سلیمان شاہین
افغانستان کی سرزمین صدیوں سے بڑی طاقتوں کے غرور کو توڑنے کی گواہ ہے۔ کبھی برطانوی استعمار نے اس خطے کو اپنے قدموں تلے روندنے کی کوشش کی تو افغانوں کی مزاحمت نے انہیں خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ کبھی سوویت یونین کی سرخ فوج نے اپنی نظریاتی بالادستی کے لیے کابل کو اپنی گرفت میں لینا چاہا مگر افغانوں کے پرعزم حوصلوں نے اُسے ٹکڑوں میں بکھیر دیا۔ پھر نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پوری قوت کے ساتھ افغانستان پر یلغار کی، لیکن دو دہائیوں کی جنگ و جدل کے بعد دنیا نے دیکھا کہ طالبان ایک بار پھر فاتح بن کر ابھرے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے بجا طور پر ’’سپر پاورز کا قبرستان‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس تناظر میں جب ہم موجودہ حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو افغانستان ایک بار پھر عالمی سیاست کے دھارے میں مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ طالبان کی حکومت نے اپنی بقا اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اندرونِ ملک استحکام کی راہ اپنائی بلکہ خارجہ تعلقات میں بھی حیران کن سفارت کاری دکھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنہیں کبھی دہشت گرد قرار دیا گیا، آج انہی کے ساتھ دنیا کے بڑے ممالک تعلقات قائم کرنے پر مجبور ہیں۔
ایسے میں بھارت کی خارجہ پالیسی اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ دہلی نے ہمیشہ حکمت عملی، دور اندیشی اور مستقل مزاجی کے ساتھ عالمی سیاست میں اپنے قدم جمائے ہیں۔ سرد جنگ کے دور میں غیر جانبدار تحریک کا حصہ بن کر بھارت نے اپنی خودمختار پالیسی کا اعلان کیا، سوویت یونین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے مگر مغرب سے بھی اپنے روابط قائم کیے۔ وقت کے ساتھ اس نے اپنی معیشت کو مستحکم کیا، ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کو آگے بڑھایا اور عالمی منڈی میں اپنی ساکھ کو مضبوط کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھارت کو دنیا میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے بغیر کسی بڑے فیصلے کا تصور ممکن نہیں۔
طالبان کے ساتھ حالیہ روابط بھی بھارت کی اسی حکمت عملی کا شاخسانہ ہیں۔ جو بی جے پی کے لیڈران اب تک طالبان کو دہشت گرد کہتے آئیں ہیں آج وہی ان کے ساتھ تعلقات بڑھاتے نظر آرہے ہیں بھاجپا کے وہ لیڈران جنھوں نے طالبان کو دہشت گرد، ملک کے لیےخطرہ، پاکستانی ایجنٹ وغیرہ کہا تھا آج وہ سب بغلیں جھانکنے پر مجبور ہیں، بھارتی میڈیا، جو کل تک طالبان کو دہشت گرد کہنے میں سب سے آگے تھا آج اس کی زبانیں گنگ ہیں، کیونکہ یہ سب سیاست کا حصہ ہے اور سیاست میں مفادات کو مقدم رکھا جاتا ہے چاہے پھر اپنے نظریوں سے پلٹنا پڑے۔ بھارت جانتا ہے کہ افغانستان کے بغیر خطے کی سیاست اور معیشت میں کوئی دیرپا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ طالبان کو نظر انداز کرنا خطے میں اپنے اثر رسوخ کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا، بھارت نے ایک بار پھر اپنی مظبوط خارجہ پالیسی کو ثابت کیا ہے۔
طالبان اور بھارت کے حالیہ روابط کو صرف امریکہ یا پاکستان کے تناظر میں دیکھنا محدود تجزیہ ہوگا۔ اس ملاقات کو عالمی منظرنامے میں اس وقت کے دیگر اہم کھلاڑیوں جیسے چین، روس اور ایران کے سیاسی و اقتصادی مفادات کے پس منظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔ خطے میں طاقت کے نئے توازن اور معیشتی و سیاسی اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے یہ ملاقات ایک عالمی حکمت عملی کا حصہ قرار پاتی ہے، جس سے صرف دو یا تین ممالک کے تعلقات نہیں بلکہ پورے خطے کا منظرنامہ متاثر ہوتا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کی حالیہ پالیسیوں نے بھارت کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے بھارت پر ٹیرف لگانا، دہلی کے لیے ایک تلخ تجربہ تھا۔ بھارت برسوں سے امریکہ کے قریب رہا، تجارتی، عسکری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کا قریبی شراکت دار رہا، مگر اس کے باوجود امریکہ کا یہ رویہ دہلی کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ بھارت کوئی کمزور ملک نہیں کہ دباؤ میں آ جائے، اس نے ہمیشہ اپنی شرائط پر تعلقات استوار کیے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ طالبان کے ساتھ ملاقات ایسے وقت میں کی جب امریکہ نے بلگرام ائر بیس واپس لینے کی دھمکی دی جس پر ایک طرف طالبان نے سخت رد عمل دکھلایا دوسری جانب پاکستان امریکہ کے ساتھ کھڑا نظر آیا، اور ایسے وقت میں بھارت کا طالبان کو تسلیم کرنا اور ان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا امریکہ کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ اور پاکستان کو بڑا دھچکہ ثابت ہوگا۔
اس پورے معاملے میں پاکستان کی صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ اس نے ہمیشہ امریکہ کی جی حضوری کی، طالبان کے خلاف جنگ میں اس کا اتحادی بنا اور افغانستان میں بار بار مداخلت کر کے اپنی پوزیشن کو کمزور کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج وہ اپنے دو اہم پڑوسی ممالک سے دشمنی اپنے تحفظات اقتصادیات ملکی معیشت کو داؤ پر لگا رہا ہے، اور بھارت کے طالبان سے تعلقات نے اس کی بے بسی کو مزید عیاں کر دیا ہے۔
یہ صورتحال دیکھ کر کئی سوالات جنم لیتے ہیں، موجودہ حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کس سمت میں ہے؟ کیا پاکستان افغانستان میں اپنے سابقہ اقدامات اور امریکہ کی غلامی کے سبب اب بھی خطے میں اثر و رسوخ رکھتا ہے یا تنہا کھڑا ہے؟ کیا پاکستان نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کوئی عملی حکمت عملی اپنائی ہے، یا وہ محض کٹھ پتلی بن کر اپنے امریکی آقاؤں کی نمک حلالی کرتا نظر آئے گا؟ اور آج جب بھارت طالبان سے تعلقات بڑھا رہا ہے، تو پاکستان اس بدلتے منظرنامے میں کس طرح اپنا موقف واضح کرے گا؟ کیا پاکستان اس بار اپنی خودمختاری اور قومی مفاد کو مقدم رکھے گا، یا عالمی دباؤ کے تحت پھر سے پچھلے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک کی معیشت، اقتصادی پالیسیوں کو داؤ پر لگائے گا؟
افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد خطے کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ چین، اپنی معاشی طاقت اور "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے ذریعے وسط ایشیا اور خلیج تک رسائی کے لیے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے تاکہ خطے میں اپنی اقتصادی بالادستی قائم رکھ سکے۔ دوسری جانب بھارت، چین کے اس بڑھتے اثر کو متوازن کرنے اور جنوبی ایشیا میں اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے طالبان سے تعلقات قائم کر رہا ہے۔ پاکستان، جو کبھی افغانستان میں فیصلہ کن کردار رکھتا تھا، اب خود سیاسی غیر یقینی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے ایک خبردار کرنے والا لمحہ ہے بلکہ خطے میں نئی سیاست اور تعلقات کے ڈھانچے کو بھی واضح کرتی ہے۔ عالمی طاقتیں، خطے کی ابھرتی ہوئی قوتیں اور مقامی حکومتیں سب اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو دیکھ رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی، اقتصادی حکمت عملی اور داخلی استحکام دہشت گردی کے لیے فوری اور واضح اقدامات کرے تاکہ نہ صرف خطے میں اپنی حیثیت محفوظ رکھ سکے بلکہ اپنے قومی مفاد کو بھی مقدم رکھ سکے۔
زززز


