
خان سحرش
زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو وقت، فاصلوں، اور موت کی دیواروں سے بھی پار چلے جاتے ہیں۔ وہ رشتے جسم سے نہیں، روح سے بنتے ہیںاور روح کا رشتہ کبھی نہیں مرتا۔ یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی رشتے کی ہے… ایک نانی اور اُس کے نواسے کی، جن کے درمیان ایک ایسا اَن دیکھا بندھن تھا جو دنیا کے سب رشتوں سے الگ تھا۔
وہ آدمی ذہنی طور پر عام لوگوں جیسا نہیں تھا۔ اُس کے انداز میں معصومیت بھی تھی، اور بھولا پن بھی۔ مگر اُس کی دنیا صرف ایک شخص کے گرد گھومتی تھیاُس کی نانی۔ بچپن سے ہی وہ نانی کے ساتھ رہتا، نانی کے ساتھ ہنستا، اور نانی کے ہی ساتھ سوتا۔ اُس کے لیے نانی ماں بھی تھیں، باپ بھی، اور پوری دنیا بھی۔
محلّے کے لوگ جانتے تھے کہ یہ نانی کی زندگی صرف اسی نواسے کے لیے وقف تھی۔ اُس نے اپنی جوانی، اپنا آرام، حتیٰ کہ اپنی بڑھاپے کی سکون بھری راتیں بھی اُس کے نام کر دی تھیں۔ وہ اُسے کھلاتی، پلاتی، سردی گرمی سے بچاتی، اور اُس کی ہر ضد پوری کرتی۔ لوگ اکثر کہا کرتے، "یہ نانی اپنی عمر قربان کر رہی ہے اس بچے کے لیے۔” مگر اُس کے لیے یہ قربانی نہیں تھی، بلکہ محبت تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ نانی کے بال سفید ہو گئے، مگر نواسے کا ذہن وہیں بچپن میں ٹھہرا رہا۔ نانی جانتی تھیں کہ اگر وہ کبھی اس دنیا سے چلی گئیں تو یہ بچہ تنہا ہو جائے گا، بھٹک جائے گا۔ وہ اکثر دعا کرتی تھیں، "یا اللہ، جب تک میرا یہ بچہ سنبھل نہ جائے، مجھے زندہ رکھ۔” مگر زندگی کسی کی دعاؤں پر نہیں رکتی۔
پھر ایک دن وہ وقت آیا جس سے وہ ہمیشہ ڈرتی رہتی تھیں۔ نانی خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ پورا گھر اشکبار تھا، مگر سب سے زیادہ خاموش وہ تھاجسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔ وہ سب کے چہروں کو دیکھ رہا تھا، جیسے پوچھ رہا ہو، "میری نانی کہاں ہے؟ وہ سو کیوں گئی ہے؟”
اسے سمجھانے کی بہت کوشش ہوئی کہ نانی اب نہیں رہیں، مگر اُس کا ذہن اس بات کو قبول نہیں کر سکا۔ اُس نے بس اتنا کہا،”نہیں، نانی سوئی نہیں، وہ مجھ سے ناراض ہے، میں کل آؤں گا تو بولے گی۔”
چند دن بعد اُسے اپنے گھر بھیج دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا، موسم بدلتے گئے، مگر اُس کے دل کی دنیا وہیں رکی رہینانی کے صحن میں، جہاں وہ اُس کے لیے پراٹھے بناتی تھی، جہاں وہ اُس کے گالوں کو چوم کر کہتی تھی، "میرا بیٹا سب سے اچھا ہے۔”
چار سال بعد، ایک دن اچانک وہ واپس آ گیا۔ محلّے کے لوگ حیران تھے۔ اُس نے دروازے پر آ کر آواز دی،”نانی! میں آ گیا ہوں! دیکھو، میں باہر کھڑا ہوں، بلاؤ مجھے اندر!”
صحن میں خاموشی تھی، مگر اُس نے جیسے سنا ہی نہیں۔ وہ وہی بات دہراتا رہا،”نانی، میں آ گیا ہوں… میں باہر ہی ہوں، اندر بلاؤ نا!”
گھر کے لوگ باہر آئے، اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ کیا سمجھاتے کہ نانی اب چار سال سے مٹی کے نیچے ہے۔ مگر اُس کی آنکھوں میں وہی بچپن والی چمک تھیجیسے وہ واقعی اپنی نانی سے بات کر رہا ہو۔
کچھ دیر بعد اُس نے مسکراتے ہوئے کہا،”میں نے کل رات خواب میں دیکھا، نانی میرے پاس آئی تھیں۔ پوچھ رہی تھیں، میرا بچہ کیسے ہے؟ میں نے کہا، نانی، آپ کے بغیر سب خالی ہے۔ وہ ہنسیں اور بولیں، میں تمہارے آس پاس ہوں۔ بس دل سے یاد کرنا۔”
یہ سن کر سب کے دل پگھل گئے۔ آنکھیں نم تھیں، اور دلوں میں ایک ہی خیال گونج رہا تھا شاید محبت واقعی جسم سے نہیں، روح سے بندھی ہوتی ہے۔
وہ نواسہ جس نے زندگی نانی کے ساتھ گزاری، اب نانی کے بغیر بھی اُسی کے سائے میں جی رہا تھا۔ وہ روز شام کو صحن میں بیٹھ جاتا، نانی کے پسندیدہ درخت کے نیچے، اور دھیرے سے کہتا،”نانی، میں آ گیا ہوں… آج بھی باہر ہی ہوں۔”
لوگ کبھی کبھی اُس کے قریب سے گزرتے، اور کہتے، "یہ دیوانہ ہو گیا ہے۔” مگر شاید وہ دیوانہ نہیں تھا، بلکہ دنیا کا سب سے وفادار عاشق تھاجس کی محبت موت سے بھی آگے نکل گئی تھی۔
یہ کہانی شاید ہزاروں گھروں کی کہانی ہے۔ جہاں کوئی نانی، کوئی دادا، یا کوئی ماں اپنی پوری زندگی کسی ایسے بچے کے لیے قربان کر دیتے ہیں جو اُن کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اور جب وہ چلے جاتے ہیں، تو وہ بچے وقت کی دیواروں میں قید ہو جاتے ہیں۔
یہ "اَن دیکھا رشتہ” صرف ایک نانی اور نواسے کے درمیان نہیں تھا، بلکہ ہر اُس رشتے کی علامت ہے جو روح سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک ایسا بندھن جو خوابوں میں، یادوں میں، ہوا کے جھونکوں میں زندہ رہتا ہے۔
آخر میں جب وہ صحن سے جانے لگا تو مٹی پر اُس کے قدموں کے نشان رہ گئے۔ ہوا چلی، پیپل کے پتے ہلےجیسے نانی اُس کے قریب آ کر کہہ رہی ہوں،”میں یہیں ہوں، میرے بچے، تمہارے آس پاس۔”
اور وہ دھیرے سے بولا،”میں کل پھر آؤں گا نانی… تم سے ملنے۔”
یہ کہانی محض ایک واقعہ نہیں، ایک احساس ہےجو یہ بتاتا ہے کہ **محبت، خلوص، اور قربانی کا رشتہ کبھی نہیں مرتا۔** کچھ رشتے دنیا سے رخصت ہو کر بھی زندہ رہتے ہیں، کیونکہ وہ دل کے اندر، خوابوں کے پار، اور یادوں کے بیچ سانس لیتے رہتے ہیں۔


