پریس کلب آف کشمیر کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس

جنگ نیوز ڈیسک

پریس کلب آف کشمیر کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس ہفتہ کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں میڈیا برادری کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غیر منظم پھیلاؤ کو میڈیا کی ساکھ میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے نیوز پورٹل چلانے یا سوشل میڈیا پر مواد شائع کرنے کے لیے مقررہ اہلیت کے اصولوں میں نرمی کی جائے۔
اجلاس کا آغاز مرحوم صحافیوں طارق احمد (دی ویک)، نثار احمد (دی ہندو)، نصیر احمد اور شفقت صدیقی (دنک جاگرن) کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا۔ اجلاس میں وادی بھر سے ایڈیٹروں، رپورٹرز، فوٹوگرافروں اور ویڈیو جرنلسٹس نے شرکت کی۔
صدر محمد سلیم پنڈت نے یقین دلایا کہ ان کی ٹیم ایڈیٹرز، رپورٹرز، مترجمین، کیمرہ مینوں اور دیگر میڈیا کارکنوں کی فلاح و عزت کے لیے مسلسل کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے میڈیا برادری میں اتحاد اور پیشہ ورانہ ترقی پر زور دیا۔
صدر نے اجلاس میں اراکین کے خیالات سنے، کچھ نکات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں حکومت سے اٹھانے کا وعدہ کیا، تاہم چند معاملات پر اختلافِ رائے بھی ظاہر کیا۔ اس کے باوجود اراکین نے سلیم پنڈت کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ پریس کلب کی باقاعدہ عمارت ملنے تک صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پریس کلب آف کشمیر اس وقت امیراکدل، سرینگر میں گرودوارے کے قریب واقع ایک ہوٹل سے کام کر رہا ہے، کیونکہ سابق عمر عبداللہ حکومت نے عدالت کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت کو 17 نومبر 2025 تک پریس کلب کے لیے موزوں جگہ فراہم کرنے کی مہلت دی ہے۔
اجلاس میں مختلف مقامی میڈیا اداروں کے ایڈیٹرز نے بھی شرکت کی اور صدر سلیم پنڈت کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا سے متعلق متعدد اہم مسائل حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
میڈیا برادری نے صدر سلیم پنڈت کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ محکمہ اطلاعات سے سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم کا معاملہ اٹھائیں۔ ساتھ ہی، سلیم پنڈت نے مقامی اخبارات کے مدیران و مالکان سے اپیل کی کہ وہ اپنے ملازمین کو باضابطہ آفر لیٹر جاری کریں اور پروویڈنٹ فنڈ کے ضوابط پر عمل یقینی بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

پریس کلب آف کشمیر کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس

جنگ نیوز ڈیسک

پریس کلب آف کشمیر کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس ہفتہ کو ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس میں میڈیا برادری کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غیر منظم پھیلاؤ کو میڈیا کی ساکھ میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے نیوز پورٹل چلانے یا سوشل میڈیا پر مواد شائع کرنے کے لیے مقررہ اہلیت کے اصولوں میں نرمی کی جائے۔
اجلاس کا آغاز مرحوم صحافیوں طارق احمد (دی ویک)، نثار احمد (دی ہندو)، نصیر احمد اور شفقت صدیقی (دنک جاگرن) کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا۔ اجلاس میں وادی بھر سے ایڈیٹروں، رپورٹرز، فوٹوگرافروں اور ویڈیو جرنلسٹس نے شرکت کی۔
صدر محمد سلیم پنڈت نے یقین دلایا کہ ان کی ٹیم ایڈیٹرز، رپورٹرز، مترجمین، کیمرہ مینوں اور دیگر میڈیا کارکنوں کی فلاح و عزت کے لیے مسلسل کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے میڈیا برادری میں اتحاد اور پیشہ ورانہ ترقی پر زور دیا۔
صدر نے اجلاس میں اراکین کے خیالات سنے، کچھ نکات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں حکومت سے اٹھانے کا وعدہ کیا، تاہم چند معاملات پر اختلافِ رائے بھی ظاہر کیا۔ اس کے باوجود اراکین نے سلیم پنڈت کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ پریس کلب کی باقاعدہ عمارت ملنے تک صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پریس کلب آف کشمیر اس وقت امیراکدل، سرینگر میں گرودوارے کے قریب واقع ایک ہوٹل سے کام کر رہا ہے، کیونکہ سابق عمر عبداللہ حکومت نے عدالت کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے حکومت کو 17 نومبر 2025 تک پریس کلب کے لیے موزوں جگہ فراہم کرنے کی مہلت دی ہے۔
اجلاس میں مختلف مقامی میڈیا اداروں کے ایڈیٹرز نے بھی شرکت کی اور صدر سلیم پنڈت کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا سے متعلق متعدد اہم مسائل حکومت کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
میڈیا برادری نے صدر سلیم پنڈت کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ محکمہ اطلاعات سے سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم کا معاملہ اٹھائیں۔ ساتھ ہی، سلیم پنڈت نے مقامی اخبارات کے مدیران و مالکان سے اپیل کی کہ وہ اپنے ملازمین کو باضابطہ آفر لیٹر جاری کریں اور پروویڈنٹ فنڈ کے ضوابط پر عمل یقینی بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں