عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر
دسمبر کا مہینہ تھا اور اتوار کا دن۔ اسلم، نجمہ اور اسرا بستی سے دور اپنے زیرِ تعمیر مکان میں ہونے والے کام کا جائزہ لینے کے لیے آئے تھے۔ راجہ کے سپاہی گھوڑوں پر سوار حسبِ معمول مین روڈ پر گشت لگا رہے تھے کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی۔ اسلم، نجمہ اور اسرا نے فوراً باتھ روم میں پناہ لی، اس لیے کہ یہی ایک محفوظ جگہ تھی۔
گولیوں کی گن گرج تقریباً پندرہ منٹ تک جاری رہنے کے بعد ہر طرف خاموشی طاری ہوئی۔ اس سے پہلے کہ راجہ کے سپاہی ان تینوں کو گھسیٹ کر مکان سے باہر نکالتے، وہ خود ہی باہر آگئے۔ دور سے راجہ کے سپاہیوں نے ان پر بندوقیں تان لیں اور انہیں ہاتھ اوپر کرکے اپنی طرف آنے کو کہا۔ یہ ابھی ان کی طرف جانے ہی والے تھے کہ دوسری جانب سے آواز آئی:
"ارے ادھر نہیں، ادھر ہمارے پاس آؤ، ہاں ہاتھ اوپر کرکے!”
یہ لوگ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ادھر جائیں یا ادھر کہ راجہ کے سپاہی دوڑتے ہوئے آئے اور تینوں کو گھیرے میں لے لیا۔ ایک چھوٹے قد کا سپاہی، جس کی ناک چپٹی، آنکھیں دھنسی ہوئی اور چہرے پر حد سے زیادہ غصہ اور نفرت تھی، اسلم کے سر پر بندوق سے مارنے ہی والا تھا کہ پاس کھڑے ایک لمبے قد کے سپاہی، جس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہ تھا اور شاید وہ ان کا افسر تھا، اس نے اسلم کو پیچھے کی طرف کھینچ کر سر پھوٹنے سے بچا لیا۔
اسلم کو سپاہیوں کے گھیرے میں چھوڑ کر وہ افسر الگ سے نجمہ اور اسرا کو نہ جانے کیا پوچھنے لگا۔ راجہ کے سپاہی اسلم سے اوٹ پٹانگ سوالات کرنے لگے۔ کوئی اسے گولی چلانے کا ذمہ دار ٹھہراتا، کوئی بغاوت پر اترے نوجوانوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا۔
ادھر اسلم سپاہیوں کے بے ہودہ اور غیر متوقع سوالات سے پریشان، ادھر نجمہ اور اسرا اس کی رہائی کے لیے افسر کے پاؤں پڑ رہی تھیں اور زار و قطار رو رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد نہ جانے افسر نے خاموشی کی زبان میں انہیں کیا کہا کہ وہ دونوں اسلم کو تنہا چھوڑ کر وہاں سے چلی گئیں۔
اب تک اسلم مکان کے صحن سے باہر، راجہ کے سپاہیوں کی نگرانی میں مین روڈ پر پہنچ چکا تھا۔ لمبے قد کے افسر نے اسلم کو وہاں جمع لوگوں سے اٹھا کر گھوڑے پر سوار کسی دوسرے بڑے افسر کے سامنے پیش کیا۔
"یہ مکان تمہارا ہے؟” افسر نے اسلم سے پوچھا۔
"ہاں سر، میرا ہے۔” اسلم نے جواب دیا۔
"وہ جو آدمی وہاں مارا گیا، وہ کون ہے؟”
"سر، وہاں کوئی نہیں مرا۔”
افسر نے اب کی بار مسکراتے ہوئے کہا، "ارے بھائی، وہاں کوئی آدمی مارا گیا ہے!”
یہ سن کر اسلم کے ہوش اڑ گئے۔ وہ ہکا بکا رہ گیا، ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ وہ اندر ہی اندر سوچنے لگا: ابھی ابھی تو ہم تینوں مکان سے باہر آئے تھے، تو اندر کون تھا جو مارا گیا؟ کہیں وہ ہمارے گھر کا کوئی اور فرد تو نہیں؟
اسلم اسی تذبذب میں تھا کہ گھوڑے پر سوار افسر نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ "جا کر اس کو دکھاؤ وہ جو مارا گیا۔” مکان کے اندر قدم رکھتے ہی جونہی اسلم کی نظر خون میں لت پت ایک لاش پر پڑی، اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، دماغ ماؤف ہو گیا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
"ہاں، بتاؤ، یہ کون ہے؟” راجہ کے ایک سپاہی نے اسلم سے پوچھا۔
"میں اس کو نہیں جانتا ہوں۔”
"مکان جو تمہارا ہے!” سپاہی نے پھر پوچھا۔
"ہاں، مکان میرا ہے۔” اسلم نے کہا۔
اتنے میں وہ چھوٹے قد کا چپٹی ناک والا راجہ کا سپاہی، جو ہاتھ دھو کر اسلم کی جان کے پیچھے پڑا تھا، اسلم کی پیٹھ پر بندوق کے بٹ سے اس قدر زور سے مارا کہ وہ دھڑام سے زمین پر گر پڑا۔ ناک اور منہ سے خون بہنے لگا اور سانس گویا رک گئی۔
چار پانچ سپاہیوں نے اسلم کو ٹانگوں سے پکڑ کر بے وقعت کچرے کی طرح اسی باتھ روم میں پھینک دیا، جس میں کچھ دیر پہلے اس نے نجمہ اور اسرا کے ساتھ جان بچانے کے لیے پناہ لی تھی۔ اسلم کے سینے پر بندوق تان کر اس کی جان کے دشمن سپاہی نے پھر وہی سوال پوچھا:
"ہاں، اب بتاؤ، یہ آدمی کون ہے؟”
"میں اس کو نہیں جانتا ہوں۔”
"گولی کھاؤ گے یا سچ بتاؤ گے؟”
بار بار پوچھے جانے والے اس سوال نے اسلم کا دماغ ماؤف کر دیا۔ اب کی بار وہ زور دار آواز سے چلایا:
"ہاں، مارو گولی!”
اسلم کے دل و دماغ سے موت کا ڈر ختم ہو چکا تھا۔ موت قریب دکھائی دے رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ نہ جانے کس سپاہی کی بندوق سے گولی نکل کر اس کے سینے کو چیرتی ہوئی اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے گی۔
"ہم اس مکان کو راکھ کر دیں گے!” بندوق تانے راجہ کے سپاہی نے کہا۔
"کرو!” اسلم نے کہا۔
"افسوس نہیں ہوگا؟” ایک اور سپاہی نے کہا۔
یہ سن کر اسلم سکتے میں آ گیا۔ اسے یاد آیا کہ کس طرح نجمہ اور اس نے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر، ارمانوں کا جنازہ نکال کر، تنکا تنکا جوڑ کر اس خوابوں کے محل کو بڑے شوق سے تعمیر کیا تھا۔ وہ دبے لفظوں میں بولا:
"وہاں افسوس ہوگا…”
اسلم کے چلانے سے وہی لمبے قد کا افسر، جو شاید اوپر والے نے اسلم کی زندگی بچانے کے لیے فرشتہ بن کر بھیجا تھا، آیا اور بولا:
"ارے، یہ بیچارہ بے قصور ہے، کیوں اس کی جان کے پیچھے پڑے ہو؟”
یہ کہہ کر اس نے اسلم کو باتھ روم سے اٹھا کر باہر مکان کے صحن میں لے آیا۔ جیب سے سگریٹ کا ڈبہ نکالتے ہوئے بولا:
"میں نے تمہاری بیوی نجمہ کو بیٹی کہا ہے۔ کون باپ اپنی جوان بیٹی کو بیوہ ہوتے ہوئے دیکھ سکتا ہے؟ بھگوان کا شکر ادا کرو، نہ جانے کون سے اچھے کرم کیے ہیں، کہیں ماں کی دعا کا اثر تو نہیں جو موت کے منہ سے نکل کر آئے ہو۔ راجہ صاحب کے سپاہیوں نے کب کا تمہارا خاتمہ کر دیا ہوتا۔ جاؤ، اپنی بیوی نجمہ اور اس کی بہن اسرا سے ملو، وہ تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔”
یہ کہتے ہوئے لمبے قد کا افسر وہاں سے چلا تو گیا، لیکن اسلم ابھی تک اس معمہ کو حل نہ کر پایا کہ "آخر وہ کون تھا؟”


