کشمیر نقشے میں تبدیلی: قطر نے پاکستان کے بیانیے کو زمین بوس کردیا

 

 

سہیل خان
سرینگر

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک نقشہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو کئی سفارتی بیانات بھی نہیں کہہ پاتے۔ گزشتہ ہفتے ایسا ہی ایک لمحہ سامنے آیا جب قطر کے زیر انتظام عالمی نیوز نیٹ ورک الجزیرہ نے پہلی مرتبہ بھارت کا مکمل نقشہ دکھایا جس میں پورا جموں و کشمیر، بشمول گلگت بلتستان، واضح طور پر بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ یہ محض ایک تکنیکی تصحیح نہیں تھی بلکہ دوحہ کی جانب سے ایک باقاعدہ سیاسی اشارہ تھا جس نے اسلام آباد کے ایوانوں میں گہرا ارتعاش پیدا کر دیا۔
یہ عمل اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ الجزیرہ طویل عرصے تک پاکستان کے مؤقف کے قریب سمجھا جاتا تھا اور اس کی نشریات کو کئی بار بھارت مخالف رجحانات سے جوڑا گیا۔ لیکن آج وہی ادارہ وہ نقشہ دکھا رہا ہے جسے پاکستان نے برسوں تک عالمی سطح پر چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ تبدیلی خود اس امر کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت اور سیاست کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔
افغانستان پاکستان کشیدگی پر مبنی ایک حالیہ پروگرام کے دوران الجزیرہ نے پس منظر میں جو نقشہ دکھایا، اس میں پہلی بار پورا جموں و کشمیر بلا کسی ابہام کے بھارت کی سرزمین کے طور پر درج تھا۔ اس میں نہ کوئی ٹوٹی لکیر تھی، نہ کوئی غیر واضح حد بندی، نہ کوئی متنازعہ علاقہ۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے پاکستان میں ہلچل مچا دی۔ دہائیوں سے اسلام آباد یہ دعویٰ کرتا آیا تھا کہ عرب دنیا اس کے کشمیر بیانیے کی پشت پر کھڑی ہے۔ لیکن دوحہ کے سرکاری اثر میں کام کرنے والا ادارہ جب اس سطح پر خود بھارت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نقشہ نشر کرے تو یہ ایک سفارتی زلزلے کے برابر ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہی الجزیرہ، کبھی بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کے خلاف جھوٹی خبریں چلاتا رہا تھا۔ اسی ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے بھارتی رافیل مار گرائے۔ اسی نے بھارت کے ایس فور ہندریڈ نظام کی تباہی کی خبریں نشر کیں۔ لیکن اب یہی چینل کشمیر کو بھارت کی اٹوٹ اکائی کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ دوحہ کا باقاعدہ پیغام ہے۔
الجزیرہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے والا ادارہ نہیں۔ اس کی پالیسیوں پر قطر کی قیادت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لئے ایسا نقشہ نشر ہونا محض صحافتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑے ریاستی اشارے کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی دنیا کشمیر کے بارے میں اپنے پرانے زاویوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ خطے کے ممالک سمجھ چکے ہیں کہ آج کا بھارت ایک مضبوط معیشت، بااعتماد قیادت اور عالمی سطح پر بڑھتے اثر کا حامل ملک ہے۔ اس کے برعکس پاکستان داخلی بحرانوں، سفارتی تنہائی اور غیر یقینی پالیسیوں میں الجھا ہوا ہے۔
اس لئے الجزیرہ کے نشر کردہ نقشے نے نہ صرف پاکستان کے پرانے دعووں کو کمزور کیا بلکہ یہ واضح کر دیا کہ عرب دنیا بھارت کے ساتھ نئے سیاسی اور معاشی رشتوں کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتی ہے۔
اسی پروگرام میں پاکستانی مؤقف کے بجائے افغانستان کے مؤقف کی حمایت سامنے آئی۔ الجزیرہ جیسا ادارہ جب اس طرح کا رویہ اپناتا ہے تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج کا سیاسی جھکاؤ اب پاکستان سے ہٹ کر دوسرے سمت جا رہا ہے۔
پاکستان نے برسوں یہ تاثر دیا کہ کشمیر کے مسئلے پر اسے مسلم دنیا کی غیر مشروط تائید حاصل ہے۔ لیکن آج اسی دنیا کا سب سے بااثر میڈیا پلیٹ فارم پاکستان کے بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارت کے نقشے کی توثیق کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ یہ بھارت کی طویل المدت سفارت کاری، خلیج میں بڑھتے تجارتی تعلقات اور اعلیٰ سطحی سیاسی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی خلیجی قیادت کے ساتھ قربت اور قطر سے ہونے والی اہم اقتصادی مفاہمتوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کھولے۔
الجزیرہ کا درست نقشہ اسی سفارتی بنیاد کا ثبوت ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ بھارت نے نہ صرف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے بلکہ قطر جیسے ملک کو بھی اپنے قریب کر لیا جس کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ وہ پاکستان کے مؤقف سے قریب ہے۔
پاکستان کی 70 برس پر محیط حکمت عملی کشمیر کو ایک ایسا تنازع بنا کر پیش کرنا رہی جس کا کوئی حل نہیں۔ اسے عالمی میڈیا اور اسلامی ممالک کے ذریعے تقویت دی گئی۔ جہاں جہاں نقشے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ نہ دکھایا جاتا، پاکستان اسے اپنی جیت قرار دیتا۔
لیکن آج وہی الجزیرہ اپنے نقشے میں بھارت کی واضح سرحد دکھاتا ہے۔یہ منظر پاکستان کے پوری سفارتی حکمت عملی کی نفی کر رہا ہے۔ ایک لمحے میں وہ بیانیہ ٹوٹ گیا جسے پاکستان نے نسلوں تک قائم رکھنے کی کوشش کی تھی۔
دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ بھارت کا مؤقف قانونی، تاریخی اور انتظامی بنیادوں پر زیادہ مضبوط ہے۔ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا بیانیہ کمزور پڑ رہا ہے اور خطہ پاکستان کے عدم استحکام سے تھک چکا ہے۔
الجزیرہ جیسے ادارے کے ذریعے کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی میڈیا میں بھارت کا بیانیہ زیادہ قبولیت پا رہا ہے۔
یہ نقشہ کسی تنازع کا فوری حل نہیں ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ عالمی رائے اب پاکستان کی پرانی تشریحات سے دور ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں اور ان کی نظر میں بھارت ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے، جبکہ پاکستان ایک غیر یقینی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک نقشہ نہیں بلکہ ایک سفارتی اعلان ہے۔ قطر نے خاموش مگر واضح پیغام دے دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔
یہ بھارت کے لئے ایک اہم سفارتی کامیابی اور پاکستان کے لئے ایک تاریخی دھچکا ہے۔
پاکستان نے پچھلے75 برس کشمیر کو متنازع بنانے میں صرف کیے۔ الجزیرہ کے ایک نشری نقشے نے اس بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
اور دنیا کو اب یہ بات زیادہ صاف دکھائی دے رہی ہے: کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ تھا بھی، ہے بھی، اور رہے گا بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

کشمیر نقشے میں تبدیلی: قطر نے پاکستان کے بیانیے کو زمین بوس کردیا

 

 

سہیل خان
سرینگر

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک نقشہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو کئی سفارتی بیانات بھی نہیں کہہ پاتے۔ گزشتہ ہفتے ایسا ہی ایک لمحہ سامنے آیا جب قطر کے زیر انتظام عالمی نیوز نیٹ ورک الجزیرہ نے پہلی مرتبہ بھارت کا مکمل نقشہ دکھایا جس میں پورا جموں و کشمیر، بشمول گلگت بلتستان، واضح طور پر بھارت کا حصہ دکھایا گیا۔ یہ محض ایک تکنیکی تصحیح نہیں تھی بلکہ دوحہ کی جانب سے ایک باقاعدہ سیاسی اشارہ تھا جس نے اسلام آباد کے ایوانوں میں گہرا ارتعاش پیدا کر دیا۔
یہ عمل اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ الجزیرہ طویل عرصے تک پاکستان کے مؤقف کے قریب سمجھا جاتا تھا اور اس کی نشریات کو کئی بار بھارت مخالف رجحانات سے جوڑا گیا۔ لیکن آج وہی ادارہ وہ نقشہ دکھا رہا ہے جسے پاکستان نے برسوں تک عالمی سطح پر چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ تبدیلی خود اس امر کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت اور سیاست کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔
افغانستان پاکستان کشیدگی پر مبنی ایک حالیہ پروگرام کے دوران الجزیرہ نے پس منظر میں جو نقشہ دکھایا، اس میں پہلی بار پورا جموں و کشمیر بلا کسی ابہام کے بھارت کی سرزمین کے طور پر درج تھا۔ اس میں نہ کوئی ٹوٹی لکیر تھی، نہ کوئی غیر واضح حد بندی، نہ کوئی متنازعہ علاقہ۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے پاکستان میں ہلچل مچا دی۔ دہائیوں سے اسلام آباد یہ دعویٰ کرتا آیا تھا کہ عرب دنیا اس کے کشمیر بیانیے کی پشت پر کھڑی ہے۔ لیکن دوحہ کے سرکاری اثر میں کام کرنے والا ادارہ جب اس سطح پر خود بھارت کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نقشہ نشر کرے تو یہ ایک سفارتی زلزلے کے برابر ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہی الجزیرہ، کبھی بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کے خلاف جھوٹی خبریں چلاتا رہا تھا۔ اسی ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے بھارتی رافیل مار گرائے۔ اسی نے بھارت کے ایس فور ہندریڈ نظام کی تباہی کی خبریں نشر کیں۔ لیکن اب یہی چینل کشمیر کو بھارت کی اٹوٹ اکائی کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ دوحہ کا باقاعدہ پیغام ہے۔
الجزیرہ مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے والا ادارہ نہیں۔ اس کی پالیسیوں پر قطر کی قیادت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لئے ایسا نقشہ نشر ہونا محض صحافتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑے ریاستی اشارے کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی دنیا کشمیر کے بارے میں اپنے پرانے زاویوں سے آگے بڑھ رہی ہے۔ خطے کے ممالک سمجھ چکے ہیں کہ آج کا بھارت ایک مضبوط معیشت، بااعتماد قیادت اور عالمی سطح پر بڑھتے اثر کا حامل ملک ہے۔ اس کے برعکس پاکستان داخلی بحرانوں، سفارتی تنہائی اور غیر یقینی پالیسیوں میں الجھا ہوا ہے۔
اس لئے الجزیرہ کے نشر کردہ نقشے نے نہ صرف پاکستان کے پرانے دعووں کو کمزور کیا بلکہ یہ واضح کر دیا کہ عرب دنیا بھارت کے ساتھ نئے سیاسی اور معاشی رشتوں کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتی ہے۔
اسی پروگرام میں پاکستانی مؤقف کے بجائے افغانستان کے مؤقف کی حمایت سامنے آئی۔ الجزیرہ جیسا ادارہ جب اس طرح کا رویہ اپناتا ہے تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج کا سیاسی جھکاؤ اب پاکستان سے ہٹ کر دوسرے سمت جا رہا ہے۔
پاکستان نے برسوں یہ تاثر دیا کہ کشمیر کے مسئلے پر اسے مسلم دنیا کی غیر مشروط تائید حاصل ہے۔ لیکن آج اسی دنیا کا سب سے بااثر میڈیا پلیٹ فارم پاکستان کے بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارت کے نقشے کی توثیق کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ یہ بھارت کی طویل المدت سفارت کاری، خلیج میں بڑھتے تجارتی تعلقات اور اعلیٰ سطحی سیاسی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی خلیجی قیادت کے ساتھ قربت اور قطر سے ہونے والی اہم اقتصادی مفاہمتوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کھولے۔
الجزیرہ کا درست نقشہ اسی سفارتی بنیاد کا ثبوت ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ بھارت نے نہ صرف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے بلکہ قطر جیسے ملک کو بھی اپنے قریب کر لیا جس کے بارے میں کبھی کہا جاتا تھا کہ وہ پاکستان کے مؤقف سے قریب ہے۔
پاکستان کی 70 برس پر محیط حکمت عملی کشمیر کو ایک ایسا تنازع بنا کر پیش کرنا رہی جس کا کوئی حل نہیں۔ اسے عالمی میڈیا اور اسلامی ممالک کے ذریعے تقویت دی گئی۔ جہاں جہاں نقشے میں کشمیر کو بھارت کا حصہ نہ دکھایا جاتا، پاکستان اسے اپنی جیت قرار دیتا۔
لیکن آج وہی الجزیرہ اپنے نقشے میں بھارت کی واضح سرحد دکھاتا ہے۔یہ منظر پاکستان کے پوری سفارتی حکمت عملی کی نفی کر رہا ہے۔ ایک لمحے میں وہ بیانیہ ٹوٹ گیا جسے پاکستان نے نسلوں تک قائم رکھنے کی کوشش کی تھی۔
دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ بھارت کا مؤقف قانونی، تاریخی اور انتظامی بنیادوں پر زیادہ مضبوط ہے۔ دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا بیانیہ کمزور پڑ رہا ہے اور خطہ پاکستان کے عدم استحکام سے تھک چکا ہے۔
الجزیرہ جیسے ادارے کے ذریعے کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ عالمی میڈیا میں بھارت کا بیانیہ زیادہ قبولیت پا رہا ہے۔
یہ نقشہ کسی تنازع کا فوری حل نہیں ہے، لیکن یہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ عالمی رائے اب پاکستان کی پرانی تشریحات سے دور ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک اقتصادی ترقی اور سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں اور ان کی نظر میں بھارت ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے، جبکہ پاکستان ایک غیر یقینی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک نقشہ نہیں بلکہ ایک سفارتی اعلان ہے۔ قطر نے خاموش مگر واضح پیغام دے دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔
یہ بھارت کے لئے ایک اہم سفارتی کامیابی اور پاکستان کے لئے ایک تاریخی دھچکا ہے۔
پاکستان نے پچھلے75 برس کشمیر کو متنازع بنانے میں صرف کیے۔ الجزیرہ کے ایک نشری نقشے نے اس بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
اور دنیا کو اب یہ بات زیادہ صاف دکھائی دے رہی ہے: کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ تھا بھی، ہے بھی، اور رہے گا بھی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں