مزمیور: نکاح کو بدعت، تجارت اور استحصال میں بدلتی ہوئی نئی سماجی لعنت

 

شبینہ رسول
کھنڈیال گریز

کشمیر میں نکاح، جو کبھی سنت، سادگی اور روحانی پاکیزگی کی علامت تھا، آج مزمیور کلچر کی صورت میں ایک ایسی نئی سماجی بدعت بن چکا ہے جس نے شادی جیسے مقدس عمل کو عبادت سے اٹھا کر کھلی ہوئی تجارت اور سودے بازی میں بدل دیا ہے، اور اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس بگڑے ہوئے منظرنامے کے کہیں نہ کہیں ہم خود بھی ذمہ دار ہیں، کیونکہ ہم نے نکاح کو آسان بنانے کے بجائے دکھاوے، غیر شرعی رابطوں اور خود ساختہ رسوم میں الجھا کر سنت کو بدعت میں بدلنے کا راستہ خود ہموار کیا؛ خاص طور پر وہ غریب اور متوسط طبقہ جو رہائش، کپڑے، دعوت اور گھر داری جیسے بنیادی اخراجات بڑی مشکل سے پورے کرتا ہے، آج اس کے سامنے یہ سوال شدید اذیت بن چکا ہے کہ مزمیور کا اضافی خرچ کہاں سے آئے؟ کیونکہ موجودہ دور کا مزمیور صرف رابطہ کروانے پر قانع نہیں بلکہ کھلے الفاظ میں “اپنی فیس” اور “اپنا حصہ” طلب کرتا ہے، اور اس کے مطالبات حیران کن حد تک سنگین ہیں جن میں لاکھوں روپے نقد رقم، سونا اور قیمتی زیورات جیسے سونے کی انگوٹھیاں، سکے اور بعض اوقات مخصوص تولہ یا وزن تک کی شرطیں مہنگی گھڑیاں، قیمتی کپڑے، جوتے، مہنگے موبائل فون، لیپ ٹاپ، سفری اخراجات، کھانے پینے کے بل، حتیٰ کہ “توشہ”، “تحفہ” اور “خوشی کا حصہ” جیسے ناموں پر اضافی رقوم اور اشیاء کا مطالبہ بھی شامل ہے، حالانکہ ان چیزوں کا نہ نکاح سے تعلق ہے اور نہ دین سے؛ افسوس یہ کہ یہ سب بغیر کسی گارنٹی، ذمہ داری یا نتیجے کے صرف ایک ملاقات، ایک پیغام یا ایک رابطے کے عوض مانگا جاتا ہے، جس کے باعث نکاح جیسے حلال اور فطری عمل کو خوف، قرض، تاخیر اور شرمندگی میں بدل دیا گیا ہے، نتیجتاً والدین شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا، نوجوان احساسِ محرومی اور بے راہ روی کے خدشات سے دوچار اور معاشرہ لالچ و تفاخر کی آگ میں جھلستا دکھائی دیتا ہے؛ حالانکہ اسلام نے نکاح کو آسان کرنے اور ہر اس نئی ایجاد شدہ رسم کو بدعت قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو، اس اعتبار سے مزمیور کلچر محض سماجی خرابی نہیں بلکہ مذہبی طور پر بھی قابلِ مذمت بدعت ہے؛ حیرت انگیز طور پر ماضی میں جب لوگ کم پڑھے لکھے تھے تب رشتے سادگی، بھروسے اور بزرگوں کی مشاورت سے طے پاتے تھے، مگر جیسے ہی ہم "تعلیم یافتہ” ہوئے، دکھاوے، مقابلے اور لالچ کے جال میں پھنس کر نکاح کی اصل روح سے دور ہوتے گئے، اس لیے آج کی نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگا کہ اگر نکاح کو دوبارہ سنت کے راستے پر لانا ہے تو مزمیور جیسی بدعت کا اجتماعی بائیکاٹ، براہِ راست خاندانی رابطے اور سادگی کو عزت دینا ناگزیر ہے، ورنہ یہ بدعت آنے والی نسلوں کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دے گی جس کے ایک طرف رشتے ہوں گے اور دوسری طرف صرف روپیہ، سونا اور لالچ کے بے نام مطالبات۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

مزمیور: نکاح کو بدعت، تجارت اور استحصال میں بدلتی ہوئی نئی سماجی لعنت

 

شبینہ رسول
کھنڈیال گریز

کشمیر میں نکاح، جو کبھی سنت، سادگی اور روحانی پاکیزگی کی علامت تھا، آج مزمیور کلچر کی صورت میں ایک ایسی نئی سماجی بدعت بن چکا ہے جس نے شادی جیسے مقدس عمل کو عبادت سے اٹھا کر کھلی ہوئی تجارت اور سودے بازی میں بدل دیا ہے، اور اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس بگڑے ہوئے منظرنامے کے کہیں نہ کہیں ہم خود بھی ذمہ دار ہیں، کیونکہ ہم نے نکاح کو آسان بنانے کے بجائے دکھاوے، غیر شرعی رابطوں اور خود ساختہ رسوم میں الجھا کر سنت کو بدعت میں بدلنے کا راستہ خود ہموار کیا؛ خاص طور پر وہ غریب اور متوسط طبقہ جو رہائش، کپڑے، دعوت اور گھر داری جیسے بنیادی اخراجات بڑی مشکل سے پورے کرتا ہے، آج اس کے سامنے یہ سوال شدید اذیت بن چکا ہے کہ مزمیور کا اضافی خرچ کہاں سے آئے؟ کیونکہ موجودہ دور کا مزمیور صرف رابطہ کروانے پر قانع نہیں بلکہ کھلے الفاظ میں “اپنی فیس” اور “اپنا حصہ” طلب کرتا ہے، اور اس کے مطالبات حیران کن حد تک سنگین ہیں جن میں لاکھوں روپے نقد رقم، سونا اور قیمتی زیورات جیسے سونے کی انگوٹھیاں، سکے اور بعض اوقات مخصوص تولہ یا وزن تک کی شرطیں مہنگی گھڑیاں، قیمتی کپڑے، جوتے، مہنگے موبائل فون، لیپ ٹاپ، سفری اخراجات، کھانے پینے کے بل، حتیٰ کہ “توشہ”، “تحفہ” اور “خوشی کا حصہ” جیسے ناموں پر اضافی رقوم اور اشیاء کا مطالبہ بھی شامل ہے، حالانکہ ان چیزوں کا نہ نکاح سے تعلق ہے اور نہ دین سے؛ افسوس یہ کہ یہ سب بغیر کسی گارنٹی، ذمہ داری یا نتیجے کے صرف ایک ملاقات، ایک پیغام یا ایک رابطے کے عوض مانگا جاتا ہے، جس کے باعث نکاح جیسے حلال اور فطری عمل کو خوف، قرض، تاخیر اور شرمندگی میں بدل دیا گیا ہے، نتیجتاً والدین شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا، نوجوان احساسِ محرومی اور بے راہ روی کے خدشات سے دوچار اور معاشرہ لالچ و تفاخر کی آگ میں جھلستا دکھائی دیتا ہے؛ حالانکہ اسلام نے نکاح کو آسان کرنے اور ہر اس نئی ایجاد شدہ رسم کو بدعت قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہو، اس اعتبار سے مزمیور کلچر محض سماجی خرابی نہیں بلکہ مذہبی طور پر بھی قابلِ مذمت بدعت ہے؛ حیرت انگیز طور پر ماضی میں جب لوگ کم پڑھے لکھے تھے تب رشتے سادگی، بھروسے اور بزرگوں کی مشاورت سے طے پاتے تھے، مگر جیسے ہی ہم "تعلیم یافتہ” ہوئے، دکھاوے، مقابلے اور لالچ کے جال میں پھنس کر نکاح کی اصل روح سے دور ہوتے گئے، اس لیے آج کی نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگا کہ اگر نکاح کو دوبارہ سنت کے راستے پر لانا ہے تو مزمیور جیسی بدعت کا اجتماعی بائیکاٹ، براہِ راست خاندانی رابطے اور سادگی کو عزت دینا ناگزیر ہے، ورنہ یہ بدعت آنے والی نسلوں کے درمیان ایسی دیوار کھڑی کر دے گی جس کے ایک طرف رشتے ہوں گے اور دوسری طرف صرف روپیہ، سونا اور لالچ کے بے نام مطالبات۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں