شبینہ رسول
کھنڈیال، گریز
تھائیرائیڈ ایک ایسی غدود ہے جو جسم کے ہارمونی توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ اس کے معمولی بگاڑ سے جسم، ذہن اور مزاج پر گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ یہ بیماری بظاہر سادہ لگتی ہے مگر اگر نظر انداز کر دی جائے تو کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے آگاہی اور احتیاط نہایت ضروری ہے۔
صحت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، مگر بعض اوقات جسم کی باریک تبدیلیاں ہماری نظر سے اوجھل رہ جاتی ہیں۔ تھائیرائیڈ بھی انہی بیماریوں میں سے ایک ہے جو آہستہ آہستہ جسم پر اثر ڈالتی ہے۔ یہ بیماری اتنی خاموشی سے بڑھتی ہے کہ اکثر لوگ اس کا احساس دیر سے کرتے ہیں۔
تھائیرائیڈ غدود گردن کے اگلے حصے میں واقع ایک ننھی سی غدود ہے جو T3 اور T4 نامی ہارمُون خارج کرتی ہے۔ یہ ہارمون جسم کے درجہ حرارت، دل کی دھڑکن، وزن، توانائی، ہاضمہ اور دماغی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر اس غدود کا نظام بگڑ جائے تو جسم کے تقریباً تمام نظام متاثر ہو جاتے ہیں۔
تھائیرائیڈ کی دو عام اقسام ہیں:
Hypothyroidism (تھائیرائیڈ کی کمی):
اس حالت میں غدود مطلوبہ مقدار میں ہارمون نہیں بناتا۔
علامات میں تھکن، وزن بڑھنا، جلد کا خشک ہونا، قبض، نیند زیادہ آنا اور بالوں کا جھڑنا شامل ہیں۔
یہ عموماً خواتین میں زیادہ دیکھی جاتی ہے، خاص طور پر حمل کے بعد یا عمر بڑھنے کے ساتھ۔
Hyperthyroidism (تھائیرائیڈ کی زیادتی):
اس میں ہارمون کی پیداوار حد سے بڑھ جاتی ہے۔
علامات میں وزن کم ہونا، پسینہ آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، نیند کی کمی اور چڑچڑاپن شامل ہیں۔
بعض اوقات آنکھوں کے ابھرنے یا ہاتھوں کے لرزنے کی شکایت بھی پیدا ہوتی ہے۔
تھائیرائیڈ کی خرابی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے کہ آیوڈین کی کمی یا زیادتی، موروثی عوامل، مدافعتی نظام کی خرابی، ذہنی دباؤ، ناقص غذا یا نیند کی کمی۔ کچھ خواتین میں ہارمونی تبدیلیاں (جیسے حمل یا مینوپاز) بھی اس بیماری کو جنم دیتی ہیں۔
تشخیص کے لیے باقاعدہ خون کے ٹیسٹ (TSH، T3، T4) نہایت ضروری ہیں۔ خود علاجی نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے دوا ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کی ہدایت سے استعمال کرنی چاہیے۔ عام طور پر “لیو تھائروکسین” جیسی ادویات مریض کو متوازن سطح پر لانے میں مدد دیتی ہیں۔
علاج کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں بہتری بھی ضروری ہے۔ متوازن غذا، آیوڈین والی نمک، سبزیاں، پھل، اور مناسب مقدار میں پروٹین استعمال کریں۔ کیفین، جنک فوڈ اور زیادہ چکنائی سے پرہیز کریں۔ ہلکی پھلکی ورزش، مثبت سوچ اور وقت پر نیند جسم کے نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
تھائیرائیڈ کا علاج ممکن ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اسے وقت پر پہچانا جائے۔ افسوس کہ اکثر لوگ وزن بڑھنے یا تھکن کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جب کہ یہی ابتدائی نشانیاں بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ سال میں کم از کم ایک بار تھائیرائیڈ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تھائیرائیڈ ایک خاموش مگر اہم بیماری ہے جس کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہے۔ صحت مند غذا، سکون، اور باقاعدہ طبی معائنہ ہی وہ عادتیں ہیں جو اس بیماری سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔ یاد رکھیں ، صحت مند غدود ہی متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔


