اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی خبروں کے درمیان اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ ایک بار پھر غزہ میں امن کی کمزور سی امید سفارت کاری اور مایوسی کے درمیان معلق ہے۔ دنیا بے بسی سے دیکھ رہی ہے کہ مذاکرات الفاظ سے آگے بڑھ کر حقیقت کا روپ کیوں نہیں لے پاتے اور انسانیت اس تعطل کی سب سے بڑی قیمت چکا رہی ہے۔
دہائیوں پر محیط اس تنازع نے نسلوں کو نگل لیا ہے، زندگیاں، بستیاں اور باہمی اعتماد سب کچھ مٹ چکا ہے۔ ہر وقتی جنگ بندی انتقام اور بے اعتمادی کے بوجھ تلے ٹوٹ جاتی ہے۔ مگر ملبے اور ویرانی کے بیچ بھی امن کی خواہش آج بھی زندہ ہے۔
یہ حقیقت کہ معاہدہ طے نہیں پایا، ایک نئے تشدد کا جواز نہیں بننا چاہیے بلکہ یہ یاد دہانی ہونی چاہیے کہ امن کا مطلب صرف جنگوں کے درمیان وقفہ نہیں، بلکہ انصاف، احترام اور باہمی تسلیم پر مبنی ایک مستقل عزم ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری بھی محض خاموشی قائم کرانے کی نہیں بلکہ ایسے مکالمے کو فروغ دینے کی ہے جو اس تنازع کی جڑوں تک پہنچ سکے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ عقل و تدبر غصے پر، اور انسانیت ظلم پر غالب آئے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اس خطے کی ضرورت نہیں بلکہ پوری دنیا کا اخلاقی فریضہ ہے۔ غزہ اور اسرائیل کے لوگ اس صبح کے منتظر ہیں جو بموں اور سائرنوں کی آواز کے بجائے سکون اور بقا کی نوید لے کر آئے۔
جب تک طاقت کی سیاست پر امن کی ترجیح غالب نہیں آتی، اس خطے کے زخم بھر نہیں سکتے۔ تب تک دنیا کو امید اور کوشش دونوں کو زندہ رکھنا ہوگا اس امن کے لیے جو واقعی دیرپا ہو۔


