غلام غوث
یہ مضمون یوروپ اور امریکہ کے ماہرین کی کتابوں اور ان کے اخباری بیانات کا نچوڑ ہے ۔جس طرح ڈسمبر 1960میں امریکہ کے شہر Nebraskaمیں ملٹری ، فضائیہ ، اور بحریہ کے چیف کماندروں ، سیاستدانوں اور سائنٹسٹوں کی میٹننگ یہ تجزیہ کر نے کے لئے ہوی کہ اگر امریکہ پر نئوکلر حملہ ہو گیا تو کیا ہو گا اور اس کا جواب کس طرح دینا ہے اور اس سے کس طرح بچنا ہے اس پر غور و خوص ہوا اور کئی پلان بنائے گئے ۔
ویسے ہی ہر سال میٹنگیں ہوتی رہیں اور پلان میں تبدیلیاں کرتے رہے ۔پلاننگ اس طرح ہوی کہ روس یا چین یا شمالی کوریا نے اگر نئوکلیر حملہ کیا تو وہ کہاں کر سکتا ہے اور اس کا جوب کس طرح دینا ہے ۔ کیا امریکہ ان میزائلوں کو ہوا میں تباہ کر سکتا ہے اور اگر تباہ کرنا ہی ہے تو اسے کس سمندر پر تباہ کرنا ہے یہ اس لئے کہ اگر اس میزائل کو کسی شہر پر تباہ کیا گیا تو وہ شہر برباد ہو جائے گا ۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ اسے کسی سمندر پر تباہ کیاجائے ۔1965میں روس نے دنیا کا پہلا راکٹ اسپٹنک فضا میں داغا تھا ۔ بعد میں امریکہ نے راکٹ فضا میں اڑائے ۔ آج فضا میں قریباً9000طاقتور سیٹلائٹ گھوم رہے ہیں ۔ ان کی نظر دنیا کے ہر ملک پر ہے ۔ جب بھی کوئی ملک میزائل داغتاہے تو امریکہ اور روس کو فوری طور پر معلوم ہو جاتا ہے ۔ امریکہ کی بات کریں تو اس کے شہر کولوراڈوColorado ، ہوائی ،، الاسکا ، فلوراڈا ، کیلیفورنیا اور دیگر کچھ مقامات پر ایسے سائنسیی آلات سے لیس بڑی بڑی عمارتیں ہیں فضا میں جہاں سے یہ پتہ لگا یا جاتا ہے کہ کس ملک سے ICBM داغا گیا ہے اور اس ککا نشانہ کیا ہے اور کیا وہ صرف تجربے کے لئے ہے۔ Inter continantal Balistic missile ) )کی رفتار اور نشانے کا ہر سیکنڈ پتہ لگتا رہتا ہے ۔ امریکہ اپنی خاص توجہ شمالی کوریا پر رکھے ہوے ہے اورر کچھ سیٹلا ئٹ تو صرف اسی ملک پر مزکور ہیں جیسے ہی وہاں سے کوئی ICBM داغا جاتا ہے تو اسے باقاعدہ مانیٹر کیا جا تا رہتا ہے کہ وہ امریکہ کے طرف آ رہا ہے یا صرف تجربہ ہے ۔ پلاننگ ایسی بنائی گئی ہے کہ جیسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ICBM امریکہ کی طرف آ رہا ہے تو اسے ہوا ہی میں تباہ کر نے کے لئے راکٹ داغے جاتے ہیں ۔اس نظام کو چلانے کے لئے ہزاروں ملازم طعنیات ہیں جو چوبیس گھنٹے نظریں جمائے رہتے ہیں ۔ جنوری 2022سے لیکر مئی 2023تک شمالی کوریا نے 100 میزائل تجربہ کے لئے داغے ہیں ۔ جب بھی یہ میزائل داغے گئے تو اس کی اطلاع کسی بھی ملک کو نہیں دی گئی ۔
امریکہ کے ان شہروں میں لڑاکو ہوائی جہاز ہر دم اڑان بھرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔ ایک مرتبہ اگر ICBM لانچ ہوی تو اسے واپس نہیں لایا جا تا ۔امریکہ کے اسٹراٹجک کمابڈ ہیڈکواٹر 916,000 اسکویر ا فیٹ زمین پر 1.3 بلین ڈالر کے خرچ پر بنایا گیا ہے اور وہاں 3,500 ملازم کام کرتے ہیں اور سب کی نگاہیں آنے والے میزائل پر جمی رہتی ہیں ۔ امریکی کمانڈر جو اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اس کے حکم پر دنیا بھر میں موجود 150,000 فوجی ، ہواباز اور بحریہ کے فوجی کام شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ فوراً صدر سے ملتا ہے اور اسے حالات کی سنگینی سے واقف کراتا ہے ۔ صدر کے لئے جو بھی فیصلہ کرنا ہو تا ہے وہ صرف 6 منٹ میں کرنا ہوتا ہے . شمالی کوریا سے اگر میزائل داغی گئی تو وہ مشرقی امریکہ کو 26 منٹ 40 سکینڈ میں پروازز کر کے اپنے نشانے پر گرتی ہے ۔ICBM دس ہزار میل تک اڑان بھر سکتا ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر گرایا جا سکتا ہے ۔ امریکی ملٹری ماہرین کا کہناہے کہ اگر شمالی کوریا میزائل داغتا ہے تو کم ازز کم 50فیصد میزائل امریکہ پر گر سکتے ہیں ۔ اس وقت امریکہہ کے پاس ان میزائیلوں کو تباہ کرنے کے لئے 44 اینٹی میزائیل ہیں مگر ان کی کارکردگی اطمنان بخش نہیں ہے ۔
ان میں چالیس میزائیل الا سکا Alaska میں اور چار کیلیفور نیا میں رکھے ہوے ہیں ۔ یہ میزائیل اڑان بھرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ ICBMکو سیٹلائٹ اور زمینی راڈر دونوں سے ٹریک کیا جاتا ہے ۔ مگر یہ میزائیل کچھ دور اڑان بھرنے کے بعد دھواں بند کر دیتا ہے اور دکھائی نہیں دیتا بلکہ وہ بیلس ٹک ballistic ہو جاتا ہے ۔ مشکل سے اسے زمینی راڈر سے دیکھا جاتا ہے ۔ 2024 میں امریکہ کے پاس250 نئوکلیر میزائیللس ہیں ، روس کے پاس 1674 ، چین کے پاس 500 ، ہندوستان 165 ، پاکستان کے پاس 165 ، شمالی کوریا کے پاس 50 ، اسرائیل کے پاس 65 میزائیلس ہیں۔. IC BMکے ساتھ پانچ ڈممی میزائیل ہوتے ہیں جو دشمن کو گمراہ کرنے کے لئے چھوڑے جاتے ہیں ۔ دشمن کو پتہ نہیں لگتا کہ کس میں حقیقی بم ہے ۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پرندوں کو ہوائی جہاز سمجھ لیا گیا اور غلط الارم بجا دیا گیا۔آج کی دنیا میں کوئی بھی نیوکلیر ملک کا حکمران ایسا پاگل اور بیوقوف نہیں ہے کہ وہ نیوکلیر جنگ چھیڑ دے کا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جوابی کاروائی میں مخالف ملک اس پر بھی خملہ کرے گا اور اسے تباہ کر دے گا ۔
اب اگر موجودہ ایران اور اسرائیل کے تنازعہ کی بات کریں تو سچائی یہ ہے کہ دونوں میں لمبی جنگ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تین دوسرے ممالک ہیں اور وہ کسی بھی میزائیل یا ہوائی جہاز کو اس کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گی ۔ اب تک جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔اب جو اسرائیل اور ایران ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں وہ مجھے لگتا ہے سب زبانی جمع خرچ ہے ۔ دونوں کے درمیان 1800 میل کا فاصلہ ہے ۔ نہ اسرائیل اپنی فوجوں کو ایران کی سر زمین پر اتاار سکتا پے اور نہ ہی ایران اسرائیل کی سر زمین پر ۔ صرف سمندری راستہ رہ جاتا ہے جہاں سے ہو کر گزرنا مشکل ہے ۔ اس حقیقت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسرائیل اپنے خفیہ ایجنٹوں کے ذریعہ ایران کے اندر دھماکے کرا سکتا ہے جیسے اس نے ایرانی سائنٹستوں کو مارا ہے ۔ایک اور بات جو یاد د رکھنے کی ہے وہ یہ کہ امریکہ اور اسرائیل دو الگ الگ ملک نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہی ملک ہیں اور اسرائیل پر حملہ کرنا امریکہ پر حملہ کرنے جیسا ہے ۔ اگر ایران سچ مچ کا نیوکلیر بن چکا ہے تو اس کا فائدہ اس میں ہے کہ وہ امریکہ کو خفیہ ذرایع سے معلوم کرا دے ۔ ہو گا یہ کہ امریکہ اسی طرح خاموش ہو جائے گا جیسے وہ شمالی کوریا کہ سلسلہ میں خاموش ہے ۔
ایران کا فائدہ اس میں ہے کہ وہ اپنے غصہ کو اور انا کو دور رکھتے ہوے امریکہ سے دوستی کا ہاتھ بڑھائے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے ایرا ن کو فوری فائدہ نہ ہو مگر آگے چل کر ضرور فائدہ ہو گا ۔ ایران کا فائدہ اس میں بھی ہے کہ وہ اسرائیل کو دھمکیاں دینا بند کر دے اور دو ریاستی حل پر عمل کروانے کے لئے دوسرے پر امن راستے اپنائے ۔ عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے ۔ ایسے میں انہیں بغیر جنگ لڑے اپنا مقصد ھاصل کر نے کی کوشش کرنا چاہیے ۔ جو کام تمام ممالک مل کر نہیں کر سکتے وہ کام صرف امریکہ کر سکتا ہے ۔ اس کے لئے ایسا راستہ چننا ہے جو امریکہ کو غیر جانب دار بنا سکتا ہے ۔ اور وہ ہے اس کی معیشت پر حملے کی دھمکی ( صرف دھمکی )۔ یہ کام عرب ممالک کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان میں عقل ہو ۔ اب امریکہ نے جنگ بندی تو کرا دی مگر دو ریاستی حل منظور نہیں کیا ہے ۔عرب حکمرانوں کو امت مسلمہ کی نہیں بلکہ صرف اپنے اقتدار کی پڑی ہے ۔ انکے ملکوں کی عوام پنجروں میں بند چڑیا گھروں کے جانوروں جیسے ہیں جو کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ ہم ہی نا سمجھ ہیں جو ان سے امیدیں لکائے بیٹھے ہیں ۔


