئے مسائل کی پیدائش کا باعث بھی بنتے ہیں-
بچوں میں نفسیاتی عوارض کی بنیاد بچپن ہی میں پڑ جاتی ہے۔ ان کے ذہن و سوچ پر ہونے والا تشدد، عدم مساوات، والدین کی لاپروائی اور غیر ضروری سختی ان میں نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہے۔ والدین کو جدید دور کے تناظر میں "ماڈرن پیرینٹنگ” کے نظریات اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کر سکیں اور بچے ہر قسم کے مسائل پر با آسانی والدین سے بات کر کے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ اگر والدین کی طرف سے اس طرح کی توجہ نہ دی گئی تو بچے غلط دوستیوں میں پڑ سکتے ہیں یا منشیات کی لت میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جو ان کی ذہنی صحت کے لئے بہت مضر ہے۔
نوجوان نسل میں مختلف قسم کے منشیات کی بڑھتی ہوئی لت بھی ایک سنگین نفسیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر "آئس” جیسی خطرناک نشہ آور اشیا نوجوانوں کے درمیان ایک وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ لڑکے لڑکیاں دونوں ہی اس لعنت کا نشانہ بن رہے ہیں، اور کالج و یونیورسٹی کے طلبہ اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس نشے کی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر کوئی مؤثر قدم نظر نہیں آ رہا، جس کی وجہ سے یہ نشہ آسانی سے نوجوانوں کے ہاتھ لگ رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں منشیات کی دنیا میں "آئس” کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے اور ہر روز بہت سے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں افراد اس عادت کے اسیر ہو چکے ہیں۔ آئس کے نشے کے کئی گہرے مضمرات ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ دماغی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ نشے میں مبتلا شخص شروع میں خود کو چست اور متحرک محسوس کرتا ہے، اس کے حواس اس قدر حساس ہو جاتے ہیں کہ غیر موجود چیزیں بھی اسے حقیقت لگنے لگتی ہیں۔ چرس یا ہیروئن جیسے نشے عموماً غنودگی کا باعث بنتے ہیں، لیکن آئس کا نشہ ایک متحرک کیفیت میں لے جاتا ہے، جو ذہنی خیالات اور سننے، دیکھنے کی حس کو غیرمعمولی حد تک بڑھا دیتا ہے۔
آئس کے نشے میں مبتلا افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جس میں نہ صرف نوجوان لڑکے بلکہ نوجوان لڑکیاں اور بڑی عمر کے افراد بھی شامل ہیں۔ ایسے منشیات استعمال کرنے والے نفسیاتی مسائل جیسے سائیکوسس اور شیزوفرینیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آئس کا استعمال کنندہ خیالات میں الجھ جاتا ہے، اسے ہر ایک کے بارے میں شک ہونے لگتا ہے، حتیٰ کہ اپنی خانگی زندگی کے پیاروں پر بھی۔ اس کیفیت میں کبھی کبھار وہ اتنے مایوس ہو جاتے ہیں کہ پیاروں کو نقصان پہنچانے یا قتل تک کے اقدامات کر بیٹھتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق، آئس کے عادی افراد حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کی سوچ انتہائی منفی ہو جاتی ہے۔ ان کے رویے میں واضح فرق آتا ہے اور وہ ایسے خیالات اور آوازیں سننے لگتے ہیں جو وجود نہیں رکھتیں۔ بعض مریض اس شک میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں شاید زہر دیا گیا ہو، اور کچھ اپنی زندگی لینے کے خیال پر بھی منحصر ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے مسائل کا کوئی حل باقی نہیں رہا۔ اس حالت میں بعض افراد منشیات کی مدد سے اپنے درد کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ حالت مسلسل گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
جب کوئی شخص ذہنی یا نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کا اختتام قریب ہے، لیکن ہر حادثہ مکمل تباہی کا باعث نہیں بنتا۔ ذہنی دباؤ کا شکار شخص بند گلی میں پھنسنے کی طرح محسوس کرتا ہے، جہاں وہ اپنے اردگرد سہاروں کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔ اندھیرے کمرے میں ہاتھ پاؤں مارنے کی طرح، اس کا توجہ اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں پر ہوتا ہے جبکہ مشکل حالات میں کامیابی کے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت مدھم پڑ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں وہ کسی مسیحا کی تلاش میں لگ جاتا ہے جو اس کے غموں کا مداوا کر سکے۔
آج نوجوانوں میں ڈپریشن، خوف اور اضطراب کے مسائل خاصے عام ہو چکے ہیں جبکہ ان پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ نوجوانوں میں ڈپریشن کی بڑھوتری کی کئی وجوہات ہیں، جن میں جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں اور ان کا مناسب رہنما نہ ملنا شامل ہیں۔ یہ سب باتیں ایک نوجوان کے ذہنی و نفسیاتی مسائل کو جنم دیتی ہیں جن پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کی ضرورت ہے۔
ذہنی صحت کے متعلق تعلیم کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کو نہ جنس کی مناسب تعلیم دی جاتی ہے اور نہ ہی ذہنی صحت کی اہمیت سے آشنا کیا جاتا ہے، اس وجہ سے جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو وہ اسے سمجھنے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ ڈپریشن جیسے سنجیدہ مسئلے سے بچاؤ اور علاج کے لئے ادویات، کونسلنگ اور تھراپی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کی مختلف کئی وجوہات ہیں اور ان مسائل کی نشاندہی بہت ضروری ہے۔
ان مسائل کے حل کے لئے حکومتی اور سماجی سطح پر بھی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین نفسیات تجویز کرتے ہیں کہ ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل سے متعلق آگاہی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ ٹی وی ڈرامے اور فلموں کے ذریعے بھی عام کی جائے تاکہ عوام میں شعور اجاگر ہو۔ اس کے علاوہ، سماجی اسباب کے سد باب کے بغیر اس بحران کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہیں نظر انداز کرنا یا ان پر غفلت برتنا معاشرے کے لئے خطرات کا سبب ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریاں دور کی جائیں؛ مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی و معاشی عدم استحکام کے اثرات کو کم کیا جائے اور نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق پلیٹ فارم فراہم کیا جائے کہ وہ زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔


