ورچیولٹی

فاضل شفیع بٹ
اکنگام، انت ناگ

"ساجد۔۔۔۔۔۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ پرانے رسم و رواج ختم ہونے کے عروج پر ہیں۔ ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور آج بھی تمہارے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ اپنی سوچ بدل ڈالو۔ آپ اتنی اچھی خاصی سرکاری نوکری کرنے کے باوجود ایک موبائل فون کیوں نہیں خرید لیتے۔۔۔۔۔؟ آج کل اپنے رشتے داروں کے یہاں کون جاتا ہے۔ بس ایک ویڈیو کال سے حال احوال پوچھ لینا ایک رواج بن چکا ہے اور آپ ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
"نبیل بھائی۔۔۔۔۔۔ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھے ان چیزوں کے ساتھ کوئی لگاو نہیں ہے۔ میں آج بھی ہر رشتہ دار کے گھر آتا جاتا رہتا ہوں، سب کی خبر لیتا ہوں، تبھی مجھے سکون ملتا ہے۔ خیر آپ کے کہنے پر میں آج ہی بازار سے ایک موبائل فون خرید لوں گا۔۔۔”
ساجد ایک سیدھا سادہ، تعلیم یافتہ سرکاری ملازم تھا جو اپنی امی جان کا بھر پورخیال رکھتا تھا۔ نبیل کے کہنے پر ساجد نے بازار سے ایک موبائل فون خرید لیا اور نبیل کی مدد سے موبائل فون استعمال کرنے کے فن سے آگاہ ہوا۔ اب ساجد بھی اپنے رشتے داروں کا حال احوال فون پر ہی پوچھنے لگا۔ اپنے دوست کے کہنے پر ساجد نے فیس بک چلانا بھی شروع کر دیا اور اس طرح اس کی زندگی میں اب نئے اور اجنبی دوستوں کی آمد کا آغاز ہوا۔ ساجد نے نہایت کم مدت میں بہت سارے دوست بنا لیے جو ساجد کی ہر ایک پوسٹ کو لائیک کرتے تھے اور کبھی کبھار کمنٹ بھی کیا کرتے تھے۔
ایک دن ساجد کو کسی انجان لڑکی سے فرینڈ ریکویسٹ آئی۔لڑکی کا فیس بک نام پری تھا۔۔۔ ساجد نے بھی پری نام دیکھتے ہی ریکویسٹ قبول کرلی اور اس طرح ساجد کی زندگی میں ایک نئے دوست کا اضافہ ہوا۔ پری نے ساجد کے پروفائل میں گہری دلچسپی دکھائی، وہ ساجد کے ہر پوسٹ پر لائک اور کمنٹ کرنے لگی اور ساتھ ہی ساجد کی کافی پذیرائی کرنے لگی جس کی وجہ سے ساجد کافی حد تک متاثر ہوا۔
چند روز بعد پری نے ساجد کو میسج کر کے اس کا حال چال پوچھا اور اس طرح فیس بک پر ساجد اور پری کی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بائیس سالہ پری کولکتہ کی رہنے والی ایک ٹیچر تھی جو گھر میں اپنی بیمار ماں کے ہمراہ رہتی تھی۔ اس کے علاوہ پری کے پاس ایک شاندار گھر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت گاڑی بھی تھی اور ان سب چیزوں کی تصویریں پری نے ساجد کو ارسال کیں۔ یہ ساری باتیں پری نے ساجد کے ساتھ فیس بک پر شیئر کی۔ ساجد نے بھی پری کو اپنے گھر کے حالات سے روشناس کیا اور اس طرح ساجد اور پری بہت اچھے دوست بن گئے۔
ساجد دفتری کام سے چند دن موبائل فون کا زیادہ استعمال نہ کر سکا اور خاص طور پر پری سے اس کا رابطہ منقطع رہا۔ مصروفیات کے بعد ساجد کا فیس بک انبئکس پری کےپیغامات سے بھرا ہوا تھا جس میں رومانٹک اشعار کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی تھی۔ پری نے ساجد کو بے وفا یار کے لقب سے بھی نوازا تھا۔ ساجد یہ دیکھ کر چونک گیا۔ وہ پری کو دل و جان سے چاہنے لگا تھا۔ دراصل پری نے اسکے دل میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔ ساجد نے اپنی مصروفیات کی وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک معافی نامہ اور اپنا فون نمبر پری کےانبئکس میں بھیج دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں ساجد کے فون کی گھنٹی بج گئی۔۔ یہ کوئی انجان نمبر تھا۔۔ ساجد نے ہیلو کیا!
دوسری جانب ایک نہایت خوبصورت اور دلکش آواز نےساجد کو سلام کیا:
” السلام علیکم ساجد، میں کولکتہ سے پری بول رہی ہوں”
ساجد خوشی سے پھولے نہ سمایا۔۔ یوں ساجد اور پری کے درمیان بھرپور عشق کا آغاز ہوا۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے فون پر دیر رات تک باتیں کرنے لگے۔ قلیل مدت میں دونوں نے آپس میں شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ساجد نے اپنی امی سے مشورہ لینا مناسب سمجھا اور اپنے عشق کی داستان سے امی کو آگاہ کیا۔ امی نے صاف صاف یہ کہہ کر منع کر دیا کہ انٹرنیٹ کی دنیا کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ امی نے یہ بھی کہا کہ پہلے کولکتہ چلتے ہیں۔ اُدھر پری کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے محلے والوں سے پری کے اہل خانہ اور خاندان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔
ساجد نے پری کو فون کرکے اپنی امی جان کی رائے سے آگاہ کیا۔ یہ باتیں سن کر پری آگ بگولہ ہوئی اور غصے کی حالت میں اس نے فون کاٹ دیا۔ پری کا فون کاٹ دینا گویا ساجد کے دل کو چھلنی کرنے کے مترادف تھا۔ ساجد تنہائیوں میں پریشان حال پری کو یاد کرنے لگا اور اس دوران کبھی کبھی جذباتی ہوکر رنجیدہ بھی ہوتا تھا۔ اس کا دل پری کی یادوں میں ڈوب گیا۔
اچانک ساجد کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا اسکے موبائل اسکرین پر اسکی محبوبہ کا نمبر تھا۔ فون دیکھتے ہی ساجد نے ایک راحت کا سانس لیا۔ ساجد نے اپنی مجبوری اور امی جان کے فیصلے کے متعلق پری کو بتایا کہ وہ کس قدر بے بس تھا ۔ پری نے ساجد کو تسلی دی اور چند ہی منٹوں میں ساجد کا فون پری کی حجاب آمیز اور خوبصورت تصویروں سے بھر گیا۔ ساجد نے سیدھے کچن کا رخ کیا اور تصاویر اپنی امی جان کو پیش کیں۔ امی جان نے اب بھی ان تصویروں کا بھروسہ نہیں کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ کوئی اسکے بیٹے کو شاید الو بنا رہا ہے ۔ اس نے اپنے بیٹے کو لاکھ سمجھایا لیکن اب ساجد اپنی ضد پر اتر آیا ۔۔ وہ دل سے مجبور تھا۔۔ وہ عشق کی آگ میں جل رہا تھا اور اس نے پری سے شادی کرنے کا حتمی فیصلہ سنا دیا۔ امی جان ساجد کی ضد کے سامنے بےیار ومدد گار تھی کیونکہ ساجد اس کے بڑھاپے کا واحد سہارا تھا۔
ساجد اور پری نے فون پر شادی کی تاریخ بھی مقررکی۔وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے تھے اور جلد از جلد شادی کے بندھن میں قید ہونا چاہتے تھے۔۔ ساجد کی شادی میں محض بیس دن کا فاصلہ تھا اور بالآخر وہ گھڑی آگئی جب ساجد اپنے دوست نبیل کے ہمراہ کولکتہ پری کے دیے ہوئے پتے پر روانہ ہوا۔ طویل مسافت طے کرنے کے بعد ساجد اور نبیل پری کے گھر پہنچ گئے جہاں پری کی والدہ نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔ پری شاپنگ کے سلسلے میں بازار گئی ہوئی تھی۔ جب دیر رات تک پری گھرواپس نہیں لوٹی تو ساجد اور نبیل ایک کمرے میں سو گئے، کیونکہ وہ سفر کے دوران بہت تھک گئے تھے۔
آج شادی کا عظیم دن تھا ۔۔ ساجد نے فجر کی نماز ادا کی اور اللہ کے حضور کافی گڑ گڑایا۔۔ وہ پری کو دیکھنے کے لئے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ دس بجے کے قریب ایک مولوی صاحب پری کے گھر وارد ہوا۔۔مولوی صاحب کو نکاح کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ گونگھٹ کی آڑ میں نکاح کی مقدس تقریب تکمیل کو پہنچ گئی۔
اب نکاح مکمل ہو چکا تھا، لیکن ساجد پری کی ایک نگاہ کے لیے ترس رہا تھا۔ وہ اپنے موبائل میں پری کی خوبصورت تصویروں کو دیکھ کر اپنی بے چینی میں کچھ حد تک راحت محسوس کر رہا تھا اور اسی بیچ پری نے ساجد کو اپنی آرام گاہ میں مدعو کیا۔
وہ سماں آگیا تھا جس کا ساجد پچھلے چھ ماہ سے منتظر تھا۔ اپنی خوبصورت بیوی کی جلوہ گری میں محض چند لمحات باقی تھے۔ اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہی تھیں اور پری نے اپنے رخ سے گھونگھٹ ہٹا کر ساجد کا خیرمقدم کیا۔ پری کو دیکھتے ہی ساجد کا سر چکرا گیا۔ جس بائیس سالہ خوبصورت پری کو ساجد نے اب تک اپنے موبائل کی اسکرین پر دیکھا تھا وہ کوئی چالیس پچاس سالہ، سانولے رنگ کی عورت تھی۔ ساجد کے سجے سجائے خواب زمین بوس ہو گئے ۔ اس کے ارمان مٹی میں مل رہے گئے۔ یہ سارا ماجرا اس کی سمجھ سے پرے تھا۔ مکار پری نے ساجد کی بے بسی کو بھانپتے ہوئے ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ساجد سے مخاطب ہوئے کہا،
” ساجد میاں۔۔۔۔۔۔۔ میرا اصل نام حسینہ ہے اور یہ میری تیسری شادی ہے۔ جو تصویریں میں نے آپ کو فیس بک پر ار سال کی تھی وہ دراصل میں نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔ آپ کتنے اچھے ہو، سچے ہو، جو آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا۔ چلو اب پری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہو اور اپنی آنکھوں میں اپنی پیاری بیگم حسینہ کی صورت کو قید کر لو کیونکہ اب آگے کی زندگی میرے ساتھ ہی بسر کرنی ہے۔۔۔!!
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

ورچیولٹی

فاضل شفیع بٹ
اکنگام، انت ناگ

"ساجد۔۔۔۔۔۔ اب دنیا بدل چکی ہے۔ پرانے رسم و رواج ختم ہونے کے عروج پر ہیں۔ ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے اور آج بھی تمہارے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ اپنی سوچ بدل ڈالو۔ آپ اتنی اچھی خاصی سرکاری نوکری کرنے کے باوجود ایک موبائل فون کیوں نہیں خرید لیتے۔۔۔۔۔؟ آج کل اپنے رشتے داروں کے یہاں کون جاتا ہے۔ بس ایک ویڈیو کال سے حال احوال پوچھ لینا ایک رواج بن چکا ہے اور آپ ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
"نبیل بھائی۔۔۔۔۔۔ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھے ان چیزوں کے ساتھ کوئی لگاو نہیں ہے۔ میں آج بھی ہر رشتہ دار کے گھر آتا جاتا رہتا ہوں، سب کی خبر لیتا ہوں، تبھی مجھے سکون ملتا ہے۔ خیر آپ کے کہنے پر میں آج ہی بازار سے ایک موبائل فون خرید لوں گا۔۔۔”
ساجد ایک سیدھا سادہ، تعلیم یافتہ سرکاری ملازم تھا جو اپنی امی جان کا بھر پورخیال رکھتا تھا۔ نبیل کے کہنے پر ساجد نے بازار سے ایک موبائل فون خرید لیا اور نبیل کی مدد سے موبائل فون استعمال کرنے کے فن سے آگاہ ہوا۔ اب ساجد بھی اپنے رشتے داروں کا حال احوال فون پر ہی پوچھنے لگا۔ اپنے دوست کے کہنے پر ساجد نے فیس بک چلانا بھی شروع کر دیا اور اس طرح اس کی زندگی میں اب نئے اور اجنبی دوستوں کی آمد کا آغاز ہوا۔ ساجد نے نہایت کم مدت میں بہت سارے دوست بنا لیے جو ساجد کی ہر ایک پوسٹ کو لائیک کرتے تھے اور کبھی کبھار کمنٹ بھی کیا کرتے تھے۔
ایک دن ساجد کو کسی انجان لڑکی سے فرینڈ ریکویسٹ آئی۔لڑکی کا فیس بک نام پری تھا۔۔۔ ساجد نے بھی پری نام دیکھتے ہی ریکویسٹ قبول کرلی اور اس طرح ساجد کی زندگی میں ایک نئے دوست کا اضافہ ہوا۔ پری نے ساجد کے پروفائل میں گہری دلچسپی دکھائی، وہ ساجد کے ہر پوسٹ پر لائک اور کمنٹ کرنے لگی اور ساتھ ہی ساجد کی کافی پذیرائی کرنے لگی جس کی وجہ سے ساجد کافی حد تک متاثر ہوا۔
چند روز بعد پری نے ساجد کو میسج کر کے اس کا حال چال پوچھا اور اس طرح فیس بک پر ساجد اور پری کی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بائیس سالہ پری کولکتہ کی رہنے والی ایک ٹیچر تھی جو گھر میں اپنی بیمار ماں کے ہمراہ رہتی تھی۔ اس کے علاوہ پری کے پاس ایک شاندار گھر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت گاڑی بھی تھی اور ان سب چیزوں کی تصویریں پری نے ساجد کو ارسال کیں۔ یہ ساری باتیں پری نے ساجد کے ساتھ فیس بک پر شیئر کی۔ ساجد نے بھی پری کو اپنے گھر کے حالات سے روشناس کیا اور اس طرح ساجد اور پری بہت اچھے دوست بن گئے۔
ساجد دفتری کام سے چند دن موبائل فون کا زیادہ استعمال نہ کر سکا اور خاص طور پر پری سے اس کا رابطہ منقطع رہا۔ مصروفیات کے بعد ساجد کا فیس بک انبئکس پری کےپیغامات سے بھرا ہوا تھا جس میں رومانٹک اشعار کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی تھی۔ پری نے ساجد کو بے وفا یار کے لقب سے بھی نوازا تھا۔ ساجد یہ دیکھ کر چونک گیا۔ وہ پری کو دل و جان سے چاہنے لگا تھا۔ دراصل پری نے اسکے دل میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔ ساجد نے اپنی مصروفیات کی وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک معافی نامہ اور اپنا فون نمبر پری کےانبئکس میں بھیج دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں ساجد کے فون کی گھنٹی بج گئی۔۔ یہ کوئی انجان نمبر تھا۔۔ ساجد نے ہیلو کیا!
دوسری جانب ایک نہایت خوبصورت اور دلکش آواز نےساجد کو سلام کیا:
” السلام علیکم ساجد، میں کولکتہ سے پری بول رہی ہوں”
ساجد خوشی سے پھولے نہ سمایا۔۔ یوں ساجد اور پری کے درمیان بھرپور عشق کا آغاز ہوا۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے فون پر دیر رات تک باتیں کرنے لگے۔ قلیل مدت میں دونوں نے آپس میں شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ساجد نے اپنی امی سے مشورہ لینا مناسب سمجھا اور اپنے عشق کی داستان سے امی کو آگاہ کیا۔ امی نے صاف صاف یہ کہہ کر منع کر دیا کہ انٹرنیٹ کی دنیا کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ امی نے یہ بھی کہا کہ پہلے کولکتہ چلتے ہیں۔ اُدھر پری کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے محلے والوں سے پری کے اہل خانہ اور خاندان کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔
ساجد نے پری کو فون کرکے اپنی امی جان کی رائے سے آگاہ کیا۔ یہ باتیں سن کر پری آگ بگولہ ہوئی اور غصے کی حالت میں اس نے فون کاٹ دیا۔ پری کا فون کاٹ دینا گویا ساجد کے دل کو چھلنی کرنے کے مترادف تھا۔ ساجد تنہائیوں میں پریشان حال پری کو یاد کرنے لگا اور اس دوران کبھی کبھی جذباتی ہوکر رنجیدہ بھی ہوتا تھا۔ اس کا دل پری کی یادوں میں ڈوب گیا۔
اچانک ساجد کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا اسکے موبائل اسکرین پر اسکی محبوبہ کا نمبر تھا۔ فون دیکھتے ہی ساجد نے ایک راحت کا سانس لیا۔ ساجد نے اپنی مجبوری اور امی جان کے فیصلے کے متعلق پری کو بتایا کہ وہ کس قدر بے بس تھا ۔ پری نے ساجد کو تسلی دی اور چند ہی منٹوں میں ساجد کا فون پری کی حجاب آمیز اور خوبصورت تصویروں سے بھر گیا۔ ساجد نے سیدھے کچن کا رخ کیا اور تصاویر اپنی امی جان کو پیش کیں۔ امی جان نے اب بھی ان تصویروں کا بھروسہ نہیں کیا۔ وہ جانتی تھیں کہ کوئی اسکے بیٹے کو شاید الو بنا رہا ہے ۔ اس نے اپنے بیٹے کو لاکھ سمجھایا لیکن اب ساجد اپنی ضد پر اتر آیا ۔۔ وہ دل سے مجبور تھا۔۔ وہ عشق کی آگ میں جل رہا تھا اور اس نے پری سے شادی کرنے کا حتمی فیصلہ سنا دیا۔ امی جان ساجد کی ضد کے سامنے بےیار ومدد گار تھی کیونکہ ساجد اس کے بڑھاپے کا واحد سہارا تھا۔
ساجد اور پری نے فون پر شادی کی تاریخ بھی مقررکی۔وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے تھے اور جلد از جلد شادی کے بندھن میں قید ہونا چاہتے تھے۔۔ ساجد کی شادی میں محض بیس دن کا فاصلہ تھا اور بالآخر وہ گھڑی آگئی جب ساجد اپنے دوست نبیل کے ہمراہ کولکتہ پری کے دیے ہوئے پتے پر روانہ ہوا۔ طویل مسافت طے کرنے کے بعد ساجد اور نبیل پری کے گھر پہنچ گئے جہاں پری کی والدہ نے بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا۔ پری شاپنگ کے سلسلے میں بازار گئی ہوئی تھی۔ جب دیر رات تک پری گھرواپس نہیں لوٹی تو ساجد اور نبیل ایک کمرے میں سو گئے، کیونکہ وہ سفر کے دوران بہت تھک گئے تھے۔
آج شادی کا عظیم دن تھا ۔۔ ساجد نے فجر کی نماز ادا کی اور اللہ کے حضور کافی گڑ گڑایا۔۔ وہ پری کو دیکھنے کے لئے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ دس بجے کے قریب ایک مولوی صاحب پری کے گھر وارد ہوا۔۔مولوی صاحب کو نکاح کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ گونگھٹ کی آڑ میں نکاح کی مقدس تقریب تکمیل کو پہنچ گئی۔
اب نکاح مکمل ہو چکا تھا، لیکن ساجد پری کی ایک نگاہ کے لیے ترس رہا تھا۔ وہ اپنے موبائل میں پری کی خوبصورت تصویروں کو دیکھ کر اپنی بے چینی میں کچھ حد تک راحت محسوس کر رہا تھا اور اسی بیچ پری نے ساجد کو اپنی آرام گاہ میں مدعو کیا۔
وہ سماں آگیا تھا جس کا ساجد پچھلے چھ ماہ سے منتظر تھا۔ اپنی خوبصورت بیوی کی جلوہ گری میں محض چند لمحات باقی تھے۔ اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہی تھیں اور پری نے اپنے رخ سے گھونگھٹ ہٹا کر ساجد کا خیرمقدم کیا۔ پری کو دیکھتے ہی ساجد کا سر چکرا گیا۔ جس بائیس سالہ خوبصورت پری کو ساجد نے اب تک اپنے موبائل کی اسکرین پر دیکھا تھا وہ کوئی چالیس پچاس سالہ، سانولے رنگ کی عورت تھی۔ ساجد کے سجے سجائے خواب زمین بوس ہو گئے ۔ اس کے ارمان مٹی میں مل رہے گئے۔ یہ سارا ماجرا اس کی سمجھ سے پرے تھا۔ مکار پری نے ساجد کی بے بسی کو بھانپتے ہوئے ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ساجد سے مخاطب ہوئے کہا،
” ساجد میاں۔۔۔۔۔۔۔ میرا اصل نام حسینہ ہے اور یہ میری تیسری شادی ہے۔ جو تصویریں میں نے آپ کو فیس بک پر ار سال کی تھی وہ دراصل میں نے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کی تھیں۔ آپ کتنے اچھے ہو، سچے ہو، جو آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا۔ چلو اب پری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہو اور اپنی آنکھوں میں اپنی پیاری بیگم حسینہ کی صورت کو قید کر لو کیونکہ اب آگے کی زندگی میرے ساتھ ہی بسر کرنی ہے۔۔۔!!
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون