سیما شکور
حیدر آباد
ہم بھی عجیب لوگ ہیں ، ہمیں اگر کسی سے کسی بات پر یا کسی اور معاملے میں اختلاف ہو جائے تو ہم انتہا پر اتر آتے ہیں۔کسی بات سے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے لیکن کم ظرف لوگ اس بات کونہیں سمجھتے۔ان کابس یہ وطیرہ بن جاتا ہے کہ ان سے کسی نے اختلاف کیا تو دشمنی کی ساری حدیں پار کر جاتے ہیں ، اتنی زیادہ اپنے دل میں کدورت اور بغض پال لیتے ہیں کہ اپنے دوست کو جانی دشمن سمجھنے لگتے ہیں، جو لوگ ذرا ذرا سی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہیں ایسے لوگ کسی بھی رشتے کے قابل نہیں ہوتے۔ اکثر مشاہد ے میں یہ بات آئی ہے کہ ذرا سا اختلاف ایسا ناسور بن جاتا ہے کہ پھر نسل در نسل دشمنیاں چلتی رہتی ہیں۔ خود پسند اور مغرور لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہاں میں ہاں ملائی جائے ان کی بے سرو پا غلط باتوں اور خیالات کو بھی سراہا جائے ظاہر ہے کہ یہ ناممکن ہے۔
آپسی اختلافات ہمیں گروہ بندیوں میں بانٹ دیتے ہیں ہم منتشر ہو جاتے ہیں مسلمان ہو کر بھی ایک دوسرے سے اس قدر متنفر ہو جاتے ہیں کہ میل جول اور بات چیت ختم کردیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ہم گروہوں میں بٹ گئے الگ الگ ہوگئے۔ ہمیں ہمیشہ نقصان ہی اٹھانا پڑا ہے۔ آپسی اختلافات کو اس حد تک نہ بڑھائیے کہ وہ دشمنی میں تبدیل ہو جائے۔ عاجزی و انکساری رکھنے والے لوگ ہمیشہ اختلاف کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بناتے۔ وہ در گزر کرتے ہیں ،معاف کر دیتے ہیں۔ اکثر لوگ اس طرح کے ہوتے ہیں کہ اگر انہیں کسی سے کسی بات پر اختلاف ہو جا ئے تو انتقام پر اتر آتے ہیں۔ جس فرد سے انہیں اختلاف ہو جائے اس کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں اس کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلاتے ہیں تا کہ اس کی عزت کومٹی میں ملادیا جائے۔ معاشرے میں اس کا کوئی مقام نہ رہ جائے یہی ایسے لوگوں کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ کسی کو نیچا دکھاتے دکھاتے کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ خودپستیوں میں گر جائیں۔ اپنی ذہنی ، جسمانی توانائیوں کو کسی سے بعض اور دشمنی رکھنے میں ضائع مت کریں۔ معمولی معمولی باتوں کو جواز بنا کر کسی سے دشمنی نبھانا یہ متکبر لوگوں کا ہی شیوہ ہو سکتا ہے۔ اپنی قیمتی زندگی کو ان فضول سی باتوں کی نذرمت ہونے دیں۔
میاں بیوی میں جب اختلافات بڑھ جاتے ہیں۔ اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے تو اکثر خواتین اپنی اولاد کو باپ کے خلاف کر دیتی ہیں وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ اس طرح بچے بے سکونی کا شکار ہو سکتے ہیں۔وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اپنے اختلاف کو اپنے تک محدود کرکے بچوں کو ذہنی سکو ن دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔باپ کا پیار نہ ملنا بچوں کی دماغی، جسمانی صحت کوتوڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ان بچوں کا مستقبل آپسی اختلاف کی وجہ سے خطرے میں پڑجاتا ہے، دشمنی میں اپنی حدود سے تجاوز آپ کی کم ظرفی کی دلیل ہے۔عزت و وقار دینے والی ذات اللہ کی ہے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔
آپسی اختلافات میں الجھ کر قیمتی رشتوںکو کھو دینا حماقت ہے۔ اختلافات کو جتنا بڑھاوا دیں گے وہ اتنے ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ اختلافات کے پہاڑ ریزہ ریزہ بھی ہو سکتے ہیں صرف اپنی جھوٹی انا کو قربان کرنا ہوگا۔ اگر آپ اپنے دل میں اختلاف کو جگہ دیتے رہیں گے تو زندگی کے سارے رنگ ایک دن پھیکے ہوتے ہوتے سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ذہنی انتشار کا عفریت آپ کی ساری خوشیوں کو نگل لے گا اور آپ بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔ خود پرستی نے بڑے بڑے فرعونوں کو زمین بوس کرکے رکھ دیا ہے۔
ہمیں اس اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ صبر اور برداشت کے بغیر کوئی بھی رشتہ کبھی پنپ نہیں سکتا۔ اکثر لوگ عقیدے کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے دشمنی مول لیتے ہیں۔ہر کوئی اپنے عقیدے کو ہی درست قرار دینے میں ایڑی چوٹی کازور لگادیتا ہے لیکن وہ کبھی اپنے آپ کو صرف اور صرف مسلمان نہیں کہہ سکتے۔عقائد کا اختلاف فریقین میں نفرتیں پیدا کر دیتا ہے۔ افسوس ہم ایک دوسرے کو عزت نہیں دے سکتے۔ عقیدے کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے پھر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ عزت کے قابل ہیں کہ نہیں۔ افسوس ہم سب اپنے اپنے عقیدے کو لے کر ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔
اعلیٰ ظرف لوگ کبھی بھی کسی بھی موقعے پر اور کسی بھی حالت میں نرم مزاجی اور خلوص کا سودا نہیں کرتے۔انہیں کسی سے کتنا بھی اختلاف ہو کیونکہ برے بننا ان کی سرشت میں نہیں ہوتا وہ ہر ایک کے لیے ہمیشہ مخلص ہی رہتے ہیں۔ اپنے اور مخالف کے درمیان لاکھ اختلافات کے با وجودکبھی بھی کسی کے لیے کبھی برا نہیں سوچ سکتے اور نہ ہی برا کر سکتے ہیں۔ وہ کبھی بھی اخلاقیات کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ تے۔ ایسے لوگوں کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے دشمن بھی تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے کیونکہ وہ کبھی بھی کسی سے جھگڑ ا نہیں کر سکتے وہ امن وامان کی فضا قا ئم رکھنا چاہتے ہیں۔ اپنے اختلافات کوپس پشت رکھ کر ہر کسی کی بھلائی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ درویش صفت لوگ ہوتے ہیں وہ کسی بھی انسان کے لئے کبھی بھی خطرہ نہیں ہوتے وہ امن کے پیامبر اور معصوم لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی خاموشی کو شکست سمجھنے والے لوگ پست ذہنیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں امن و چین ، سکھ، وفا سب ان ہی کی بدولت ہے۔ اس دنیا کی خوبصورتی ایسے ہی امن پسند لوگوں کے دم سے ہے۔ اگر آپ کو زندگی کے کسی موڑپر ایسے فقیرانہ مزاج رکھنے والے لوگ ملیں تو اُن کی قدر کیجئے۔ اپنی غرض اور اپنے مفادات کی پرواہ نہ کرنے والا یہ طبقہ اس دنیا میں خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔ سویرا یونہی نہیں ہوتا ، اجا لے یونہی نہیں پھیلتے ، امن کی کلیاں یونہی نہیں کھلتیں ۔زندگی یونہی خوبصورت نہیں ہو جاتی۔ امن کے پیامبر ا یسے ہی لوگوں کی وجہ سے تو رشتوں میں خوبصورتی ہے … رشتوں میں خوبصورتی ہے۔


