بلال بشیر بٹ اور سرینگر جنگ: ایک صحافتی عہد کی کہانی

اشفاق پرواز
ٹنگمرگ ، کشمیر

سال 2019 میں مجھے فیس بک پر کشمیر کے ایک نوجوان صحافی جناب بلال بشیر بٹ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ وہ ہر روز روزنامہ سرینگر جنگ کے صفحات اپنے فیس بک پر اپنے احباب کے ساتھ شئیر کیا کرتے تھے۔ چناچہ راقم بھی کم و بیش ایک دہائی سے اخبارات میں اپنے کالموں کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہتا تھا لہذا میں نے سوچا کہ کیوں کہ سرینگر جنگ میں بھی اپنے کالم شائع کرواوں ۔ بلال بشیر بٹ صاحب کے ساتھ رابطہ کیا ، انہیں انتہائی مسرت ہوئی کہ میں انکے اخبار کے لئے لکھنا چاہتا ہوں۔ اسطرح ایک طرف میں سال 2019 سے مسلسل روزنامہ سرینگر جنگ کے ساتھ جڑا ہوں تو دوسری طرف جناب بلال بشیر بٹ صاحب بھی میرے حلقہ احباب میں شامل ہو گئے۔ اس مفصل کالم کے ذریعے میں بلال صاحب کی صحافت کے تئیں گراں قدر خدمات کو بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں.
صحافت کسی بھی معاشرے کا وہ ستون ہے جو سچائی، شفافیت، انصاف اور عوامی شعور کو بیدار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہم جموں و کشمیر کی صحافتی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں، تو چند ایسے نام نمایاں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت، غیر متزلزل عزم اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے اس میدان کو ایک نیا رخ دیا۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں اور معتبر نام بلال بشیر بٹ صاحب کا ہے، جو روزنامہ "سرینگر جنگ” کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے صحافت کو ایک نئی جہت دے رہے ہیں۔
بلال بشیر بٹ ایک ایسے مدیر ہیں جنہوں نے خبر کو صرف ایک واقعہ سمجھ کر نہیں پیش کیا بلکہ اسے ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک قومی فریضہ سمجھا۔ ان کی ادارت میں "سرینگر جنگ” صرف ایک اخبار نہیں بلکہ عوام کی آواز بن کر ابھرا ہے ۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں عوامی مسائل، سماجی سچائیاں، تعلیمی ترقی، اور سیاسی بصیرت ایک جامع انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔
بلال صاحب کی صحافتی زندگی سچائی اور دیانت کی بنیاد پر استوار ہے۔ ان کا قلم کبھی جھکنا نہیں جانتا، ان کی زبان کبھی چاپلوسی نہیں کرتی، اور ان کی تحریریں ہمیشہ اصول و ضمیر کی روشنی میں سانچے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اخبار آج عوامی اعتماد اور اعتبار کا مظہر بن چکا ہے۔
انہوں نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی، چاہے وہ سیاسی صورتِ حال ہو، انتظامی کارکردگی ہو یا عام شہریوں کے روزمرہ کے مسائل۔ ان کے ادارتی نوٹس اور تجزیاتی کالم گہرے مطالعے، معروضی سوچ اور مخلصانہ جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔
بلال بشیر بٹ کی قیادت میں "سرینگر جنگ” نے جس طرح سچائی کی راہ پر قائم رہ کر مقامی اور قومی مسائل کو عوام کے سامنے رکھا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند، ت6و وسائل کی کمی بھی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
انہوں نے نہ صرف نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی کا کردار ادا کیا بلکہ ایک ایسی نسل تیار کی جو سچائی، تحقیق اور عوامی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا شعار سمجھتی ہے۔
بلال بشیر بٹ کی شخصیت میں ایک مدیر کی سنجیدگی، ایک مفکر کی بصیرت، اور ایک محقق کی گہرائی یکجا نظر آتی ہے۔ وہ صرف خبروں کے مدیر نہیں، بلکہ ایک مصلح اور فکری رہنما ہیں، جو قلم کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں "سرینگر جنگ” نے اپنی غیر جانبداری، معروضیت اور عوامی وابستگی کے باعث کشمیر میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔
بلال بشیر بٹ کے نزدیک صحافت کا مقصد سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک سچا صحافی وہی ہے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ان کے نزدیک قلم خدا کی ایک امانت ہے، جسے صرف حق کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کا اخبار "سرینگر جنگ” آج سچائی کا آئینہ اور عوامی جذبات کا ترجمان بن چکا ہے۔ ہر شمارہ میں ایک عزم جھلکتا ہے عزمِ صداقت، عزمِ دیانت، اور عزمِ خدمت۔
بلال بشیر بٹ کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر مقصد اعلیٰ ہو، نیت خالص ہو، اور محنت مخلصانہ ہو تو ایک فرد بھی انقلاب لا سکتا ہے۔ وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ قلم، جب ضمیر کے ساتھ چلتا ہے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلال بشیر بٹ نہ صرف ایک مدیر ہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہیں ایک ایسی تحریک جو سچائی، دیانت، علم، اور بیداری کی ہے۔ ان کی صحافت نے لفظوں کو وقار دیا، خبروں کو معنی دیا، اور عوام کو ایک نئی آواز دی۔
ان کی قیادت میں "سرینگر جنگ” ایک ایسا علم بردار بن چکا ہے جو سچائی کے سفر پر رواں دواں ہے، اور ان شاء اللہ یہ سفر تادیر جاری رہے گا۔
نوٹ: فاضل مضمون نگار "تعمیر معاشرہ اور اسلام کے مصنف ہیں”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

بلال بشیر بٹ اور سرینگر جنگ: ایک صحافتی عہد کی کہانی

اشفاق پرواز
ٹنگمرگ ، کشمیر

سال 2019 میں مجھے فیس بک پر کشمیر کے ایک نوجوان صحافی جناب بلال بشیر بٹ کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ وہ ہر روز روزنامہ سرینگر جنگ کے صفحات اپنے فیس بک پر اپنے احباب کے ساتھ شئیر کیا کرتے تھے۔ چناچہ راقم بھی کم و بیش ایک دہائی سے اخبارات میں اپنے کالموں کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہتا تھا لہذا میں نے سوچا کہ کیوں کہ سرینگر جنگ میں بھی اپنے کالم شائع کرواوں ۔ بلال بشیر بٹ صاحب کے ساتھ رابطہ کیا ، انہیں انتہائی مسرت ہوئی کہ میں انکے اخبار کے لئے لکھنا چاہتا ہوں۔ اسطرح ایک طرف میں سال 2019 سے مسلسل روزنامہ سرینگر جنگ کے ساتھ جڑا ہوں تو دوسری طرف جناب بلال بشیر بٹ صاحب بھی میرے حلقہ احباب میں شامل ہو گئے۔ اس مفصل کالم کے ذریعے میں بلال صاحب کی صحافت کے تئیں گراں قدر خدمات کو بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں.
صحافت کسی بھی معاشرے کا وہ ستون ہے جو سچائی، شفافیت، انصاف اور عوامی شعور کو بیدار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب ہم جموں و کشمیر کی صحافتی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں، تو چند ایسے نام نمایاں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی انتھک محنت، غیر متزلزل عزم اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے اس میدان کو ایک نیا رخ دیا۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں اور معتبر نام بلال بشیر بٹ صاحب کا ہے، جو روزنامہ "سرینگر جنگ” کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے صحافت کو ایک نئی جہت دے رہے ہیں۔
بلال بشیر بٹ ایک ایسے مدیر ہیں جنہوں نے خبر کو صرف ایک واقعہ سمجھ کر نہیں پیش کیا بلکہ اسے ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک قومی فریضہ سمجھا۔ ان کی ادارت میں "سرینگر جنگ” صرف ایک اخبار نہیں بلکہ عوام کی آواز بن کر ابھرا ہے ۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں عوامی مسائل، سماجی سچائیاں، تعلیمی ترقی، اور سیاسی بصیرت ایک جامع انداز میں پیش کی جاتی ہیں۔
بلال صاحب کی صحافتی زندگی سچائی اور دیانت کی بنیاد پر استوار ہے۔ ان کا قلم کبھی جھکنا نہیں جانتا، ان کی زبان کبھی چاپلوسی نہیں کرتی، اور ان کی تحریریں ہمیشہ اصول و ضمیر کی روشنی میں سانچے جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اخبار آج عوامی اعتماد اور اعتبار کا مظہر بن چکا ہے۔
انہوں نے اپنی تحریروں میں ہمیشہ عوامی مفاد کو ترجیح دی، چاہے وہ سیاسی صورتِ حال ہو، انتظامی کارکردگی ہو یا عام شہریوں کے روزمرہ کے مسائل۔ ان کے ادارتی نوٹس اور تجزیاتی کالم گہرے مطالعے، معروضی سوچ اور مخلصانہ جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔
بلال بشیر بٹ کی قیادت میں "سرینگر جنگ” نے جس طرح سچائی کی راہ پر قائم رہ کر مقامی اور قومی مسائل کو عوام کے سامنے رکھا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند، ت6و وسائل کی کمی بھی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
انہوں نے نہ صرف نوجوان صحافیوں کے لیے رہنمائی کا کردار ادا کیا بلکہ ایک ایسی نسل تیار کی جو سچائی، تحقیق اور عوامی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا شعار سمجھتی ہے۔
بلال بشیر بٹ کی شخصیت میں ایک مدیر کی سنجیدگی، ایک مفکر کی بصیرت، اور ایک محقق کی گہرائی یکجا نظر آتی ہے۔ وہ صرف خبروں کے مدیر نہیں، بلکہ ایک مصلح اور فکری رہنما ہیں، جو قلم کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں "سرینگر جنگ” نے اپنی غیر جانبداری، معروضیت اور عوامی وابستگی کے باعث کشمیر میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا ہے۔
بلال بشیر بٹ کے نزدیک صحافت کا مقصد سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک سچا صحافی وہی ہے جو سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہو، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ان کے نزدیک قلم خدا کی ایک امانت ہے، جسے صرف حق کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ان کا اخبار "سرینگر جنگ” آج سچائی کا آئینہ اور عوامی جذبات کا ترجمان بن چکا ہے۔ ہر شمارہ میں ایک عزم جھلکتا ہے عزمِ صداقت، عزمِ دیانت، اور عزمِ خدمت۔
بلال بشیر بٹ کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر مقصد اعلیٰ ہو، نیت خالص ہو، اور محنت مخلصانہ ہو تو ایک فرد بھی انقلاب لا سکتا ہے۔ وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ قلم، جب ضمیر کے ساتھ چلتا ہے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلال بشیر بٹ نہ صرف ایک مدیر ہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہیں ایک ایسی تحریک جو سچائی، دیانت، علم، اور بیداری کی ہے۔ ان کی صحافت نے لفظوں کو وقار دیا، خبروں کو معنی دیا، اور عوام کو ایک نئی آواز دی۔
ان کی قیادت میں "سرینگر جنگ” ایک ایسا علم بردار بن چکا ہے جو سچائی کے سفر پر رواں دواں ہے، اور ان شاء اللہ یہ سفر تادیر جاری رہے گا۔
نوٹ: فاضل مضمون نگار "تعمیر معاشرہ اور اسلام کے مصنف ہیں”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں