آئی لو محمد ﷺ

بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال

عظیم الشان پیغمبر آخر الزمانﷺ کے ذات اقدس کے ساتھ ایسی محبت کا ہونا لازمی ہے کہ جس کا مطالبہ اور توجہ خود قرآن کریم نے یوں مبذول کیا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ "اے محبوب! آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع (پیروی) کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کرے گا اور اللہ تعالٰی بے حد بخشنے والے، بڑی عنایت فرمانے والے ہیں”- (آلِ عمران؛ 31)
قرآن کریم نے صاف اعلان کر دیا کہ جو لوگ اللہ تعالٰی سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی اتباع کرے تب جا کے ان کے محبت کا دعوٰی حق بہ جانب ہوگا ۔ یعنی توحید کے ساتھ ساتھ رسالت پر ایمان لانا لازم و ملزوم ٹہرایا گیا ہیں ۔
حضور اکرم ﷺ کی محبت صرف جذبہ کی حد تک ہی محدود نہ ہو بلکہ ہماری چال و ڈھال، رہن و سہن، قول و فعل، ظاہر و باطن، معاملات و معاشرت، علم و ادب، اخلاقیات جیسے سبھی شعبوں میں اس کا نمایاں اثر واضع نظر آتا ہو ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” مومنین کے لئے پیغمبرؐ ان کی اپنی جانوں سےبھی زیادہ قریب تر ہیں ۔” (الأحزاب؛ 6)
یہی وجہ ہے کہ انصاری عورت جس کو جنگِ احد میں اپنے باپ، خاوند، بھائی اور بیٹے کی شہادت کی خبریں موصول ہوتی گئی اور اس پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی تھی، لیکن وہ اس قیامت خیز خبر پر بڑی بے صبری، بے تابی اور بے چینی سی حالت میں دیوانوں کی طرح صرف حضرت نبی اکرم ﷺ کا حال پوچھتی رہی ۔ اور آپؓ نے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو بخیر و عافیت موجود پا کر راحت کی سانس لی ۔
رب زوالجلال نے قرآنِ کریم میں دوسری جگہ طبعی محبتوں ( Natural love) کی پوری فہرست دے کر قبل از وقت آگاہ فرما دیا ہے کہ کہیں یہ طبعی چیزوں کی محبت میرے حبیب و محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کے محبت پر بھاری ہوئی، تو تمہیں نافرمانوں میں شمار کر کے ہدایت سے بھی محروم ہونا پڑے گا ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے
” اے رسول! آپ لوگوں کو فرما دیجئے کہ تمہارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمہارے بھائی برادر، تمہاری بیویاں، تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا مال و دولت جس سے تم نے کمایا ہے اور تمہاری وہ تجارت جس کے ٹھپ پڑجانے کا تم کو ڈر ستاتا رہتا ہے اور تمہارے رہنے کے وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ ساری چیزیں) تم کو زیادہ محبوب اور عزیز ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اور اس کے دین کے لئے کوشش کرنے سے، تو اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو اور یاد رکھو اللہ تعالٰی نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے -” (التوبة؛ 24)
قارئین کرام! آئیں اس آیت مبارکہ پر غور و فکر کریں اور اپنے نفس سے پوچھیں کہ کیا ہمیں ان سب اسباب کی محبت زیادہ ہے یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت؟ اگر واقعی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہماری محبت ان طبعی چیزوں سے زیادہ ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ دعوٰی کس حد تک سچائی اور صداقت پر مبنی ہے ؟ اور اللہ بچائے اگر ان سب اسباب کی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر بھاری ہوئی، تو ہماری زندگی ناکام و نامراد ہیں ۔
آقا نامدار خیر الانام سرور قونین ﷺ سے محبت کا دعوٰی کس حد تک ہونا چاہیے ۔ حدیث مبارک میں واضع فرمایا گیا کہ "کوئی شخص تم میں سے مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک میں (محمد ﷺ) اس کو اس کے ماں باپ اور اولاد سے اور سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔” ( البخاری و المسلم)
اس سے مراد ہے کہ کسی کا ایمان مکمل نہیں یہاں تک کہ حضرت نبی اکرم ﷺ اس کے نزدیک ان طبعی چیزوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔ بقول شاعر ؂
محمدﷺ کی غلامی دین کی شرط اول ہے
اسی میں ہو خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے ۔
اسی طرح حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی مبارک سیرت سے صحیح مُحِب ہونے کا سبق ملتا ہے ۔ جس نے واقعی میں اپنے محبوب نبی ﷺ سے ایک ہی ملاقات پر فدا ہونے کا صحیح ثبوت پیش کیا ۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے رنگ میں رنگنے کے لیے قرآن پاک نے صاف اور واضح انداز میں فرمایا کہ قیامت تک آنے والے تمام علاقوں، قوموں و قبیلوں میں رہنے والے انسانوں کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو کامل نمونہ بنایا ۔ جس کے نقش قدم پر چل کر انسان راہ حق کو پاکر کر انسانیت جیسے عظیم الشان صفات سے ہمکنار ہوسکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے "بے شک تمہارے لیے رسول ﷺ ایک کامل نمونہ ہیں”۔ (الأحزاب ۳۳:۲۱)
اس طرح دنیا کے تمام دانشوروں، مفکروں، فلاسفروں، حکمرانوں، منصفوں، اور دیگر تمام تخلیقیات میں سے بڑھ کر بہترین تخلیق کردہ نورالبشر (Best of all the creations) حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو ہی قرار دیا گیا ہے ۔ جس کی اتباع، اطاعت اور شریعت تمام لوگوں پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً واجب ہیں ۔ مہد سے لحد تک زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارے لیے آپ ﷺ کی اتباع کرنا لازم و ملزوم قرار دی گئی ہے ۔ آپ ﷺ کے مبارک طریقہ کے مطابق اعمال کو بجا لانا ہی قابل قبول ٹھرایا گیا ہے ۔ باپ داداؤں کے رسم و رواج کو توڑ کر شریعت محمدیہ ﷺ کو نافذ العمل بنانے سے زندگی کامیاب و کامران بن سکتی ہے ۔
پیارے نبی ﷺ کی طرح غریبوں، محتاجوں، مسکینوں، بیوہ و نیم بیوہ عورتوں، یتیموں اور دیگر ضرورت مندوں کی خاطر ماویٰ اور والی بن کر ہر دم اور ہر آہ پر انہیں پیش خدمت رہنا انبیاء کا شیوہ ہے ۔ آپ ﷺ کے سکھلائے ہوئے سلوک کے مطابق اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں، دوستوں کے علاوہ غیر مسلموں کے ساتھ غم خوار بن کر پیش آنا وقت کی پُکار ہیں ۔ رنگ، نسل اور ذات کو چھوڑ کر ایک جسم کے مانند بھائی چارہ قائم کرنا ہماری زبوں حالی کا واحد علاج ہے ۔ حلال اور حرام میں تمیز پیدا کرکے حرام کمائی سے بھی بچنے کی انتہا کوشش کرنا صفت نبوی ﷺ ہے ۔ اس طرح ہماری چال و ڈھال، قول و فعل، عقائد و عبادات، خیالات و نظریات، معاملات و معاشرت، اخلاقیات غرض زندگی کے ہر معاملے میں آقا نامدار حضرت نبی اکرم ﷺ کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی ہونی چاہیے ۔
الغرض حضرت نبی اکرم ﷺ کے امت پر بے شمار احسانات ہیں، جنہیں مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ان ہی احسانات کے بدولت امت مسلمہ پر آپ ﷺ کے بے شمار حقوق عائد ہوتے ہیں جن میں محبت کا حق اعلیٰ درجہ اور ایمان کے کسوٹی کا حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب آئی لو محمد ﷺ کے شیدائی اور فدائی ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنے محبوب نبی آخرالزمان، ختم الرسل، خیر الانام ﷺ کے محبت سے سرشار فرمائے ۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

آئی لو محمد ﷺ

بلال احمد پرے
ہاری پاری گام ترال

عظیم الشان پیغمبر آخر الزمانﷺ کے ذات اقدس کے ساتھ ایسی محبت کا ہونا لازمی ہے کہ جس کا مطالبہ اور توجہ خود قرآن کریم نے یوں مبذول کیا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ "اے محبوب! آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ تعالٰی سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع (پیروی) کرو، اللہ تعالٰی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے سب گناہوں کو معاف کرے گا اور اللہ تعالٰی بے حد بخشنے والے، بڑی عنایت فرمانے والے ہیں”- (آلِ عمران؛ 31)
قرآن کریم نے صاف اعلان کر دیا کہ جو لوگ اللہ تعالٰی سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ اللہ کے محبوب نبی حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی اتباع کرے تب جا کے ان کے محبت کا دعوٰی حق بہ جانب ہوگا ۔ یعنی توحید کے ساتھ ساتھ رسالت پر ایمان لانا لازم و ملزوم ٹہرایا گیا ہیں ۔
حضور اکرم ﷺ کی محبت صرف جذبہ کی حد تک ہی محدود نہ ہو بلکہ ہماری چال و ڈھال، رہن و سہن، قول و فعل، ظاہر و باطن، معاملات و معاشرت، علم و ادب، اخلاقیات جیسے سبھی شعبوں میں اس کا نمایاں اثر واضع نظر آتا ہو ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ” مومنین کے لئے پیغمبرؐ ان کی اپنی جانوں سےبھی زیادہ قریب تر ہیں ۔” (الأحزاب؛ 6)
یہی وجہ ہے کہ انصاری عورت جس کو جنگِ احد میں اپنے باپ، خاوند، بھائی اور بیٹے کی شہادت کی خبریں موصول ہوتی گئی اور اس پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی تھی، لیکن وہ اس قیامت خیز خبر پر بڑی بے صبری، بے تابی اور بے چینی سی حالت میں دیوانوں کی طرح صرف حضرت نبی اکرم ﷺ کا حال پوچھتی رہی ۔ اور آپؓ نے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو بخیر و عافیت موجود پا کر راحت کی سانس لی ۔
رب زوالجلال نے قرآنِ کریم میں دوسری جگہ طبعی محبتوں ( Natural love) کی پوری فہرست دے کر قبل از وقت آگاہ فرما دیا ہے کہ کہیں یہ طبعی چیزوں کی محبت میرے حبیب و محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کے محبت پر بھاری ہوئی، تو تمہیں نافرمانوں میں شمار کر کے ہدایت سے بھی محروم ہونا پڑے گا ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے
” اے رسول! آپ لوگوں کو فرما دیجئے کہ تمہارے ماں باپ، تمہاری اولاد، تمہارے بھائی برادر، تمہاری بیویاں، تمہارا کنبہ قبیلہ اور تمہارا مال و دولت جس سے تم نے کمایا ہے اور تمہاری وہ تجارت جس کے ٹھپ پڑجانے کا تم کو ڈر ستاتا رہتا ہے اور تمہارے رہنے کے وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ ساری چیزیں) تم کو زیادہ محبوب اور عزیز ہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے اور اس کے دین کے لئے کوشش کرنے سے، تو اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو اور یاد رکھو اللہ تعالٰی نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے -” (التوبة؛ 24)
قارئین کرام! آئیں اس آیت مبارکہ پر غور و فکر کریں اور اپنے نفس سے پوچھیں کہ کیا ہمیں ان سب اسباب کی محبت زیادہ ہے یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت؟ اگر واقعی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہماری محبت ان طبعی چیزوں سے زیادہ ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارا یہ دعوٰی کس حد تک سچائی اور صداقت پر مبنی ہے ؟ اور اللہ بچائے اگر ان سب اسباب کی محبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر بھاری ہوئی، تو ہماری زندگی ناکام و نامراد ہیں ۔
آقا نامدار خیر الانام سرور قونین ﷺ سے محبت کا دعوٰی کس حد تک ہونا چاہیے ۔ حدیث مبارک میں واضع فرمایا گیا کہ "کوئی شخص تم میں سے مومن کامل نہیں ہو سکتا جب تک میں (محمد ﷺ) اس کو اس کے ماں باپ اور اولاد سے اور سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔” ( البخاری و المسلم)
اس سے مراد ہے کہ کسی کا ایمان مکمل نہیں یہاں تک کہ حضرت نبی اکرم ﷺ اس کے نزدیک ان طبعی چیزوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔ بقول شاعر ؂
محمدﷺ کی غلامی دین کی شرط اول ہے
اسی میں ہو خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے ۔
اسی طرح حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی مبارک سیرت سے صحیح مُحِب ہونے کا سبق ملتا ہے ۔ جس نے واقعی میں اپنے محبوب نبی ﷺ سے ایک ہی ملاقات پر فدا ہونے کا صحیح ثبوت پیش کیا ۔
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے رنگ میں رنگنے کے لیے قرآن پاک نے صاف اور واضح انداز میں فرمایا کہ قیامت تک آنے والے تمام علاقوں، قوموں و قبیلوں میں رہنے والے انسانوں کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی ﷺ کو کامل نمونہ بنایا ۔ جس کے نقش قدم پر چل کر انسان راہ حق کو پاکر کر انسانیت جیسے عظیم الشان صفات سے ہمکنار ہوسکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے "بے شک تمہارے لیے رسول ﷺ ایک کامل نمونہ ہیں”۔ (الأحزاب ۳۳:۲۱)
اس طرح دنیا کے تمام دانشوروں، مفکروں، فلاسفروں، حکمرانوں، منصفوں، اور دیگر تمام تخلیقیات میں سے بڑھ کر بہترین تخلیق کردہ نورالبشر (Best of all the creations) حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو ہی قرار دیا گیا ہے ۔ جس کی اتباع، اطاعت اور شریعت تمام لوگوں پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً واجب ہیں ۔ مہد سے لحد تک زندگی کے تمام شعبوں میں ہمارے لیے آپ ﷺ کی اتباع کرنا لازم و ملزوم قرار دی گئی ہے ۔ آپ ﷺ کے مبارک طریقہ کے مطابق اعمال کو بجا لانا ہی قابل قبول ٹھرایا گیا ہے ۔ باپ داداؤں کے رسم و رواج کو توڑ کر شریعت محمدیہ ﷺ کو نافذ العمل بنانے سے زندگی کامیاب و کامران بن سکتی ہے ۔
پیارے نبی ﷺ کی طرح غریبوں، محتاجوں، مسکینوں، بیوہ و نیم بیوہ عورتوں، یتیموں اور دیگر ضرورت مندوں کی خاطر ماویٰ اور والی بن کر ہر دم اور ہر آہ پر انہیں پیش خدمت رہنا انبیاء کا شیوہ ہے ۔ آپ ﷺ کے سکھلائے ہوئے سلوک کے مطابق اپنے رشتہ داروں، ہمسایوں، دوستوں کے علاوہ غیر مسلموں کے ساتھ غم خوار بن کر پیش آنا وقت کی پُکار ہیں ۔ رنگ، نسل اور ذات کو چھوڑ کر ایک جسم کے مانند بھائی چارہ قائم کرنا ہماری زبوں حالی کا واحد علاج ہے ۔ حلال اور حرام میں تمیز پیدا کرکے حرام کمائی سے بھی بچنے کی انتہا کوشش کرنا صفت نبوی ﷺ ہے ۔ اس طرح ہماری چال و ڈھال، قول و فعل، عقائد و عبادات، خیالات و نظریات، معاملات و معاشرت، اخلاقیات غرض زندگی کے ہر معاملے میں آقا نامدار حضرت نبی اکرم ﷺ کے رنگ میں رنگی ہوئی زندگی ہونی چاہیے ۔
الغرض حضرت نبی اکرم ﷺ کے امت پر بے شمار احسانات ہیں، جنہیں مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ ان ہی احسانات کے بدولت امت مسلمہ پر آپ ﷺ کے بے شمار حقوق عائد ہوتے ہیں جن میں محبت کا حق اعلیٰ درجہ اور ایمان کے کسوٹی کا حامل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب آئی لو محمد ﷺ کے شیدائی اور فدائی ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنے محبوب نبی آخرالزمان، ختم الرسل، خیر الانام ﷺ کے محبت سے سرشار فرمائے ۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں