
رشی سوری
ہر سال 31 اکتوبر کو بھارت اپنے عظیم محسن سردار ولبھ بھائی پٹیل کو یاد کرتا ہے۔ رشٹریہ ایکتا دیوس یعنی یومِ قومی وحدت صرف ایک رہنما کی سالگرہ نہیں بلکہ اس اخلاقی اور سیاسی بصیرت کا جشن ہے جس نے جدید بھارت کو جوڑا۔ پٹیل کی یاد مناتے ہوئے ہم اس نظریے کو سلام کرتے ہیں کہ بھارت ایک ہے — ایک قوم، ایک ضمیر، ایک منزل۔
جب 1947 میں آزادی حاصل ہوئی تو برصغیر پانچ سو ساٹھ سے زیادہ ریاستوں کا جال تھا ہر ایک کی الگ وفاداریاں، الگ حکمرانی۔ ایسے میں کسی متحد بھارت کا تصور خواب معلوم ہوتا تھا۔ مگر پٹیل نے اس خواب کو حقیقت بنایا۔بطور پہلے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ، انہوں نے حکمت، صبر اور غیر معمولی عزم کے ساتھ ان ریاستوں کو بھارتی یونین میں شامل کیا۔ حیدرآباد، جوناگڑھ اور جموں و کشمیر جیسے پیچیدہ معاملات میں بھی ان کی سیاست نے ملک کی ارضی و جذباتی یکجہتی کو محفوظ رکھا۔ اسی لیے وہ بجا طور پر آہن مردِ ہند کہلائے سخت گیر نہیں بلکہ فولادی ارادے کے حامل رہنما کے طور پر۔
انہوں نے کہا تھا ’’انسانی قوت اُس وقت تک طاقت نہیں جب تک وہ اتحاد میں نہ ڈھلے، پھر وہ روحانی قوت بن جاتی ہے۔‘‘ یہی نظریہ اُن کی ہر پالیسی میں جھلکتا تھا ایک ایسا بھارت جہاں وحدت سرحدوں سے نہیں بلکہ دلوں سے جنم لیتی ہے۔
2014 میں حکومتِ ہند نے پٹیل کی سالگرہ کو رشٹریہ ایکتا دیوس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ ان کے خواب “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” ایک متحد و عظیم بھارت کو زندہ رکھا جا سکے۔پورے ملک میں رن فار یونٹی تقاریب، اسکولوں میں مباحثے اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ گجرات کے ایکتا نگر میں واقع اسٹیچو آف یونٹی 182 میٹر بلند دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ اُن کے عزم کی علامت ہے۔ مگر ایکتا دیوس کا مطلب صرف یادگاریں نہیں بلکہ طرزِ فکر ہے: ہمیں یہ سمجھنا کہ بھارت کی طاقت اس کی رنگا رنگی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ یکسانیت میں۔
آج جب دنیا اور خود ہمارا سماج تقسیموں اور انتہاپسندی کا شکار ہے، پٹیل کی بصیرت پہلے سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ ان کا ایمان تھا کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں بلکہ تعاون ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک منصف، دیانتدار اور پرامن سماج ہی پائیدار بھارت کی بنیاد ہے۔علاقائی یا نظریاتی اختلافات جب کبھی اتحاد کی رگ کو آزمانے لگیں، تو ایکتا دیوس یاد دلاتا ہے کہ تنوع ہماری کمزوری نہیں، ہماری اصل قوت ہے۔ یہ دن ہر شہری کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مذہب یا زبان سے بڑھ کر ہم سب بھارتی ہیں، اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ ملک کی ترقی میں حصہ لیں۔
پٹیل کا قوم پرستی کا تصور کبھی تنگ نظر نہیں تھا۔ اُن کی خواہش تھی کہمیری صرف ایک آرزو ہے کہ بھارت ایک اچھا پیداوار کنندہ بنے اور کوئی بھوکا نہ رہے، آنسو بہاتے ہوئے روٹی نہ مانگے۔ یہ جذبہ آج بھی پالیسی اور قیادت دونوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔جب اسکولوں اور فوجی دستوں میں اتحاد کا حلف پڑھا جاتا ہے تو دراصل یہ اُس عہد کی تجدید ہوتی ہے جو آزادی کے وقت خون اور قربانی سے لکھا گیا تھا۔ کشمیر سے کنیاکماری تک، شمال مشرق سے جزائر انڈمان تک، ایکتا دیوس کا نعرہ گونجتا ہے بھارت ایک ہے۔
آخرکار رشٹریہ ایکتا دیوس محض یادگار کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عزم کا موقع ہے۔ یہ نئی نسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ اتحاد کو عمل میں ڈھالے شمولیاتی ترقی، سماجی انصاف اور مشترکہ خدمت کے ذریعے۔ پٹیل کا قول آج بھی زندہ ہے: ’’کام عبادت ہے، محنت مقدس ہے، اور جو انسان سچے جذبے سے محنت کرے وہی سکون پاتا ہے‘‘
سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ورثہ صرف ایک مجسمے میں نہیں بلکہ کروڑوں بھارتیوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ جب ہم ہر 31 اکتوبر کو ایکتا دیوس مناتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کی اصل طاقت اُس کے ایمان میں ہے کہ اختلاف کے باوجود ہم سب ایک ہیں، اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔
ززز
ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں