
ساوتری ٹھاکر
وزیرِ مملکت برائے خواتین و اطفال کی ترقی
حکومتِ ہند
صدیوں پہلے جب بھارت کی وزارتوں، پالیسیوں اور فلیگ شپ پروگراموں کا تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، ایک جوان ملکہ نے محاذِ جنگ کی قیادت سنبھالی اور ہتھیار ڈالنے کے بجائے عزت، حوصلہ اور فرض کو ترجیح دی۔ رانی دُرگاوتی جو وسطی بھارت میں ایک بہادر ملکہ اور شجاعت کی علامت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں، آج بھی اُن خواتین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں جو عوامی زندگی، تجارت، سائنس اور شہری امور میں نئی راہیں متعین کر رہی ہیں۔ اُن کی 501ویں سالگرہ پر ہم اُن کی کہانی اور اُن اقدار کو یاد کرتے ہیں جو سولہویں صدی کے میدانِ جنگ سے لے کر جدید بھارت کی پالیسیوں تک ایک زندہ ربط قائم کرتی ہیں۔
حوصلے کا ایک مجسمہ
رانی دُرگاوتی کی زندگی ایک افسانہ بن گئی کیونکہ انہوں نے تاریخ میں محض ایک خاموش کردار بننے سے انکار کر دیا۔ جب دشمن افواج نے حملہ کیا تو انہوں نے اپنی ریاست اور عوام کے دفاع کی ذمہ داری خود سنبھالی۔ ایک ایسی خاتون کی یہ تصویر جو قیادت کرتی ہے، فیصلے لیتی ہے اور قربانی دیتی ہے، اُنہیں ایک علاقائی حکمران سے بڑھا کر ایک قومی علامت بنا دیتی ہے۔ آج وہ کہانیوں، یادگاروں اور مقامی ثقافت میں خصوصاً اندور اور وسطی بھارت کے شہروں میں اس بات کے ثبوت کے طور پر یاد کی جاتی ہیں کہ قیادت کسی صنف کی محتاج نہیں۔
علامت سے پالیسی تک: بھارت اس پکار کا جواب کیسے دیتا ہے
جدید بھارت میں خواتین کی بہبود اور بااختیاری کا جو انتظامی ڈھانچہ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی اور متعلقہ محکموں کی قیادت میں قائم ہے، وہ دراصل اسی جذبے سے متاثر ہے جو رانی دُرگاوتی کی شخصیت نے پیش کیا، خود اختیاری اور عوامی خدمت کا امتزاج۔ جس طرح اُس زمانے میں ملکہ نے اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کی ذمہ داری نبھائی، آج حکومت خواتین کے حقوق، رسائی اور مواقع کے دفاع اور توسیع کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم ہے:
تعلیم اور سماجی برابری: لڑکیوں کی تعلیم میں بہتری اور صنفی فرق کم کرنے کے لیے تیار کیے گئے پروگرام اس بات کی بنیاد رکھتے ہیں کہ قیادت وہیں پنپتی ہے جہاں تعلیم، اعتماد اور آرزو پروان چڑھتی ہے۔
معاشی بااختیاری اور کاروباری قیادت: ہنر سازی، قرض تک رسائی اور منڈی سے جڑنے کے اقدامات خواتین کو تجارت اور پیشہ ورانہ دنیا میں قدم رکھنے کے قابل بناتے ہیں، جو آج کے دور میں حکمرانی اور فیصلہ سازی کی جدید شکلیں ہیں۔
تحفظ اور قانونی سلامتی: ’’ون اسٹاپ مراکز‘‘ اور ہیلپ لائنز نے خواتین کی جسمانی خودمختاری اور شہری شمولیت کے تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے تاکہ خوف کسی عورت کے پیشے یا آواز کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔
صحت اور زچگی کی نگہداشت: ماں اور بچے کی صحت و غذائیت سے متعلق اسکیمیں خواتین کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، جو انہیں پائیدار عوامی شرکت اور قیادت کے کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
بنیادی سطح پر حکمرانی اور نمائندگی: پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی کوششیں رانی دُرگاوتی کی اُس سیاسی خودمختاری کی بازگشت ہیں جو انہوں نے اپنے عہد میں عملی طور پر پیش کی۔
زندگیوں اور سنگ میلوں میں ناپی جانے والی ترقی:
گزشتہ چند دہائیوں میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ خواتین کی شرحِ خواندگی میں اضافہ، مخصوص شعبوں میں ان کی بڑھتی ہوئی شمولیت، منتخبہ نمائندوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد، تیزی سے ترقی کرتا ہوا خواتین کا کاروباری طبقہ اور تحفظ و مساوی مواقع پر عوامی مکالمے کا فروغ۔ یہ تبدیلیاں محض اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ دراصل اسی اصول کا جدید اظہار ہیں جو رانی دُرگاوتی کی زندگی نے سکھایا کہ جب خواتین کو مواقع اور اختیار دیا جائے تو وہ معاشرے کو ازسرِنو تشکیل دیتی ہیں۔
رانی دُرگاوتی کی وراثت بطور بنیاد:
رانی دُرگاوتی کی مثال کی سب سے قیمتی بات اس کا دوہرا پہلو ہے، اخلاقی اور عملی۔ اخلاقی لحاظ سے وہ وقار، حوصلے اور ذمہ داری کی علامت ہیں اور عملی لحاظ سے اُن کی مثال خواتین کو بطور فیصلہ ساز اور عوامی فلاح کی محافظ کے طور پر معمول بناتی ہے۔ یہ دوہری میراث نسل در نسل بھارت کے اجتماعی شعور کا حصہ رہی ہے، جس نے اس سماجی زمین کو زرخیز بنایا جہاں خواتین کی بااختیاری کی پالیسیاں جڑ پکڑ سکیں۔
’’وِکست بھارت‘‘ کے لیے ایک نیا زاویہ:
جب بھارت اپنے خواب ترقی یافتہ ملک ’’وِکست بھارت‘‘ کی تعبیر کی جانب بڑھ رہا ہے تو اسے ترقی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے، خواتین کے اختیار، اثر اور مساوات کی پیمائش کے ذریعے۔ایک ’’خواتین مرکوز وِکست بھارت‘‘ میں خواتین کی بھرپور شمولیت کو کسی اضافی عنصر کے طور پر نہیں بلکہ مرکزی ترقیاتی اشاریے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ترقی کو صرف فلاحی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ تمام شعبوں، بورڈز، عوامی خمت اور سماجی اداروں میں خواتین کی قیادت سے پرکھا جائے۔
اسی طرح شہری منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں خواتین کی محفوظ آمدورفت اور معاشی شرکت کو ممکن بنایا جائے۔عمر بھر کی تعلیم اور ہنروں کی نَوکاری میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ خواتین مستقبل کی نوکریوں اور ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ترجیحی پالیسیوں کا مرکز اُن اقدامات کو بنایا جائے جو غیر ادا شدہ نگہداشت (بچوں، معمر افراد اور سماجی نگہداشت) کے بوجھ کو کم کریں تاکہ خواتین کا وقت عوامی اور معاشی زندگی میں بھرپور شرکت کے لیے آزاد ہو سکے۔
جب قوم یہ فیصلے کرتی ہے تو وہ رانی دُرگاوتی جیسی رہنماؤں کی روح کو حقیقی معنوں میں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے، اس بات کو یقینی بنا کر کہ ہر عورت کے پاس قیادت، حفاظت اور تعمیر کا اختیار موجود ہو۔
یوں ماضی کے حوصلے کو مستقبل کے وعدے سے جوڑتے ہوئے رانی دُرگاوتی کی کہانی محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ بھارت کیا بن سکتا ہے۔ اُن کا حوصلہ دراصل خواتین کے اُس حق کا اعلان تھا کہ وہ عوامی مقدر کی تشکیل میں برابر کی حصہ دار ہیں۔ آج بھارت کی وزارتیں، سول سوسائٹی اور شہری سب کے سب اس اعلان کو روزمرہ حقیقت میں بدلنے کی ذمہ داری اسکولوں اور اسپتالوں کے ذریعے، قوانین اور روزگار کے مواقع کے ذریعے، محفوظ گلیوں اور مساوی نمائندگی والے اداروں کے ذریعے اٹھائے ہوئے ہیں۔
اگر وِکست بھارت کی نبض اس کی خواتین کی طاقت سے ناپی جاتی ہے تو رانی دُرگاوتی کا حقیقی احترام یہی ہوگا کہ اس طاقت کو ہر عورت تک عام کر دیا جائے۔
آخرکار ملکہ کی سب سے عظیم وراثت شاید کوئی پتھریلی یادگار نہیں بلکہ وہ قوم ہو سکتی ہے جہاں زندگی کے ہر میدان میں گھر سے لے کر بازار تک، سائنس سے لے کر حکمرانی تک لاکھوں خواتین قیادت کر رہی ہوں اور حوصلے و خدمت کی روایت کو اکیسویں صدی میں آگے بڑھا رہی ہوں۔
***


