سیما شکور، حیدر آباد
سبوتاژ ہورہے ہیں!
خود شیشے کی طرح ٹوٹ رہے ہیں!
خود کو خبر نہیں ہے!
کدھر چلتے ہیں قدم
بے نشاں ہے منزل
جئے جارہے ہیں
کہنے کو مسلماں ہیں
ایمان ہے ٹکڑے ٹکڑے
ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہیں
فرقہ پرستی کے شیدائی ہیں!
مسلمان کہاں ہے!!
آئینوں سے بھرے ہیں بازار
جو سچ بھی دکھادے …
وہ آئینہ تو نہیں ہے!
غیروں کی نگاہوں سے …
خود کو گرانے والے
بوسیدہ ہیں ، شکست خوردہ ہیں!
اندر سے ٹوٹ گئے ہیں!
اُن کو اب بھی ادراک نہیں ہے!
ہم بھیگتی آنکھوں سے …
سب دیکھ رہے ہیں!
ایسا نہ ہو
کہیں بہت دیر نہ ہوجائے
ہم سوچتے ہی رہ جائیں
چہرے تو بہت دھوئے ہیں
روح کو بھی پاک کرلیں
روح کو بھی پاک کرلیں
l l l
’’فرقہ پرستی‘‘
’’فرقہ پرستی‘‘
سیما شکور، حیدر آباد
سبوتاژ ہورہے ہیں!
خود شیشے کی طرح ٹوٹ رہے ہیں!
خود کو خبر نہیں ہے!
کدھر چلتے ہیں قدم
بے نشاں ہے منزل
جئے جارہے ہیں
کہنے کو مسلماں ہیں
ایمان ہے ٹکڑے ٹکڑے
ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہیں
فرقہ پرستی کے شیدائی ہیں!
مسلمان کہاں ہے!!
آئینوں سے بھرے ہیں بازار
جو سچ بھی دکھادے …
وہ آئینہ تو نہیں ہے!
غیروں کی نگاہوں سے …
خود کو گرانے والے
بوسیدہ ہیں ، شکست خوردہ ہیں!
اندر سے ٹوٹ گئے ہیں!
اُن کو اب بھی ادراک نہیں ہے!
ہم بھیگتی آنکھوں سے …
سب دیکھ رہے ہیں!
ایسا نہ ہو
کہیں بہت دیر نہ ہوجائے
ہم سوچتے ہی رہ جائیں
چہرے تو بہت دھوئے ہیں
روح کو بھی پاک کرلیں
روح کو بھی پاک کرلیں
l l l


