خطبہ نکاح یا رسم قل:ایک لمحہ فکریہ-انشائیہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

انسانی سماج کی بنیاد خاندان پر قائم ہے اور خاندان کی تشکیل مرد اور عورت کے مابین شادی سے شروع ہوتی ہے ،ہر مزہب میں شادی بیاہ کے کچھ اصول اور ضابطے مقرر ہیں ،اسلام جو دین فطرت ہے اس میں نکاح وہ سماجی معاہدہ اور مقدس دینی ضابطہ ہے جسکی رو سے دو انجان غیر محرم فرد ایک دوسرے پر حلال ہوجاتے ہیں اور آگے کی زندگی مل جل کر گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں ،۔ آج کل ہمارے معاشرے میں trend ،رحجان چلا آرہا ہے کہ نکاح کی مجلسِ کو گھروں کے بجائے مسجد میں آراستہ کیا جاتا ہے جس میں لڑکی والوں کی طرف سے دو چار اور لڑکے والوں کی طرف سے دو چار افراد شامل ہوتے ہیں ،خطبہ نکاح میں میاں بیوی کے حقوق بیان کرنے کے علاوہ شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی ،لین دین ،چراغاں ،حد سے زیادہ پکوان ،ناچ گانے جیسے رسومات پر تابڑ توڑ حملے کیے جاتے ہیں اور گھروں میں پڑی جوان لڑکیوں کی شادی نہ ہونے میں سب سے بڑی روکاوٹ قرار دے کر ان رسومات کو فروغ دینے والوں کو بعض دفعہ دایرہ اسلام سے خارج تصور کیا جاتا ہے ،مسجد میں سادگی سے ہونے والے نکاح کے بعد جب ساٹھ ستر براتی لڑکی کے گھر کھانا کھانے کے لئے چلے جاتے ہیں ،وہاں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس پر مسجد میں بات ہوئی تھی اور اس طرح سادگی سے ہونے والے نکاح کی اہمیت اور افادیت ختم ہو جاتی ہے ،شادی بیاہ میں لین دین ہو یا نہ ہو ،لڑکی کو سسرال ہی بہر حال جانا پڑتا ہے اور وہاں کیا گزرتی ہے اس پر ،کوی اس پر آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے اس پر اب تک پردہ پڑا ہوا ہے ،کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہونے والی اکثر شادیاں پہلے یا دوسرے سال میں ہی ٹوٹ جاتی ہیں ؟چند رشتے سماجی دباؤ یا شرم کے مارے آگے تو بڑھ جاتے ہیں لیکن انکے گھر نہیں بستے ،کیا اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے ؟۔ ہم ایک ایسے روایتی سماج میں رہ رہے ہیں جہاں ساس سسر دیور دیوانی ،اور ننند جیسے قریبی رشتے دار ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی کنبہ بن کر رہتے ہیں ،لڑکی نوکری پیشہ ہو یا گھر سنبھالنے والی اس سے بہر حال ان ہی قرابت داروں کے ساتھ اپنے دن اور اپنی راتیں گزارنی پڑتی ہیں ،ساس سسر کی چاے میں کتنی چینی ڈالنی ہے ،گھر میں آیے داماد جی سے کس طرح پیش آنا ہے ،ننند کے باتھ روم میں کون سی چیز کہاں سجانی ہے ،بڑی دیوانی کے لاڈلے بیٹے کا taste والا کھانا کونسا ہے ،یہ سب سمجھنے اور کرنے میں تو وقت لگے گا کہ نہیں ؟بہو بچاری کوئی مشین تو نہیں کہ ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ نصب کردی اور کام کرنا شروع کردیا اور وہ بھی ہماری پسند اور مرضی کے مطابق ،جتنے منہ اتنی باتیں جو جس کے جی میں آے کہہ دیتا ہے چھوٹی سی لغزش کو بہت بڑی غلطی مان کر پیش کیا جاتا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ بہو نہیں بلکہ نوکرانی لاے ہیں , کبھی مٹھائی کے چند دانوں پر اور کبھی کم قیمت والے تحائف لانے پر اسے طعنے دیے جاتے ہیں ،ستر سال پہلے جس بات پر اج کی ساس کو اسوقت اپنی ساس نے ڈانٹا تھا ،اسکی سزا اج کی بہو رانی کو بھگتنا پڑتا ہے ،حد تو یہ کہ مہینوں کے بعد بھی اسے والدین کے گھر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے –
ساس بہو کا جھگڑا تو بہر حال تاریخی ہے لیکن اس جھگڑے کو خانہ جنگی میں تبدیل کرنے کے پیچھے ننند کا ہاتھ ہوتا ہے وہ خود سسرالی گھر میں ہو یا والدین کے گھر ،بہو رانی کا قافیہ حیات تنگ کرنا اسکی فطرت میں ہے ،اپنے آپ کو دین دار ،اعلی تعلیم یافتہ ،با عزت اور با غیرت کہلانے والے گھروں میں کب تک ہماری معصوم بیٹیاں ظلم وستم سہتی رہیں گی اور طعنے سنتے رہیں گی ،ہر ایک لڑکی اپنا گھر بسانا چاہتی ہے وہ سسرال سے بھاگ کر والدین کے گھر نہیں جانا چاہتی ہے ،حالات سے تنگ آکر اکثر لڑکیاں طلاق کے بجائے خلع لے کر ان بے رحم ،بےغیرت اور ظالم مردوں کے منہ پر چسپاں کرتی ہیں جنکے ہوتے ہوئے ان پر اسقد ر ظلم وتشدد ہوتا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خطبہ نکاح کی مجلسِ مسجد کے بجائے اس جگہ آراستہ کی جاے جہاں لڑکی اور لڑکے والوں کے افراد خانہ ،جن میں خاص طور سے دونوں گھرانوں کی خواتین شامل ہوں ،رسومات بد کے خلاف دھواں دھار تقاریر کے ساتھ ساتھ اس اندرونی ناسور کو نشانہ بنایا جائے جو بری طرح پھیل کر ہمارے گھروں کو برباد کر رہا ہے ،یہی وہ ناسور ہے جسکی وجہ سے آیے دن ہماری بیٹیاں آگ سے جل کر ،پانی میں ڈوب کر یا زہر کھا کر اپنی جوانی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور ہمارے خطبہ نکاح رسم قل میں بدل جاتے ہیں-

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

خطبہ نکاح یا رسم قل:ایک لمحہ فکریہ-انشائیہ

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

انسانی سماج کی بنیاد خاندان پر قائم ہے اور خاندان کی تشکیل مرد اور عورت کے مابین شادی سے شروع ہوتی ہے ،ہر مزہب میں شادی بیاہ کے کچھ اصول اور ضابطے مقرر ہیں ،اسلام جو دین فطرت ہے اس میں نکاح وہ سماجی معاہدہ اور مقدس دینی ضابطہ ہے جسکی رو سے دو انجان غیر محرم فرد ایک دوسرے پر حلال ہوجاتے ہیں اور آگے کی زندگی مل جل کر گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں ،۔ آج کل ہمارے معاشرے میں trend ،رحجان چلا آرہا ہے کہ نکاح کی مجلسِ کو گھروں کے بجائے مسجد میں آراستہ کیا جاتا ہے جس میں لڑکی والوں کی طرف سے دو چار اور لڑکے والوں کی طرف سے دو چار افراد شامل ہوتے ہیں ،خطبہ نکاح میں میاں بیوی کے حقوق بیان کرنے کے علاوہ شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی ،لین دین ،چراغاں ،حد سے زیادہ پکوان ،ناچ گانے جیسے رسومات پر تابڑ توڑ حملے کیے جاتے ہیں اور گھروں میں پڑی جوان لڑکیوں کی شادی نہ ہونے میں سب سے بڑی روکاوٹ قرار دے کر ان رسومات کو فروغ دینے والوں کو بعض دفعہ دایرہ اسلام سے خارج تصور کیا جاتا ہے ،مسجد میں سادگی سے ہونے والے نکاح کے بعد جب ساٹھ ستر براتی لڑکی کے گھر کھانا کھانے کے لئے چلے جاتے ہیں ،وہاں وہ سب کچھ ہوتا ہے جس پر مسجد میں بات ہوئی تھی اور اس طرح سادگی سے ہونے والے نکاح کی اہمیت اور افادیت ختم ہو جاتی ہے ،شادی بیاہ میں لین دین ہو یا نہ ہو ،لڑکی کو سسرال ہی بہر حال جانا پڑتا ہے اور وہاں کیا گزرتی ہے اس پر ،کوی اس پر آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے اس پر اب تک پردہ پڑا ہوا ہے ،کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہونے والی اکثر شادیاں پہلے یا دوسرے سال میں ہی ٹوٹ جاتی ہیں ؟چند رشتے سماجی دباؤ یا شرم کے مارے آگے تو بڑھ جاتے ہیں لیکن انکے گھر نہیں بستے ،کیا اس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے ؟۔ ہم ایک ایسے روایتی سماج میں رہ رہے ہیں جہاں ساس سسر دیور دیوانی ،اور ننند جیسے قریبی رشتے دار ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی کنبہ بن کر رہتے ہیں ،لڑکی نوکری پیشہ ہو یا گھر سنبھالنے والی اس سے بہر حال ان ہی قرابت داروں کے ساتھ اپنے دن اور اپنی راتیں گزارنی پڑتی ہیں ،ساس سسر کی چاے میں کتنی چینی ڈالنی ہے ،گھر میں آیے داماد جی سے کس طرح پیش آنا ہے ،ننند کے باتھ روم میں کون سی چیز کہاں سجانی ہے ،بڑی دیوانی کے لاڈلے بیٹے کا taste والا کھانا کونسا ہے ،یہ سب سمجھنے اور کرنے میں تو وقت لگے گا کہ نہیں ؟بہو بچاری کوئی مشین تو نہیں کہ ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ نصب کردی اور کام کرنا شروع کردیا اور وہ بھی ہماری پسند اور مرضی کے مطابق ،جتنے منہ اتنی باتیں جو جس کے جی میں آے کہہ دیتا ہے چھوٹی سی لغزش کو بہت بڑی غلطی مان کر پیش کیا جاتا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ بہو نہیں بلکہ نوکرانی لاے ہیں , کبھی مٹھائی کے چند دانوں پر اور کبھی کم قیمت والے تحائف لانے پر اسے طعنے دیے جاتے ہیں ،ستر سال پہلے جس بات پر اج کی ساس کو اسوقت اپنی ساس نے ڈانٹا تھا ،اسکی سزا اج کی بہو رانی کو بھگتنا پڑتا ہے ،حد تو یہ کہ مہینوں کے بعد بھی اسے والدین کے گھر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے –
ساس بہو کا جھگڑا تو بہر حال تاریخی ہے لیکن اس جھگڑے کو خانہ جنگی میں تبدیل کرنے کے پیچھے ننند کا ہاتھ ہوتا ہے وہ خود سسرالی گھر میں ہو یا والدین کے گھر ،بہو رانی کا قافیہ حیات تنگ کرنا اسکی فطرت میں ہے ،اپنے آپ کو دین دار ،اعلی تعلیم یافتہ ،با عزت اور با غیرت کہلانے والے گھروں میں کب تک ہماری معصوم بیٹیاں ظلم وستم سہتی رہیں گی اور طعنے سنتے رہیں گی ،ہر ایک لڑکی اپنا گھر بسانا چاہتی ہے وہ سسرال سے بھاگ کر والدین کے گھر نہیں جانا چاہتی ہے ،حالات سے تنگ آکر اکثر لڑکیاں طلاق کے بجائے خلع لے کر ان بے رحم ،بےغیرت اور ظالم مردوں کے منہ پر چسپاں کرتی ہیں جنکے ہوتے ہوئے ان پر اسقد ر ظلم وتشدد ہوتا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خطبہ نکاح کی مجلسِ مسجد کے بجائے اس جگہ آراستہ کی جاے جہاں لڑکی اور لڑکے والوں کے افراد خانہ ،جن میں خاص طور سے دونوں گھرانوں کی خواتین شامل ہوں ،رسومات بد کے خلاف دھواں دھار تقاریر کے ساتھ ساتھ اس اندرونی ناسور کو نشانہ بنایا جائے جو بری طرح پھیل کر ہمارے گھروں کو برباد کر رہا ہے ،یہی وہ ناسور ہے جسکی وجہ سے آیے دن ہماری بیٹیاں آگ سے جل کر ،پانی میں ڈوب کر یا زہر کھا کر اپنی جوانی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اور ہمارے خطبہ نکاح رسم قل میں بدل جاتے ہیں-

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں