جمیل انصاری
جموں و کشمیر میں خطاطی یا خوشخطی کا فن محض ایک ہنر نہیں بلکہ ایک تہذیبی، روحانی اور ادبی روایت ہے ،جس نے صدیوں تک وادی کی شناخت کو جِلا بخشی۔ کشمیری خطاطی میں قرآنِ مجید کے نفیس نسخے، فارسی و اردو دیوان، تاریخی دستاویزات اور سرکاری کتب ایسے شاہکار رہے ہیں جنہوں نے کشمیر کو اسلامی فنونِ لطیفہ کے اہم مرکز کے طور پر روشناس کرایا۔ پرانے وقتوں میں مسجدوں، خانقاہوں اور درسگاہوں میں خوشخطی سیکھنا محض ایک فن نہیں بلکہ ایک تربیتِ روحانی تھی۔ طالب علم قلم تراشنا، سیاہی گھولنا اور حرف لکھنے سے پہلے بسم اللہ کہنا سیکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کشمیری خطاطوں کے ہاتھوں سے نکلنے والی تحریر میں سکون، احترام اور فنکارانہ لطافت جھلکتی تھی۔
جب جدیدیت کے دور میں ٹیکنالوجی نے ہر میدان پر قبضہ کیا تو وادی کے اس عظیم ورثے کو بھی زوال نے آ گھیرا۔ پرنٹنگ پریس، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل فونٹس نے وہ جگہ لے لی جو کبھی ہاتھ کی مہارت اور فنکارانہ حُسن کی تھی۔ کمپیوٹر کے ایک کلک سے وہ رسم الخط تیار ہو جاتا ہے جسے کسی خطاط کو مہینوں لگتے تھے مکمل کرنے میں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشخطی کے اس قدیم فن نے اپنی چمک کھو دی اور وہ ماہر خطاط جو برسوں سے قرآن پاک، مثنوی، دیوانِ اقبال یا کشمیری شاعری کے شہ پارے لکھتے آئے تھے، اب بے روزگاری اور گمنامی کے شکار ہیں۔
جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی، جس نے کئی دہائیوں تک خطاطی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا، کبھی وادی کے نوجوانوں کے لیے فن کی سب سے بڑی درسگاہ ہوا کرتی تھی۔ یہاں خطاطی کی تربیت حاصل کرنے والے کئی نامور اساتذہ اور فنکار آج بھی یاد کئے جاتے ہیں ۔ جن میں پیر محمد افضل مخدومی، معراج ترکوی، محمد یوسف مسکین،اسد اللہ اندرواری، محمد یعقوب نجار، سیدہ نعیمہ اختر،محمد ایوب شہری، تسکینہ محی، گلزار احمد نجار، محمد صدیق، شفیقہ جان وفائی، ساجدہ جی، سید رضا، غلام نبی نورانی، ظہور احمد شاہ، شکیل حسن کژھ کر، پنڈت کاشی ناتھ رازدان، محمد اشرف ٹاک، ادریس ملک، ایوب ملک، حنیفہ جان، پرویز نجار، ضیاء عرفان، محمد اشرف، سید شریف احمداندرابی،ولی محمد میر،شمس الدین لولابی،محمد شفیع شاہ، محمد عباس شوپیانی، عبدالسلام کوثری،شوکت احمد عباس،محمد انور لولابی، وحیدہ بختاور، مسعودہ یوسف، ضمیر احمد، شفاعت صدیق، منصور احمد شاہ، عذرا جی، رئوف حسن، جمیل انصاری، زینت گُل،رفیق کھاری،عافیہ قاری، سردار درباری سنگھ، امتیاز احمد خان،ظہور احمد بٹ، خورشید قریشی،بشیر احمد نجار،محمد حسین بٹ، امتیاز لولابی، تاثیر افضل، رئوف احمد نجار خاص طور پر شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر نے یا تو کلچرل اکیڈیمی میں خطاطی سیکھی یا بعد میں وہیں استاد بن کر اس فن کو نئی نسل تک پہنچایا۔ اکیڈمی کے تربیتی مراکز میں نستعلیق، نسخ، ثلث اور رقعہ جیسے مختلف انداز سکھائے جاتے تھے، اور طلباء کو صرف لکھنے نہیں بلکہ صبر، حسنِ ذوق اور تقدیسِ لفظ کی تربیت دی جاتی تھی۔
سال 2018 کے بعد سے کلچرل اکیڈیمی میں خطاطی کی تربیتی کلاسیں بند کر دی گئیں۔ اس فیصلے نے نہ صرف اس قدیم فن کے تسلسل کو توڑ دیا بلکہ اُن سینکڑوں نوجوانوں کے خواب بھی ادھورے چھوڑ دئے جو اس فن کو سیکھ کر اپنی شناخت اور روزگار کا ذریعہ بنانا چاہتے تھے۔ اکیڈیمی کے پرانے اساتذہ کے مطابق، اگر یہ تربیتی سلسلہ جاری رہتا تو آج کشمیر میں ایک بڑی تعداد ایسی نئی نسل تیار ہو چکی ہوتی جو اس فن کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے دنیا بھر میں روشناس کرا سکتی تھی۔
آج بھی وادی کے مختلف علاقوں سے طلباء، فنونِ لطیفہ کے شائقین اور نوجوان فنکار یہ خواہش رکھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی میں خطاطی کی تربیتی کلاسیں دوبارہ شروع کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف اُن کے شوق کو پروان چڑھائے گا بلکہ اُن کے لیے ایک باعزت روزگار کا راستہ بھی کھولے گا۔ بہت سے طلباء نے اپنی درخواستیں اور مطالبات مقامی سطح پر اکیڈیمی کے حکام تک بھی پہنچائے ہیں، تاکہ یہ روایت جو کبھی کشمیر کی شناخت ہوا کرتی تھی، دوبارہ زندہ ہو۔
کلچرل اکیڈیمی کے تربیتی مراکز کی بندش کے بعد کئی نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خطاطی سیکھنے کی کوشش کی، مگر استاد کی رہنمائی، عملی تربیت اور ادارہ جاتی ماحول کے بغیر وہ اس فن کی گہرائی تک نہیں پہنچ پائے۔ نتیجتاً، بہت سے باصلاحیت طلباء کا شوق دم توڑنے لگا۔ اگر حکومت اور ثقافتی ادارے بروقت توجہ دیں تو یہی نوجوان اس فن کو ڈیجیٹل دور کے ساتھ ملا کر ایک نئی جہت دے سکتے ہیں، مثلاً اسلامی خطاطی کی ڈیجیٹل نمائندگی، آرٹ ڈیزائن، کتابوں کے ٹائٹل اور قرآنی آرٹ ورک کے شعبے میں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جموں و کشمیر کلچرل اکیڈیمی دوبارہ اس فن کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ خوشخطی کی ورکشاپس، مقابلے، نمائشیں اور سالانہ ایوارڈوں کا آغاز کر کے نوجوانوں کو اس طرف راغب کیا جائے۔
آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوشخطی محض لکھنے کا عمل نہیں بلکہ ایک روحانی احساس، ثقافتی شناخت اور جمالیاتی ورثہ ہے۔ اگر ہم نے اس روایت کو بچانے کے لیے کوشش نہ کی تو ہماری آئندہ نسلیں اس فن کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھیں گی۔ کمپیوٹر کے دور میں بھی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر کا حسن کبھی ختم نہیں ہو سکتا ، کیونکہ قلم سے نکلا ہوا ہر حرف، انسان کے احساس، صبر اور محبت کا مظہر ہوتا ہے۔ کشمیر کی سرزمین پر اس قلمی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ خوشخطی کا یہ چراغ پھر سے روشن ہو، نوجوانوں کے خوابوں کو جِلا ملے اور وادی کی ثقافت ایک بار پھر اپنے اصل رنگوں میں نکھر اٹھے۔
زززز


