محمد مصطفےٰ غزالی
اے شہنشاہِ سخن تجھ کو سلام
اے شہنشاہِ سخن تجھ کو سلام
ہے بہت ہی دلنشیں تیرا کلام
یوں بسا تو ہر کسی کی روح میں
دل سبھی کا ہو گیا تیرا غلام
لائقِ تحسین تیری شخصیت
قابلِ تقلید ہے تیرا پیام
مشکلاتِ روز و شب کے واسطے
رہنمائے زندگی تیرا کلام
فکر تیری انقلابِ زندگی
اور تیری شاعری فطری پیام
اے حکیمِ اُمّتِ مسلم تجھے
شعر گوئی نے دیا عصری دوام
تھا مفکر مذہبِ اسلام کا
اس لئے فن سے لیا کارِ امام
شاعرِ مشرق ترے افکار سے
اہلِ مغرب پر لگی فکری لگام
فلسفی تو نے سدا بہرِ فلاح
نسخہء حکمت دیا ہم کو مدام
پیش فرما کر خودی کا فلسفہ
بے خودی کا کر دیا قصہ تمام
جو ترے افکار سے واقف نہیں
جانتے وہ کس طرح تیرا مقام
تھی مبارک وہ حسیں ساعت بہت
قرطبہ میں جب ہوا تیرا قیام
خوابِ غفلت سے جگا کر قوم کو
دشمنِ دیں کا کیا جینا حرام
یوں ملی تحریک تجھ سے قوم کو
بن گئے سب مثلِ تیغِ بے نیام
تھا ترا یہ مقصدِ شعر و سخن
آگہی کی راہ پر آئے عوام
خواہشِ قلبِ غزالی ہے یہی
ہو عمل میں بس ترا فکری نظام


