وُلر اور جہلم میں مچھلیاں نیست و نابود ہو رہی ہیں

جنگ نیوز ڈیسک

وُلر فشر فوک یونین اور نیچر کنزرویَنسی الائنس (NCA) نے دریائے جہلم اور وُلر جھیل کی بگڑتی ماحولیاتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کے یہ دونوں آبی ذخائر اپنی حیاتیاتی اور معاشی اہمیت کھو بیٹھیں گے۔ ان تنظیموں کے مطابق حکومت اور متعلقہ محکموں کی مسلسل غفلت نے اس قدرتی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس پر درجنوں ماہی گیر بستیوں کی زندگی اور روزگار کا انحصار ہے۔
گزشتہ ماہ دریائے جہلم کے مختلف حصوں میں برفانی ٹراؤٹ مچھلیوں کی غیر معمولی ہلاکت نے ماحولیاتی ماہرین اور مقامی برادریوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ کبھی کشمیر کی جھیلوں کی پہچان سمجھی جانے والی یہ مچھلی اب آلودگی، غیر قانونی نکاسیِ ریت، اور مسکن کی تباہی کے باعث تیزی سے ناپید ہو رہی ہے۔ ماہی گیری محکمہ نے اب تک اس واقعے پر کوئی سائنسی تحقیق یا شفاف رپورٹ جاری نہیں کی، جس سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وُلر فشر فوک یونین کے صدر غلام حسن بٹکے مطابق، “جب مچھلیاں خاموشی سے مرنے لگیں، تو یہ صرف ایک ماحولیاتی المیہ نہیں ہوتا بلکہ ہمارے کلچر اور روزگار کی موت ہوتی ہے۔”
اسی دوران، دریائے جہلم اور وُلر جھیل میں بجلی کے جھٹکوں سے مچھلیاں پکڑنے کا غیر قانونی طریقہ جسے مقامی طور پر ’الیکٹرک فشنگ‘ کہا جاتا ہے خطرناک حد تک عام ہو چکا ہے۔ یہ عمل نہ صرف بالغ مچھلیوں کو ہلاک کرتا ہے بلکہ ان کے انڈے اور ننھی مچھلیوں کو بھی ختم کر دیتا ہے، جس سے افزائشِ نسل کا پورا قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ نیچر کنزرویَنسی الائنس کے ممتاز ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے اسے ’’ماحولیاتی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف فطرت کے خلاف جرم ہے بلکہ ان برادریوں کے خلاف ظلم ہے جو ان پانیوں سے زندہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری کارروائی کرتے ہوئے آلات ضبط کرنے اور ملوث عناصر کو سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وُلر اور جہلم کی حیاتیاتی تنوع کو بچایا جا سکے۔
ادھر وُلر جھیل میں دھربندی رکاوٹوں اور ناجائز تجاوزات نے جھیل کے قدرتی بہاؤ اور حیاتیاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مچھلیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ، سلٹ کی بڑھتی مقدار اور جھیل کے سکڑتے پھیلاؤ نے اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہی گیر یونین کا کہنا ہے کہ یہ تجاوزات نہ صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے روزگار پر براہِ راست حملہ ہیں۔
وُلر فشر فوک یونین اور NCA نے ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ، WUCMA اور محکمہ ماہی گیری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو محض انتظامی نہیں بلکہ انسانی اور ماحولیاتی بحران کے طور پر دیکھیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ برفانی ٹراؤٹ کی ہلاکت کی شفاف سائنسی تحقیقات، غیر قانونی برقی مچھلی گیری کے خلاف کریک ڈاؤن، اور جھیل سے تمام تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ڈاکٹر شیخ غلام رسول کے بقول، "جھیل کی موت دراصل ایک ثقافت، تمدن اور روایت کی موت ہے۔ وُلر کوئی ویران زمین نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے، جسے انصاف، بحالی اور تحفظ کی ضرورت ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

تازہ ترین خبریں

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

زمینی تنازعہ میں بھائی نے کر دیا بھائی کا قتل

ضلع راجوری کے سب ڈویژن تھنہ منڈی کی پنچایت...

وُلر اور جہلم میں مچھلیاں نیست و نابود ہو رہی ہیں

جنگ نیوز ڈیسک

وُلر فشر فوک یونین اور نیچر کنزرویَنسی الائنس (NCA) نے دریائے جہلم اور وُلر جھیل کی بگڑتی ماحولیاتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کشمیر کے یہ دونوں آبی ذخائر اپنی حیاتیاتی اور معاشی اہمیت کھو بیٹھیں گے۔ ان تنظیموں کے مطابق حکومت اور متعلقہ محکموں کی مسلسل غفلت نے اس قدرتی نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، جس پر درجنوں ماہی گیر بستیوں کی زندگی اور روزگار کا انحصار ہے۔
گزشتہ ماہ دریائے جہلم کے مختلف حصوں میں برفانی ٹراؤٹ مچھلیوں کی غیر معمولی ہلاکت نے ماحولیاتی ماہرین اور مقامی برادریوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ کبھی کشمیر کی جھیلوں کی پہچان سمجھی جانے والی یہ مچھلی اب آلودگی، غیر قانونی نکاسیِ ریت، اور مسکن کی تباہی کے باعث تیزی سے ناپید ہو رہی ہے۔ ماہی گیری محکمہ نے اب تک اس واقعے پر کوئی سائنسی تحقیق یا شفاف رپورٹ جاری نہیں کی، جس سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وُلر فشر فوک یونین کے صدر غلام حسن بٹکے مطابق، “جب مچھلیاں خاموشی سے مرنے لگیں، تو یہ صرف ایک ماحولیاتی المیہ نہیں ہوتا بلکہ ہمارے کلچر اور روزگار کی موت ہوتی ہے۔”
اسی دوران، دریائے جہلم اور وُلر جھیل میں بجلی کے جھٹکوں سے مچھلیاں پکڑنے کا غیر قانونی طریقہ جسے مقامی طور پر ’الیکٹرک فشنگ‘ کہا جاتا ہے خطرناک حد تک عام ہو چکا ہے۔ یہ عمل نہ صرف بالغ مچھلیوں کو ہلاک کرتا ہے بلکہ ان کے انڈے اور ننھی مچھلیوں کو بھی ختم کر دیتا ہے، جس سے افزائشِ نسل کا پورا قدرتی نظام تباہ ہو رہا ہے۔ نیچر کنزرویَنسی الائنس کے ممتاز ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے اسے ’’ماحولیاتی دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف فطرت کے خلاف جرم ہے بلکہ ان برادریوں کے خلاف ظلم ہے جو ان پانیوں سے زندہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری کارروائی کرتے ہوئے آلات ضبط کرنے اور ملوث عناصر کو سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وُلر اور جہلم کی حیاتیاتی تنوع کو بچایا جا سکے۔
ادھر وُلر جھیل میں دھربندی رکاوٹوں اور ناجائز تجاوزات نے جھیل کے قدرتی بہاؤ اور حیاتیاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مچھلیوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ، سلٹ کی بڑھتی مقدار اور جھیل کے سکڑتے پھیلاؤ نے اس کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہی گیر یونین کا کہنا ہے کہ یہ تجاوزات نہ صرف ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے روزگار پر براہِ راست حملہ ہیں۔
وُلر فشر فوک یونین اور NCA نے ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ، WUCMA اور محکمہ ماہی گیری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو محض انتظامی نہیں بلکہ انسانی اور ماحولیاتی بحران کے طور پر دیکھیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ برفانی ٹراؤٹ کی ہلاکت کی شفاف سائنسی تحقیقات، غیر قانونی برقی مچھلی گیری کے خلاف کریک ڈاؤن، اور جھیل سے تمام تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
ڈاکٹر شیخ غلام رسول کے بقول، "جھیل کی موت دراصل ایک ثقافت، تمدن اور روایت کی موت ہے۔ وُلر کوئی ویران زمین نہیں بلکہ ایک زندہ ورثہ ہے، جسے انصاف، بحالی اور تحفظ کی ضرورت ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں