اداروں کے درندے

 

حفصہ بیگ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو جامعہ کویمپو یونیورسیٹی

وہ لمحہ ایسا تھا گویا فرحت کی روح اس کے بدن کو چھوڑ گئی ہو۔ گویا وہ موت کے سائے میں کھڑی ہو۔ اس کے دل و دماغ سے سوال اٹھا رہے تھے: کیا عورت ہونا بذاتِ خود کوئی جرم ہے؟ کیا غیر معمولی حسن و جمال کا حامل ہونا گناہِ عظیم ہے؟ لوگ شاید سچ کہتے ہیں کہ عورت مجبور اور لاچار ہے، مگر کب؟ جب اس کے وقار و عزت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب اس کی پاکیزگی کو ناپاک نگاہوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تب وہ سب سے زیادہ کمزور، سب سے زیادہ بے یار و مددگار محسوس کرتی ہے۔ آخر ایک عورت کا محفوظ ٹھکانہ کہاں ہے جہاں وہ بے خوف رہ سکے؟ وہ معاشرہ جو بھوکے درندوں کی مانند ہر ذرے پر جھپٹنے کو تیار ہے، چاہے وہ رشتے میں ہو، دفتر میں ہو، یا گلی محلے میں۔ عورت ہر جگہ غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔
یہ سوالات فرحت کے سینے پر بھاری پتھر کی مانند بیٹھے تھے۔ اوپر سے سانس رکتے محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھوں سے جاری اشک دریائے درد کی مانند بہہ نکلے۔ بارہا ضبط کی کوشش کے باوجود اشک رواں اپنی روانی پر مصر تھے۔ اس پر ایسی کیفیت طاری تھی جیسے وہ تپتے صحرائی ریگزار میں ننگے پاؤں کھڑی ہو۔ بدن لرز رہا تھا، کوئی سہارا دینے والا نہیں تھا۔ بس سٹاپ پر کھڑی فرحت جب بس آئی تو وہ بھاری قدموں اور کانپتے وجود کے ہمراہ کسی طرح اندر گئی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس کے ہاتھ بے اختیار بار بار رگڑنے لگے، گویا جِلد کو کھینچ کر نکالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اس نے ہاتھ کھڑکی سے باہر دھونے شروع کیے۔ کچھ دیر ایسی ہی گھٹن میں بیٹھی رہی۔ پھر دل ہی دل میں آواز آئی: اگر میں ہاتھ خود ہی کاٹ دوں تو کیا فرق پڑے گا؟ وہ حادثہ جو میرے شعور پر داغ کی مانند ثبت ہو چکا ہے، اسے کیسے مٹایا جائے؟ وہ نشان جو میرے وجود پر جلتے لوہے کی مہر کی مانند نقش ہو چکا ہے، اسے کیسے نکال پاؤں گی؟
فرحت ایک ایسی لڑکی تھی جس نے زندگی کی کٹھن راہوں کو جرات و استقامت سے طے کیا اور اپنی محنت کی بدولت ایک شاندار ملازمت حاصل کی۔ وہ اپنے کام سے گہری محبت رکھتی تھی اور خلوصِ کامل کے ساتھ ہر فرض ادا کرتی تھی۔ اس کا ایمان تھا کہ رنج و مصائب زندگی کا لازمی جزو ہیں اور ہر دکھ درحقیقت خالقِ کائنات کی ایک سخت مگر منصفانہ آزمائش ہوتی ہے۔ اس لیے اس نے شکوے کی راہ اختیار کرنے کے بجائے محنت و جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔ ہر مشکل کو صبر و ہمت سے برداشت کیا اور ہر چیلنج کو اپنی قوتِ ارادی سے حل کرنے کی ٹھانی۔ فرحت کا یہ عقیدہ تھا کہ شکوہ انسان کو کمزور کرتا ہے، جبکہ بصیرت اور محنت ہی انسان کو سنبھالتی ہے اور آہستہ آہستہ منزل تک پہنچاتی ہے۔
فرحت کی زندگی محنت، سچائی، اور خلوص کا آئینہ تھی۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو عبادت کی طرح ادا کرتی تھی۔ دفتر میں سب اس کی دیانت کی قدر کرتے تھے۔ سینیئر افسر، جو عمر میں اس کے باپ کے برابر تھے، اکثر اس کے کام کی تعریف کرتے اور عزت کے ساتھ پیش آتے۔ وقت گزرتا گیا، اور فرحت کا نام دفتر میں بھروسے اور وقار کی علامت بنتا گیا۔ فرحت کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون تھیں شیبا دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی سے اسکی ترقی سے جلتی تھیں اور اس کا کام بگاڑنے یا لوگوں کے سامنے اسے برا دکھانے کی پوری کوشش کرتی تھیں، مگر فرحت اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے میں مصروف رہتی تھی۔
ایک دن ایسا آیا جس نے اس کے وجود کی جڑیں ہلا دیں۔ دفتر سے واپسی پر اس کے سینیئر افسر نے کہا: "آؤ، میں تمہیں بس سٹاپ تک چھوڑ دیتا ہوں، میں بھی اسی راستے سے جا رہا ہوں۔” فرحت نے اس پر بھروسہ کیا کیونکہ وہ اس کا سینیئر افسر تھا، اس کے باپ کی عمر کا شخص، اور اس کی شخصیت و صلاحیت سماج میں بھروسے کے مقام پر تھی۔ بلا جھجھک وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ راستہ کٹ رہا تھا کہ اچانک گاڑی ایک سنسان جگہ پر رک گئی۔ لمحہ بھر کے لیے فرحت کا دل رک سا گیا۔ فضا میں عجیب سکوت تھا، لیکن وہ دہشت پیدا کر رہا تھا۔ وہ حالات کو سمجھنے ہی والی تھی کہ اچانک افسر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
فرحت کے لیے یہ لمحہ گویا موت کے دہانے پر کھڑا کر گیا۔ اسے لگا جیسے زمین اس کے پاؤں تلے کھسک گئی ہو، جیسے کوئی اندھا کنواں اسے اندر کی جانب کھینچ رہا ہو۔ افسر نے دبے لہجے میں کہا:”میں نے تم جیسی حسین لڑکی آج تک نہیں دیکھی۔ اتنی نازک، اتنی دلربا ہو تم۔ کیا ساری جوانی یوں ہی گزرنے دو گی؟ تمہارے ہر جذبے کو میں اپنی چاہت سے تسکین دوں گا، لیکن شرط یہ ہے کہ تمہارا تعلق صرف مجھ تک محدود رہے، کسی اور کے ساتھ نہیں۔ یہ دنیا تو بہت چھوٹی ہے، اس میں جتنا لطف اٹھانا ہے، ابھی اور اسی لمحے اٹھانا چاہیے۔ جوانی تو ہوتی ہی مزے کے لیے ہے۔”
وہ الفاظ بظاہر نرم تھے، مگر زہر سے لبریز۔ فرحت کی زبان جیسے گونگ ہو گئی۔ دل کے اندر ایک نہ ختم ہونے والی چیخ ابری، ایسی چیخ جو صرف روح سن سکتی تھی، باقی دنیا نہیں۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے کسی بھوکے درندے نے اسے نوچ ڈالا ہو، اور وہ اپنی روح کو زندہ ہی زندہ کٹتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، سانسیں رکنے لگیں، اور آنکھوں میں ایسا طوفان ابھرا جس نے سارے حوصلے ڈبو دیے۔
آنسوؤں کا سمندر پلکوں پر تھم گیا تھا۔ افسر نے اور قریب ہو کر کہا: "چلو، کہیں دور چلتے ہیں، صرف میں اور تم۔ کہیں ہوٹل میں رک جاتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ ہماری ملاقات کا علم کسی کو نہ ہو گا، اور نہ ہی ہم کسی کو اس کے بارے میں بتائیں گے۔ اپنے گھر میں کہہ دینا کہ کل دفتر میں میٹنگ ہے اور مجھے آنے میں دیر ہو جائے گی۔” فرحت کے لب کپکپا رہے تھے۔ اس نے کہا: "سر، میں نے اپنے والدین سے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔” اس نے اپنا ہاتھ پوری طاقت سے چھڑایا اور لرزتی آواز میں کہنے لگی: "میں ان عورتوں میں سے نہیں جو مجبوری کی ماری اپنی عزت و وقار کو بیچ دیں۔ میں یہ نوکری چھوڑ دوں گی، آج میرا آخری دن ہے۔” یہ الفاظ دہراتے ہوئے وہ یوں رونے لگی جیسے اس کے اندر کی دنیا چکنا چور ہو گئی ہو۔ اس کی ہچکیوں اور ٹوٹے لہجے نے افسر کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بوکھلا کر بولا: "ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس نوکری مت چھوڑنا۔”
فرحت نے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر تیز قدموں سے بس سٹاپ پہنچی۔ اس نے اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں کہ کہیں اور ایسے ہی بھیڑیے تو نہیں ہیں۔ بس میں بیٹھ کر وہ گھر کی طرف روانہ ہوئی، لیکن اس کے دل میں ایک گہری چھاپ تھی۔ وہ رات اس نے اپنے کمرے کی تنہائی میں گزاری، جہاں اس کے آنسوؤں نے اس کے تکیے کو تر کر دیا۔ وہ اپنی ماں کے پاس جانا چاہتی تھی، لیکن اسے ڈر تھا کہ اس حادثے کو سن کر اس کے والدین کا دل ٹوٹ جائے گا۔
صبح اٹھی تو اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس نے اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا: وہ اس درد کو اپنا مقدر بننے نہیں دے گی۔ وہ اس زخم کو اپنے وجود کا حصہ نہیں بنائے گی۔ فرحت نے اپنا بیگ اٹھایا اور دفتر کی طرف چل پڑی، لیکن اس بار اس کے قدموں میں ایک نیا عزم تھا۔ اس نے اپنے اندر کے غصے اور خوف کو ایک نئے عزم میں ڈھال لیا۔ اب وہ ایسے درندوں سے نہ تو خوف کھائے گی اور نہ ہی انہیں اپنے اوپر حاوی ہونے دے گی، بلکہ انہیں ایسا سبق سکھائے گی جو کبھی بھول نہ سکیں۔
دفتر پہنچ کر اس نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اپنا درد سنایا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے گلے لگایا اور کہا: "فرحت، تم اکیلی نہیں ہو، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔” ان سب کی باتوں نے فرحت کے دل کو سکون اور ہمت دی۔ ان ساتھیوں نے بتایا کہ فرحت پہلی نہیں تھی۔ نہ جانے کتنی لڑکیاں اس درندے کی شکار ہو چکی تھیں۔ فرحت یہ سن کر حیرت و افسوس میں ڈوب گئی۔ اس نے حیرت والے لہجے میں پوچھا: "پھر آپ لوگوں نے اس کی درندگی کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھائی؟” یہ سن کر سب کی نظریں جھک گئیں، خاموشی چھا گئی۔ وہ سب اس سینیئر افسر کے خوف میں گرفتار تھے۔
کچھ لمحوں تک گہری خاموشی چھائی رہی۔ فضا جیسے رک سی گئی تھی۔ پھر ایک ساتھی نے ہلکی سی آواز میں بولنا شروع کیا۔ فرحت اس قدر خاموش بیٹھ گئی گویا اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ فرحت اکیلی شکار نہ تھی۔ وہ دفتر ایک مسکن تھا جہاں اس افسر نے بے شمار معصوم خواتین کی زندگیوں پر اپنا کالا سایہ ڈالا تھا۔ ایک درندہ صفت آدمی جو مجبور، لاچار، اور عزت کی محتاط عورتوں کو اپنی ہوس کے شکنجے میں جکڑ لیتا تھا۔
فرحت سے پہلے شگفتہ تھی، ایک خاموش اور لاچار لڑکی جس نے روزگار کی خاطر یہ نوکری اختیار کی تھی۔ افسر بڑا چالاک اور شاطر تھا۔ وہ ایسی ہی عورتوں کو نوکری دیتا جو مجبور یا اکیلی ہوں۔ اس نے ابتدا میں شگفتہ کی گھریلو تنگدستی اور غربت کے زخموں پر ہمدردی کا مرہم رکھ کر اپنا جال پھیلایا۔ پھر نرم لہجے، جھوٹے وعدوں، وقت کی سہولتوں اور آہستہ آہستہ اس کی عزت کی دیوار پر حملہ شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ ایسے ہوا کہ شگفتہ خود کو اس خیر سے آزاد کرنے کا کوئی راستہ نہ پا سکی۔ آخر کار ایک دن وہ ٹوٹ گئی۔ شرم اور دہشت کے پلوں نے اس کی آواز چھین لی۔ اس نے نوکری چھوڑ دی، دروازے بند کر لیے، اور اپنی خاموشی میں سب کچھ دفن کر گئی۔
پھر فضا آئی۔ وہی دکھ، وہی زخم، گھر کے حالات سے مجبور۔ افسر نے پھر وہی ہتھکنڈے اپنائے: اسے اپنے کمرے میں اکیلے بلانا، نرمی سے بات کرنا، وعدے کرنا، اور زہریلے جال بننا۔ فضا کے حوصلے بھی لرز گئے۔ ایک دن وہ بھی اس کی گاڑی میں کہیں چلی گئی، اور اس نے اس کے ساتھ بری حرکتیں کیں۔ ڈر کے مارے فضا کی زبان گونگ ہو گئی، اس کا دل شکستہ ہوا، اور اس کی عزت خوف کے حصار میں قید ہو گئی۔ اس نے بھی آخری راہ چنی: خاموشی اور کنارہ کشی۔
یہ افسر ایک بھیڑیا تھا۔ وہ اپنی کرسی اور بڑے مرتبے کے سہارے روز عورتوں کی روحوں اور عزتوں کا خون پیتا رہا۔ اس کے ہاتھوں سے معصوم عورتوں کی مسکراہٹیں خوف کی لپیٹ میں تھیں۔ اس کی ہوس اور ظلم سے بھاگتی، عزت کی ماری عورتوں کی دکھ بھری سسکیاں اس دفتر کی دیواروں کے اندر ضبط ہو گئیں۔
فرحت کئی دنوں تک اس خوف کو اپنے سینے میں دبائے اس افسر کی نظروں سے بچتی رہی۔ کسی نہ کسی بہانے سے خود کو اس کے چنگل سے دور رکھتی، لیکن اپنے آپ کو اس کے سامنے کمزور بھی نہیں دکھاتی تھی۔ مگر اندر ہی اندر اس کی روح دہشت بھرے لمحات کو یاد کرتی اور اپنے آپ کو چیر پھاڑ لینے کا سوچتی۔ اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول کو اب پہلے سے کہیں زیادہ غور سے دیکھنا شروع کیا۔ ہر چہرے کی مسکراہٹ، ہر نگاہ کی جنبش، ہر خاموشی میں اسے کوئی اشارہ محسوس ہوتا۔ آخر کار اس کے دل میں کئی سوال اٹھنے لگے: آخر اس درندے کی یہ ہوس کیوں اتنی بڑی ہے جو آگ کی طرح پھیلتی جا رہی ہے؟ کیا چیز ہے جو اس کی ہوس کو یوں بھڑکا رہی ہے؟
پھر ایک دن سچ سامنے آ گیا۔ اسی دفتر میں وہ خاتون شیبا جو اپنی مجبوریوں اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اس کی ہوس کو تسکین دیتی تھیں، اور وہی اس درندے کی ہوس کی آگ کو گھی کا کام کرتی تھیں۔ وہ درندہ ہر عورت پر پنجہ مارتا تھا۔ مگر ہر عورت شیبا نا تھی ۔۔۔فرحت پر یہ انکشاف بجلی بن کر گرا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے نکل گئی ہو، جیسے وہ لمحہ بھر میں ایک اندھے کنویں میں گر گئی ہو جہاں روشنی کا نام و نشان تک نہ تھا، صرف شرم، حیرت، اور گھن کی سیاہ دیواریں تھیں۔ وہ دفتر، دفتر نہیں، ہوس کا اڈا بن گیا تھا۔
فرحت اپنے آپ کو بچا لینے میں تو کامیاب رہی، مگر وہ سب کچھ اس کے دل و دماغ پر ایک داغ کی طرح نقش ہو گیا۔ وہ ہر روز، ہر لمحہ یہی سوچتی رہتی: آخر یہ سب کیا ہے؟ ایک عمر رسیدہ، جھریوں سے بھرا چہرہ، ایک بوڑھا انسان جسے اپنے اخلاق و کردار کی اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہیے تھی، جس کی شخصیت میں وقار اور بزرگی جھلکنی چاہیے تھی، اس کی آنکھوں میں ہوس کی چمک، لبوں پر گندگی کی بو، اور نرم مگر زہریلے الفاظ تھے۔ ایک بڑا، باوقار نظر آنے والا شخص، جو باپ کی عمر کا تھا، اپنی پوزیشن اور اختیار کا ایسا گھناؤنا استعمال کرتا تھا کہ انسانیت خود شرم سے منہ پھیر لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا، مگر فرحت کے اندر کے طوفان نے اسے ٹوٹنے نہیں دیا، بلکہ مضبوط بنا دیا۔ اس نے اپنی خاموشی کو ہتھیار، اور اپنے آنسوؤں کو ہمت کا نشان بنا لیا۔افسر نے جب دیکھا کہ فرحت اس کے قابو میں نہیں آ رہی تو اس نے ایک اور چال چل دی۔ اس نے انتظامیہ میں جھوٹے الزامات لگا کر فرحت کو نوکری سے نکالنے کی سازش تیار کی۔لیکن تقدیر کے فیصلے انسان کے مکروہ منصوبوں سے کہیں بلند ہوتے ہیں۔
فرحت نے اپنے اندر کے خوف کو ہٹا کر سچائی کو زبان دی۔ اس نے تمام ثبوت، پیغامات، اور بیانات کے ساتھ کمیٹی میں شکایت درج کرائی۔
جب انکوائری شروع ہوئی تو دفتر میں ایک ہلچل مچ گئی۔ وہی لوگ جو کل تک خاموش تماشائی تھے، آج فرحت کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
ایک ایک عورت نے ہمت کر کے اپنا دکھ بیان کیا، وہ سچ جو برسوں دلوں میں دب کر رہ گیا تھا، اب لبوں پر آ گیا۔
ہر بیان نے اس افسر کے چہرے سے نقاب نوچ ڈالا۔
وہ جو کبھی بڑے فخر سے کرسی پر بیٹھتا تھا، آج اسی کرسی کے سامنے شرم سے جھکا ہوا تھا۔انسان کی اصل شکست وہ نہیں جو عہدے یا دولت سے ملتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ضمیر کی عدالت میں ہوتی ہے۔وہ افسر اب لوگوں کی نظروں میں گر چکا تھا۔ دفتر کے دروازے اس پر بند ہو گئے۔وہ چہرہ جو کبھی رعب اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب نفرت اور شرم کی تصویر بن چکا تھا۔
فرحت کو نہ صرف انصاف ملا بلکہ ترقی بھی۔اس کی بہادری نے بے شمار عورتوں کو زبان دی، ان کے اندر دبے خوف کو حوصلے میں بدل دیا۔
ایک دن، جب وہ دفتر کے نئے کیبن میں بیٹھی فائلوں پر دستخط کر رہی تھی، دروازے پر وہی افسر آیا —۔
اب اس کے لباس پر شکنیں تھیں، بالوں میں سفیدی اور آنکھوں میں ندامت کی دھند۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔فرحت، تم جیت گئیں اور میں ہار گیا، اپنی نیت، اپنے کردار، اور اپنے ضمیر سے۔
فرحت نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے بولی۔
نہیں سر، میں نہیں جیتی ، جیت تو سچائی کی ہوئی ہے۔ اور ہار ہمیشہ جھوٹ کی ہوتی ہے۔
یہ کہہ کر وہ فائلوں میں دوبارہ مصروف ہو گئی۔
باہر ہلکی ہوا چل رہی تھی، جیسے وقت خود کہہ رہا ہو —۔عورت کمزور نہیں، بس جب تک وہ اپنی آواز نہیں پہچانتی۔اور جب وہ بولتی ہے، تو ظلم کے دربار بھی لرز اٹھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

اداروں کے درندے

 

حفصہ بیگ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبہ اردو جامعہ کویمپو یونیورسیٹی

وہ لمحہ ایسا تھا گویا فرحت کی روح اس کے بدن کو چھوڑ گئی ہو۔ گویا وہ موت کے سائے میں کھڑی ہو۔ اس کے دل و دماغ سے سوال اٹھا رہے تھے: کیا عورت ہونا بذاتِ خود کوئی جرم ہے؟ کیا غیر معمولی حسن و جمال کا حامل ہونا گناہِ عظیم ہے؟ لوگ شاید سچ کہتے ہیں کہ عورت مجبور اور لاچار ہے، مگر کب؟ جب اس کے وقار و عزت کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب اس کی پاکیزگی کو ناپاک نگاہوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تب وہ سب سے زیادہ کمزور، سب سے زیادہ بے یار و مددگار محسوس کرتی ہے۔ آخر ایک عورت کا محفوظ ٹھکانہ کہاں ہے جہاں وہ بے خوف رہ سکے؟ وہ معاشرہ جو بھوکے درندوں کی مانند ہر ذرے پر جھپٹنے کو تیار ہے، چاہے وہ رشتے میں ہو، دفتر میں ہو، یا گلی محلے میں۔ عورت ہر جگہ غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔
یہ سوالات فرحت کے سینے پر بھاری پتھر کی مانند بیٹھے تھے۔ اوپر سے سانس رکتے محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھوں سے جاری اشک دریائے درد کی مانند بہہ نکلے۔ بارہا ضبط کی کوشش کے باوجود اشک رواں اپنی روانی پر مصر تھے۔ اس پر ایسی کیفیت طاری تھی جیسے وہ تپتے صحرائی ریگزار میں ننگے پاؤں کھڑی ہو۔ بدن لرز رہا تھا، کوئی سہارا دینے والا نہیں تھا۔ بس سٹاپ پر کھڑی فرحت جب بس آئی تو وہ بھاری قدموں اور کانپتے وجود کے ہمراہ کسی طرح اندر گئی۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی اس کے ہاتھ بے اختیار بار بار رگڑنے لگے، گویا جِلد کو کھینچ کر نکالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اس نے ہاتھ کھڑکی سے باہر دھونے شروع کیے۔ کچھ دیر ایسی ہی گھٹن میں بیٹھی رہی۔ پھر دل ہی دل میں آواز آئی: اگر میں ہاتھ خود ہی کاٹ دوں تو کیا فرق پڑے گا؟ وہ حادثہ جو میرے شعور پر داغ کی مانند ثبت ہو چکا ہے، اسے کیسے مٹایا جائے؟ وہ نشان جو میرے وجود پر جلتے لوہے کی مہر کی مانند نقش ہو چکا ہے، اسے کیسے نکال پاؤں گی؟
فرحت ایک ایسی لڑکی تھی جس نے زندگی کی کٹھن راہوں کو جرات و استقامت سے طے کیا اور اپنی محنت کی بدولت ایک شاندار ملازمت حاصل کی۔ وہ اپنے کام سے گہری محبت رکھتی تھی اور خلوصِ کامل کے ساتھ ہر فرض ادا کرتی تھی۔ اس کا ایمان تھا کہ رنج و مصائب زندگی کا لازمی جزو ہیں اور ہر دکھ درحقیقت خالقِ کائنات کی ایک سخت مگر منصفانہ آزمائش ہوتی ہے۔ اس لیے اس نے شکوے کی راہ اختیار کرنے کے بجائے محنت و جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔ ہر مشکل کو صبر و ہمت سے برداشت کیا اور ہر چیلنج کو اپنی قوتِ ارادی سے حل کرنے کی ٹھانی۔ فرحت کا یہ عقیدہ تھا کہ شکوہ انسان کو کمزور کرتا ہے، جبکہ بصیرت اور محنت ہی انسان کو سنبھالتی ہے اور آہستہ آہستہ منزل تک پہنچاتی ہے۔
فرحت کی زندگی محنت، سچائی، اور خلوص کا آئینہ تھی۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو عبادت کی طرح ادا کرتی تھی۔ دفتر میں سب اس کی دیانت کی قدر کرتے تھے۔ سینیئر افسر، جو عمر میں اس کے باپ کے برابر تھے، اکثر اس کے کام کی تعریف کرتے اور عزت کے ساتھ پیش آتے۔ وقت گزرتا گیا، اور فرحت کا نام دفتر میں بھروسے اور وقار کی علامت بنتا گیا۔ فرحت کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون تھیں شیبا دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی سے اسکی ترقی سے جلتی تھیں اور اس کا کام بگاڑنے یا لوگوں کے سامنے اسے برا دکھانے کی پوری کوشش کرتی تھیں، مگر فرحت اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے میں مصروف رہتی تھی۔
ایک دن ایسا آیا جس نے اس کے وجود کی جڑیں ہلا دیں۔ دفتر سے واپسی پر اس کے سینیئر افسر نے کہا: "آؤ، میں تمہیں بس سٹاپ تک چھوڑ دیتا ہوں، میں بھی اسی راستے سے جا رہا ہوں۔” فرحت نے اس پر بھروسہ کیا کیونکہ وہ اس کا سینیئر افسر تھا، اس کے باپ کی عمر کا شخص، اور اس کی شخصیت و صلاحیت سماج میں بھروسے کے مقام پر تھی۔ بلا جھجھک وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ راستہ کٹ رہا تھا کہ اچانک گاڑی ایک سنسان جگہ پر رک گئی۔ لمحہ بھر کے لیے فرحت کا دل رک سا گیا۔ فضا میں عجیب سکوت تھا، لیکن وہ دہشت پیدا کر رہا تھا۔ وہ حالات کو سمجھنے ہی والی تھی کہ اچانک افسر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
فرحت کے لیے یہ لمحہ گویا موت کے دہانے پر کھڑا کر گیا۔ اسے لگا جیسے زمین اس کے پاؤں تلے کھسک گئی ہو، جیسے کوئی اندھا کنواں اسے اندر کی جانب کھینچ رہا ہو۔ افسر نے دبے لہجے میں کہا:”میں نے تم جیسی حسین لڑکی آج تک نہیں دیکھی۔ اتنی نازک، اتنی دلربا ہو تم۔ کیا ساری جوانی یوں ہی گزرنے دو گی؟ تمہارے ہر جذبے کو میں اپنی چاہت سے تسکین دوں گا، لیکن شرط یہ ہے کہ تمہارا تعلق صرف مجھ تک محدود رہے، کسی اور کے ساتھ نہیں۔ یہ دنیا تو بہت چھوٹی ہے، اس میں جتنا لطف اٹھانا ہے، ابھی اور اسی لمحے اٹھانا چاہیے۔ جوانی تو ہوتی ہی مزے کے لیے ہے۔”
وہ الفاظ بظاہر نرم تھے، مگر زہر سے لبریز۔ فرحت کی زبان جیسے گونگ ہو گئی۔ دل کے اندر ایک نہ ختم ہونے والی چیخ ابری، ایسی چیخ جو صرف روح سن سکتی تھی، باقی دنیا نہیں۔ وہ لمحہ ایسا تھا جیسے کسی بھوکے درندے نے اسے نوچ ڈالا ہو، اور وہ اپنی روح کو زندہ ہی زندہ کٹتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، سانسیں رکنے لگیں، اور آنکھوں میں ایسا طوفان ابھرا جس نے سارے حوصلے ڈبو دیے۔
آنسوؤں کا سمندر پلکوں پر تھم گیا تھا۔ افسر نے اور قریب ہو کر کہا: "چلو، کہیں دور چلتے ہیں، صرف میں اور تم۔ کہیں ہوٹل میں رک جاتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ ہماری ملاقات کا علم کسی کو نہ ہو گا، اور نہ ہی ہم کسی کو اس کے بارے میں بتائیں گے۔ اپنے گھر میں کہہ دینا کہ کل دفتر میں میٹنگ ہے اور مجھے آنے میں دیر ہو جائے گی۔” فرحت کے لب کپکپا رہے تھے۔ اس نے کہا: "سر، میں نے اپنے والدین سے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔” اس نے اپنا ہاتھ پوری طاقت سے چھڑایا اور لرزتی آواز میں کہنے لگی: "میں ان عورتوں میں سے نہیں جو مجبوری کی ماری اپنی عزت و وقار کو بیچ دیں۔ میں یہ نوکری چھوڑ دوں گی، آج میرا آخری دن ہے۔” یہ الفاظ دہراتے ہوئے وہ یوں رونے لگی جیسے اس کے اندر کی دنیا چکنا چور ہو گئی ہو۔ اس کی ہچکیوں اور ٹوٹے لہجے نے افسر کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بوکھلا کر بولا: "ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس نوکری مت چھوڑنا۔”
فرحت نے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر تیز قدموں سے بس سٹاپ پہنچی۔ اس نے اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں کہ کہیں اور ایسے ہی بھیڑیے تو نہیں ہیں۔ بس میں بیٹھ کر وہ گھر کی طرف روانہ ہوئی، لیکن اس کے دل میں ایک گہری چھاپ تھی۔ وہ رات اس نے اپنے کمرے کی تنہائی میں گزاری، جہاں اس کے آنسوؤں نے اس کے تکیے کو تر کر دیا۔ وہ اپنی ماں کے پاس جانا چاہتی تھی، لیکن اسے ڈر تھا کہ اس حادثے کو سن کر اس کے والدین کا دل ٹوٹ جائے گا۔
صبح اٹھی تو اس نے آئینے میں خود کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس نے اپنے آپ سے ایک وعدہ کیا: وہ اس درد کو اپنا مقدر بننے نہیں دے گی۔ وہ اس زخم کو اپنے وجود کا حصہ نہیں بنائے گی۔ فرحت نے اپنا بیگ اٹھایا اور دفتر کی طرف چل پڑی، لیکن اس بار اس کے قدموں میں ایک نیا عزم تھا۔ اس نے اپنے اندر کے غصے اور خوف کو ایک نئے عزم میں ڈھال لیا۔ اب وہ ایسے درندوں سے نہ تو خوف کھائے گی اور نہ ہی انہیں اپنے اوپر حاوی ہونے دے گی، بلکہ انہیں ایسا سبق سکھائے گی جو کبھی بھول نہ سکیں۔
دفتر پہنچ کر اس نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اپنا درد سنایا۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے گلے لگایا اور کہا: "فرحت، تم اکیلی نہیں ہو، ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔” ان سب کی باتوں نے فرحت کے دل کو سکون اور ہمت دی۔ ان ساتھیوں نے بتایا کہ فرحت پہلی نہیں تھی۔ نہ جانے کتنی لڑکیاں اس درندے کی شکار ہو چکی تھیں۔ فرحت یہ سن کر حیرت و افسوس میں ڈوب گئی۔ اس نے حیرت والے لہجے میں پوچھا: "پھر آپ لوگوں نے اس کی درندگی کے خلاف آواز کیوں نہ اٹھائی؟” یہ سن کر سب کی نظریں جھک گئیں، خاموشی چھا گئی۔ وہ سب اس سینیئر افسر کے خوف میں گرفتار تھے۔
کچھ لمحوں تک گہری خاموشی چھائی رہی۔ فضا جیسے رک سی گئی تھی۔ پھر ایک ساتھی نے ہلکی سی آواز میں بولنا شروع کیا۔ فرحت اس قدر خاموش بیٹھ گئی گویا اس پر سکتہ طاری ہو گیا۔ فرحت اکیلی شکار نہ تھی۔ وہ دفتر ایک مسکن تھا جہاں اس افسر نے بے شمار معصوم خواتین کی زندگیوں پر اپنا کالا سایہ ڈالا تھا۔ ایک درندہ صفت آدمی جو مجبور، لاچار، اور عزت کی محتاط عورتوں کو اپنی ہوس کے شکنجے میں جکڑ لیتا تھا۔
فرحت سے پہلے شگفتہ تھی، ایک خاموش اور لاچار لڑکی جس نے روزگار کی خاطر یہ نوکری اختیار کی تھی۔ افسر بڑا چالاک اور شاطر تھا۔ وہ ایسی ہی عورتوں کو نوکری دیتا جو مجبور یا اکیلی ہوں۔ اس نے ابتدا میں شگفتہ کی گھریلو تنگدستی اور غربت کے زخموں پر ہمدردی کا مرہم رکھ کر اپنا جال پھیلایا۔ پھر نرم لہجے، جھوٹے وعدوں، وقت کی سہولتوں اور آہستہ آہستہ اس کی عزت کی دیوار پر حملہ شروع کر دیا۔ یہ سب کچھ ایسے ہوا کہ شگفتہ خود کو اس خیر سے آزاد کرنے کا کوئی راستہ نہ پا سکی۔ آخر کار ایک دن وہ ٹوٹ گئی۔ شرم اور دہشت کے پلوں نے اس کی آواز چھین لی۔ اس نے نوکری چھوڑ دی، دروازے بند کر لیے، اور اپنی خاموشی میں سب کچھ دفن کر گئی۔
پھر فضا آئی۔ وہی دکھ، وہی زخم، گھر کے حالات سے مجبور۔ افسر نے پھر وہی ہتھکنڈے اپنائے: اسے اپنے کمرے میں اکیلے بلانا، نرمی سے بات کرنا، وعدے کرنا، اور زہریلے جال بننا۔ فضا کے حوصلے بھی لرز گئے۔ ایک دن وہ بھی اس کی گاڑی میں کہیں چلی گئی، اور اس نے اس کے ساتھ بری حرکتیں کیں۔ ڈر کے مارے فضا کی زبان گونگ ہو گئی، اس کا دل شکستہ ہوا، اور اس کی عزت خوف کے حصار میں قید ہو گئی۔ اس نے بھی آخری راہ چنی: خاموشی اور کنارہ کشی۔
یہ افسر ایک بھیڑیا تھا۔ وہ اپنی کرسی اور بڑے مرتبے کے سہارے روز عورتوں کی روحوں اور عزتوں کا خون پیتا رہا۔ اس کے ہاتھوں سے معصوم عورتوں کی مسکراہٹیں خوف کی لپیٹ میں تھیں۔ اس کی ہوس اور ظلم سے بھاگتی، عزت کی ماری عورتوں کی دکھ بھری سسکیاں اس دفتر کی دیواروں کے اندر ضبط ہو گئیں۔
فرحت کئی دنوں تک اس خوف کو اپنے سینے میں دبائے اس افسر کی نظروں سے بچتی رہی۔ کسی نہ کسی بہانے سے خود کو اس کے چنگل سے دور رکھتی، لیکن اپنے آپ کو اس کے سامنے کمزور بھی نہیں دکھاتی تھی۔ مگر اندر ہی اندر اس کی روح دہشت بھرے لمحات کو یاد کرتی اور اپنے آپ کو چیر پھاڑ لینے کا سوچتی۔ اس نے اپنے ارد گرد کے ماحول کو اب پہلے سے کہیں زیادہ غور سے دیکھنا شروع کیا۔ ہر چہرے کی مسکراہٹ، ہر نگاہ کی جنبش، ہر خاموشی میں اسے کوئی اشارہ محسوس ہوتا۔ آخر کار اس کے دل میں کئی سوال اٹھنے لگے: آخر اس درندے کی یہ ہوس کیوں اتنی بڑی ہے جو آگ کی طرح پھیلتی جا رہی ہے؟ کیا چیز ہے جو اس کی ہوس کو یوں بھڑکا رہی ہے؟
پھر ایک دن سچ سامنے آ گیا۔ اسی دفتر میں وہ خاتون شیبا جو اپنی مجبوریوں اور اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اس کی ہوس کو تسکین دیتی تھیں، اور وہی اس درندے کی ہوس کی آگ کو گھی کا کام کرتی تھیں۔ وہ درندہ ہر عورت پر پنجہ مارتا تھا۔ مگر ہر عورت شیبا نا تھی ۔۔۔فرحت پر یہ انکشاف بجلی بن کر گرا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے زمین اس کے قدموں کے نیچے سے نکل گئی ہو، جیسے وہ لمحہ بھر میں ایک اندھے کنویں میں گر گئی ہو جہاں روشنی کا نام و نشان تک نہ تھا، صرف شرم، حیرت، اور گھن کی سیاہ دیواریں تھیں۔ وہ دفتر، دفتر نہیں، ہوس کا اڈا بن گیا تھا۔
فرحت اپنے آپ کو بچا لینے میں تو کامیاب رہی، مگر وہ سب کچھ اس کے دل و دماغ پر ایک داغ کی طرح نقش ہو گیا۔ وہ ہر روز، ہر لمحہ یہی سوچتی رہتی: آخر یہ سب کیا ہے؟ ایک عمر رسیدہ، جھریوں سے بھرا چہرہ، ایک بوڑھا انسان جسے اپنے اخلاق و کردار کی اعلیٰ مثال قائم کرنی چاہیے تھی، جس کی شخصیت میں وقار اور بزرگی جھلکنی چاہیے تھی، اس کی آنکھوں میں ہوس کی چمک، لبوں پر گندگی کی بو، اور نرم مگر زہریلے الفاظ تھے۔ ایک بڑا، باوقار نظر آنے والا شخص، جو باپ کی عمر کا تھا، اپنی پوزیشن اور اختیار کا ایسا گھناؤنا استعمال کرتا تھا کہ انسانیت خود شرم سے منہ پھیر لے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا، مگر فرحت کے اندر کے طوفان نے اسے ٹوٹنے نہیں دیا، بلکہ مضبوط بنا دیا۔ اس نے اپنی خاموشی کو ہتھیار، اور اپنے آنسوؤں کو ہمت کا نشان بنا لیا۔افسر نے جب دیکھا کہ فرحت اس کے قابو میں نہیں آ رہی تو اس نے ایک اور چال چل دی۔ اس نے انتظامیہ میں جھوٹے الزامات لگا کر فرحت کو نوکری سے نکالنے کی سازش تیار کی۔لیکن تقدیر کے فیصلے انسان کے مکروہ منصوبوں سے کہیں بلند ہوتے ہیں۔
فرحت نے اپنے اندر کے خوف کو ہٹا کر سچائی کو زبان دی۔ اس نے تمام ثبوت، پیغامات، اور بیانات کے ساتھ کمیٹی میں شکایت درج کرائی۔
جب انکوائری شروع ہوئی تو دفتر میں ایک ہلچل مچ گئی۔ وہی لوگ جو کل تک خاموش تماشائی تھے، آج فرحت کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
ایک ایک عورت نے ہمت کر کے اپنا دکھ بیان کیا، وہ سچ جو برسوں دلوں میں دب کر رہ گیا تھا، اب لبوں پر آ گیا۔
ہر بیان نے اس افسر کے چہرے سے نقاب نوچ ڈالا۔
وہ جو کبھی بڑے فخر سے کرسی پر بیٹھتا تھا، آج اسی کرسی کے سامنے شرم سے جھکا ہوا تھا۔انسان کی اصل شکست وہ نہیں جو عہدے یا دولت سے ملتی ہے، بلکہ وہ ہے جو ضمیر کی عدالت میں ہوتی ہے۔وہ افسر اب لوگوں کی نظروں میں گر چکا تھا۔ دفتر کے دروازے اس پر بند ہو گئے۔وہ چہرہ جو کبھی رعب اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، اب نفرت اور شرم کی تصویر بن چکا تھا۔
فرحت کو نہ صرف انصاف ملا بلکہ ترقی بھی۔اس کی بہادری نے بے شمار عورتوں کو زبان دی، ان کے اندر دبے خوف کو حوصلے میں بدل دیا۔
ایک دن، جب وہ دفتر کے نئے کیبن میں بیٹھی فائلوں پر دستخط کر رہی تھی، دروازے پر وہی افسر آیا —۔
اب اس کے لباس پر شکنیں تھیں، بالوں میں سفیدی اور آنکھوں میں ندامت کی دھند۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا۔فرحت، تم جیت گئیں اور میں ہار گیا، اپنی نیت، اپنے کردار، اور اپنے ضمیر سے۔
فرحت نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے بولی۔
نہیں سر، میں نہیں جیتی ، جیت تو سچائی کی ہوئی ہے۔ اور ہار ہمیشہ جھوٹ کی ہوتی ہے۔
یہ کہہ کر وہ فائلوں میں دوبارہ مصروف ہو گئی۔
باہر ہلکی ہوا چل رہی تھی، جیسے وقت خود کہہ رہا ہو —۔عورت کمزور نہیں، بس جب تک وہ اپنی آواز نہیں پہچانتی۔اور جب وہ بولتی ہے، تو ظلم کے دربار بھی لرز اٹھتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون