ڈاکٹر جی۔ ایم۔ پٹیل
’’NASA‘‘ (قومی ہوائی پیمائی و خلائی انتظامیہ) خلا نوردی اور خلائی تحقیق کا ایک ادارہ ہے، جو امریکی وفاقی حکومت کی ایک آزاد ایجنسی کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ ریاستہائے متحدہ میں ایک آزاد اور محفوظ مقام سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے، جہاں شہری اپنی دلچسپیوں اور تحقیقی تجربات کے اظہار کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ امریکی سائنس و تکنیک کے اُن شعبوں کا ذمہ دار ہے جن کا تعلق ہوائی جہازوں اور خلائی پروازوں سے ہے۔
ڈاکٹر تہانی عامر ’’NASA‘‘ کی لائحۂ عمل کی اعلیٰ حکام اور انتظامیہ کی سربراہ ہیں۔ کسی مسلم خاتون کا ’’NASA‘‘ جیسے ادارے میں اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنا یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔
ڈاکٹر تہانی عامر 1965 میں قاہرہ (مصر) میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد محترم جناب رفعت ایوب ایک انجینئر تھے جو دریائے نیل کے پانی کے نظام کے نگران تھے۔ والد نے تہانی کو اُن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جو اُس زمانے میں عموماً لڑکوں کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھیں، جیسے سائیکل اور موٹر کار چلانا یا اُن کی مرمت کرنا اور مالیات کا نظم سنبھالنا۔
تہانی نے قاہرہ کے ’’السلام ہائی اسکول‘‘ (گرلز ہائی اسکول) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور خصوصاً ریاضی میں اپنی غیر معمولی صلاحیت کے باعث شہرت پائی۔ قاہرہ کے مضافات میں پرورش پانے والی تہانی اپنے والد کو جب گاڑی کے انجن کی مرمت میں مصروف دیکھتیں تو انہماک سے مشاہدہ کرتیں اور سلنڈر و پسٹن کے حجم کا حساب لگاتیں۔ اسی مشاہدے نے اُن میں انجینئرنگ کے لیے غیر متزلزل جذبہ پیدا کیا۔
اگرچہ ابتدا میں اُنہوں نے میڈیکل کے شعبے میں جانے کا خواب دیکھا تھا، مگر حالات نے اُنہیں انجینئرنگ کی طرف موڑ دیا۔ صرف 17 سال کی عمر میں شادی اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھنا اُن کے لیے نہایت کٹھن مرحلہ تھا، مگر اُنہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، محنت اور ثابت قدمی سے ’’کیلکولس‘‘ کی پہلی اعلیٰ سطحی کلاس میں ’’A‘‘ گریڈ حاصل کر کے اپنی قابلیت منوائی۔
تہانی عامر ایک مسلم خاتون ہونے کے باوجود تین سادہ مگر طاقتور اصولوں پر کاربند رہیں:
1. خدا پر ایمان
2. تعلیم مواقع کی کنجی ہے
3. انسانیت کی خدمت میں ہمدردی اور مہربانی اختیار کرنا
انہی اصولوں کے ساتھ وہ امریکہ گئیں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
1983 میں وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ امریکہ ہجرت کر گئیں۔ ابتدا میں زبان کی رکاوٹ کے باعث وہ کالج میں داخلہ لینے سے ہچکچائیں، مگر شوہر کی حوصلہ افزائی سے ’’اولڈ ڈومینین یونیورسٹی‘‘ (ورجینیا) میں داخلہ لیا اور ’’کیلکولس‘‘ میں ’’A‘‘ گریڈ حاصل کیا۔ اس کامیابی نے اُنہیں یقین دلایا کہ ریاضی ایک باوقار اور بامقصد مضمون ہے۔ اُنہوں نے کہا:
’’جب میں امریکہ آئی تو انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی تھی، مگر خود اعتمادی اور شوہر کی حوصلہ افزائی سے داخلہ لیا۔ تب جانا کہ انجینئرنگ کا میدان نہ صرف مسائل کے حل کا ذریعہ ہے بلکہ اختراع کے لامحدود امکانات سے بھرپور ہے۔‘‘
مکینیکل انجینئرنگ میں ’’بی ایس‘‘ کرنے کے بعد تہانی نے فضائیات اور خلائی تخلیق کے شعبے میں ’’ماسٹرز‘‘ اور ’’اولڈ ڈومینین یونیورسٹی‘‘ سے ’’پی ایچ ڈی‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں اُنہوں نے ’’بلیک بیلٹ سکس سگما‘‘ کورس مکمل کیا جو تجارتی منصوبہ بندی میں معیار کی بہتری کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بعد ’’یونیورسٹی آف پنسلوانیا‘‘ کے ’’وارٹن ایگزیکٹو ایجوکیشن پروگرام‘‘ میں داخلہ لیا، اور پھر ’’ہارورڈ یونیورسٹی‘‘ کے کینیڈی اسکول میں ’’چیف ایگزیکٹو پروگرام‘‘ میں تعلیم حاصل کی۔
تہانی نے NASA میں ’’پروگرام ناظم‘‘ کے طور پر خلائی جہازوں کے نظامِ ترقی کا ذمہ سنبھالا۔ اُنہوں نے ’’SWOT‘‘ (سطح، پانی اور سمندر کی نقشہ سازی) منصوبے پر کام کیا جو جغرافیائی کاربن سائیکل کی نشاندہی اور فضائی مشن کی پیش رفت سے متعلق تھا۔ اُن کے نزدیک کیریئر کا بہترین لمحہ ’’NASA‘‘ کے عوامی ’’یومِ زمین‘‘ کے موقع پر سائنسی تحقیق کی اہمیت کو عام لوگوں تک پہنچانا تھا۔
نیو یارک ٹائمز کی صحافی فرانسسکا ڈونر کے مطابق:
’’تہانی عامر ایک ایسی انجینئر ہیں جو قاہرہ کے مضافات میں پلی بڑھیں اور NASA میں ملازمت حاصل کرنے والی پہلی مسلم خاتون بنیں۔‘‘
تہانی عامر پچھلے 30 برسوں سے NASA سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنے سینئر ریسرچ پروجیکٹ کے دوران NASA کے ساتھ اشتراک کیا۔ ’’ورجینیا اسپیس کنسورشیم‘‘ نے اُنہیں گرانٹ فراہم کی، اور وہ اس پروگرام میں شامل ہونے والی پہلی مسلم خاتون بنیں۔
ابتدائی طور پر وہ ہوا کی سرنگوں کے لیے آلات تیار کرنے کی لیبارٹری میں کام کرتی تھیں تاکہ ہوائی جہازوں کے حرکیاتی مظاہر کا مطالعہ کر سکیں۔ بعد ازاں وہ NASA کے مختلف شعبوں میں فائز رہیں، جن میں سائنسی ترقی، تکنیکی اختراعات، اور بین الاقوامی اشتراک شامل ہے۔
ڈاکٹر تہانی نے ہمیشہ اپنے ثقافتی، سماجی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری کی۔ وہ خدا کی رضا اور انسانی خدمت کو اپنا مقصد سمجھتی ہیں۔ وہ مساجد، اسکولوں، عبادت گاہوں اور گرجا گھروں میں مسلم خواتین کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لیے رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اُن کے والد رفعت ایوب اُن کے سب سے بڑے رہنما تھے جنہوں نے مذہبی اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر مثبت قدم کی حوصلہ افزائی کی۔
تہانی کا کہنا ہے کہ NASA میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خواتین کے لیے شاندار مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اُن کے مطابق ’’NASA‘‘ ایسا ادارہ ہے جو ناممکن خوابوں کو ممکن بنانے کے لیے سخت محنت اور مسلسل جدوجہد کی مثال ہے۔
1992 میں اپنے کالج کے سینئر سال میں اُنہوں نے NASA کے ’’محاسباتی مائعاتی حرکیات‘‘ (CFD) پروجیکٹ پر کام شروع کیا۔ وہاں اُنہوں نے سائنس دانوں کے ساتھ حقیقی زندگی کے مسائل کے سائنسی حل تلاش کیے۔ بعد میں وہ NASA کی ہوا کی سرنگوں میں ’’دباؤ اور حرارتی حساس رنگ‘‘ کے تجربات میں شریک رہیں جو طیرانیاتی تحقیقات کے لیے اہم تھے۔
فی الحال ڈاکٹر تہانی ’’NASA‘‘ کے ’’دفتر برائے آزاد پروگرامی تشخیص‘‘ (IPAO) میں بطور رکن خدمات انجام دے رہی ہیں، جہاں وہ منصوبہ بندی، انجینئرنگ سرگرمیوں اور بین الاقوامی رابطہ کاری میں مہارت کے ساتھ فرائض انجام دے رہی ہیں۔
تہانی کا ایمان اُن کے کیریئر کی بنیاد ہے۔ اُن کے مطابق ایمان انسان کو نہ صرف تحریک دیتا ہے بلکہ زندگی کا واضح ڈھانچہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اُن کے نزدیک اگر یقینِ کامل ہو تو کیریئر خود بہتر سمت میں آگے بڑھتا ہے۔
فی الوقت وہ ایک ماہر ٹیم کی قیادت کر رہی ہیں جو کائنات اور اُس کے آغاز کو سمجھنے، ستاروں اور کہکشاؤں کی تاریخ جاننے اور کائناتی تخلیق کے لمحے کی تحقیق میں مصروف ہے۔
ززز


