قبائلی ورثے کی بازیافت JNU میں فتح علی سروری کسانہ پر فکر انگیز سیمینار

جنگ نیوز ڈیسک

گوجر بکروال ٹرائبل اکیڈمک فورم، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی جے این یو کے زیر اہتمام Reclaiming Voices: Life, Literature and Legacy of Fateh Ali Sarwari Kasana یعنی فتح علی سروری کسانہ کی زندگی، ادب اور میراث ایک بازیافت کے عنوان سے ایک نہایت پُرمغز اور وقیع سیمینار منعقد ہوا۔ جن جاتی گورو دیوس کے تحت ہونے والی اس علمی نشست نے قبائلی دانشوروں، ادیبوں، محققوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک ہمہ جہت ادبی اور فکری مکالمے کا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس اجلاس میں ممتاز قبائلی مفکر، شاعر، صحافی اور سماجی مصلح فتح علی سروری کسانہ کی ہمہ جہت خدمات، عوامی بیداری کے فروغ میں ان کے کردار اور ان کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے سروری کسانہ کی فکری بصیرت، قوم پرستی اور محروم طبقات کی آواز اٹھانے کے لیے ان کی انتھک کوششوں کو قدر کی نگاہ سے یاد کیا۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر نصیب علی چودھری اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو نے خیر مقدمی کلمات سے کیا۔ انہوں نے قبائلی شخصیات کی علمی و تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ علمی اداروں کو محروم طبقات کی آواز بننے کے لیے ایسے پلیٹ فارم مسلسل فراہم کرتے رہنا چاہیے۔
سیمینار میں معزز مقررین ڈاکٹر انیل کمار سنگھ اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو، ڈاکٹر اشتیاق احمد شوق JKAS اور ایڈووکیٹ انور چودھری نے شرکت کی اور فتح علی سروری کسانہ کی متنوع خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقررین نے ان کی صحافتی بصیرت، قبائلی حقوق کے لیے ان کی مستقل جدوجہد اور عوامی اصلاح اور سماجی تعمیر نو کے لیے ان کی بے لوث کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہا۔
کلیدی خطبہ جناب حسن پرویز چودھری نے پیش کیا۔ انہوں نے سروری کسانہ کی زندگی، فکری جہات، ادبی کارناموں اور قبائلی سماج کی تعمیر و بیداری میں ان کے فعال کردار کا گہرائی سے جائزہ لیا اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو تعلیم، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سماجی شعور کی ترویج کے ذریعے جموں و کشمیر کے قبائلی طبقے کو نئی فکری سمت عطا کرتے رہے۔ انہوں نے قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سروری کسانہ کی مضبوط آواز کا بھی نمایاں ذکر کیا۔
محفل کا سب سے مؤثر اور جذباتی پہلو محترمہ زرینہ نغمی، کسانہ مرحوم کی صاحب زادی کا خطاب تھا۔ انہوں نے اپنے والد کی جدوجہد، ثابت قدمی، ایثار اور اپنی قوم کی عزت و ترقی کے لیے دی گئی ناقابل فراموش قربانیوں کو نہایت خلوص کے ساتھ یاد کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کو “گوجر بکروال کمیونٹی کے مارٹن لوتھر کنگ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مہمان خصوصی جناب بصیرالحق چودھری IAS نے اس علمی اور فکری کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے سیمینار نہ صرف قبائلی دانشوروں اور رہنماؤں کی فکری میراث کو سامنے لاتے ہیں بلکہ ان کے افکار و خدمات کو تحقیق، تاریخ اور اجتماعی علمی ذخیرے میں محفوظ کرنے کا اہم ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنی علمی اور تہذیبی تاریخ کو محفوظ نہ رکھے اور یہی دستاویزیں آنے والی نسلوں کے لیے علم و آگہی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی نسل بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور اگر وہ خلوص نیت سے اپنی قوم، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے تو یہی عمل حقیقی میراث کہلائے گا۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی یہی خدمت، لگن اور جذبہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گا اور انہی کوششوں سے ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل پائے گا۔
اختتامی کلمات ڈاکٹر ملکھان سنگھ سینئر اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو نے پیش کیے اور تمام مقررین، معزز مہمانوں، شرکا اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس علمی محفل کو ایک اہم اور بامقصد پیش رفت قرار دیا۔ یہ پروگرام نہ صرف قبائلی برادریوں کی فکری اور تہذیبی میراث کی بازیافت کی جانب ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا بلکہ فتح علی سروری کسانہ کی بے لوث خدمات اور ان کی فکری وراثت کو ازسرنو اجاگر کرنے کا ایک معنی خیز ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

قبائلی ورثے کی بازیافت JNU میں فتح علی سروری کسانہ پر فکر انگیز سیمینار

جنگ نیوز ڈیسک

گوجر بکروال ٹرائبل اکیڈمک فورم، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی جے این یو کے زیر اہتمام Reclaiming Voices: Life, Literature and Legacy of Fateh Ali Sarwari Kasana یعنی فتح علی سروری کسانہ کی زندگی، ادب اور میراث ایک بازیافت کے عنوان سے ایک نہایت پُرمغز اور وقیع سیمینار منعقد ہوا۔ جن جاتی گورو دیوس کے تحت ہونے والی اس علمی نشست نے قبائلی دانشوروں، ادیبوں، محققوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک ہمہ جہت ادبی اور فکری مکالمے کا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس اجلاس میں ممتاز قبائلی مفکر، شاعر، صحافی اور سماجی مصلح فتح علی سروری کسانہ کی ہمہ جہت خدمات، عوامی بیداری کے فروغ میں ان کے کردار اور ان کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے سروری کسانہ کی فکری بصیرت، قوم پرستی اور محروم طبقات کی آواز اٹھانے کے لیے ان کی انتھک کوششوں کو قدر کی نگاہ سے یاد کیا۔
پروگرام کا آغاز ڈاکٹر نصیب علی چودھری اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو نے خیر مقدمی کلمات سے کیا۔ انہوں نے قبائلی شخصیات کی علمی و تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ علمی اداروں کو محروم طبقات کی آواز بننے کے لیے ایسے پلیٹ فارم مسلسل فراہم کرتے رہنا چاہیے۔
سیمینار میں معزز مقررین ڈاکٹر انیل کمار سنگھ اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو، ڈاکٹر اشتیاق احمد شوق JKAS اور ایڈووکیٹ انور چودھری نے شرکت کی اور فتح علی سروری کسانہ کی متنوع خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقررین نے ان کی صحافتی بصیرت، قبائلی حقوق کے لیے ان کی مستقل جدوجہد اور عوامی اصلاح اور سماجی تعمیر نو کے لیے ان کی بے لوث کاوشوں کو خصوصی طور پر سراہا۔
کلیدی خطبہ جناب حسن پرویز چودھری نے پیش کیا۔ انہوں نے سروری کسانہ کی زندگی، فکری جہات، ادبی کارناموں اور قبائلی سماج کی تعمیر و بیداری میں ان کے فعال کردار کا گہرائی سے جائزہ لیا اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو تعلیم، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سماجی شعور کی ترویج کے ذریعے جموں و کشمیر کے قبائلی طبقے کو نئی فکری سمت عطا کرتے رہے۔ انہوں نے قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے سروری کسانہ کی مضبوط آواز کا بھی نمایاں ذکر کیا۔
محفل کا سب سے مؤثر اور جذباتی پہلو محترمہ زرینہ نغمی، کسانہ مرحوم کی صاحب زادی کا خطاب تھا۔ انہوں نے اپنے والد کی جدوجہد، ثابت قدمی، ایثار اور اپنی قوم کی عزت و ترقی کے لیے دی گئی ناقابل فراموش قربانیوں کو نہایت خلوص کے ساتھ یاد کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے والد کو “گوجر بکروال کمیونٹی کے مارٹن لوتھر کنگ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
مہمان خصوصی جناب بصیرالحق چودھری IAS نے اس علمی اور فکری کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے سیمینار نہ صرف قبائلی دانشوروں اور رہنماؤں کی فکری میراث کو سامنے لاتے ہیں بلکہ ان کے افکار و خدمات کو تحقیق، تاریخ اور اجتماعی علمی ذخیرے میں محفوظ کرنے کا اہم ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ اپنی علمی اور تہذیبی تاریخ کو محفوظ نہ رکھے اور یہی دستاویزیں آنے والی نسلوں کے لیے علم و آگہی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی نسل بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور اگر وہ خلوص نیت سے اپنی قوم، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے تو یہی عمل حقیقی میراث کہلائے گا۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی یہی خدمت، لگن اور جذبہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے گا اور انہی کوششوں سے ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ تشکیل پائے گا۔
اختتامی کلمات ڈاکٹر ملکھان سنگھ سینئر اسسٹنٹ پروفیسر جے این یو نے پیش کیے اور تمام مقررین، معزز مہمانوں، شرکا اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس علمی محفل کو ایک اہم اور بامقصد پیش رفت قرار دیا۔ یہ پروگرام نہ صرف قبائلی برادریوں کی فکری اور تہذیبی میراث کی بازیافت کی جانب ایک مؤثر قدم ثابت ہوگا بلکہ فتح علی سروری کسانہ کی بے لوث خدمات اور ان کی فکری وراثت کو ازسرنو اجاگر کرنے کا ایک معنی خیز ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں