متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اشتراک سے منعقدہ مشاورتی میٹنگ میں چکن ٹریڈ سے متعلق پیدا شدہ صورتحال اور مسائل پر غو و خوض کرنے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس ذیلی کمیٹی کے اراکین حسب ذیل ہیں۔
۱) مفتی نذیر احمد القاسمی
۲) مفتی محمد یعقوب بابا المدنی
۳) مولانا عبدالرشید صاحب مفتاحی
۴) محمد اسلم صاحب اندرابی
۵) آغا سید محمد حسین الموسوی الصفوی
۶) مفتی غلام رسول سامون
۷) مولانا علی اکبر
اور مجلس کے سیکریٹری جناب مولانا سعید الرحمن شمس۔
چنانچہ مذکورہ کمیٹی کا اجلاس مورخہ 28اگست2025 بروز جمعرات بوقت11:00 بجے جناب مفتی نذیر احمد القاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا۔
انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے صدر دفتر اس کمیٹی کے اجلاس میں مزید کچھ اہل علم اور مرغ فروشی کی تجارت سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ میٹنگ میں غو ر وخوض اور بحث و تمحیص کے بعد طے ہوا کہ تجاویز مرتب کرنے کی ذمہ داری حضرت مفتی صاحب کے اوپر ڈالی جائے۔ چنانچہ وہ تجاویز جو مجلس کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہیں۔درج ذیل ہیں۔
۱۔ اہل کشمیر کے لئے سب سے بہتر اور ہر طرح اطمینان بخش حل یہ ہے کہ وہ خود یہاں اس انڈسٹری کو قائم کرنے کا قدم اٹھائیں۔ پولٹری فارمنگ، فیڈ جو مرغوں کیلئے درکار ہے اس کا مینوفیکچرنگ، پھر ایک کامیاب اور آلات جدیدہ سے آراستہ ذبح خانے قائم کرنے کا اقدام سب سے بہتر اور دور رس نتائج کا حامل قدم ہوگا۔اس اقدام سے یہاں حلال چکن بھی مہیا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی بے شمار لوگوں کوروزگار بھی۔ یہ وقت کی ایک اہم ضرورت اس لئے ہے کہ مسلمان حلال غذا استعمال کرنے اور کھانے کا شرعاً مکلف ہیں اور مزید یہ بے روزگاری سے مضمحل اِس خطہ میں بہتر معاش کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
۲۔ چکن فروشی سے جڑے ہوئے افراد اور اھل ثروت اور صنعت کاروں سے تعاون لے کر پولٹری فارمنگ فیڈ میکنگ اور حلال سلاٹنگ کے لئے فیکٹریاں قائم کرنے کیلئے جب اقدام کریں گے اور اپنے اور دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو امید ہے کہ یہ جدوجہد کامیاب ہوگی اس لئے کہ اس کی ضرورت اور مارکیٹ موجود ہے۔
جدید ذبح خانوں میں ہاتھوں کا ذبیحہ جب مسلمان کے ہاتھ سے ہوگا وہ یقیناً حلال ہوگا لیکن اگر میشنی ذبیحہ سے مرغ حلال کئے گئے تو جائز و ناجائز کی حدود مستند علماء طے کریں گے۔
ذبح کا کام کرنے والے افراد کو شرعی اصول کے مطابق کام کرنے کا اہتمام کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو اس کی تربیت دی جائے کہ مسلمان کس طرح ذبح کا شرعی عمل انجام دیتا ہے ورنہ لاپروائی یا سہل انگاری سے جانور یا مشکوک ہوگا اور حرام بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے مرغ فروشی حضرات اپنی ذمہ داری محسوس کریں کہ اچھے سچے ذابح کا انتخاب کریں۔
مشینی ذبیحہ میں اگر مسلمان کے ذریعہ ذبیحہ پایا گیا اور مذبوح جانور کی صفائی، کٹائی، اور پیکنگ وغیرہ مشینوں سے ہوئی تو وہ درست ہوگا۔ لیکن اگر ذبح بھی مشین یعنی بٹن دبانے سے ہو تو اس کے متعلق حلال و حرام ہونے کا فیصلہ علماء اور مفتیان کرام کریں گے پھر جو شکل جائز ہوگی وہی اپنائی جائے۔
۳۔ کشمیری عوام اس وقت چونکہ مشکوک چکن کھائے جانے کی بنا پر عوام میں اس اس سے پرہیز کا ایک عمومی رحجان ہے۔ اس لئے یہاں کے علما، مساجد کے خطبا، یہاں کے عوام کو ہوٹل والوں کو بار بار یہ ترغیب دیں کہ مقامی پولٹری کے چکن ہی استعمال کریں اور مشکوک غذائیں خصوصاً گوشت اور چکن کے معاملے میں احتیاط برتیں۔ اس سے عوام کے ذہن میں پختگی کے ساتھ یہ رجحان مضبوط ہوگا کہ ہم مشکوک چیز نہ کھائیں گے نہ کھلائیں گے۔
۴۔ فروزن چکن جو کشمیر میں بیرون کشمیر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس ٹریڈ سے جڑے ہوئے تاجر حضرات اپنا ایک ایسو سی ایشن بنائیں پھر جہاں سے وہ فروزن چکن لاتے ہیں وہاں ایک معتبر، دیندار، ذبح کے اسلامی طریقے کا واقف کار شخص بطور نگراں مقرر کریں اور اس کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ بچشم خودایک ایک مرغے کو ذبح ہوتا ہوا دیکھے۔ ذبح کرنے والا مسلمان ہو شرعی طریقے سے ذبح کرنا جانتا ہو۔ اس شرعی طریقے کو عملاً برتنے کا پابند ہو۔ ذبح ہونے والا جانور زندہ ہواور اس سے خون نکلے۔ پھر وہ مشاہد اپنے سامنے جانور کو تمام مراحل سے گذرتا ہوا دیکھے اور پھر اخیر میں اس پر اپنی مہر، یا چٹ چسپاں کرے۔ پھر فریز کرنے کیلئے یخ خانے میں ڈالے۔
نمبر ۴ تجویز پر جب تک تمام شرائط کے ساتھ عمل درآمد نہ ہو اس وقت تک باہر یعنی بیرون کشمیر سے آنے والا ذبح شدہ فروزن چکن نہ لانا درست ہے نہ خرید و فروخت درست ہے اور نہ یہاں کے صارفین گھریلو ضروریات کیلئے، ہوٹل اور ریستوران کیلئے تقریبات کیلئے فاسٹ سپلائر کیلئے یہ خرید اور صارفین کو کھلانا درست ہے۔
۵۔ ذبح خانے والوں نے اگر پہلے سے کوئی مشاہد مقرر رکھا ہو تو یہاں کے ایسو سی ایشن کی طرف سے مقرر شدہ مشاہد اُس کے ساتھ ساتھ رہ کر ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ یہ عمل انجام دیں۔
مشاہدہ کرنے کیلئے جو شخص مقرر کیا جائے اس کا مشاہرہ باقاعدہ ہو یعنی تنخواہ پر رکھا جائے۔ اور پابندی سے ذمہ داری پوری کرنے کی ضمانت لی جائے۔
۶۔ وہ چکن جو فروزن ہوں اُن کو درآمد کرنے والے وہ افراد جو ابھی تک کسی بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوسکے کوششیں کی جائے کہ اُن کو بھی اس فورم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ حلال اور غیر مشکوک چکن فراہم کرنے کی اس مہم کا حصہ بن سکیں۔ یہ کوشش ہر سطح پر کی جائے۔
۷۔ اگر فروزن چکن سے وابستہ کوئی ٹریڈر اس فورم سے الگ رہتا ہے اور کوشش، اصرار اور ترغیب کے باوجود وہ اس طریق کار کو اپنانے اور اس فورم کا حصہ بننے کے بجائے الگ ہی رہتا ہے تو اس کے کام کے متعلق گہری تحقیق کی جائے کہ کیا وہ شرعی ضوابط کے مطابق ذبح شدہ غیر مشکوک مرغے فراہم کرتا ہے یا اس میں کوتاہی پائی جارہی ہے۔
اگر بالفرض وہ مرغے مشکوک پائے گئے تو پہلے بالمشافہ اُن کو تنبیہ کی جائے اور ایمان کی بنیاد پر اخلاقی حدود کی پابندی کے ساتھ اس کو تلقین کی جائے کہ وہ اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں۔ لیکن خدانخواستہ اگر اُن کا رویہ منفی پایا گیا جس کی ایک ایمان والے سے توقع نہیں ہے تو پھر ان کا نام مشتہر کیا جائے کہ فلاں شخص کے ذریعے آنے والا فروزن چکن مشکوک ہے۔ یہ اقدام ایسوسی ایشن کو کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں مکمل تعاون وہ نگران جس کو مشاہد بنایا گیا ہو کرنے کا پابند ہوگا۔ وہ دیگر علما سے بھی مدد لے سکتا ہے تاکہ پوری احتیاط سے ہر قدم اٹھایا جائے۔
۸۔ ہوٹل والے اور تقریبات مثلاً شادیاں ہوں یا اور کوئی خوشی کی محفل ہو ان میں چکن کا استعمال جہاں جہاں ہوتا ہے چاہے چکن پیتھی ہو، تندوری چکن ہو یا شورما ہو یا اور کوئی قسم ہو، ہر صورت میں وہ اس کا اہتمام کریں کہ مشکوک چکن استعمال نہ ہو ورنہ خطرہ ہے کہ مردار یا حرام کھلانے کا جرم ہو اور اس کی آمدنی بھی خود کیلئے حرام ہو جائے اور یہ دوہرا جرم ہوگا۔
۹۔ کشمیر کے عوام کے نام اپیل ہے کہ اگر مقامی پولٹری کا مرغا نسبتاً مہنگا مگر یقینی طور پر حلال ہو اور بیرون کشمیر سے آنے والا چکن سستا اور مشکوک ہو تو وہ حلال کو ہی اختیار کریں چاہے وہ مہنگا ہو اور مشکوک سے پرہیز کریں چاہے وہ سستا ہو۔ یہ ایمان و دین کا تقاضا ہے۔
۰۱۔ چکن فروش افراد کو اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ ناجائز منافع خوری سے حتی الامکان پرہیز کریں اور غیر و اجبی قیمتیں وصول کرکے یہاں کے صارفین پر ظلم کرنے سے مکمل اجتناب کریں اور اس کے لئے باقاعدہ ریٹ بندی کریں جو اعتدال اور انصاف پر مبنی ہو۔
۱۱۔ وہ چکن فروش تاجر جنکا مال یہاں کے عام دوکاندار ان سے لے کر فروخت کرچکے ہیں۔ اور ان کی رقوم کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ اور خود ان پر باہر کے چکن ڈیلروں کی رقوم باقی ہیں ان کے متعلق طے کیا گیا کہ رقوم کی ادائیگی لازم ہے اس لئے عام دکاندار یہ کہہ کر ان کی ادائیگی کو نہیں روک سکتے کہ مال مشکوک تھا۔ اس لئے کہ یہ طے ہے کہ عام دکاندار چونکہ وہ فروخت کر چکے ہیں اور وہ صارفین سے قیمت لے چکے ہیں۔ اس لئے ان پر لازم ہے کہ وہ یہاں کے ٹریڈرس کو بقایا رقوم ادا کریں اور یہاں کے ٹریڈرس پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سے باہر کے ڈیلروں کی رقوم ادا کریں۔ یہ شرعاً بھی لازم ہے اور اخلاقاً اور قانوناً بھی۔ اس سلسلے میں حیلہ بازی کرنا، یا رقوم ہڑپ کرنے کیلئے مشکوک ہونے کا بہانا بنانا ہرگز قابل قبول نہیں۔ اس بات کا اعلان ہر سطح پر کیا جائے حتیٰ کہ مساجد، ائمہ و خطباء بھی اپنے بیانات میں اس کی وضاحت کریں۔
ززز
متحدہ مجلس علما کی مشاورتی کمیٹی کی جانب سے چکن ٹریڈ سے متعلق تجاویز
متحدہ مجلس علما کی مشاورتی کمیٹی کی جانب سے چکن ٹریڈ سے متعلق تجاویز
متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اشتراک سے منعقدہ مشاورتی میٹنگ میں چکن ٹریڈ سے متعلق پیدا شدہ صورتحال اور مسائل پر غو و خوض کرنے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس ذیلی کمیٹی کے اراکین حسب ذیل ہیں۔
۱) مفتی نذیر احمد القاسمی
۲) مفتی محمد یعقوب بابا المدنی
۳) مولانا عبدالرشید صاحب مفتاحی
۴) محمد اسلم صاحب اندرابی
۵) آغا سید محمد حسین الموسوی الصفوی
۶) مفتی غلام رسول سامون
۷) مولانا علی اکبر
اور مجلس کے سیکریٹری جناب مولانا سعید الرحمن شمس۔
چنانچہ مذکورہ کمیٹی کا اجلاس مورخہ 28اگست2025 بروز جمعرات بوقت11:00 بجے جناب مفتی نذیر احمد القاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا۔
انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے صدر دفتر اس کمیٹی کے اجلاس میں مزید کچھ اہل علم اور مرغ فروشی کی تجارت سے وابستہ افراد بھی شریک ہوئے۔ میٹنگ میں غو ر وخوض اور بحث و تمحیص کے بعد طے ہوا کہ تجاویز مرتب کرنے کی ذمہ داری حضرت مفتی صاحب کے اوپر ڈالی جائے۔ چنانچہ وہ تجاویز جو مجلس کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہیں۔درج ذیل ہیں۔
۱۔ اہل کشمیر کے لئے سب سے بہتر اور ہر طرح اطمینان بخش حل یہ ہے کہ وہ خود یہاں اس انڈسٹری کو قائم کرنے کا قدم اٹھائیں۔ پولٹری فارمنگ، فیڈ جو مرغوں کیلئے درکار ہے اس کا مینوفیکچرنگ، پھر ایک کامیاب اور آلات جدیدہ سے آراستہ ذبح خانے قائم کرنے کا اقدام سب سے بہتر اور دور رس نتائج کا حامل قدم ہوگا۔اس اقدام سے یہاں حلال چکن بھی مہیا ہوگا اور اس کے ساتھ ہی بے شمار لوگوں کوروزگار بھی۔ یہ وقت کی ایک اہم ضرورت اس لئے ہے کہ مسلمان حلال غذا استعمال کرنے اور کھانے کا شرعاً مکلف ہیں اور مزید یہ بے روزگاری سے مضمحل اِس خطہ میں بہتر معاش کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
۲۔ چکن فروشی سے جڑے ہوئے افراد اور اھل ثروت اور صنعت کاروں سے تعاون لے کر پولٹری فارمنگ فیڈ میکنگ اور حلال سلاٹنگ کے لئے فیکٹریاں قائم کرنے کیلئے جب اقدام کریں گے اور اپنے اور دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو امید ہے کہ یہ جدوجہد کامیاب ہوگی اس لئے کہ اس کی ضرورت اور مارکیٹ موجود ہے۔
جدید ذبح خانوں میں ہاتھوں کا ذبیحہ جب مسلمان کے ہاتھ سے ہوگا وہ یقیناً حلال ہوگا لیکن اگر میشنی ذبیحہ سے مرغ حلال کئے گئے تو جائز و ناجائز کی حدود مستند علماء طے کریں گے۔
ذبح کا کام کرنے والے افراد کو شرعی اصول کے مطابق کام کرنے کا اہتمام کرنا ضروری ہے لہٰذا اس کو اس کی تربیت دی جائے کہ مسلمان کس طرح ذبح کا شرعی عمل انجام دیتا ہے ورنہ لاپروائی یا سہل انگاری سے جانور یا مشکوک ہوگا اور حرام بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے مرغ فروشی حضرات اپنی ذمہ داری محسوس کریں کہ اچھے سچے ذابح کا انتخاب کریں۔
مشینی ذبیحہ میں اگر مسلمان کے ذریعہ ذبیحہ پایا گیا اور مذبوح جانور کی صفائی، کٹائی، اور پیکنگ وغیرہ مشینوں سے ہوئی تو وہ درست ہوگا۔ لیکن اگر ذبح بھی مشین یعنی بٹن دبانے سے ہو تو اس کے متعلق حلال و حرام ہونے کا فیصلہ علماء اور مفتیان کرام کریں گے پھر جو شکل جائز ہوگی وہی اپنائی جائے۔
۳۔ کشمیری عوام اس وقت چونکہ مشکوک چکن کھائے جانے کی بنا پر عوام میں اس اس سے پرہیز کا ایک عمومی رحجان ہے۔ اس لئے یہاں کے علما، مساجد کے خطبا، یہاں کے عوام کو ہوٹل والوں کو بار بار یہ ترغیب دیں کہ مقامی پولٹری کے چکن ہی استعمال کریں اور مشکوک غذائیں خصوصاً گوشت اور چکن کے معاملے میں احتیاط برتیں۔ اس سے عوام کے ذہن میں پختگی کے ساتھ یہ رجحان مضبوط ہوگا کہ ہم مشکوک چیز نہ کھائیں گے نہ کھلائیں گے۔
۴۔ فروزن چکن جو کشمیر میں بیرون کشمیر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس ٹریڈ سے جڑے ہوئے تاجر حضرات اپنا ایک ایسو سی ایشن بنائیں پھر جہاں سے وہ فروزن چکن لاتے ہیں وہاں ایک معتبر، دیندار، ذبح کے اسلامی طریقے کا واقف کار شخص بطور نگراں مقرر کریں اور اس کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ بچشم خودایک ایک مرغے کو ذبح ہوتا ہوا دیکھے۔ ذبح کرنے والا مسلمان ہو شرعی طریقے سے ذبح کرنا جانتا ہو۔ اس شرعی طریقے کو عملاً برتنے کا پابند ہو۔ ذبح ہونے والا جانور زندہ ہواور اس سے خون نکلے۔ پھر وہ مشاہد اپنے سامنے جانور کو تمام مراحل سے گذرتا ہوا دیکھے اور پھر اخیر میں اس پر اپنی مہر، یا چٹ چسپاں کرے۔ پھر فریز کرنے کیلئے یخ خانے میں ڈالے۔
نمبر ۴ تجویز پر جب تک تمام شرائط کے ساتھ عمل درآمد نہ ہو اس وقت تک باہر یعنی بیرون کشمیر سے آنے والا ذبح شدہ فروزن چکن نہ لانا درست ہے نہ خرید و فروخت درست ہے اور نہ یہاں کے صارفین گھریلو ضروریات کیلئے، ہوٹل اور ریستوران کیلئے تقریبات کیلئے فاسٹ سپلائر کیلئے یہ خرید اور صارفین کو کھلانا درست ہے۔
۵۔ ذبح خانے والوں نے اگر پہلے سے کوئی مشاہد مقرر رکھا ہو تو یہاں کے ایسو سی ایشن کی طرف سے مقرر شدہ مشاہد اُس کے ساتھ ساتھ رہ کر ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ یہ عمل انجام دیں۔
مشاہدہ کرنے کیلئے جو شخص مقرر کیا جائے اس کا مشاہرہ باقاعدہ ہو یعنی تنخواہ پر رکھا جائے۔ اور پابندی سے ذمہ داری پوری کرنے کی ضمانت لی جائے۔
۶۔ وہ چکن جو فروزن ہوں اُن کو درآمد کرنے والے وہ افراد جو ابھی تک کسی بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوسکے کوششیں کی جائے کہ اُن کو بھی اس فورم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ حلال اور غیر مشکوک چکن فراہم کرنے کی اس مہم کا حصہ بن سکیں۔ یہ کوشش ہر سطح پر کی جائے۔
۷۔ اگر فروزن چکن سے وابستہ کوئی ٹریڈر اس فورم سے الگ رہتا ہے اور کوشش، اصرار اور ترغیب کے باوجود وہ اس طریق کار کو اپنانے اور اس فورم کا حصہ بننے کے بجائے الگ ہی رہتا ہے تو اس کے کام کے متعلق گہری تحقیق کی جائے کہ کیا وہ شرعی ضوابط کے مطابق ذبح شدہ غیر مشکوک مرغے فراہم کرتا ہے یا اس میں کوتاہی پائی جارہی ہے۔
اگر بالفرض وہ مرغے مشکوک پائے گئے تو پہلے بالمشافہ اُن کو تنبیہ کی جائے اور ایمان کی بنیاد پر اخلاقی حدود کی پابندی کے ساتھ اس کو تلقین کی جائے کہ وہ اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں۔ لیکن خدانخواستہ اگر اُن کا رویہ منفی پایا گیا جس کی ایک ایمان والے سے توقع نہیں ہے تو پھر ان کا نام مشتہر کیا جائے کہ فلاں شخص کے ذریعے آنے والا فروزن چکن مشکوک ہے۔ یہ اقدام ایسوسی ایشن کو کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں مکمل تعاون وہ نگران جس کو مشاہد بنایا گیا ہو کرنے کا پابند ہوگا۔ وہ دیگر علما سے بھی مدد لے سکتا ہے تاکہ پوری احتیاط سے ہر قدم اٹھایا جائے۔
۸۔ ہوٹل والے اور تقریبات مثلاً شادیاں ہوں یا اور کوئی خوشی کی محفل ہو ان میں چکن کا استعمال جہاں جہاں ہوتا ہے چاہے چکن پیتھی ہو، تندوری چکن ہو یا شورما ہو یا اور کوئی قسم ہو، ہر صورت میں وہ اس کا اہتمام کریں کہ مشکوک چکن استعمال نہ ہو ورنہ خطرہ ہے کہ مردار یا حرام کھلانے کا جرم ہو اور اس کی آمدنی بھی خود کیلئے حرام ہو جائے اور یہ دوہرا جرم ہوگا۔
۹۔ کشمیر کے عوام کے نام اپیل ہے کہ اگر مقامی پولٹری کا مرغا نسبتاً مہنگا مگر یقینی طور پر حلال ہو اور بیرون کشمیر سے آنے والا چکن سستا اور مشکوک ہو تو وہ حلال کو ہی اختیار کریں چاہے وہ مہنگا ہو اور مشکوک سے پرہیز کریں چاہے وہ سستا ہو۔ یہ ایمان و دین کا تقاضا ہے۔
۰۱۔ چکن فروش افراد کو اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ ناجائز منافع خوری سے حتی الامکان پرہیز کریں اور غیر و اجبی قیمتیں وصول کرکے یہاں کے صارفین پر ظلم کرنے سے مکمل اجتناب کریں اور اس کے لئے باقاعدہ ریٹ بندی کریں جو اعتدال اور انصاف پر مبنی ہو۔
۱۱۔ وہ چکن فروش تاجر جنکا مال یہاں کے عام دوکاندار ان سے لے کر فروخت کرچکے ہیں۔ اور ان کی رقوم کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ اور خود ان پر باہر کے چکن ڈیلروں کی رقوم باقی ہیں ان کے متعلق طے کیا گیا کہ رقوم کی ادائیگی لازم ہے اس لئے عام دکاندار یہ کہہ کر ان کی ادائیگی کو نہیں روک سکتے کہ مال مشکوک تھا۔ اس لئے کہ یہ طے ہے کہ عام دکاندار چونکہ وہ فروخت کر چکے ہیں اور وہ صارفین سے قیمت لے چکے ہیں۔ اس لئے ان پر لازم ہے کہ وہ یہاں کے ٹریڈرس کو بقایا رقوم ادا کریں اور یہاں کے ٹریڈرس پر لازم ہے کہ وہ کشمیر سے باہر کے ڈیلروں کی رقوم ادا کریں۔ یہ شرعاً بھی لازم ہے اور اخلاقاً اور قانوناً بھی۔ اس سلسلے میں حیلہ بازی کرنا، یا رقوم ہڑپ کرنے کیلئے مشکوک ہونے کا بہانا بنانا ہرگز قابل قبول نہیں۔ اس بات کا اعلان ہر سطح پر کیا جائے حتیٰ کہ مساجد، ائمہ و خطباء بھی اپنے بیانات میں اس کی وضاحت کریں۔
ززز


