کشمیریوں کی میراث شیخ نورالدین نورانی ؒ علمدار کشمیر

محمد اشرف بن سلام 
 اوم پورہ بڈگام 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت شاندار اور تاریخ ساز رہا ہے۔ اگرچہ یہ کام سب سے پہلے قلندرِ سادات حضرت میر سید حسین سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے شروع کیا، جو امیر کبیرؒ کے ارشاد پر کشمیر تشریف لائے اور کولگام میں دریائے ویشیو کے کنارے اپنے مستقل قیام کی جگہ قائم کی۔ آج بھی اُن کی درگاہ عقیدت مندوں کے لیے زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔ ہر مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے لوگ وہاں برکت حاصل کرنے اور دعائیں مانگنے آتے ہیں۔
عجب حسنِ اتفاق ہے کہ جس مردِ قلندر نے کشمیر میں ریشیت کی بنیاد رکھی، وہ بھی اسی کولگام کے علاقے کیموہ میں پیدا ہوئے۔ واقعی اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص روحانی مقام عطا فرمایا ہے۔ اسی مقام پر حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ کے والدین، بابا سالار الدین اور صدرہ ماجؒ کا مقبرہ ایک عظیم عبادت گاہ کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔
بلند پایہ عاشقِ رسول ﷺ، پیرِ طریقت سراج السالکین حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لیے وعظ و نصیحت سے زیادہ اپنے کردار اور عمل سے مثال قائم کی۔ ان صوفیائے کرام کی پاکیزہ اخلاقی زندگی، زہد و قناعت، بے غرضی اور بلا امتیاز انسانی ہمدردی نے عام لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے محبت پیدا کی۔ اُن نفوسِ قدسیہ نے وطن و اہلِ وطن کو چھوڑ کر، غریب‌الدیار ہو کر، نورِ اسلام کو وادی کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔
انہی روحانی تاجداروں میں سے ایک، آسمانِ تصوف کا درخشندہ آفتاب — حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ 6 جمادی الاول 777ھ میں بابا سالارالدین اور صدرہ ماج کے گھر پیدا ہوئے۔ انہی دو مقدس ہستیوں کے چمن کا یہ خوشبودار گل کھلا، جس کی مہک نے پوری وادی کشمیر کو روحانیت اور طریقت سے معطر کردیا۔
شیخ کاملؒ کی شخصیت وادی کی ممتاز ترین روحانی شخصیات میں سے ہے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آپؒ کا کلام آج روحانی محفلوں، مساجد، مدارس اور دیگر اجتماعات میں عقیدت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سات سو برس گزرنے کے باوجود بھی شیخ کاملؒ ہر کشمیری کے دل میں زندہ و جاوید ہیں۔
حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ ایک باعمل، زاہد و متقی، فعال مبلغ اور مصلح تھے۔ آپ نہ صرف ریشیت کے سرخیل تھے بلکہ ’’علمدارِ کشمیر‘‘ کے عظیم القاب سے بھی سرفراز ہوئے۔ آپؒ کا عارفانہ کلام کشمیری زبان کا ایک ایسا روحانی سرچشمہ ہے جس سے لاکھوں تشنگانِ عرفان نے سیرابی حاصل کی۔
شیخ کاملؒ نے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کیا، پھر معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے کوئی نیا نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصل تعلیمات اور اس کے مزاج کو ازسرنو اجاگر کیا۔ ان کے عارفانہ کلام نے مسلمانوں کے عقائد اور عمل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ فرماتے ہیں:
سُے اوس تہ سُے ہو آسےُ، سُے سُے کریِ ژھا زوُو
سُے ساری اندیشہ کاسی، ھازوُو پایس پیتو
قومِ کشمیر کی زندگیاں سادہ، روحانیت سے لبریز اور خدا ترس ہوا کرتی تھیں، لیکن افسوس کہ ہم نے ان روحانی اقدار کو دنیا پرستی کی بھول بھلیوں میں کہیں کھو دیا۔ یہی ہماری پریشانیوں اور بے قراری کا اصل سبب ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف اور بزرگوں کی تعلیمات کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔
ایمان کے بعد محبتِ رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے وابستگی ایمان کا حصہ ہے۔ شیخ کاملؒ فرماتے ہیں:
محمد تہ ژور یار برحق گنزرکھ، تمن نش اُندنے دنیاہ کی نیائے
جان پن یتوئی تمن پٹھ بنزرکھ، سوئے چھے تور کژھ بڈرہکائے
حضرت شیخ العالمؒ کی تعلیمات نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں معروف ہیں۔ ہر قوم کی ایک مخصوص شناخت ہوتی ہے، اور کشمیری قوم کی شناخت انہی بزرگوں نے قائم کی جن میں حضرت شیخ العالمؒ سرفہرست ہیں۔ آپؒ نے زہد، تقویٰ اور قناعت پسندی کی جو تعلیم دی، وہ آج بھی تمام امراضِ نفس کا علاج ہے۔
اگر ان کے کلام پر عمل کیا جائے تو معاشرے سے قتل و غارت، نفرت اور بے سکونی کا خاتمہ ممکن ہے، اور ہر طرف امن و آشتی قائم ہوسکتی ہے۔ آپؒ کے اشعار ہمیں خدمت، ایثار اور محبت کا درس دیتے ہیں، جو عین قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
شیخ کاملؒ کے کلام کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اکثر کشمیریوں کو اُن کے اشعار زبانی یاد ہیں۔ یہاں تک کہ افغان حکمران عطا محمد خان نے آپؒ کی نسبت سے سکے جاری کیے — جو کشمیر کی تاریخ میں کسی ولی کامل کے نام پر پہلی بار ہوا۔
حضرت شیخ العالمؒ کے چار مشہور خلفا تھے:
1. بابا بام الدین ریشیؒ (مرقد بمزو، مٹن)
2. سخی پادشاہ زین الدین ریشیؒ (زینہ شاہ) (عشمقام)
3. بابا لطیف الدین ریشیؒ
4. بابا نصرالدین ریشیؒجنہیں لنگر کی خدمت کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
حضرت شیخ العالمؒ نے خدمتِ خلق کو محبتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا۔ وہ انسان کو بلا امتیاز مذہب، نسل یا قومیت کے احترام کے لائق سمجھتے تھے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
"زاڈے پِژ دہل چھے او زوتو، کھییس نہ گرُ گپُن تہ کاؤ”
جس کا ترجمہ عنایت گل نے یوں کیا:
"دلدلی زمین میں ہر قسم کا گھاس اگتا ہے، ایک گھاس سخت اور بدبودار ہوتی ہے جسے کوئی جانور نہیں کھاتا، مگر بادشاہ کے تاج کو اسی گھاس کے تنکے سے باندھا جاتا ہے۔”
یعنی ہر انسان کی اہمیت ہے، خواہ وہ کسی بھی ذات یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلؑ کو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو… پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔”
حضرت علمدارِ کشمیرؒ کی شخصیت کشمیری تاریخ و تہذیب کا درخشندہ باب ہے۔ آپؒ کو بحق تسلیم کیا گیا کہ وہ کشمیری زبان کے مفسرِ قرآن ہیں۔
ان کے عرس اور یادگار تقاریب میں ذکرِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ اولیائے کرام سے محبت و نسبت کو عام کیا جاتا ہے، جس سے روحانی فیض اور اخلاقی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ عبادت کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے، جنت کی خواہش یا دوزخ کے خوف سے عبادت کرنا اخلاص کی روح کے منافی ہے۔ اسی حقیقت کو شیخ کاملؒ نے یوں بیان کیا:
کس ییہ ژے کن بے غرضہ یے، کس اسہ دلس ثیووسحت
جنتکہ ہاوسہ تہ دوزخنہ بیئے، دیہ چھی کران عبادت
حضرت شیخ العالمؒ نے ہمیشہ توحید، رسالت اور سنتِ نبوی کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیا۔ افسوس کہ ہم نے ان تعلیمات کو فراموش کردیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم پریشانیوں اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔
آخرکار، یہ عظیم المرتبت ہستی 63 سال کی عمر میں، سنہ 842ھ میں وصال فرماگئیں۔
آپؒ فرماتے ہیں:
نُندئن ستی خوے کئری زے، رِتی بندِ روے قبلس کُنے
رتنِ سیتن دوہ دئن ئبر ززیے، زن دِ تُتھ شاہ وُ لگے کنز
بدن سیتن خوے نو تھوزے، زن اژ کھ تَمِہ نن بانَن منز
ترجمہ:
"نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو اور ان سے محبت رکھو، یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ قبلہ رُو رہتے ہیں۔ نیکوں کی صحبت دل کو منور کرتی ہے جبکہ بُروں کی صحبت دل کو سیاہ بنادیتی ہے۔”
اگرچہ وادی کے مختلف علاقوں میں اس مردِ حق کے آثار آج بھی موجود ہیں، مگر چرار شریف میں آرام فرما یہ بزرگ آج بھی اپنی زندہ جاوید شخصیت کے ساتھ راہِ حق کی رہنمائی فرما رہے ہیں، اور ان شاءاللہ قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری وادی کو ہر بلا سے محفوظ رکھے اور پوری کشمیری قوم کو توحید، سنتِ رسول ﷺ اور اولیائے کاملین کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

کشمیریوں کی میراث شیخ نورالدین نورانی ؒ علمدار کشمیر

محمد اشرف بن سلام 
 اوم پورہ بڈگام 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت شاندار اور تاریخ ساز رہا ہے۔ اگرچہ یہ کام سب سے پہلے قلندرِ سادات حضرت میر سید حسین سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے شروع کیا، جو امیر کبیرؒ کے ارشاد پر کشمیر تشریف لائے اور کولگام میں دریائے ویشیو کے کنارے اپنے مستقل قیام کی جگہ قائم کی۔ آج بھی اُن کی درگاہ عقیدت مندوں کے لیے زیارت گاہ بنی ہوئی ہے۔ ہر مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والے لوگ وہاں برکت حاصل کرنے اور دعائیں مانگنے آتے ہیں۔
عجب حسنِ اتفاق ہے کہ جس مردِ قلندر نے کشمیر میں ریشیت کی بنیاد رکھی، وہ بھی اسی کولگام کے علاقے کیموہ میں پیدا ہوئے۔ واقعی اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص روحانی مقام عطا فرمایا ہے۔ اسی مقام پر حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ کے والدین، بابا سالار الدین اور صدرہ ماجؒ کا مقبرہ ایک عظیم عبادت گاہ کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔
بلند پایہ عاشقِ رسول ﷺ، پیرِ طریقت سراج السالکین حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر صوفیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لیے وعظ و نصیحت سے زیادہ اپنے کردار اور عمل سے مثال قائم کی۔ ان صوفیائے کرام کی پاکیزہ اخلاقی زندگی، زہد و قناعت، بے غرضی اور بلا امتیاز انسانی ہمدردی نے عام لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے محبت پیدا کی۔ اُن نفوسِ قدسیہ نے وطن و اہلِ وطن کو چھوڑ کر، غریب‌الدیار ہو کر، نورِ اسلام کو وادی کے گوشے گوشے تک پہنچایا۔
انہی روحانی تاجداروں میں سے ایک، آسمانِ تصوف کا درخشندہ آفتاب — حضرت شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ 6 جمادی الاول 777ھ میں بابا سالارالدین اور صدرہ ماج کے گھر پیدا ہوئے۔ انہی دو مقدس ہستیوں کے چمن کا یہ خوشبودار گل کھلا، جس کی مہک نے پوری وادی کشمیر کو روحانیت اور طریقت سے معطر کردیا۔
شیخ کاملؒ کی شخصیت وادی کی ممتاز ترین روحانی شخصیات میں سے ہے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی آپؒ کا کلام آج روحانی محفلوں، مساجد، مدارس اور دیگر اجتماعات میں عقیدت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سات سو برس گزرنے کے باوجود بھی شیخ کاملؒ ہر کشمیری کے دل میں زندہ و جاوید ہیں۔
حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ ایک باعمل، زاہد و متقی، فعال مبلغ اور مصلح تھے۔ آپ نہ صرف ریشیت کے سرخیل تھے بلکہ ’’علمدارِ کشمیر‘‘ کے عظیم القاب سے بھی سرفراز ہوئے۔ آپؒ کا عارفانہ کلام کشمیری زبان کا ایک ایسا روحانی سرچشمہ ہے جس سے لاکھوں تشنگانِ عرفان نے سیرابی حاصل کی۔
شیخ کاملؒ نے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کیا، پھر معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے کوئی نیا نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ اسلام کی اصل تعلیمات اور اس کے مزاج کو ازسرنو اجاگر کیا۔ ان کے عارفانہ کلام نے مسلمانوں کے عقائد اور عمل پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ فرماتے ہیں:
سُے اوس تہ سُے ہو آسےُ، سُے سُے کریِ ژھا زوُو
سُے ساری اندیشہ کاسی، ھازوُو پایس پیتو
قومِ کشمیر کی زندگیاں سادہ، روحانیت سے لبریز اور خدا ترس ہوا کرتی تھیں، لیکن افسوس کہ ہم نے ان روحانی اقدار کو دنیا پرستی کی بھول بھلیوں میں کہیں کھو دیا۔ یہی ہماری پریشانیوں اور بے قراری کا اصل سبب ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف اور بزرگوں کی تعلیمات کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔
ایمان کے بعد محبتِ رسول ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے وابستگی ایمان کا حصہ ہے۔ شیخ کاملؒ فرماتے ہیں:
محمد تہ ژور یار برحق گنزرکھ، تمن نش اُندنے دنیاہ کی نیائے
جان پن یتوئی تمن پٹھ بنزرکھ، سوئے چھے تور کژھ بڈرہکائے
حضرت شیخ العالمؒ کی تعلیمات نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں معروف ہیں۔ ہر قوم کی ایک مخصوص شناخت ہوتی ہے، اور کشمیری قوم کی شناخت انہی بزرگوں نے قائم کی جن میں حضرت شیخ العالمؒ سرفہرست ہیں۔ آپؒ نے زہد، تقویٰ اور قناعت پسندی کی جو تعلیم دی، وہ آج بھی تمام امراضِ نفس کا علاج ہے۔
اگر ان کے کلام پر عمل کیا جائے تو معاشرے سے قتل و غارت، نفرت اور بے سکونی کا خاتمہ ممکن ہے، اور ہر طرف امن و آشتی قائم ہوسکتی ہے۔ آپؒ کے اشعار ہمیں خدمت، ایثار اور محبت کا درس دیتے ہیں، جو عین قرآن و سنت کے مطابق ہے۔
شیخ کاملؒ کے کلام کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اکثر کشمیریوں کو اُن کے اشعار زبانی یاد ہیں۔ یہاں تک کہ افغان حکمران عطا محمد خان نے آپؒ کی نسبت سے سکے جاری کیے — جو کشمیر کی تاریخ میں کسی ولی کامل کے نام پر پہلی بار ہوا۔
حضرت شیخ العالمؒ کے چار مشہور خلفا تھے:
1. بابا بام الدین ریشیؒ (مرقد بمزو، مٹن)
2. سخی پادشاہ زین الدین ریشیؒ (زینہ شاہ) (عشمقام)
3. بابا لطیف الدین ریشیؒ
4. بابا نصرالدین ریشیؒجنہیں لنگر کی خدمت کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
حضرت شیخ العالمؒ نے خدمتِ خلق کو محبتِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا۔ وہ انسان کو بلا امتیاز مذہب، نسل یا قومیت کے احترام کے لائق سمجھتے تھے۔ آپؒ فرماتے ہیں:
"زاڈے پِژ دہل چھے او زوتو، کھییس نہ گرُ گپُن تہ کاؤ”
جس کا ترجمہ عنایت گل نے یوں کیا:
"دلدلی زمین میں ہر قسم کا گھاس اگتا ہے، ایک گھاس سخت اور بدبودار ہوتی ہے جسے کوئی جانور نہیں کھاتا، مگر بادشاہ کے تاج کو اسی گھاس کے تنکے سے باندھا جاتا ہے۔”
یعنی ہر انسان کی اہمیت ہے، خواہ وہ کسی بھی ذات یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریلؑ کو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو… پھر زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔”
حضرت علمدارِ کشمیرؒ کی شخصیت کشمیری تاریخ و تہذیب کا درخشندہ باب ہے۔ آپؒ کو بحق تسلیم کیا گیا کہ وہ کشمیری زبان کے مفسرِ قرآن ہیں۔
ان کے عرس اور یادگار تقاریب میں ذکرِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ اولیائے کرام سے محبت و نسبت کو عام کیا جاتا ہے، جس سے روحانی فیض اور اخلاقی تربیت حاصل ہوتی ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ عبادت کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے، جنت کی خواہش یا دوزخ کے خوف سے عبادت کرنا اخلاص کی روح کے منافی ہے۔ اسی حقیقت کو شیخ کاملؒ نے یوں بیان کیا:
کس ییہ ژے کن بے غرضہ یے، کس اسہ دلس ثیووسحت
جنتکہ ہاوسہ تہ دوزخنہ بیئے، دیہ چھی کران عبادت
حضرت شیخ العالمؒ نے ہمیشہ توحید، رسالت اور سنتِ نبوی کے مطابق زندگی گزارنے کا درس دیا۔ افسوس کہ ہم نے ان تعلیمات کو فراموش کردیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم پریشانیوں اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔
آخرکار، یہ عظیم المرتبت ہستی 63 سال کی عمر میں، سنہ 842ھ میں وصال فرماگئیں۔
آپؒ فرماتے ہیں:
نُندئن ستی خوے کئری زے، رِتی بندِ روے قبلس کُنے
رتنِ سیتن دوہ دئن ئبر ززیے، زن دِ تُتھ شاہ وُ لگے کنز
بدن سیتن خوے نو تھوزے، زن اژ کھ تَمِہ نن بانَن منز
ترجمہ:
"نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو اور ان سے محبت رکھو، یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ قبلہ رُو رہتے ہیں۔ نیکوں کی صحبت دل کو منور کرتی ہے جبکہ بُروں کی صحبت دل کو سیاہ بنادیتی ہے۔”
اگرچہ وادی کے مختلف علاقوں میں اس مردِ حق کے آثار آج بھی موجود ہیں، مگر چرار شریف میں آرام فرما یہ بزرگ آج بھی اپنی زندہ جاوید شخصیت کے ساتھ راہِ حق کی رہنمائی فرما رہے ہیں، اور ان شاءاللہ قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری وادی کو ہر بلا سے محفوظ رکھے اور پوری کشمیری قوم کو توحید، سنتِ رسول ﷺ اور اولیائے کاملین کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں